آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’لگتا ہے امریکہ کو خطے میں انڈیا کی ضرورت نہیں رہی‘: اِنڈو پیسیفک کمانڈ کا نام تبدیل کیے جانے پر انڈیا میں خدشات کا اظہار کیوں؟
امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بار پھر بحر الکاہل (پیسیفک) میں اپنی فوجی کمان کا نام تبدیل کیا ہے جس کے بعد یہ معاملہ انڈیا میں کافی زیرِ بحث ہے۔
سنہ 2018 میں پہلی بار ٹرمپ انتظامیہ اِس کمان کا نام تبدیل کر کے ’انڈو پیسیفک‘ رکھا تھا، تاہم اب آٹھ سال بعد اس نام کو دوبارہ تبدیل کرتے ہوئے پرانا نام یعنی ’یو ایس پیسیفک کمانڈ‘ بحال کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ امریکہ کے بقول کمان کا پرانا نام بحال کرنے کا مقصد اس کے تاریخی ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے تاہم اس معاملے پر انڈیا میں یہ تحفظات پائے جاتے ہیں کہ آیا دفاعی تعاون کے شعبے میں امریکہ نے انڈیا سے مزید دوری اختیار کی ہے؟
انڈین میڈیا میں اس حوالے سے بعض خبریں شائع ہوئی ہیں کہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کے زیرِ اثر علاقوں کے حوالے سے جو نقشہ شائع کیا گیا ہے، اس میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو پاکستان کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اس نقشے میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو بھی انڈیا کے حصے کے طور پر ہی دکھایا گیا ہے۔
امریکی وزارت دفاع نے کمان کا نام کیوں بدلا؟
منگل کے روز امریکی محکمۂ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ’یو ایس انڈو پیسیفک کمانڈ‘ کا نام دوبارہ بدل کر ’یو ایس پیسیفک کمانڈ‘ رکھا جا رہا ہے۔
اس بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ کمانڈ 70 برس قبل صدر ہیری ٹرومین نے قائم کی تھی جو کہ امریکہ کی مشترکہ جنگی کمانڈز میں ’سب سے قدیم اور سب سے بڑی ہے۔‘
محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کا نام بحال کرنے کا مقصد اِس کمانڈ کے تاریخی ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے کیونکہ یہ کمان ’بحرالکاہل میں خدمات انجام دینے والے تمام افراد میں فخر اور اجتماعی جذبے کو فروغ دیتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُن کے مطابق ’دوسری عالمی جنگ کے بعد علاقائی سکیورٹی کے ڈھانچے کے قیام میں اس کے اہم کردار سے لے کر کورین جنگ، ویتنام جنگ اور بے شمار انسانی ہمدردی پر مبنی کارروائیوں میں مشترکہ افواج کی ہم آہنگی تک، یو ایس پیسیفک کمانڈ کا نام دہائیوں پر مشتمل عسکری ورثے اور دیرپا علاقائی شراکت داریوں کی نمائندگی کرتا ہے۔'
پیسیفک کمانڈ کی ذمہ داریوں میں کون سا خطہ شامل ہے، اس کے بارے میں محکمۂ دفاع نے کہا کہ امریکہ کے مغربی ساحل کے قریب پانیوں سے لے کر انڈیا کی مغربی سرحد تک کے علاقے اس کمان کے زیر اثر ہیں۔
محکمے کے مطابق اس کے زیرِ اثر علاقوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے ۔
امریکہ کا مزید کہنا ہے کہ 'کمانڈ کا بنیادی مشن اور علاقائی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ ایک آزاد اور کھلے خطے کو برقرار رکھنے کے لیے اس کا غیر متزلزل عزم تبدیل نہیں ہوا۔'
انڈیا میں پائے جانے والے شکوک و شبہات
انڈیا میں کئی سیاسی رہنماؤں، دفاعی تجزیہ کاروں اور عام صارفین نے اس امریکی اقدام پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ ششی تھرور نے اس پیشرفت پر سوال کیا کہ آیا یہ اقدام ’کواڈ اتحاد کے تابوت میں ایک اور کیل ہے؟‘
خیال رہے کہ کواڈ اتحاد امریکہ، آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان کے درمیان ایک سفارتی شراکت داری ہے جو ایک آزاد اور اوپن انڈو پیسیفک خطے کے فروغ کا عزم ظاہر کرتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد انڈیا کے پاس کوئی سٹریٹجک کردار نہیں رہا۔ ’سادہ الفاظ میں یہ کہ ایشیا پیسیفک خطے میں اب امریکہ کو انڈیا کی کوئی جغرافیائی سیاسی ضرورت نہیں رہی۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ انڈیا کا نام نہاد ’بیک یارڈ' کہلائے جانے والے جنوبی ایشیائی خطے میں ’چین اور پاکستان اب جغرافیائی، سیاسی، معاشی اور عسکری اثر و رسوخ رکھیں گے۔‘
ایشیا نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کی مدیر سمیتا پرکاش پوچھتی ہیں کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی سٹریٹیجی اور پالیسی سے ’بحرہند کو نکال دیا گیا ہے؟‘
