آئیکیا: کیا سویڈن کا یہ فرنیچر سٹور انڈیا میں کامیاب ہو جائے گا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا
- وقت اشاعت
جب نیہا منڈلک اکتوبر میں انڈیا کے مغربی شہر احمد آباد منتقل ہوئیں تو انھوں نے اپنے نئے گھر کے لیے آئیکیا سٹور سے فرنیچر خریدا۔ انھوں نے اپنے ایک بیڈروم کے اپارٹمنٹ کے لیے سٹڈی ٹیبل، سٹولز، لیمپ، ایک قالین، برتن اور شیشے کے برتنوں کا آرڈر دیا۔
سویڈن کا یہ فرنیچر سٹور سنہ 2018 میں انڈیا میں کھولا گیا، جو دو شہروں میں تو اپنے سٹور چلاتا ہے جبکہ احمد آباد سمیت سات شہروں میں آن لائن خریداری کی جا سکتی ہے۔
جب گھر میں مہمان آتے ہیں تو منڈلک دو چھوٹی میزوں کو ساتھ ملا کر اسے آٹھ افراد کے بیٹھنے کے لیے کھانے کی میز بناتی ہیں۔
ان کے نئے گھر میں سفید، خاکستری اور سرمئی رنگوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ رنگ انھیں ان 18 ماہ کی یاد دلاتے ہیں، جو انھوں نے لندن میں ایک اپارٹمنٹ میں گزارے تھے۔ انھوں نے رائل کالج آف آرٹ سے ڈیزائن ریسرچ میں ماسٹرز کیا تھا۔
منڈلک کہتی ہیں کہ ’پچھلے کچھ سال میں فرنیچر میں میرا ذوق مکمل طور پر بدل گیا اور ایسا لگتا ہے کہ آئیکیا میرے نئے ذوق کے عین مطابق ہے۔‘
منڈلک انڈیا کے نامور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ڈیزائن میں پڑھاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے مغربی شہر اورنگ آباد میں ایک وسیع و عریض مشترکہ خاندانی گھر میں پرورش پائی جہاں زیادہ تر فرنیچر بڑا اور وزنی تھا، جیسے لکڑی کے صوفے اور کرسیاں، کھانے کی میزپر بڑا شیشہ، بھاری دھات کی فولڈِنگ کرسیاں۔ چھٹیوں کے دوران ان کے والدین کی جانب سے خریدے ہوئے لیمپ، باؤلز، لکڑی کی چھوٹی کشتیاں اس سامان میں شامل ہو گئے۔
35 برس کی منڈلک کا کہنا ہے کہ ’اب خاندان اور جگہیں چھوٹی ہو رہی ہیں۔ فرنیچر کو دیکھنے کا ہماری نسل کا انداز بدل گیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غالباً یہی ایک وجہ تھی جس نے آئیکیا کو دنیا کی اس سب سے پیچیدہ فرنیچر مارکیٹوں میں سے ایک کے لیے یہاں آنے کی ترغیب دی۔ انڈیا میں قدیم فرنیچر کو خاندانی وراثت کے طور پر دیا جاتا ہے۔
کیا انڈیا میں آئیکیا کامیاب رہے گا؟
انڈیا کی چالیس ارب ڈالر کی مالیت کے اس بازار میں فرنیچر اور فرنشننگ ایک بڑا حصہ ہے جو بنیادی طور پر ملک کے متوسط طبقے سے چلتا ہے۔ آئیکیا کا خیال ہے کہ وہ آہستہ آہستہ قدم جما رہا ہے۔
آئیکیا نے سٹور کھولنے سے پہلے ممبئی میں آن لائن کام شروع کیا تھا اور آئیکیا نے ایسا پہلی مرتبہ کیا تھا۔حیدرآباد اور ممبئی میں اس کے دو بڑے سٹورز پر فروخت ہونے والی 8,500 پروڈکٹس میں سے بہت سی انڈین صارفین کے مطابق اور موافق بنائے گئے ہیں۔
ایک کنسلٹنسی کے سینئیر نائب صدر انکور بھیسن کا کہنا ہے کہ ’آئیکیا جلدی میں نہیں۔ وہ انڈیا کے لیے ایک منظم، قیمت کے لحاظ سے سستی، جدید ریٹیل فرنیچر مارکیٹ بنانے اور پھیلانے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔‘
آئیکیا انڈیا کی چیف کمرشل افسر کویتا راؤ کے مطابق انڈیا میں آئیکیا کی ایک تہائی رینج ہر سال تبدیل ہوتی ہے اور فروخت ہونے والی اس کی مصنوعات کا ایک چوتھائی حصہ مقامی طور پر تیار کیا جاتا ہے۔
’ایک مارکیٹ کے طور پر انڈیا ہمیشہ سے ہی کسی بھی عالمی کمپنی کے لیے حیرت کا باعث ہوتا ہے۔ یہ قیمت کے لحاظ سے حساس ہے اور آپ کو ہر زمرے میں صارفین کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا میں کاروبار کے لیے صارفین کو سمجھنے کی کوشش
آئیکیا یہاں اپنا سب سے سستا صوفہ 10,000 روپے میں فروخت کرتا ہے اور اس کا سب سے مہنگا سوفہ 125,000 روپے میں فروخت ہوتا ہے۔ بچوں کے لیے رنگین چمچوں کا 19 روپے کا سیٹ اور 99 روپے والا وہسکی کا گلاس سب سے کم قیمت والی اشیا میں شامل ہیں۔
انڈین صارفین کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے آئیکیا نے مختلف شہروں میں مختلف آمدنی والے 2000 سے زیادہ گھرانوں کا دورہ کیا۔
بہت سے گھروں میں فرنیچر، گھریلو فرنشننگ کے لوازمات اور کچن دیکھے گئے اور ان کا تجربہ کیا کہ وہ ملک کے گرم، مرطوب اور گرد آلود شہروں میں کیسے کام کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں آئیکیا کو ایک منقسم، متضاد بازار ملا۔
مثال کے طور پر حیدرآباد میں اوسط گھر ممبئی کے گھر سے دوگنا بڑا تھا، لہذا آئیکیا نے ممبئی میں زیادہ عمودی سٹوریج والی چیزیں پیش کیں۔
جہاں چھوٹے چھوٹے گھر ہیں وہاں صارفین میں ایک ’صوفہ کم بیڈ‘ خریدنے کا بھی زیادہ امکان کیا، ایک ایسا صوفہ جسے بستر میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حیدرآباد میں، صارفین کے بڑے صوفے اور زیادہ بستر خریدنے کا امکان تھا۔ کویتا راؤ کے مطابق حیدرآباد اور ممبئی کے سٹورز میں ڈسپلے پر رکھے ہوئے بیڈ رومز، جگہ اور سائز کے اس فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہر انڈین شہر میں ترجیحات اور مسائل کے حل مختلف ہوتے ہیں۔‘
انڈیا کے لوگوں نے بھی دھول کی وجہ سے بند سٹوریج کو ترجیح دی، لہذا آئیکیا نے اپنی کھلی سٹوریج کی اشیا کی وسیع رینج کو کم کر لیا اور اس کے بجائے شیشے کی الماریاں پیش کیں۔
انڈیا میں باورچی خانے کے حوالے سے حیرت انگیز چیزیں سامنے آئیں جہاں عموماً خاندان دن میں چار سے پانچ بار کھانا کھاتے ہیں اور کچن میں صفائی کرتے وقت بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں۔
آئیکیا نے دیکھا کہ ان کے ماڈیولر کچن میں ورک ٹاپس سے بہت سا پانی ٹپک رہا ہے، جس سے الماریوں کے دروازے خراب ہو رہے ہیں۔ اس لیے اس نے پانی کو گرنے سے روکنے کے لیے ’کاؤنٹر ٹاپ بلاک‘ بنائے۔
بالکل اسی طرح جیسے آئیکیا نے سپین میں بہت سارے پین بنائے، اسی طرح انڈیا میں سٹیمر اور ککر بنائِے جو انڈیا میں کھانا پکانے کے لیے اہم ہیں۔
انڈین شہری کام پر کافی بڑا لنچ کھاتے ہیں، اس لیے آئیکیا نے تین کنٹینرز کے ساتھ لنچ باکسز اور ایک مجموعی لنچ پیک بنایا جس میں پانی کی بوتل بھی شامل تھی۔
سونے کے کمرے نے آئیکیا کے لیے ایک مختلف چیلنج پیش کیا۔ انڈین شہری سخت بستروں پر سونے کو ترجیح دیتے ہیں، اس لیے آئیکیا نے بنیادی طور پر مقامی طور پر بنائے گئے گدے فروخت کیے۔ بڑے سائز کا ایک سخت گدا بنایا جس کی قیمت 19,000 روپے ہے جو انڈیا میں آئیکیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنوعات میں سے ایک ہے۔
آئیکیا اپنے کیفے میں بریانی، سموسے، سبزیوں والی بریانی، سالمن مچھلی اور ریڈ کری بھی فروخت کرتا ہے۔
متوسط طبقے کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بیرون ملک سفر کرنے کے ساتھ، صارفین بھی آئیکیا کو پسند کر رہے ہیں اور آئیکیا ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

























