ہم نے عزت تو خوب کما لی، پیسے کب کمائیں گے؟

،تصویر کا ذریعہWhite House
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, صحافی و تجزیہ کار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
آج حالت یوں ہے کہ پاکستان سال بھر میں جوڑ توڑ کے جو کماتا ہے اس کا 43 فیصد سود میں چلا جاتا ہے۔ باقی دفاع، انتظامی اخراجات اور اشرافی مراعات پر صرف ہو جاتا ہے۔ پھر بھی ان مدوں میں خرچ ہونے سے کچھ سکے پوٹلی میں بچ جائیں تو اس پوٹلی کو ترقیاتی بجٹ کا نام دے کر ارکانِ اسمبلی کی جانب اچھال دیا جاتا ہے۔
بیشتر ارکان اس بجٹ کو جانے پہچانے ٹھیکیداروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ٹھیکیدار بہت سا بانٹتا ہے، کچھ اپنے لیے رکھتا ہے اور تھوڑا بہت پروجیکٹ پر لگا بھی دیتا ہے تاکہ اگلی بار بھی ٹھیکہ مل سکے۔
چند برس پہلے تک قومی بجٹ دیسی بابو بناتے تھے۔ جب سے آئی ایم ایف نے براہِ راست مالیاتی وائسرائے کی نشست سنبھالی ہے تب سے بابو لوگ اپنی بقراطی لڑانے کے بجائے آئی ایم ایف کے ویسے منشی بن گئے ہیں جو شارٹ ہینڈ میں ڈکٹیشن لے کر اسے مالیاتی بل میں ڈھالنے کا ماہر ہو۔
تو یہ ہے وہ گورننس جسے عوام اکثر جھنجھلا کر بگڑا ہوا سسٹم کہہ دیتے ہیں حالانکہ کسی بھی مراعات یافتہ طبقے یا ادارے سے پوچھیے تو وہ سمجھائے گا کہ اس سے بہتر سسٹم شاید ہی کہیں اور ہو۔ بھلا کہاں ایسا نظام ملے گا جو چند افراد نے چند افراد کے لیے کچھ ایسی ذہانت سے ڈیزائن کیا ہو کہ دور سے دیکھنے پر کسی جمہوری محل کا دھوکہ ہو۔
اس ملک میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ حالات بھلے کتنے اچھے یا برے ہوں، باہر سے ڈالروں کی بارش ہو رہی ہو یا پھر ڈالروں کا قحط پڑ جائے، عام آدمی کا معیارِ زندگی ایک جگہ مستحکم رہتا ہے۔ قرضہ اور غربت بڑھے تو بڑھے مگر مساوی مواقع کے نتیجے میں امارت کی لت عام نہ ہو جائے، اس کا پورا اہتمام رکھا جاتا ہے۔
البتہ کام کی تقسیم مساوی ہے۔ عوام صبر کرتے ہیں اور ان پر سواری گانٹھنے والے شکر کرتے ہیں۔ ویسے بھی امیری غریبی دنیاوی جھمیلے ہیں۔ قبر میں تو اعمال ہی ساتھ جائیں گے۔ ہم زرا یہاں عیش کر لیں، تم وہاں عیش کر لینا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور آئی ایم ایف کا رشتہ اٹوٹ ہے۔ 1958 سے آج تلک ہر خاکی و نوری سرکار نے قسم کھائی کہ بس یہ واشنگٹن کا آخری چکر ہے اس کے بعد ہم کشکول توڑ دیں گے۔ خیر سے 68 برس میں ٹوٹے کشکولوں اور قرضوں کا انبار لگتا چلا گیا۔
مگر ایک بات تو ماننا پڑے گی کہ اندر کے حالات کچھ بھی ہوں دنیا رفتہ رفتہ ہماری عزت کرنا سیکھ رہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ دیا جا رہا ہے کہ فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت میں بنیان المرصوص کی عظیم الشان کامیابی کے سبب دنیا میں پاکستان کا وقار جتنی تیزی سے بلند ہوا اس کے اعتراف میں پاکستان کو ایران امریکہ ثالثی کا اعزاز ملا اور پہلی بار شریکے (انڈیا) والے یہ دیکھ دیکھ کر سیخ پر کباب کی طرح بھن رہے ہیں کہ تمام اہم ممالک ان مصالحتی کوششوں میں پاکستان کے حامی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
