کابل حملہ: سکول کے قریب دھماکوں میں متعدد طالبات سمیت 50 سے زائد ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کابل کے ایک سکینڈری سکول کے قریب سنیچر کو ہونے والےدھماکوں میں 50 سے زائد ہلاک شدگان کی نماز جنازہ ادا کرنا شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے اس وقت ہوئے تھے جب طلبا سکول کی عمارت سے باہر نکل رہے تھے اور اس دھماکے میں متاثر ہونے والے میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں۔
کسی جماعت یا مسلح گروہ نے افغانستان کے علاقے دشت برچی میں ہونے والے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
اس علاقے میں اکثر اوقات مسلح سنی انتہا پسند حملے کرتے ہیں۔ افغان حکومت نے اس کی ذمہ داری افغان طالبان پر عائد کی ہے تاہم انھوں نے اس کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سماجی کارکن ملالہ یوسفزائی جنھیں خود بھی طالبان نے 2012 میں سر میں گولی ماری تھی نے اس ہولناک حملے کے متعلق ٹوئٹر پر لکھا کہ 'مجھے کابل سکول متاثرین کے اہلخانے سے دلی افسوس ہے۔'
سنیچر کو ہونے والےاس خونی حملے کے اصل مقاصد یا ہدف ابھی تک غیر واضح ہیں۔
یہ دھماکے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ نے رواں برس برسوں سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے 11 ستمبر تک اپنے تمام فوجی ملک سے نکالنے کا کہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنیچر کو کیا ہوا تھا؟
خیال کیا جاتا ہے کہ دھماکے اس علاقے میں کار بم اور دو دیسی ساختہ دھماکہ خیزمواد لگائے جانے سے ہوئے ہیں۔ اس حملے میں بچ جانے والی ایک طالبہ زہرا نے رپورٹرز کو بتایا کہ وہ سکول سے نکل رہی تھی جب دھماکے ہوئے۔
'میری ہم جماعتیں ہلاک ہو گئی، پہلے ایک دھماکہ ہوا، پھر دوسرا اور پھر چند منٹ بعد ایک اور دھماکہ ہوا، ہر کوئی چیخ و پکار کر رہا تھا اور ہر طرف خون ہی خون تھا۔'
متعدد عینی شاہدین نے تین دھماکوں کی آوازیں سننے کا کہا ہے جبکہ ایک خاتون ریزا نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے 'بہت سے خون میں لت پت لاشیوں کو دھویں اور گرد و غبار میں دیکھا ہے۔'
ریزا نے بتایا کہ 'میں نے ایک خاتون کو دیکھا جو لاشوں میں سے اپنی بیٹی کو تلاش کر رہی تھی۔ جس کے بعد اسے اپنی بیٹی کا خون کے نشانات والا پرس مل گیا جس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئی اور زمین پر گر گئی۔
اس حملے میں ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ کابل سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق شہر میں عید الفطر کی مناسبت سے تیاریاں جاری تھی۔
افغان وزرات تعلیم کی ترجمان نجیبا آریان نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ دھماکے کا نشانہ بننے والا سرکاری سکول لڑکے اور لڑکیوں کے لیے ہے۔ ان کے مطابق اس حملے میں دوسری اور تیسری جماعت میں پڑھنے والی لڑکیاں زیادہ زخمی ہوئی ہیں۔
پس منظر کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان میں امریکہ کے گیارہ ستمبر کو ملک سے نکل جانے کے اعلان اور نیٹو اور امریکی افواج کی اس حوالے سے تیاریو ں کے بعد سے ملک میں تشدد میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔
سنیچر کو امریکہ محکمہ خارجہ نے اس 'بربریت والے حملے ' کی مذمت کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ 'ہم معصوم شہریوں کو نشانے بنانے اور ملک میں تشدد کو فوری ختم کرنے پر زور دیتے ہیں۔'
افغانستان کے لیے یورپی یونین کے سفیر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ 'معصوم چھوٹی بچیوں کے سکول پر حملہ دراصل افغانستان کے مستقبل پر حملہ ہے۔'
کابل کے مغربی علاقے جہاں یہ حملہ ہوا ہے وہاں بہت سے اقلیتی ہزارہ برادری آباد ہے۔
تقریباً آج سے ٹھیک ایک سال پہلے ایک مقامی ہسپتال کے زچہ بچہ وارڈ پر بھی حملہ کیا گیا تھا جس میں 24 خواتین اور بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ ہیومن رائٹ واچ کے لیے کام کرنے والی ہیدر بار نے ٹوئٹر پر اپنی ایک سلسلہ وار ٹویٹس میں کابل کے اس سکول کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی ہیں۔ محترمہ بار نے کہا کہ اس گروپ نے 2017 میں وہاں ایک دستاویزی فلم بنائی تھی۔

























