برطانیہ کے سابق وزیر پر اپنی بیوی کو ریپ کرنے کا الزام

،تصویر کا ذریعہUK PARLIAMENT
برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی کے ایک سابق وزیر کی جانب سے اپنی بیوی کا ریپ کرنے اور انہیں جسمانی طور پر حراساں کرنے کی خبر سامنے آئی ہے۔
فیملی کورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ 51 سالہ اینڈریو گریفتھس نے برٹن اپون-ٹرینٹ سے رکن پارلیمان کیٹ گریفتھس کو زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا۔
سٹیفورڈ شائر ٹاؤن کے سابق ایم پی مسٹر گریفتھس نے 'زبردستی اور کنٹرول کرنے والا رویہ' استعمال کیا۔
اس واقعہ کی رپورٹ کے بعد جولائی 2018 میں انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دیدیا تھا۔
سابق ایم پی نے محترمہ گریفتھس کے لگائے گئے الزامات کی تردید کی اور ریپ کے الزام کی سختی سے تردید کی تھی۔
جج الزبتھ وِلِس کرافٹ ڈربی کی ایک فیملی کورٹ میں مسٹر اور مس گریفِتھس کے درمیان جھگڑے کی تحقیقات کر رہی تھیں ۔ اب ان دونوں کی طلاق ہو چکی ہے۔
51 سالہ مس گریفتھس نے مسٹر گریفتھس کے خلاف کئی الزامات لگائے اور جج وِلِس کرافٹ سے حقائق کا پتہ لگانے کی درخواست کی۔
جج کی تحقیقات کے نتائج مس گریفتھس کے حق میں آئے لیکن فیصلہ کیا گیا کہ انہیں عام نہیں کیا جائے گا تاکہ فیملی کورٹ کی اس کارروائی میں ان کے بچے پر منفی اثر نہیں پڑے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ہائی کورٹ کے ایک جج نے فیصلہ دیا کہ جج وِلِس کرافٹ کے نتائج کو سامنے لایا جانا چاہیے کیونکہ پریس ایسوسی ایشن اور ٹورٹوائز میڈیا کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ وہ عوامی مفاد میں تھے۔
محترمہ گریفتھس نے اس اقدام کی حمایت کی تھی، جبکہ مسٹر گریفتھس اس کے حق میں نہیں تھے۔ جبکہ میڈیا رپورٹس میں ریپ کی متاثرہ کو نام ظاہر نہ کرنے کا قانونی حق ہے۔
مس گریفتھس نے کہا کہ اپیل ججوں کے فیصلے کی تفصیلات کو عام کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک کیس کے بعد اس فیصلے کا خیر مقدم' کیا اور کہا اس سے انکو اور ان کے خاندان کو 'بہت زیادہ جذباتی اور مالی نقصان پہنچا ہے'۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کے حق سے دستبردار ہوئیں 'کیونکہ میں جانتی ہوں کہ میں ایک اہم اور منفرد مقام پر ہوں میں اس طرح کے مقدمات کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے مہم چلا رہی ہوں، ان لوگوں کے لیے جو گھریلو تشدد کا شکار ہیں، اور ایسے معاملات میں بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات پر زور دیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہUK PARLIAMENT
مسٹر گریفتھس جو برٹن کے ایم پی اور چھوٹے کاروبار کے وزیر ہوا کرتے تھے، سابق وزیر اعظم ٹریسا مے کے چیف آف اسٹاف کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔انہوں نے ایک بار ورکر اور ان کی دوست کے بارے میں سوشل میڈیا پر نازیبا تبصرہ کرنے کے الزامات کے بعد استعفی دیدیا تھا۔
پارلیمنٹ کے نگران ادارے نے انہیں ان الزامات سے بری کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔
محترمہ گریفتھس اسی حلقے سے بطور کنزرویٹو امیدوار الیکشن میں کامیاب ہوئیں ۔اس وقت انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق لے رہی ہیں ۔
جج ولس کرافٹ نے تحقیقات کیں کہ مسٹر گریفتھس محترمہ گریفتھس کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کیا کرتے تھے۔
جج نے کہا کہ 'محترمہ گریفتھس نے میرے سامنے بتایا کہ مسٹر گریفتھس نے ان کے ساتھ زبردستی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گریفتھس کے جواب اور ان کے ردِ عمل سے اس کی تصدیق ہوگئی'۔
مس گریفتھس نے کہا ان کا ریپ اس وقت ہوا جب وہ سو رہی تھیں۔
فیصلے میں پیش کیے گئے واقعات کی ٹائم لائن میں جرم کی تاریخیں نہیں دی گئی ہیں۔
ان دونوں نے تقریباً پانچ سال قبل ایک رشتہ قائم کرنے کے بعد 2013 میں شادی کی تھی اور محترمہ گریفتھس کو مسٹر گریفتھس کی جنسی بے راہ روی کے بارے میں معلوم ہوا تھا جس میں کسی اور کے ساتھ، افیئر اور جنسی نوعیت کے ٹیکسٹ میسجز بھیجانا شامل تھا۔
ایم پی،جنہوں نے عدالتی سماعتوں میں سکرین کے پیچھے کھڑے ہو کر بیان دیے تاکہ وہ مسٹر گریفتھس کو نہ دیکھ سکیں، انہوں نے 'گھریلو تشدد' کا بھی ذکر کیا۔ جج نے کہا کہ ان کے اس بیان کو درست پایا گیا۔
محترمہ گریفتھس نے کہا تھا کہ ایک دن بحث کے دوران، مسٹر گریفتھس گھٹنوں کے بل ان پر بیٹھ گئے اور ان کا گلا گھوٹنے کی کوشش کی۔
مسٹر گریفتھس نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا لیکن جج وِلِس کرافٹ نے کہا کہ وہ محترمہ گریفِتھس کے اکاؤنٹ کو 'ترجیح' دیتی ہیں۔
جج نے یہ بھی پایا کہ مسٹر گریفتھس نے محترمہ گریفتھس کو اس وقت دھکا دیا تھا جب وہ حاملہ تھیں۔
مسٹر گریفتھس نے ایک تحریری بیان میں کہا'میں سخت مایوس ہوں کہ کورٹ آف اپیل نے فیملی کورٹ میں کارروائی کی اشاعت کی اجازت دی ہے۔‘
جب کہ میرے حساب سے اس حوالے سے قانونی رکاوٹیں باقی ہیں، کیونکہ فیصلہ مکمل طور پر شائع نہیں کیا گیا ہے، میں خود پر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔ تاہم، فیملی کورٹ نے جسے میں نجی سمجھتا تھا، میرے خلاف فیصلہ سنایا'۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ہمیشہ سے اپنے بچے کو تشہیر سے بچانا رہا ہے اور اس کیس کی اشاعت سے جو نقصان پہنچا ہے وہ اس کی تلافی کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔




