چنانچہ اسلام آباد پنڈی میں قوی آس ہے کہ پاکستان کو اس کارخیر کا پھل اقتصادی منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی شکل میں ملے گا۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل سے ملک میں توانائی کے بحران کی شدت میں کسی حد تک کمی ہو سکے گی۔ افغانستان نہ بھی قابو میں آیا تب بھی براستہ ایران وسطی ایشیائی ممالک سے تجارت بڑھانے کے امکانات روشن ہیں۔
یہ سب اگر حسب خواہش ہو بھی گیا تب بھی قومی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔ سرکار کل بھی کہتی تھی اور آج بھی کہتی ہے کہ ہمارے وسائل محدود ہیں، ٹیکس چوری قابو میں نہیں آ رہی، سرمایہ کاری جھٹکے دار ہے، چنانچہ قرضوں کا بوجھ بڑھنا ناگزیر ہے۔ چادر چھوٹی ہے اور آبادی بڑھی چلے جا رہی ہے۔ ہمارے پاس الہ دین کا چراغ نہیں، کریں تو کیا کریں۔
سوال یہ ہے کہ جب آبادی پچیس کروڑ کے بجائے ساڑھے تین کروڑ یا سات کروڑ تھی تب کیا پاکستان فرانس تھا؟ تب کیا غربت، بے روزگاری، ناخواندگی کی شرح کم تھی؟ موجودہ پاکستان کا اتنا ہی رقبہ تھا، وہی جغرافیہ ہے، قدرتی و معدنی وسائل بھی اتنے ہی ہیں بلکہ پچاس برس پہلے فی کس وسائل آج کے مقابلے میں دوگنے تھے۔ تب کیوں آئی ایم ایف کے چکر لگ رہے تھے۔ تب بھی خوشحالی محض ایک خوش کن سراب کیوں تھی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا ابتدائی دنوں میں پاکستانی معیشت کو 1950-53 کی جنگِ کوریا کے دور میں اچھے خاصے تجارتی آرڈرز نہیں ملتے رہے۔ چالیس سالہ سرد جنگ میں مغرب کا ساتھ دینے کے سبب آسان شرائط پر ترقیاتی امداد، قرضے اور برآمدی کوٹے میسر نہیں تھے۔ کیا 1979 تا 1989 سالہ افغان جنگ کے دوران ڈالرز اور ریالوں کی ریل پیل نہیں ہوئی؟ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی عالمی جنگ میں ساتھ دینے کا انعام بھاری امداد کی شکل میں ملا تھا کہ نہیں؟
یہ سب کہاں خرچ ہو گیا؟ کم از کم تعلیم ، صحت اور معیشت میں تو ٹپائی نہیں دیا۔ دو ہزار چودہ پندرہ میں سی پیک کے نام پر ایک اور گیم چینجر نمودار ہوا۔ کہتے ہیں کہ سی پیک کا پیکیج ستر ارب ڈالر سے اوپر پہنچا ہوا ہے۔ آج گیارہ برس بعد بھی کیا کتنا بدلا ؟
معیشت میں اوسطاً سالانہ تین سے ساڑھے تین فیصد تک بڑھوتری بتائی جاتی ہے جبکہ غربت سات سے آٹھ فیصد اور بڑھ گئی۔ خواندگی کا تناسب پہلے کی طرح بدانتظامی کی ڈور سے لٹک رہا ہے، صحت کا بجٹ ہمیشہ کی طرح اب بھی بیمار ہے۔
ہم نے یہ تیر چلا دیا، ہم نے وہ بھالا مار دیا، ایسی خوشخبریوں سے من تو شانت ہو سکتا ہے پیٹ نہیں بھر سکتا۔
اختیارات اس حد تک ایک جگہ مرتکز ہو گئے ہیں کہ اب یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس زخیرہ اندوزی کا کرنا کیا ہے؟ گویا ہم بااختیار بے اختیاری سے گزر رہے ہیں۔
مجھے اس شخص کی تلاش ہے جس نے یہ کہہ کر مجھ سمیت کئی نسلیں خراب کر دیں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔



























