لائیو, ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے بعد تہران کے کویت، بحرین اور اردن میں جوابی حملے

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں جن میں اس کے بقول آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف ایک آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس نے اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

  • سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا
  • ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس نے اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا
  • مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے
  • اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے امریکہ اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ بند کریں اور ان کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں
  • ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب میں سیریک کے قریب اور قشم و جاسک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں

لائیو کوریج

  1. آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور امریکہ دوبارہ آمنے سامنے

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی پاسداران انقلاب نے اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ بحری تجارت کی اہم گزر گاہ آبنائے ہرمز تمام آمد و رفت کے لیے بند ہے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ سمندری راستہ کھلا ہے اور اس پر ایران کو کوئی کنٹرول حاصل نہیں ہے۔

    اگرچہ اتوار کو ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کا راستہ تمام جہازوں کے لیے کھلا ہے تاہم شپ ٹریکنگ پلیٹ فارم کپلر کے ڈیٹا کے مطابق گذشتہ روز صرف چھ جہاز بحری وہاں سے گزر سکے ہیں۔

    ایران نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز اس وقت بند کی جب ایک جہاز غیر منظور شدہ راستے پر سفر کر رہا تھا اور اسے نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے خبردار کیا کہ اس واقعے کے جواب میں کی جانے والی کسی بھی کارروائی پر ’سخت ردعمل‘ دیا جائے گا۔

  2. بینکاک کے ایک بار میں آگ لگنے سے کم از کم 27 افراد ہلاک

    بینکاک

    ،تصویر کا ذریعہAPTN

    بینکاک میں اتوار کی شب ایک بار میں آتشزدگی سے کم از کم 27 افراد ہلاک جبکہ آٹھ شدید زخمی ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق آگ مشہور علاقے چاتوچاک میں واقع اس بار کے سٹیج کے قریب لگی اور پھر تیزی سے پھیل گئی۔ اس دوران بجلی منقطع ہو گئی اور کمرہ دھوئیں سے بھر گیا۔

    آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خوفزدہ گاہک چیختے ہوئے شعلوں میں گھِرے مرکزی دروازے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض افراد کے کپڑوں میں بھی آگ لگی ہوئی تھی۔

    فائر فائٹرز، جو آدھی رات کے فوراً بعد موقع پر پہنچے، نے آگ پر جلد قابو پا لیا۔ انھیں زیادہ تر لاشیں ایک باتھ روم سے ملیں جہاں بظاہر وہ پناہ لینے گئے تھے۔

    بینکاک کے محکمہ انسداد آفات کی ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر ایک ایئر کنڈیشنر میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی تاہم ابھی تک اس کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے پر مکمل اور جامع تحقیقات کی جائیں گی۔

  3. اردن کا اپنی فضائی حدود میں ایرانی میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    اردن کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اردن کی فوج نے فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار ایرانی میزائلوں کو تباہ کیا ہے۔

    اس کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔

    اس سے قبل ایران نے اردن میں ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

  4. اتوار سے اب تک چھ ملکوں میں ایرانی حملوں کی اطلاعات

    ایران، میزائل، ڈرون

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پیر کے روز ایران نے بحرین، اردن اور کویت میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم اتوار سے اب تک مشرقِ وسطیٰ کے چھ ممالک نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دے چکے ہیں جن میں قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے امریکہ کے اتحادی ملک اردن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ڈرون ہینگر تباہ کر دیے ہیں اور کویت میں ایک امریکی ریڈار سائٹ کے ساتھ ساتھ راکٹ لانچر نظام کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے عمان میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کی معاونت کرنے والے پلیٹ فارمز پر حملہ کیا ہے اور قطر میں لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال کے کمانڈ سینٹر کو تباہ کیا ہے۔

    قطر کے مطابق وہ اب ثالثی کا کردار ادا نہیں کرے گا۔ اس نے کہا کہ گرتے ہوئے دھاتی ٹکڑوں سے ایک بچہ سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ قطر نے کہا کہ اس حملے کی ’مکمل قانونی ذمہ داری‘ ایران پر عائد ہوتی ہے۔

    اتوار کو متحدہ عرب امارات نے کہا تھا کہ اس نے اپنی سرحدوں سے باہر میزائل خطرے کی نشاندہی کی۔ جبکہ بحرین نے کہا کہ اس نے ایران کے کئی فضائی حملوں کو ناکام بنایا ہے۔

    اردن نے میزائل حملوں کی اطلاع دی جبکہ عمان نے کہا کہ اسے ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بعد ازاں کویت کی فوج نے حملوں سے ہونے والے نقصان کی اطلاع دی اور کہا کہ تیل کی تنصیبات پر حملے میں ایک کارکن زخمی ہو گیا ہے۔

