لائیو, وفاقی بجٹ 27-2026: تنخواہوں، پنشن میں سات فیصد اضافہ، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی جبکہ دفاعی بجٹ میں 17.6 فیصد اضافے کی تجویز

وفاقی حکومت نے بجٹ برائے مالی سال 27-2026 میں تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز پیش کی ہے۔ دفاعی بجٹ میں 17.6 فیصد اضافے جبکہ پراپرٹی کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز بھی ہے۔بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی اور بعدازاں واک آؤٹ کیا گیا۔

خلاصہ

  • وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 18 کھرب 77 ارب سے زائد حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے
  • وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے
  • حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز پیش کی ہے جبکہ پراپرٹی کی منتقلی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کی تجویز ہے
  • دفاعی بجٹ 17.6 فیصد اضافے کے بعد تین ہزار ارب روپے کرنے کی تجویز ہے
  • بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی تاہم بجٹ سیشن کے اختتام پر حزب اختلاف نے ایوان سے واک آؤٹ کیا ہے

لائیو کوریج

  1. سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ٹک ٹاکرز کی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

    سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ٹک ٹاکرز کی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فنانس بِل 2025-26 میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں (کنٹینٹ کری ایکٹرز) اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے موصول ہونے والی آمدنی پر ودہولڈنگ ٹیکس کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کے تحت بینکاری اور مالیاتی ادارے ایسی وصولیوں پر ٹیکس کٹوتی کریں گے۔

  2. قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ کی اہم تجاویز کیا ہیں؟

    • 18 کھرب 77 ارب روپے سے زائد کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
    • مجموعی ترقیاتی بجٹ کے لیے 3675 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
    • دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ گذشتہ برس کے مقابلے میں 17 فیصد زائد ہے۔
    • تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کا اعلان
    • سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز
    • 2000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز
    • ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں (کنٹینٹ کری ایکٹرز) اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آمدنی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی تجویز
    • کریڈٹ ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز
    • سپر ٹیکس میں کمی کا اعلان
    • 20 کروڑ روپے سالانہ مال فروخت کرنے والے دکانداروں پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس کی تجویز
  3. وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر ختم ہونے سے قبل اپوزیشن کا واک آؤٹ

    اپوزیشن ارکان وزیرِ خزانہ کی تقریر کے دوران احتجاج کرتے رہے، تاہم اُن کی تقریر ختم ہونے سے قبل اپوزیشن ارکان نے بجٹ اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا۔

  4. وفاقی حکومت کا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافے کا اعلان, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی بجٹ 27-2026 پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مہنگائی کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور ان مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    اُنھوں نے کہا ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پینشن میں بھی سات فیصد اضافے کی تجویز ہے۔

  5. کریڈٹ ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ملک میں بینکوں کے جاری کردہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے بیرون ملک استعمال پر ہر ٹرانزیکشن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔

    ’اس ٹیکس کی وجہ سے رقم کی منتقلی کے لیے غیر روایتی ذرائع کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس کی حوصلہ شکنی کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی اس شرح کو صفر اعشاریہ پانچ فیصد (0.5) فیصد کرنے کی تجویز ہے تاکہ اسے معمولی مالیاتی ٹرانزیکشن کی سطح پر لایا جا سکے اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی حکومتی کاوشوں کو تقویت مل سکے۔‘

  6. 2000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز

    2000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آٹو سیکٹر کے بارے میں بتایا کہ:

    • درآمد کی جانے والی 2000 سے 3000 سی سی کی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کی جا رہی ہے۔ 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹی بڑھائی جا رہی ہے۔ اس ٹیکس کا اطلاق دو کروڑ روپے سے مہنگی لگژری ای ویز پر بھی ہو گا۔
    • الیکٹرک موٹر سائیکلز، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں پر موجود رعایتی نظام اگلے سال بھی برقرار رہے گا۔
    • درآمد کی جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر بھی ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔
    • ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کے خریداروں کے لیے رعایتی مالی سہولت فراہم کی جائے گی۔ بینک اور مالیاتی ادارے کم شرح سود پر قرض فراہم کریں گے تاکہ متوسط آمدنی والے افراد بھی ان گاڑیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔
  7. اپوزیشن کا شور شرابہ، پیپلز پارٹی کی ’ناراضگی‘ اور خالی کرسیاں، قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا احوال, سارہ حسن، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہNational Assembly of Pakistan

    ڈیڑھ گھنٹے سے زائد تاخیر سے شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس اپوزیشن کے احتجاج اور حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی ’ناراضگی‘ سے شروع ہوا۔

    ایوان میں اتنا شور ہے کہ وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر کو سننا ایک چیلنج سے کم نہیں ہے۔ حکومتی اراکین نے ہیڈ فونز لگا رکھے ہیں جبکہ اپوزیشن سپیکر ڈیسک کے سامنے کھڑے احتجاج کر رہے ہیں۔

    حکومتی اتحادی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی بھی بہت کم تعداد ایوان میں موجود ہے جبکہ ایم کیو ایم کے اہم رہنما بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔

    عموماً بجٹ اجلاس کے موقع پر اراکین کافی تعداد میں اجلاس میں شریک ہوتے ہیں لیکن ایوان میں اکثر کرسیاں خالی ہیں۔ حکومتی بینچز پر بھی اراکین کی تعداد کم ہے۔

    یہاں تک کہ جب وزیر خزانہ نے بجٹ میں دیے گئے ریلیف اقدامات کا اعلان کیا تو اُس وقت بھی اپوزیشن نے شور مچایا لیکن حکومتی ڈیسک پر موجود اراکین نے بھی ڈیسک بجانے کے بجائے خاموش رہنے پر ہی اکتفا کیا۔

  8. وفاقی حکومت کا اگلے مالی سال میں سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز

    وفاقی حکومت نے نئے مالی سال میں خواتین کی صحت کے لیے ضروری اشیاء مثلاً سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس میں خاتمے کی تجویز دی ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ خواتین کی صحت کے لیے ضروری اشیاء مثلاً سینٹری پیڈز اور متعلقہ اشیاء روز مرہ زندگی کی ضروریات ہیں جو خواتین کی صحت، وقار اور معاشرتی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کے لیے لازم ہے۔

    اس لیے سینٹری پیڈز اور متعلقہ اشیاء پر ٹیکس پر خاتمے کی تجویز ہے۔

    اُنھون نے کہا ملک میں آبادی میں اضافے کی رفتار تشویشناک ہے اور خاندانی منصوبہ بندی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس لیے مانع حمل ادویات پر ٹیکس مکمل طور ختم کر دیے گئے ہیں۔

  9. پراپرٹی کی منتقلی پر ٹیکس میں کمی کا اعلان

    وفاقی حکومت نے نئے مالی سال میں پراپرٹی کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ پراپرٹی کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے فائلرز کے لیے خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کا تجویز ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا ٹیکس میں کمی سے تعمیراتی شعبے کی سرگرمیاں زور پکڑیں گی اور تعمیرات کا شعبہ فروغ پائے گا۔

  10. تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کا اعلان, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے آمدنی کی چار سلیبز کے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    اس سلسلے میں جو تنخواہ دار 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ کے درمیان کماتے ہیں ان کی ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کی جا رہی ہے۔

    32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    اسی طرح 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے 29 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    56 سے 70 لاکھ روپے تک تنخواہ پانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

  11. سپر ٹیکس میں کمی کا اعلان, تنویر ملک، صحافی

    وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے سپر ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے حکومت نے کاروبار سے 15 کروڑ روپے سے پچاس کروڑ روپے تک آمدنی کی چھ سلیبز پرعائد سیلز ٹیکس جو ایک فیصد سے لے کر ساڑھے سات فیصد تک تھا کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ 50 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10فیصد سے کم کر کے آٹھ فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کو فروغ دینے کے علاوہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ تاہم بینکوں، تیل، گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور کھاد بنانے والے کارخانوں پر موجودہ سر چارج برقرار رہے گا۔

