انس طالب: اکانومسٹ کو عراقی اداکارہ کی ’فربہ‘ تصویر لگانے پر قانونی کارروائی کا کیوں سامنا ہے؟

انس طالب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, وائل حسین ال سید اور ایلسا میئشمین
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

ایک عراقی اداکارہ انس طالب نے اعلان کیا ہے کہ وہ برطانوی جریدے دی اکانمسٹ کے خلاف ہرجانے کے مقدمہ کریں گی۔

اس جریدے نے ایک تحریر میں یہ کہا تھا کہ عرب خواتین مردوں سے زیادہ موٹاپے کا شکار ہوتی ہیں اور اس تحریر میں ان کی تصویر استعمال کی گئی تھی۔

انس طالب کا کہنا ہے کہ اس تصویر کو ان سے اجازت مانگے بغیر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

ان کے مطابق ان کی آزادی اور پرائیویسی کی خلاف ورزی کی گئی۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ مذکورہ تصویر کو فوٹو شاپ کیا گیا یعنی اس میں ردوبدل کیا گیا۔

انس طالب ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں جو اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ٹی وی ٹاک شو کی میزبان بھی ہیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ برطانیہ میں قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اکانومسٹ نے بی بی سی کی جانب سے ردعمل دینے کی درخواست کا اب تک جواب نہیں دیا۔

مذکورہ آرٹیکل، جس کا عنوان تھا ’عرب دنیا میں خواتین مردوں سے موٹی کیوں ہیں‘، جولائی میں شائع ہوا تھا جس میں انس طالب کی ایک ایسی تصویر استعمال کی گئی تھی جو نو ماہ قبل عراق میں منعقد ہونے والے بابیلون بین الاقوامی فیسٹیول میں کھینچی گئی تھی۔

اس آرٹیکل میں لکھا گیا تھا کہ ’غربت اور سماجی پابندیوں کی وجہ سے خواتین گھروں میں رہنے پر مجبور ہوتی ہیں اور یہ ان میں موٹاپے کی ایک وجہ ہے۔‘

آرٹیکل کے مطابق اس موٹاپے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ عرب دنیا میں کچھ مردوں کو خواتین کے ’خم دار‘ جسم زیادہ پرکشش محسوس ہوتے ہیں۔

اس میں انس طالب کے بارے میں لکھا گیا تھا کہ ’عراقی اکثر انس طالب کو ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، ایک ایسی اداکارہ جن کے جسمانی پیچ و خم خوبصورتی کی بہترین مثال ہیں۔‘

انس طالب نے اس آرٹیکل کو ’عرب خواتین کی عمومی اور عراقی خواتین کی خاص طور پر توہین‘ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’اکانومسٹ کو عرب دنیا کی موٹی خواتین میں دلچسپی کیوں ہے، یورپ اور امریکی خواتین میں کیوں نہیں۔‘

سعودی چینل العربیہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اردن میں موجود انس نے کہا کہ ان کو اس آرٹیکل کے شائع ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر برے کمنٹس کا سامنا کرنا پڑا۔

نیوز لائن میگزین سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ صحت مند ہیں اور اپنے آپ سے خوش ہیں۔

’میرے لیے یہ سب سے زیادہ اہم چیز ہے۔‘

42 سالہ انس طالب عراق کی مشہور اداکارہ ہیں۔ انسٹا گرام پر ان کے 90 لاکھ فالوورز ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

العربیہ سے انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا کہ ’اکانومسٹ بد قسمت تھا‘ جو اس نے ان کو غصہ دلایا۔

’ان کو معلوم نہیں تھا کہ میں ایک مشہور اور عوامی شخصیت ہوں۔ میں بحران کو کامیابی میں تبدیل کرنا جانتی ہوں۔‘

اکانومسٹ جریدے کے اس مضمون پر سوشل میڈیا میں بھی تنقید ہوئی۔ چند صارفین نے الزام لگایا کہ اس آرٹیکل میں ’عرب خواتین سے نسلی و جنسی امتیاز برتا گیا اور ان کی باڈی شیمنگ کی گئی۔‘