ایسے موقع پر جب ایران جنگ کے
خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تیاری
کر رہا ہے، ملک کے سخت گیر حلقوں میں ایک شدید بحث زور پکڑ رہی ہے۔
ناقدین مرکزی مذاکرات کار اور
پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف پر الزام لگا رہے ہیں کہ انھوں نے رہبرِ
اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی طے کردہ سرخ لکیر سے انحراف کیا ہے اور اہم سٹریٹیجک
اثاثے سے بھی دستبردار ہو گئے ہیں۔
جبکہ حکومتی عہدیدار اس بات پر زور
دے رہے ہیں کہ معاہدے کو اعلیٰ ترین سطح پر منظوری حاصل ہے اور یہ ایران کے قومی
مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔
سخت گیر عناصر کا مؤقف کیا ہے؟
15 جون
کو تہران نے تصدیق کی کہ مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر باضابطہ دستخط 19
جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔ صدر مسعود پزشکیان نے اس سفارتی ’کامیابی‘ کو سراہا
اور زور دیا کہ مذاکراتی ٹیم ’کسی بھی صورت میں رہبرِ اعلیٰ (مجتبیٰ خامنہ ای) کی
جانب سے مقرر کردہ فریم ورک اور پالیسیوں سے انحراف نہیں کرے گی، اور تمام اقدامات
قومی مفادات اور ریاستی رہنما خطوط کے دائرے میں انجام دیے جائیں گے۔‘
تاہم حکام کی خوش امیدی کے باوجود اس ایم او یو کے خلاف
مخالفت زور پکڑ رہی ہے۔
15 جون
کو فارسی نیوز ویب سائٹ دیدبانِ ایران کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سخت گیر رکنِ
پارلیمنٹ ابوالفضل ابوترابی نے مؤقف اختیار کیا کہ متوقع امریکہ، ایران ایم او یو،
آبنائے ہرمز کے حوالے سے خامنہ ای کی ہدایات کو نظر انداز کرتا ہے۔ انھوں نے اس
آبی گزر گاہ کو ایران کا سب سے مؤثر سٹریٹیجک ہتھیار قرار دیا اور کہا کہ مقتول
رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہنمائی میں برسوں کی عسکری تیاری نے اس کی بندش
کو ممکن بنایا۔
قانون ساز کے مطابق آبنائے ہرمز ایک
ایسا ہتھیار ہے جس سے ایران کو حریف پر برتری ملتی ہے اور پارلیمنٹ کو اس کے تحفظ
کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔ ابوترابی نے مزید کہا کہ اراکینِ پارلیمنٹ سپیکر
قالیباف کے خلاف آرٹیکل 90 کمیشن میں شکایت دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور
ہنگامی پارلیمانی اجلاس طلب کرانا چاہتے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کے انتظام کو
باضابطہ بنانے کے لیے قانون سازی کی منظوری دی جا سکے۔
کن سرخ لکیروں کو اجاگر کیا جا رہا
ہے؟
اسی روز پارلیمنٹ کے انتہائی قدامت
پسند دھڑے کے حمید رسائی نے بھی ابوترابی کے ان الزامات کی تائید کی کہ قالیباف نے
لیڈر کی ہدایات سے انحراف کیا ہے۔ انھوں نے 11 سوالات پر وضاحت طلب کی، جن میں
آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول میں مبینہ رعایتیں، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ سے
ہونے والے نقصان کا معاوضہ، اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر جوہری عدم
پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے بھی آگے بڑھ کر امریکہ سے وعدے اور تہران کے
علاقائی اتحادی شامل ہیں۔
16 جون
کو حمید رسائی نے 70 اراکینِ پارلیمنٹ کی فہرست شائع کی جو مطالبہ کر رہے ہیں کہ قالیباف
ان 11 سوالات کا جواب دیں۔
اسی روز قدامت پسند سیاسی تجزیہ کار
صادق کوشکی نے بھی ایم او یو پر تنقید کرتے ہوئے اسے رہبرِ اعلیٰ کے طے کردہ مذاکراتی
فریم ورک سے نمایاں طور پر مختلف قرار دیا اور اصرار کیا کہ قالیباف اور عراقچی کو
اس معاہدے پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔
اسی دن دیدبانِ ایران نے سخت گیر
اخبار کیہان کے اداریے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ رہبر اعلیٰ نے جان بوجھ کر
جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے بیان کردہ وژن سے جوہری مسئلے کو خارج رکھا، جس سے یہ
اشارہ ملتا ہے کہ جوہری مذاکرات عملاً ختم ہو چکے ہیں اور مزید بحث کا موضوع نہیں
رہے۔
اخبار نے تنازعے کو محض پابندیوں میں نرمی تک محدود کرنے کے خلاف خبردار کیا
اور مؤقف اختیار کیا کہ ایران جنگ سے فاتح بن کر نکلا ہے اور اس بات پر زور دیا
کہ کسی بھی عہدیدار کو حتمی مذاکرات کے دوران رہبر کی سرخ لکیروں کو کمزور کرنے یا
عبور کرنے کا حق نہیں۔
دریں اثنا رکنِ پارلیمنٹ ملک شریعتی
نے خبردار کیا کہ ایم او یو پر دستخط کا مطلب یہ نہیں کہ ایران تصادم کی حالت سے
باہر آ گیا ہے، اور کہا کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے دشمنی پر مبنی کارروائی
اب بھی ممکن ہے۔
عہدیدار اتحاد پر زور کیوں دے رہے
ہیں؟
16 جون
کو نائب صدر محمد رضا عارف نے بظاہر ایم او یو کے سخت گیر ناقدین کو بالواسطہ جواب
دیتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری پر اختلافات فطری ہیں لیکن انھیں داخلی تنازعات میں
تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
مذاکراتی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سفارت
کاری میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو آگے بڑھا رہی ہے اور تمام دھڑوں
پر زور دیا کہ مذاکرات کے نتائج کا احترام کریں اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں
قومی اتحاد کو برقرار رکھیں۔
اسی روز سابق رکنِ پارلیمنٹ اور سابق
ممبر قومی سلامتی کمیٹی شہریار حیدری نے مذاکراتی ٹیم کی حمایت پر زور دیتے ہوئے
کہا کہ قومی اتحاد نے امریکہ کو ایم او یو قبول کرنے پر مجبور کیا اور اس کی شرائط
مجموعی طور پر ایران کے مفادات کے مطابق ہیں۔
انھوں نے خبردار کیا کہ مخالفت
اسرائیلی مقاصد پورے کرنے کا باعث بن سکتی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ تمام
مذاکرات اور کسی بھی حتمی معاہدے کو بالآخر رہبر اعلیٰ کی منظوری درکار ہوتی ہے
اور وہ ان کے فیصلے کے تابع رہتے ہیں۔
اس
گفتگو سے ظاہرہوتا ہے کہ کشمکش اس بات پر نہیں رہی کہ آیا ایم او یو پر دستخط ہونے
چاہئیں یا نہیں، بلکہ اس بات پر مرکوز ہو چکی ہے کہ آیا اس کی حتمی شرائط خامنہ ای
کی بیان کردہ سرخ لکیروں اور جنگی مقاصد سے ہم آہنگ ہیں۔