کانگریس جماعت میں تحقیق کے شعبے سے وابستہ امیتابھ دوبے نے سنہ 2018 میں اس کمان کا نام انڈو پیسیفک رکھنے کی امریکی منطق دہرائی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اُس وقت امریکی سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ بحرِ ہند کی اہمیت بڑھ رہی ہے، برصغیر کی اہمیت بڑھ رہی ہے اور یقینی طور پر خود انڈیا کی بھی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ اس لیے میں یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ہم حقیقت کی عکاسی کریں اور یہ حقیقت بدل رہی ہے۔‘
دوبے نے اس پر تبصرہ کیا کہ بظاہر یہ حقیقت بھی اب بدل چکی ہے۔
تاہم انڈو پیسیفک سلوشنز نامی تنظیم کے بانی ڈیرک گروسمین کے مطابق اس پیشرفت کا مطلب یہ ہے کہ چین کی خلاف کم جارحانہ حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ عجیب ہے‘ کہ ٹرمپ نے سنہ 2018 میں اپنے پہلے دور صدارت کے دوران خود ہی نام تبدیل کیا تھا اور اب سنہ 2026 میں دوسرے دورِ صدارت کے دوران اپنے ہی فیصلے کو واپس کیا۔ ’لیکن میرے خیال میں یہاں اس سے زیادہ کچھ ہو رہا ہے۔ ٹرمپ 2.0 فعال طور پر انڈو پیسیفک کو ایک جغرافیائی تزویراتی فریم کے طور پر ازسرِنو دیکھ رہے ہیں۔‘
’درحقیقت اس نے سرکاری بیانات میں کئی مرتبہ ایشیا پیسیفک اصطلاح کا استعمال بھی کیا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چین کے حوالے سے کم جارحانہ نقطۂ نظر اپنایا جا رہا ہے اور اس کے بجائے زیادہ روابط کو ترجیح دی جا رہی ہے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے اسے 'امریکی طاقت کی حدود' کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا کو آگے بڑھ کر امریکہ کے بغیر اپنے گرد و نواح کے سمندروں اور بحیروں کی ذمہ داری سنبھالنی ہو گی۔‘
’اسرائیل، ایرانی عوام، نیٹو اور یوکرین ایسی مثالیں ہیں جن سے سیکھا جا سکتا ہے۔ اور چین؟ اسے سنبھالا جا سکتا ہے۔ خطے کی مجموعی سکیورٹائزیشن میں سرمایہ کاری کریں۔‘
وہ چاہتے ہیں کہ انڈیا انڈمان اور لکشدیپ میں فوجی اڈوں پر سرمایہ کاری کی جائے تاکہ سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
اٹلانٹک کونسل سے وابستہ مائیکل کوگلمین کی رائے ہے کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران ’کچھ استحکام آیا ہے لیکن ممکن ہے کہ ٹرمپ کے جانے کے بعد ہی یہ مکمل بحال ہو سکیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ جی سیون اجلاس کے دوران ٹرمپ اور مودی کی حالیہ ملاقات ’کوئی نیا آغاز نہیں۔‘
کوگلمین کے مطابق روبیو کے حالیہ دورے اور سرجیو گور کی طرف سے تعلقات بحال کرنے کی کوششوں کے باوجود انڈیا کی طرف ’بداعتمادی پائی جاتی ہے۔‘
امریکہ کی پیسیفک کمانڈ آخر ہے کیا؟
امریکی پیسیفک کمانڈ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ امریکی محکمہ دفاع کے ’یونیفائیڈ کمانڈ پلان' (یو سی پی) کے تحت تعینات کردہ چھ جغرافیائی جنگی کمانڈز میں سے ایک ہے۔
اس کے مطابق یہ کمانڈ ’دیگر تمام جغرافیائی جنگی کمانڈز کے مقابلے میں دنیا کے زیادہ حصے پر محیط ہے اور یہ باقی پانچوں جغرافیائی جنگی کمانڈز کی حدود سے متصل ہے۔‘
اس کمانڈ کے پاس فوج، بحریہ، فضائیہ اور میرین کور کی افواج کے استعمال اور انضمام کی ذمہ داری ہے۔ یو ایس پیسیفک کمانڈ کا سربراہ وزیرِ دفاع کے ذریعے ریاستہائے متحدہ کے صدر کو جوابدہ ہوتا ہے، اور اسے متعدد جزوی اور ذیلی متحدہ کمانڈز کی معاونت حاصل ہوتی ہے جن میں کوریا، جاپان، سپیشل آپریشنز کمانڈ پیسیفک، پیسیفک فلیٹ، میرین فورسز پیسیفک، پیسیفک ایئر فورسز اور آرمی پیسیفک کی ذیلی کمانڈز شامل ہیں۔
امریکہ کے مطابق یہ کمان اس لیے اہم ہے کیونکہ اس خطے میں 'دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں سے دو واقع ہیں جبکہ 14 میں سے 10 سب سے چھوٹی معیشتیں بھی یہیں موجود ہیں۔'
اس کے زیرِ اثر علاقے میں 'دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک، سب سے بڑی جمہوریت اور سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک' شامل ہیں۔
اس کا کہنا ہے کہ ایشیا پیسیفک کے ایک تہائی سے زیادہ ممالک چھوٹے جزیرہ نما ممالک ہیں جن میں دنیا کی سب سے چھوٹی جمہوریہ اور ایشیا کی سب سے چھوٹی ریاست بھی شامل ہے۔
یو ایس پیسیفک کمانڈ کی ویب سائٹ کے مطابق یہ خطہ 'عالمی معیشت کا ایک اہم محرک ہے اور اس میں دنیا کی مصروف ترین بین الاقوامی سمندری گزرگاہیں اور 10 میں سے نو بڑی بندرگاہیں شامل ہیں۔'
'ایشیا پیسیفک ایک بڑا عسکری نوعیت کا علاقہ بھی ہے جہاں دنیا کی دس بڑی مستقل فوجوں میں سے سات اور پانچ جوہری ممالک موجود ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر اس خطے کو درپیش سٹریٹجک پیچیدگی منفرد ہے۔'
امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کمان کا مقصد امریکہ، اس کے عوام اور اس کے مفادات کا تحفظ اور دفاع کرنا ہے۔