بچوں کے کھلونے: مذہبی تصورات اور کلچر پر مبنی کھلونوں کی فروخت میں اضافے کا رجحان

Manisha Varsani with her sons

،تصویر کا ذریعہBBC

،تصویر کا کیپشنمنیشا ورسانی سمجھتی ہیں کہ مذہبی سوفٹ ٹوائے ان کے بیٹوں کو مذہب کی پہچان اور اس کے ساتھ ایک بامعنی تعلق جوڑنے میں مددگار ثابت ہوا ہے
    • مصنف, وشوا سمانی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، لندن
  • وقت اشاعت

کیا والدین کے لے اپنے مذہب اور کلچر کو اپنے چھوٹے بچوں تک منتقل کرنے میں گڑیا کی شکل میں دستیاب ایک نرم و گداز مورتی بھی کارآمد ہو سکتی ہے؟

گزشتہ چند برسوں سے برطانیہ اور امریکہ میں کچھ چھوٹی چھوٹی کمپنیاں دس سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے مذہبی کھلونے فروخت کر رہی ہیں۔

ان میں سے اکثر کمپنیاں ہندو والدین نے شروع کی ہیں اور انھیں امید ہے اس برس دیوالی کے موقع پر ان کے بنائے ہوئے کھلونے خوب فروخت ہوں گے۔

یاد رہے کہ اس برس دیوالی کا تہوار چار نومبر کو منایا جائے گا۔

تین سالہ جیدن اکثر رات کو جب سوتا ہے تو ہندو دیوتا، ہنومان، کی شکل کا کھلونا اس کے پاس ہوتا ہے اور جب بھی جیدن کا دل چاہتا ہے وہ بٹن دباتا ہے تو کھلونے سے مشہور مذہبی گیت ’ہنومان چالسیا‘ کی آواز آنے لگتی ہے۔

جیدن کی والدہ، منیشا ورسانی کہتی ہیں کہ ہنومان کی شکل والا یہ سوفٹ ٹوائے ان کے دونوں بیٹوں کو اپنے مذہب کی پہچان اور اس کے ساتھ ایک بامعنی تعلق جوڑنے میں مددگار ثابت ہوا ہے اور خود انھوں نے یہ چیزیں اپنی والدہ سے سیکھی تھیں جب وہ چھوٹی تھی اور ان کی والدہ پوجا کیا کرتی تھیں۔

منیشا کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں ’یہ بہت اچھی بات ہے کہ جب بچے سونے جاتے ہیں تو وہ یہ دعائیہ گیت سنتے ہیں۔ اس سے انھیں نہ صرف آرام ملتا ہے اور وہ سو جاتے ہیں، بلکہ اس سے انھیں اپنے مذہب اور کلچر کے بارے میں بھی تھوڑا بہت معلوم ہو جاتا ہے۔`

Modi Toys have sold thousands of cuddly toys of Hindu gods that sing mantras.

،تصویر کا ذریعہModi Toys

’میرا خیال ہے ہماری نسل کے والدین اس (مذہب اور کلچر) سے دور ہوتے جا رہے ہیں، یوں میرے بیٹوں کے بڑے ہوتے ہوتے یہ تمام چیزیں غائب ہو جائیں گی۔‘

حالیہ برسوں میں کئی کمپنیاں ہندو دیوتاؤں اور دیوئیوں کی شکل کے نرم کھلونے فروخت کر رہی ہیں جن میں سے زیادہ تر کمپنیاں اپنی مصنوعات انٹرنیٹ پر فروخت کر رہی ہیں۔

امریکہ میں سنہ 2018 میں ’مُوڈی ٹوائز‘ کے نام سے قائم ہونے والی کمپنی اب تک اپنے 40 ہزار سے زائد مذہبی کھلونے فروخت کر چکی ہے جن میں لارڈ کرشنا، گھنیش، ہنومان کی شبیہہ کے نرم (کڈلی ٹوائز) شامل ہیں۔

اسی طرح برطانیہ کے شہر لِیڈز میں قائم ’پلش انڈیا‘  نامی کمپنی ہر ماہ گھنیش اور ہنومان کی شکل کے تقریباً ایک سو کھلونے فروخت کر رہی ہے۔

