روسی شہر کازان کے سکول پر حملہ، متعدد بچے ہلاک، 19 سالہ حملہ آور گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس کے شہر کازان کے ایک سکول میں فائرنگ کے ایک واقعے میں بچوں اور ایک استاد سمیت متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس ہلاکتوں کی مختلف تعداد بتائی جا رہی ہے تاہم روسی حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں کم از کم سات بچے بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق سکول میں اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس کے بعد ایک 19 سالہ نوجوان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جس شہر میں یہ واقعہ پیش آیا وہ روس کے دارالحکومت ماسکو سے 820 کلومیٹر دور ہے اور یہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔
پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے لیکن ابھی تک اس حملے کے پس پردہ مقاصد سے آگاہی نہیں مل سکی ہے۔
صدر ولادیمیر پوتن نے حملہ آور کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بچوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز نے سکول کی عمارت کو گھیرے میں لے لیا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصویروں میں بچوں کو سکول کی کھڑکیوں سے چھلانگیں لگاتے اور زخمیوں کو باہر نکالتے دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
تاتارستان کے صدر رستم مننی خانوف نے اس حملے کو ’تباہی‘ اور ’سانحے‘ سے تعبیر کیا ہے۔
ابتدائی طور پر ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ حملہ آور دو تھے جن میں سے ایک ہلاک ہو گیا ہے تاہم بعد میں حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ مشتبہ حملہ آور اکیلا تھا۔
مسٹر مننی خانوف نے سکول کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ ہلاکتوں کے علاوہ 12 بچے اور چار بالغ افراد زخمی ہیں اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 'دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہ 19 سال کا ہے اور ہتھیار رکھنے کا رجسٹرڈ اہل ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
کریملن کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن نے سکول میں فائرنگ کے واقعے کے بعد روس میں اسلحہ سے متعلق قوانین کو سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔
انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق ترجمان دیمتری پیسکوف نے منگل کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’[نیشنل گارڈ کے چیف وکٹر] زولوتوف کو ایک علیحدہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ وہ ہتھیاروں کی اقسام کے بارے میں فوری طور پر نئے قواعد کے بارے میں کام کرنا شروع کر دیں کہ کس قسم کا اسلحہ عوامی ملکیت ہو سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ ’بات یہ ہے کہ ایسے آتشیں اسلحے بعض ممالک میں اسالٹ اسلحے کے طور پر درج ہوتے ہیں اور بعض اوقات شکار کے ہتھیار کے طور پر رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔‘
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں ایک نوعمر نوجوان کو زمین پر پڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کو بظاہر عمارت کے باہر حراست میں لیا گیا ہے۔


