    عمان نے کہا کہ اس نے دو علاقوں میں ڈرون حملوں پر احتجاجاً ایرانی سفیر کو طلب کیا ہے۔ جبکہ عمان میں امریکی سفارت خانے نے دقم اور مسندم میں موجود اپنے شہریوں کو محفوظ پناہ لینے کی ہدایت جاری کی۔

  5. عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد کا اضافہ

    آئل ٹینکر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کی ایران کے خلاف کارروائی اور تہران کے جوابی حملوں کے بعد پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے کی قیمت چار فیصد اضافے کے ساتھ 79.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی چار فیصد اضافے کے بعد 74.36 ڈالر فی بیرل فروخت ہو رہا ہے۔

  6. امریکی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائیاں: ہمیں اب تک کیا معلوم ہے؟

    امریکی سینٹکام کے مطابق 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں کی گئیں جن کا مقصد اس ایرانی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز پر بحری جہازوں پر حملے کرتا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق اس دوران مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، فضائی ڈرونز اور پہلی مرتبہ بار ’سمندری ڈرونز‘ کا استعمال کیا۔ اس کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔

    دوسری طرف ایران کا کہنا ہے کہ میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف ایک آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس کے بقول اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایران نے ان کارروائیوں میں اردن کے شہزادہ حسن ایئر بیس، بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس اور کویت میں دو فضائی اڈوں کا ذکر کیا ہے۔

    ایران نے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ’آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ ایران اس پر کنٹرول نہیں رکھتا۔‘

  7. ایران کے کویت، بحرین اور اردن میں جوابی حملے

    ایران کا کویت، بحرین اور اردن میں حملوں کا دعویٰ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران نے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے ’دشمن کے اڈوں‘ کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا ہے جس میں اس نے اردن، کویت اور بحرین میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ادھر بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق سائرن بجائے گئے ہیں اور لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پُرسکون رہیں اور قریب ترین محفوظ مقام کی طرف چلے جائیں۔ جبکہ کویتی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام ملک کی فضائی حدود کے اندر ’دشمن کے فضائی حملوں‘ کا مقابلہ کر رہا ہے۔

    اس نے کہا کہ سنے جانے والے کسی بھی دھماکے کی آواز فضائی دفاعی نظام کی جانب سے حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائی کا نتیجہ ہے، اور عوام سے اپیل کی کہ وہ حفاظتی اور سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان کارروائیوں کے بعد اردن کے شہزادہ حسن ایئر بیس پر ایندھن کے ٹینکوں اور اسلحہ ڈپوؤں میں آگ لگ گئی ہے۔ جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ اردن میں واقع اس تنصیب پر حملہ ایرانی ساحلی اڈوں پر امریکی حملوں کے جواب میں اس کی کارروائی کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ اس نے خبردار کیا کہ جوابی آپریشن جاری ہے۔

    پاسداران انقلاب کا کا کہنا ہے کہ اس کی ایرو سپیس فورسز نے بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہاں ہیلی کاپٹروں کی نگرانی کے لیے قائم تنصیب، جس کے ہینگر میں پی ایٹ طیارہ موجود تھا، اور امریکی ڈرون کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ پاسداران انقلاب نے کویت میں دو فضائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ آپریشن ان مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا جن کی نشاندہی گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ’دشمن کی نقل و حرکت‘ کی نگرانی کے بعد کی گئی تھی۔

    ایک بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں اس کی بحری کارروائی میں دو جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس نے ان پر ٹریکنگ نظام بند کرنے، جہازرانی کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے اور بحری سلامتی کے لیے خطرہ بننے کا الزام عائد کیا۔

  8. ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں مکمل، پہلی بار سمندری ڈرونز استعمال کیے گئے: سینٹکام

    بحری ڈرونز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں جن میں اس کے بقول آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، فضائی ڈرونز اور پہلی مرتبہ بار ’سمندری ڈرونز‘ کا استعمال کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ فضائی اور سمندری ڈرونز یکطرفہ حملوں کے لیے استعمال کیے گئے۔ اس کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ ایران اس پر کنٹرول نہیں رکھتا۔‘

    ’امریکی افواج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تعینات اور تیار ہیں تاکہ تجارتی جہاز آزادانہ طور پر آمد و رفت کر سکیں، باوجود اس کے کہ ایران اپنی بلاجواز جارحیت، ہراسانی، دھمکیوں اور یک طرفہ اعلانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

  9. جنوبی ایران میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایران میں فوجی قیادت کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسیوں نے سرک، بندر عباس اور جاسک کے قریب واقع دیہات کے اطراف میں دھماکوں کی آوازوں کی اطلاعات دی ہیں۔ خیال رہے کہ سینٹکام نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے اتوار کو ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے۔