جیدن کے پاس جو ہنومان ہے وہ ’پلش لیجیئن‘ نامی کپمنی کا بنایا ہوا ہے جو نہ صرف ہندو دیوتاؤں کے گیت گانے والے کھلونے بنا رہی ہے بلکہ دوسرے مذاہب کے بچوں کے لیے بھی سافٹ ٹوائز بناتی ہے۔  

Sheena Parma founder of Plush Legion
،تصویر کا کیپشنشیما پارمر بتاتی ہیں کہ انھیں ان مذہبی کھلووں کا خیال سنہ 2016 میں آیا تھا جب وہ ماں بنی تھیں

ان کھلونوں میں مسیحی، یہودی اور مسلمان بچوں کے لیے کھلونے شامل ہیں جن میں میسحی اور یہودی مذہبی گیتوں کے علاوہ مسلمان بچے آذان بھی سن سکتے ہیں۔

پلیش لیجئئن کی مالک شیما پارمر بتاتی ہیں کہ انھیں ان مذہبی کھلونوں کا خیال سنہ 2016 میں اسی وقت آ گیا تھا جب وہ ماں بنی تھیں۔

’میں (لندن کے نواح میں واقع) واٹفورڈ میں بڑی ہوئی جہاں مختلف مذاہب اور کلچر کے لوگ رہتے ہیں۔ میں خود ہندو ہوں لیکن میں چرچ بھی جایا کرتی تھی اور میری بہت سی سہیلیاں مسلمان تھیں۔ مجھے دوسرے مذاہب کے بارے میں جاننے میں بہت مزا آتا تھا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ جب میرا اپنا بچہ پیدا ہو گا تو میرے دل میں یہ سوچ اتنی گہری ہو جائے گی۔‘

لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے والدین میں مقبول ہونے والے یہ مذہبی کھلونے دوسرے مذاہب کے لوگوں میں بھی اتنے ہی مقبول ہو سکتے ہیں؟

Girl with soft toy of the elephant-headed Hindu god Ganesha

،تصویر کا ذریعہPlush Legion

،تصویر کا کیپشنپلش لیجیئن کی مصنوعات میں گھنیش کی شبیہہ والے کھلونے شامل ہیں

اس کے جواب میں شیما کا کہنا تھا کہ ’صاف ظاہر ہے کہ اس حوالے سے میں نے بہت تحقیق کی ہے کہ میں اپنے کھلونوں کے نمونے بناتے وقت جس حد تک ممکن ہو ہر مذہب (کی روایات) کا پورا احترام کروں۔ ‘

’میں نہیں چاہتی کہ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچاؤں، تاہم مجھے لگتا ہے کہ مجھے اس بات کا علم اس سال ہوگا۔ میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ ہم نے مسیحی بچوں کے لیے جو کھلونا بنایا ہے وہ بہت مقبول ہو گا اور لوگ اسے ایک دوسرے کو بطور تحفہ دیں گے۔‘

مرسیلا جدیجو سوٹو کی پیدائش کوسٹا ریکا کی ہے اور آج کل وہ اپنے دو چھوٹے بیٹوں اور شوہر کے ساتھ لندن میں رہتی ہیں۔

اگرچہ انھیں یہ خیال پسند ہے کہ ان کے بیٹے رات کو یسوع مسیح کی شبیہ والے کھلونے کے ساتھ سوئیں، بائیبل میں بیان کیے گئے قصے سنیں اور سکون محسوس کریں لیکن مجھے اس قسم کے کھلونے خرید کر گھر رکھنے کا خیال کچھ زیادہ اچھا نہیں لگا۔

یہ بھی پڑھیے

’ہم جس طرح بائیبل کی تشریح کرتے ہیں اور جس طرح خدا کی شبیہہ اپنے ذہن میں بناتے ہیں، میں نہیں سمجھتی کہ ہمیں خدا کی اس شبیہہ کی طرز پر کھلولے بنانے چاہیے۔ حقیقت میں خدا (کی ذات) کوئی کھلونا نہیں ہے۔ اس لحاظ سے مجھے یہ خیال سرے سے اچھا ہی نہیں لگتا ہے کہ میرے کمرے میں ایک طرف پیپا پِگ پڑا ہو اور اس کے ساتھ یسوع مسیح کی شبیہہ والا کھلونا پڑا ہو۔‘ 

لیکن باربرا نیلکن، جو کہ یہودی ہیں، انھیں مذہبی کھلونوں کا خیال بہت اچھا لگا اور جب انھوں نے سٹار آف ڈیوڈ کی شکل کا کڈلی ٹوائے مقامی بازار میں دیکھا تو انھیں بہت پسند آیا۔

اگرچہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ کھلونا ان کے پوتے پوتیوں کو بھی بہت پسند آئے گا لیکن کمپنی نے اس میں جو مذہبی گیت ریکارڈ کیا ہوا وہ کوئی بہت مناسب انتخاب نہیں ہے۔

’اس میں جو دعا (شیما) ریکارڈ کی گئی ہے وہ بڑی اہم دعا ہے۔ جب ہم (یہودی) یہ دعا پڑھتے ہیں تو ہم اپنے ہاتھ آنکھوں پر رکھ لیتے ہیں تا کہ ہم اپنی پوری توجہ دعا پر مرکوز کر سکیں۔۔۔ اسی لیے میں سمجھتی ہوں کہ یہ کھلونا تو اچھا ہے لیکن اس میں کوئی دوسرا خوشی کا مذہبی گیت ہو تو زیادہ اچھا ہو گا۔‘

Boy with soft toy mosque

،تصویر کا ذریعہPlush Legion

،تصویر کا کیپشنتحقیق میں سامنے آیا ہے کہ کھلونے بچوں کی مذہبی تعلیم میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں

لگتا ہے کہ ہندو برادری میں دیوتا اور دیوی کی طرز پر بنائے گئے کھلونے مقبول ہو رہے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ آج کل ایسے مذہبی کھلونے دستیاب ہیں جو زیادہ مقبول تو نہیں ہوئے لیکن ان کا مقصد بھی بچوں کو اپنے مذہب اور کلچر کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ اس حوالے سے ’دیسی ڈول کمپنی‘ نے بھی کچھ کرداروں پر مبنی کھلونے بنائے ہیں جن کا مقصد مختلف مذہبی پس منظر کے بچوں کو اسلام کے متعلق ہلکے پھلکے انداز میں معلومات فراہم کرنا ہے۔

اگرچہ بحیثیت مجموعی مذہبی تصورات پر مبنی کھلونوں کو بیکار چیز سمجھ کر رد کر دینا آسان ہے، لیکن کچھ ماہرین کے خیال میں یہ کھلونے بچوں کو کسی مذہب سے جوڑنے کا ایک بڑا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔. 

صارفین کی مذہبی عادتوں اور ان کی خریداری کے تعلق پر تحقیق کرنے والی ماہر، ڈاکٹر لیگانے ہگنز کا تعلق برطانیہ کی لینکاسٹر یونیورسٹی سے ہے۔

وان کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ لوگ مذہبی شخصیات اور نظریات کی مناسبت سے بنائے جانے والی مصنوعات وغیرہ خریدتے ہیں اور پھر ان کو اپنی کسی کہانی کے حوالے سے معنی دیتے ہیں اور وہ چیز یا کھلونا ان کے لیے اہم ہو جاتا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ وہ ایک راسخ العقیدہ کیتھولک خاتون سے ملیں جو حضرت مریم کی شبیہہ کو بہت سنبھال کے رکھتی تھیں جو انھوں نے تب خریدی تھیں جب وہ زیارت پر گئی تھیں۔ وہ شروع میں شرمندہ تھیں کہ انھوں نے یہ مجسمہ کیوں خریدا جو رات کو چمکتا تھا، لیکن پھر انھوں نے مجھے بتایا کہ جب رات میں اچانک ان کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ پریشان ہو جاتی ہیں، تو ایسے میں انھیں اس مجسمے کو اپنے پاس پا کر بہت سکون ملتا ہے اور وہ خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

اگرچہ ڈاکٹر ہگنز کو مذہبی کھلونوں کے حالیہ رجحان کے بارے میں معلوم نہیں، تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ یہ بڑا زبردست خیال ہے اور اس سے آپ بچوں کو اس نرمی، اس خوبصورتی سے متعارف کر سکتے ہیں جو کسی بھی مذہب کے ماننے والے کو اپنے عقیدے سے ملتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ نرم و گداز ٹیڈی بیئر کی علامتی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ بچے اسے اپنی ذات کے ساتھ وابسطہ کر لیتے ہیں اور کسی کھلونے کے ساتھ مذہبی تعلیم کو منسلک کر دینا ایک زبردست خیال ہے۔ ’اس سے بچوں کو یہ سمجھانے میں مدد مل سکتی ہے کہ مذہب کیا ہے اور اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔`