بات سرحد پار: آم کی باتوں سے دل کی باتوں تک، بی بی سی کی خصوصی پوڈ کاسٹ کیسے بنی؟

    • مصنف, نازش ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت

'آپ کے یہاں آم آئے کہ نہیں؟'

اگر کسی دفتری میٹنگ کا آغاز زوم پر ان الفاظ سے ہو تو وہ انڈیا اور پاکستان، بی بی سی ہندی اور اردو سروس کے لیے کام کرنے والوں کی میٹنگ ہی ہوتی ہے اور دونوں مل کر کسی ایک پراجیکٹ پر کام کر رہے ہوں تو کام کے متعلق گفتگو کے علاوہ اس قسم کی بات چیت چلتی رہتی ہے۔

'یہاں دلی میں بھی بہت گرمی ہے آج'

'مون سون تو شروع ہے لیکن حبس بہت ہے‘

'وہی آپ کے لاہور والا حال ہے'

'ہمارے ہاں بھی یہ بات کہنے سے لوگ ہچکچائیں گے'

'وہی ڈر ہے جو آپ کے یہاں سوشل میڈیا پر پوسٹ لگانے سے پہلے ہوتا ہے'

تو ایسی ہی رسمی، غیر رسمی گفتگو کے بیچوں بیچ ، 'بات سرحد پار' کی تیاری شروع کی گئی۔ کچھ دن کے وقفے سے ایڈیٹرز اور پروڈیوسرز، انیش اور میں زوم لنک پر جمع ہوتے اور اس پروگرام کی زبانی بنت کرتے جس میں ارادہ تھا کہ انڈیا اور پاکستان سے مختلف شعبوں سے ایک شخصیت یہاں ایک وہاں بٹھائی جائے اور وہ آپس میں گفتگو کریں۔

اس گفتگو میں انیش اور میں موجود تو ہوں لیکن مخل کم سے کم ہوں اور چونکہ پوڈکاسٹ ہے تو آواز بہترین کوالٹی میں سامعین تک پہنچائی جائے اور پروگرام تقسیم کے 75 برس مکمل ہونے کے حوالے سے ہے تو جولائی کے وسط سے اسے چلایا جائے تاکہ چودہ، پندرہ اگست تک انجام کو پہنچے۔

اگلے مرحلے پر شرکا کی فہرست بنائی گئی اور ہزاروں خواہشیں ایسی۔۔۔ کے مصداق دل نے درجنوں نام گنوا دیے جن کے بارے جی چاہتا تھا کہ یہ بات کریں اور ہم سنیں۔

سمجھو مرزا فرحت اللہ بیگ کے 'دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ' کا ڈیجیٹل ورژن بنانا تھا اور انیش اور میں ایسے ہی بھاگے پھرے جیسے دہلی کے شعرا کو دعوت دینے کے لیے مشاعرہ کے ناظمین نے بلی ماراں سے کابلی درواز ے تک اور پھر چیلوں کے کوچے تک میرزا نوشہ، مومن خاں اور حافظ ویران اور کیسے کیسے طرحدار شاعروں کو قلعہ معلیٰ میں جمع کرنے کے لیے دہلی کے کوچے چھانے تھے۔

ہمیں نہ پیدل چلنا تھا نہ کہاروں کی سواری بلانا تھی، فون اور واٹس ایپ تھے اور زوم پر بلانا تھا۔ لیکن دوڑ دھوپ ویسی ہی تھی۔ شرکا کو ایک وقت پر ایک لنک پر جمع کرنا تھا اور کون کس کے ساتھ بیٹھے تو بات کا رنگ خوب جمے گا، یہ طے کرنا تھا۔

اکثر یہی ہوتا کہ چاند سورج کی جوڑی ملائی اور جی ہی جی میں پوری طرح خوش بھی نہیں ہوئے کہ چاند نے معذرت کر لی یا سورج کا کوئی کام اڑے آ گیا۔

سٹوری بورڈ بنانے میں خود سے ہی کئی کئی بار سوال کرتے کہ اس موضوع پر بات کرنے سے مہمان کسی مشکل میں نہ پھنس جائے۔ وہی مشکل جس کا نام 'ہیش ٹیگ' ہے، جو ایک پل میں سوشل میڈیا پر 'واہ' کو 'آہ' میں بدل دیتا ہے۔ بات سرحد پار کو 'واہ' ہی رہنا تھا، 'آہ' نہیں بننا تھا۔

پہلی قسط کے لیے محسن سعید یہاں سے مانے، آنچل ملہوترا وہاں سے مانیں۔ ایک صحافی اور فیشن ڈیزائنر اور دوسری ایسی مورخ جو تاریخ محفوظ کرتی ہیں لیکن ڈیجیٹل شکل میں۔

شو کے لیے دونوں کی بات چیت شروع ہوئی تو ریکارڈنگ میں کب ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا، پتا ہی نہیں چلا۔ یہ یاد ہے کہ آنکھیں کئی بار نم ہوئیں۔ کئی بار سب بیساختہ ہنسے اور یہی لگا کہ بات تو ابھی باقی ہے۔

برصغیر کی تقسیم پر ان دو مہمانوں نے بتایا کہ کیسے ان کے خاندان اور پھر ان جیسے لاکھوں خاندان ایک گنتی کا حصہ بنا دیے گئے لیکن ان کا دکھ، ان کا اس واقعے کے بعد تیسری نسل تک جانے والا صدمہ (پی ٹی ایس ڈی) کسی شمار میں نہیں آیا۔

اور بس پھر بات چل نکلی۔

کچھ ایسے پیار کرنے والوں کو ساتھ بٹھایا جنھوں نے سرحد پار کسی کو قبول ہے کہہ دیا اور اب ویزا کی پابندیاں ان کے پیار کی سب سی بڑی دشمن ہیں۔

اسی پوڈ کاسٹ کی تیاری کے دوران کشور ناہید میرے لیے کشور ناہید سے کشور آپا بنیں۔ کتاب اور قلم کے تعلق سے نکل کر انھیں زوم پر انڈیا سے شاعرہ انامیکا کے ساتھ بیٹھنا تھا۔ وہ راضی ہو گئیں اور جب انامیکا جی اور کشور آپا نے بات شروع کی تو 75 سال کی لگائی گئی گرہیں حرف بہ حرف کھلتی چلی گئیں۔

انیش اور میں حیران کہ ایک پل یہ عورتیں کہتی ہیں ’میرا بس نہیں چل رہا اپنا دوپٹہ ابھی تم کو اوڑھا دوں‘ یا ’میرا دل چاہ رہا ہے کہ ابھی تمھیں گلے سے لگاؤں‘ اور دوسرے پل نظریاتی اختلاف پر یوں ڈٹ جاتیں، جیسے ابھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹیں تو عمر بھر کی کمائی کھو دیں گی۔ وہی کمائی جو تحریر، تحریک اور تحقیق میں عمر خرچنے کے بعد حاصل کی ہے۔

کشور کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار رائے کے لیے حالات بدتر ہوئے ہیں اور شدت پسندی کا راستہ روکنے میں دونوں ملک ناکام ہیں۔ انامیکا، اپنی ذات میں ایک استاد، نوجوان طلبا کی مثال دے کر کہتیں کہ وہ شدت پسند نہیں امن اور پیار کے دلدادہ ہیں۔

ہار دونوں نے نہیں مانی، خوبصورت فیمنسٹ نظمیں سنائیں اور جی بھر کر ایک دوسرے کی بلائیں لیں اور رخصت لی۔

پھر جب گلوکارہ زیب بنگش اور سنیدھی چوہان ساتھ بیٹھیں تو پتا چلا ہم ان کے مداح ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کی۔ سنیدھی نے زیب کو بتایا کہ کیسے وہ حمل کے دوران اور پھر اپنے بیٹے کی پیدائش کے بعد اسے زیب کا گانا لوری میں سناتی تھیں۔

ادھر 'کملی' فلم سینما گھروں میں دھوم مچا رہی تھی، ادھر میں نے سرمد کھوسٹ کو قائل کیا کہ پوڈ کاسٹ میں شامل ہوں۔ ساتھ انڈیا سے ورون گروور ہوں گے، وہی ورون گروور جو انڈیا میں جوک کرتے ہیں اور لافٹر پاکستان سے ملتا ہے اور جنھوں نے پوڈ کاسٹ میں کہا کہ کیسے منٹو فلم پاکستان میں بنتی ہے اور سارا انڈیا دیکھتا ہے۔

اس قسط میں سلام دعا کے ساتھ ہی آف ایئر ایسی قہقہوں سے بھرپور گفتگو شروع ہوئی کہ تھمنے کا نام نہ لے۔ انیش اور مجھے انھیں روک کر کہنا پڑا کہ رولنگ پر جانے دیجیے پھر کیجیے یہی سب باتیں۔

اور یوں باتوں باتوں میں ’بات سرحد پار‘ کی ریکارڈنگ مکمل ہوئی۔

تین ماہ میں ریکارڈنگز کے دوران آم کا سیزن پورے رسیلے پن کے ساتھ وارد ہوا۔۔۔ تیز دھوپ کی جگہ مون سون کی بارشوں نے لے لی۔ بی بی سی اردو اور بی بی سی ہندی کی ٹیم میٹنگز میں موسم اور کھانے کی بات ایسی ہی شامل رہی۔

'بات سرحد پار' کی تخلیق کے دوران خیال آیا دونوں ملکوں میں 75 برسوں میں شامیں کبھی خوشگوار اور کبھی حبس زدہ لیکن ایک جیسی رہیں۔ لیکن چائے کے ایک کپ پر بات کر لی جاتی ،تو حبس کا موسم بھی خوشگوار ہو سکتا تھا۔

سو اب کر لیتے ہیں بات سرحد پار!

برصغیر کی تقسیم کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر بی بی سی اردو اور ہندی کی مشترکہ پروڈکشن ایک خصوصی آڈیو سیریز 'بات سرحد پار: سرحد کے پار بات چیت' پیش کی جا رہی ہے جس کے ذریعے ہم اس مشترکہ ثقافت اور ورثے کی ان کہانیوں، یادوں اور باتوں کو کہنے اور سننے جا رہے ہیں۔

بی بی سی کی اس خصوصی پوڈ کاسٹ سیریز میں دونوں ممالک سے فن، موسیقی اور ادب کی دنیا سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کو اکٹھا کیا گیا ہے۔

15 جولائی سے ہر جمعے کو اس سیریز کی نئی قسط نشر کی جائے گی جو بی بی سی اردو کی ویب سائٹ، یوٹیوب چینل اور سپاٹیفائی سمیت تمام بڑے پوڈ کاسٹ پلیٹ فارمز پر دستیاب ہو گی۔