آپ کی تنخواہ پر کتنا ٹیکس کم ہو گا؟

پاکستان، ٹیکس، آمدن، انکم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

پاکستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 27-2026 کے لیے بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک میں تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کے ساتھ ٹیکس سلیب کی تعداد میں رد و بدل کا بھی اعلان کیا۔

پاکستان میں تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس اکثر زیر بحث رہتا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کی جانب سے قومی خزانے میں جمع کرایا جانے والا ٹیکس ریٹیلرز، ہول سیلرز اور ایکسپورٹرز کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

موجودہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے کی جانب سے اب تک 600 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا گیا تاہم اب وفاقی حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کا اعلان کیا گیا۔

اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے گذشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیب کی تعداد کو اگلے مالی سال میں چھ سے آٹھ کر دیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کے لیے جو ریلیف فراہم کیا گیا، اس کے لیے بی بی سی اردو نے فنانس بل میں موجودہ تفصیلات اور ٹیکس ماہرین سے بات کر کے اس ریلیف کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

تنخواہ دار طبقے میں کس کو کتنا ریلیف ملا؟

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے آمدنی کی چار سلیبز کے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس سلسلے میں:

  • جو تنخواہ دار دو لاکھ 66 ہزار روپے ماہانہ آمدن کماتے ہیں، ان کی ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کی جا رہی ہے۔
  • تین لاکھ 41 ہزار ماہانہ آمدنی والے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
  • اسی طرح چار لاکھ 66 ہزار ماہانہ کمانے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے 29 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
  • اسی طرح پانچ لاکھ 83 ہزار ماہانہ پانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی۔
  • اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے میں زیادہ آمدن والے افراد پر نو فیصد سرچارج کو بھی ختم کر کرنے کا اعلان کیا گیا۔
شرمین سکیوریٹیز

،تصویر کا ذریعہSherman Securities

،تصویر کا کیپشنشرمین سکیوریٹیز کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ملنے والے ریلیف کی تفصیلات دی گئی ہیں

ٹیکس سلیبز کی تفصیل

وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی سلیب کو چھ سے آٹھ کرنے کی تجویز دی گئی۔

فنانس بل میں ٹیکس سلیبز کے بارے میں یہ بتایا گیا:

  • 50 ہزار ماہانہ تک کی تنخواہ پر ٹیکس کی شرح صفر رہے گی
  • ایک لاکھ روپے ماہانہ تک آمدن والے تنخواہ دار طبقے پر چھ لاکھ سے زائد ہونے والی رقم پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ یعنی اگر آپ کی تنخواہ 50 ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ اور ایک لاکھ روپے ماہانہ سے کم ہے تو آپ پہلے کی طرح ایک فیصد ٹیکس ہی دیں گے۔
  • ایک لاکھ سے تقریباً پونے دو لاکھ ماہانہ آمدن والے افراد پر چھ ہزار روپے کے ساتھ 11 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔
  • پونے دو لاکھ سے دو لاکھ 66 ہزار روپے ماہانہ تک کی آمدن والے افراد پر سالانہ 116000 کے ساتھ 20 فیصد ٹیکس عائد ہو گا
  • دو لاکھ 66 ہزار روپے سے تین لاکھ 41 ہزار ماہانہ آمدن والے افراد پر سالانہ 316000 روپے کے ساتھ 25 فیصد ٹیکس عائد ہو گا
  • تین لاکھ 41 ہزار روپے سے چار لاکھ 66 ہزار روپے تک کی آمدن والے افراد پر سالانہ 541000 روپے ٹیکس کے ساتھ 29 فیصد ٹیکس عائد ہو گا
  • چار لاکھ 66 ہزار سے پانچ لاکھ 83 ہزار روپے تک ماہانہ آمدن والے افراد پر سالانہ 976000 روپے کے ساتھ 32 فیصد ٹیکس عائد ہو گا
  • پانچ لاکھ 83 ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ آمدن والے افراد پر سالانہ 1424000 روپے کے ساتھ 35 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔

تنخواہ دار پر ٹیکس کی شرح میں کمی سے کتنا ریلیف ملے گا؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ٹیکس امور کے ماہر ذیشان مرچنٹ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس کی شرح میں جو ردوبدل کیا گیا، اس کے مطابق جو افراد بارہ لاکھ روپے سالانہ کماتے ہیں ان پر تو ٹیکس کی شرح برقرار رکھی گئی، یعنی انھیں کوئی ریلیف نہیں ملا۔

انھوں نے کہا جو افراد سالانہ 24 لاکھ روپے تک کماتے ہیں وہ موجودہ مالی سال میں 162000 روپے ٹیکس ادا کریں گے لیکن نئے مالی سال میں ان افراد کو 156000 روپے ٹیکس میں دینا ہوگا، یعنی انھیں 6000 روپے کی بچت ہو گی۔

انھوں نے کہا جو افراد 36 لاکھ روپے سالانہ تک کماتے ہیں، وہ اب 467000 سالانہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اگلے مالی سال میں وہ 416000 روپے ادا کریں گے، اس طرح انھیں 51000 روپے کی بچت ہو گی۔

انھوں نے بتایا کہ 48 لاکھ روپے تک کمانے والے افراد اس وقت 861000 روپے سالانہ ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ اگلے مالی سال میں وہ 744000 روپے ٹیکس ادا کریں گے۔ اس طرح انھیں 117000 روپے کی بچت ہو گی۔

ان کے مطابق 56 لاکھ روپے تک آمدن والے افراد اب 1141000 روپے ٹیکس دیتے ہیں۔ اگلے مالی سال میں انھیں 976000 روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا، اس طرح انھیں 165000 روپے کا فائدہ ہوگا۔