  12. آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد شرح نمو کا ہدف، مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد مقرر, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے چار فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ٹارگٹ رکھا ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ مالی سال میں اقتصادی سروے کے مطابق ملکی معیشت کی شرح نمو تین اعشاریہ سات فیصد رہی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ میں ملک میں مہنگائی کی شرح کا ہدف 8٫2 فیصد رکھا گیا ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق ملکی مصنوعات کی برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر رکھا گیا ہے جب کہ دوسری جانب خدمات کے شعبے کی برآمدات کا ہدف 11.3 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔

    رواں مالی سال کے لیے مصنوعات کی درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر رکھا گیا ہے اور خدمات کے شعبے میں درآمدات کا ہدف 13.8 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ملک بھیجی جانے والی رقوم کا ہدف 42.4 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔

    وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 1000 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے جس کے تحت انفراسٹرکچر، سوشل، گورننس اور دوسرے شعبوں میں ترقیاتی بجٹ کے لیے رقم مختص کی گئی ہے۔

    وفاقی بجٹ میں صوبوں کے ترقیاتی بجٹ اور حکومتی تحویل میں چلنے والے اداروں کے ترقیاتی بجٹ شامل کرنے کے بعد ملک کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 3675 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔

    وفاقی بجٹ میں کراچی کوئٹہ شاہراہ کے لیے 100 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

    سکھر-حیدرآباد موٹر وے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مہمند ڈیم کے لیے 21 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور داسو ڈیم کے لیے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وفاقی بجٹ میں ڈیجیٹل گورننس اور سروسز کے شعبے میں مختلف اقدامات کے لیے 30 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

    وفاقی بجٹ میں اعلی تعلیم کے شعبے کے لیے 46 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

    ملک میں ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ملک میں 23 ہزار 775 گرین جابز کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال میں قابل تجدید توانائی شعبے میں پبلک انوسٹمنٹ کے لیے 151 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

    اگلے مالی سال میں وزیر اعظم کے یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے پانچ ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس کے تحت 120000 نوجوانوں کو ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کا دائرہ کار ایک کروڑ 20 لاکھ افراد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

  13. وفاقی حکومت کا 18 کھرب 77 ارب سے زائد کا بجٹ پیش، دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہNational Assembly of Pakistan

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2027-2026 کے لیے 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔

    بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے آٹھ ہزار ارب اور دفاعی بجٹ کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وفاقی بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی وفاقی بجٹ کا حجم 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ روپے تجویز کیا گیا ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں آٹھ کھرب پانچ ارب 40 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔

    پینشن کی ادائیگیوں کے لیے ایک کھرب 16 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ تین کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے مختلف شعبوں کے لیے مجوزہ مالی اہداف اور اخراجات کا خاکہ تیار کیا ہے۔

    دستاویزات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 15 کھرب 26 ارب 40 کروڑ روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا گیا ہے۔

    حکومت کو توقع ہے کہ غیر ٹیکس آمدنی کی مد میں پانچ کھرب 33 ارب 60 کروڑ روپے حاصل ہوں گے، جبکہ نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ چار کھرب ایک ارب 20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔

    دفاعی خدمات کے انتظامی امور کے لیے ایک کھرب سات ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    مالی سال 2027-2026 کے دوران سبسڈیز کی مد میں ایک کھرب نو ارب 10 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    دوسری جانب آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم ایک کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

  14. بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج، پی ٹی آئی ارکان کی سپیکر ڈائس کے سامنے نعرہ بازی, سارہ حسن، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی بجٹ تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج جاری ہے۔

    پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکن بھی بجٹ تقریر کے دوران مسلسل نعرہ بازی کر رہے ہیں۔ بجٹ تقریر سے قبل تحریک انصاف کے ارکان مختلف پوسٹرز لے کر قومی اسمبلی میں داخل ہوئے جن پر عمران خان کی رہائی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافے کے مطالبات درج تھے۔

    ارکان نے ’صوبوں کے حقوق کا خاتمہ نامنظور آئی ایم ایف کا بجٹ نا منظور‘ کے پلے کارڈ اڈا رکھے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ارکان اپنی نشستوں سے اُٹھ کر سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہیں۔

  15. قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع، بلاول بھٹو بھی اجلاس میں شریک

    آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے پاکستان کی قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کر رہے ہیں۔

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بجٹ اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔

    پہلے پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ بتایا گیا تھا کہ بلاول بھٹو اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، تاہم بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے ارکان بھی بجٹ اجلاس میں شریک ہیں۔

  16. پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم بلاول بھٹو اجلاس میں نہیں جائیں گے: ترجمان پیپلز پارٹی

    پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم چیئرمین پیپلز پارٹی بجٹ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے بعض ارکان بجٹ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ قومی مفاد کے تحت پیپلز پارٹی بجٹ کے عمل کا حصہ بنے گی۔

  17. بجٹ اجلاس سے قبل سرکاری ملازمین کا احتجاج، ریڈ زون میں سخت سیکیورٹی, سارہ حسن، صحافی

    تصویر

    قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس سے قبل شاہراہ دستور پر سرکاری ملازمین کے احتجاج کے باعث ریڈ زون میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    سرکاری ملازمین کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے۔

    ریڈ زون میں پرائیویٹ گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے جبکہ بجٹ اجلاس کی کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

    شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ اور دیگر اہم عمارتوں کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

    اسلام آباد پولیس نے بھی شہریوں سے کہا ہے کہ شاہراہِ دستور سرکاری ملازمین کے احتجاج کے باعث ٹریفک کے لیے بند ہے۔ شہری براستہ بری امام استعمال کرتے ہوئے مارگلہ روڈ آنے جانے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔

    پولیس نے شہریوں کو ریڈ زون کی طرف غیر ضروری سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

  18. پچھلے دو بجٹ میں آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس لگانے پڑے جس سے مہنگائی ہوئی، اب بہتر بجٹ پیش کر رہے ہیں: شہباز شریف

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پچھلے دو بجٹ میں آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس لگانے پڑے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

    بجٹ کی منظوری کے لیے بلائے گئے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اُس وقت ہچکولے کھاتی معیشت کو سنبھالنے کے لیے مشکل فیصلے ناگزیر تھے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے عوام کو مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنا پڑا جس پر وہ 24 کروڑ عوام سے معذرت کرتے ہیں۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت اب بہتری کی راہ پر گامزن ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ عوام کوریلیف دیں لیکن مشرقِ وسطیٰ تنازع کی وجہ سے کچھ رکاوٹیں آئی ہیں۔

  19. وزیرِ اعلی سہیل آفریدی پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے لیے پشاور سے روانہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بجٹ کے دوران پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کے لیے پشاور سے روانہ ہو گئے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ کے ہمراہ کابینہ کے دیگر ارکان بھی موجود ہیں۔

    روانگی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا بجٹ کی مشاورت کے لیے عمران خان سے ملاقات کروائی جائے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ صوبے کی عوام نے عمران خان کو ووٹ دیا ہے جس کے لیے اُن کی مشاورت ضروری ہے۔

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی پارٹیاں اپنے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں۔ ہمیں بھی اجازت دی جائے۔

  20. بجٹ میں پاکستان کی عظیم قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے بجٹ میں پاکستان کی عظیم قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ الحمداللہ اس بجٹ کو بہت محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہو گیا ہے جس کی صدارت وزیرِ اعظم شہباز شریف کر رہے ہیں۔