    خوزستان میں مقامی حکام نے پیر کی صبح جنوبی ایران کے اس صوبے کے کئی شہروں پر امریکی فضائی حملوں کی اطلاع دی۔

    سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق خوزستان گورنریٹ کے حکام نے ان حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’آج رات 1:35 بجے اہواز کے اطراف میں دو مقامات کو امریکی دشمن کے میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ اسی طرح 1:40 بجے بہبہان اور دزفول شہروں میں مقامات پر حملے کیے گئے، اور 1:45 بجے امیدیہ اور ماہشہر میں چار مقامات دشمن کے حملوں کا نشانہ بنے۔‘

    دریں اثنا نیوز ایجنسی فارس نے خوزستان گورنریٹ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پیر کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات 2 بجے آبادان اور شادگان شہروں کے بعض حصے بھی فضائی حملوں کا نشانہ بنے۔

    تاہم خوزستان کے نائب گورنر نے بندر خمیر پر حملے اور دھماکے کی آواز سنے جانے کی تردید کی ہے۔

  10. اقوام متحدہ کے بیان پر ایران کا ردعمل: ’ایران کو اپنے دفاع کے لیے موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ ہے‘

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے اتوار کو ایران اور امریکہ سے ایک دوسرے پر فوجی حملے بند کرنے کی اپیل کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ایران نے کہیں بھی حملہ نہیں کیا۔ خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کے خلاف ایران کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقِ دفاع کا استعمال ہیں۔‘

    بقائی نے کہا کہ ’آپ کو ان ممالک سے پوچھنا چاہیے جو اپنی سرزمین اور اڈے امریکہ کو فراہم کرتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے کے بجائے ایران کو اپنے دفاع کے لیے موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ ہے۔‘

    ان بیانات کے اختتام پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان کو طنزیہ انداز میں خلیج فارس کے نام سے متعلق سرکاری دستاویزات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’درست نام ’خلیج فارس‘ ہے۔ براہِ کرم اقوام متحدہ کی متعلقہ ہدایات پر عمل کریں۔۔۔ جن کے مطابق مکمل نام ’خلیج فارس‘ کا استعمال لازمی ہے۔‘

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے اپنے بیان میں ’خلیجی خطے‘ کہا تھا۔

    خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اتوار کو امریکہ اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ بند کریں اور ان کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔

    گوتریس نے خاص طور پر ایران کے خلاف امریکہ کے حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے حملوں اور خلیج فارس کے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا ذکر کیا۔

  11. امریکہ کے ایران پر نئے حملے، تہران کا انتقامی کارروائیوں کا اعلان: ’فوجی جارحیت میں مدد کرنے والے ممالک جائز اہداف ہوں گے‘

    امریکہ کے ایران پر نئے حملے، تہران کا انتقامی کارروائیوں کا اعلان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اتوار کی شام ایران کے خلاف حملوں کا اعلان کیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز پر جہاز رانی کی بحالی اور تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس کی افواج یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی جا رہی ہیں جو کہ مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب میں سیریک کے قریب اور قشم و جاسک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ جبکہ ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ملک کے جنوب میں واقع صوبہ بوشہر کے بعض حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ایران نے اپنی سرزمین پر امریکی حملوں کی تازہ لہر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے گذشتہ مہینوں کی تمام سفارتی کوششوں کو ’ناکام بنا دیا‘ ہے۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور ایرانی پارلیمان کے فیصلوں کے مطابق ان حملوں کا جواب دینے کی پابند ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کو جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔‘

    سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق وزارت خارجہ کے پیر کی صبح جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ یہ ’وحشیانہ حملے نہ صرف اقوام متحدہ کے اصولوں، خصوصاً آرٹیکل 2 کی شق 4، کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ نے بعض خلیجی ممالک کی سرزمین اور تنصیبات کو ’ایران کے خلاف فوجی جارحیت‘ کے لیے استعمال کیا ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے ان ملکوں کو امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی معاونت کے خلاف خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کریں، ورنہ وہ ’ایرانی فوج کی دفاعی کارروائیوں کے لیے جائز اہداف ہوں گے۔‘

    پیر کے روز نئے تجارتی ہفتے کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کی وجہ ہفتے کے اختتام پر ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان تھا۔

  12. بی بی سی کی نئی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید

    مشرق وسطی، پاکستان اور دنیا بھر سے اہم خبروں، تبصروں اور تجزیوں کے لیے بی بی سی کی نئی کوریج شروع کی گئی ہے۔

    اس سے قبل رپورٹ ہونے والی خبروں کے لیے آپ 10 سے 12 جولائی تک چلنے والی لائیو کوریج کا رُخ کر سکتے ہیں۔