ڈرامہ کوئین: بی بی سی کی نئی آڈیو سیریز میں آپ کی اپنی زندگی کی کہانیاں اردو اور ہندی میں

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

ڈرامہ کوئین یعنی ڈرامے باز۔ کیا آپ کو کبھی اس لقب سے نوازا گیا ہے؟ خاص طور پر اس وقت جب آپ نے کسی ایسی بات کی شکایت کرنے کی کوشش کی ہو جو آپ کی زندگی میں تکلیف کا باعث ہو۔ یا آپ محض یہ چاہتے ہوں کہ کوئی آپ کی بات کو سن لے۔ بی بی سی کی اردو اور ہندی زبانوں میں نئی آڈیو سیریز کے ذریعے ہم ان باتوں کو کہنے اور سننے جا رہے ہیں جو بیشتر دلوں میں دبی رہتی ہیں اور اذیت پہنچاتی چلی جاتی ہیں۔

پانچ حصوں پر مشتمل بی بی سی کی نئی پوڈکاسٹ سیریز ڈرامہ کوئین میں آپ ایسی ہی آوازیں سنیں گے جنھوں نے ڈرامے باز سمجھے جانے کے باوجود گھُٹ گھُٹ کر جینے سے انکار کیا، دوستوں اور گھر والوں کی انہیں دائروں میں باندھنے کی تمام کوششوں کے باوجود انہوں نے زندگی میں اپنے راستے خود بنائے۔ وہ بھی اپنی شرائط پر۔

سنیچر 16 اپریل سے شروع ہونے والی یہ سیریز انڈیا سے تعلق رکھنے والی بی بی سی کی صحافی ثمرہ فاطمہ کی پیشکش ہے اور اس پوڈ کاسٹ کی میزبانی بھی انھوں نے ہی کی ہے۔ اس پوڈکاسٹ کے بارے میں غیر معمولی بات یہ بھی ہے کہ اس میں آپ پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اپنے دل کا حال بانٹتے سنیں گے۔ انھوں نے اپنے مہمانوں کے ساتھ مل کر اردو اور ہندی میں ان معاشرتی مسائل پر بات کی ہے جن کی جڑیں دونوں ممالک میں بہت گہری ہیں۔ اس پوڈکاسٹ میں شامل ہونے والے مہمان وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے حالات کے خلاف شکایت کرنے کے سبب ڈرامے باز سمجھا گیا، لیکن وہ اپنی بات پر ڈٹے رہنے والے لوگ ہیں، لوگ انہیں چاہے جو بھی سمجھیں۔

ڈرامہ کوئین کے حوالے سے ثمرہ فاطمہ کہتی ہیں 'ہم میں سے بہت سے لوگ روز مرہ زندگی میں جس بے چینی، کوفت اور بظاہر نظر نہ آنے والی ذہنی اذیت سے تنہا گزر رہے ہوتے ہیں، اس کی وجہ کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ مجھے لگتا ہے مشکل میں لوگوں کا ہاتھ تھام کر محض ان کی بات ہی سن لینا انہیں سکون پہنچا سکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ پوڈ کاسٹ نہ صرف ہمیں ایک دوسرے کی بات سننے کا موقع دے گا بلکہ ہم الجھنوں کے بھنور سے نکلنے میں ایک دوسرے کی مدد بھی کر سکیں گے۔'

لندن میں مقیم ثمرہ نہ صرف ڈرامہ کوئین کی تخلیق کار اور پیشکار ہیں بلکہ اس پوڈ کاسٹ کو چار چاند لگا دینے والے نغمے 'نظریں ملا کے دیکھیں' کی خالق بھی ہیں اور اسے گایا بھی انہوں نے خود ہے۔ اس نغمے کی موسیقی اور مِکسنگ کا سہرا لاہور میں مقیم میوزک کمپوزر سعد سلطان اور ثمرہ کو جاتا ہے جس کے لیے سعد سلطان اور ثمرہ 'زُوم' کے ذریعے گھنٹوں اپنی اس مشترکہ کاوش کی نوک پلک سنوارتے رہے۔ ایک دوسرے سے ہزاروں میل کے فاصلے کے باوجود دونوں نے ٹیکنالوجی کی مدد سے اس نغمے کو حقیقت کا روپ دیا ہے۔

ڈرامہ کوئین میں زیر بحث آنے والے معاشرتی مسائل کے بارے میں ثمرہ کا مزید کہنا ہے کہ 'انڈیا اور پاکستان کو دو الگ الگ ملک بنے ہوئے 75 برس ہو چکے ہیں، لیکن آج بھی سرحد کی دونوں جانب لوگوں کو ایک جیسے جذباتی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے لوگ اکثر اپنے دل کی بات کسی سے نہیں کرتے اور اندر ہی اندر گھٹتے رہتے ہیں۔ ڈرامہ کوئین کے ذریعے ہم نے ایسے ہی مشترکہ مسائل پر بات کی ہے تاکہ ہم ایک ساتھ مل کر یہ سیکھ سکیں کہ دکھ سکھ بانٹنا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا اصل میں کسے کہتے ہیں۔'

اس پوڈ کاسٹ کی آدھے گھنٹے کی ہر قسط میں ثمرہ نے ایسے مردوں اور خواتین سے بات کی ہے جنھوں نے دل ہی دل میں کُڑھنے کے بجائے معاشرتی مشکلات کا مقابلہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیا ہے۔

پہلی قسط: ماں آپ واقعی ٹھیک تو ہیں؟

دنیا بھر میں ہونے والی تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ تمام وقت گھر پر رہنے والی ماؤں میں سے تقریباً نصف ایسی ہیں جو اداسی اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتی ہیں لیکن کسی کو بتاتی نہیں۔ ان پر پڑنے والے کام کے بوجھ کو سمجھا جاتا ہے نہ ہی جذبات کا لحاظ کیا جاتا ہے۔ اور وہ برسوں اس کرب سے گزرتی چلی جاتی ہیں۔

بیشتر ماؤں کو شکایت کا حق ہی نہیں دیا جاتا اور وہ خود اس بات سے بھی ڈرتی ہیں کہ شکایت کرنے پر کہیں دنیا انہیں بری ماں نہ سمجھنے لگے۔ ہم سب بڑے ہو جاتے ہیں، لیکن کیا کبھی یہ بھی سوچتے ہیں کہ ہماری ماؤں پر کیا گزر رہی ہوتی ہے؟

دوسری قسط: ’مجھے مرد ہونے سے نفرت ہے‘

مردانگی سے اکثر یہ مراد لی جاتی ہے کہ مرد تو مضبوط دل اور رعب و دبدبے والا ہوتا ہے، لیکن خود مرد اس قسم کی معاشرتی توقعات کا سامنا کیسے کرتے ہیں؟

اس قسط میں ثمرہ نے اپنے مہمانوں سے یہی جاننے کی کوشش کی ہے کہ مردانگی کے روایتی معنی مردوں کی زندگی میں جس دباؤ، ذمہ داریوں اور تنہائی کو شامل کرتے ہیں، کیوں ان کی طرف ہمارا دھیان نہیں جاتا۔

تیسری قسط: شادی کے لیے 'اچھی لڑکی' کی تلاش

کیا کسی میدان میں کامیاب کریئر کی مالک لڑکی 'اچھی خاتونِ خانہ' بھی ہو سکتی ہے؟ آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ مختلف شعبوں میں کام کرنے والی بہت سی کامیاب پروفیشنل خواتین کو اعتراضات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی قسم کے معاشرتی دباؤ کے نتیجے میں بہت سی نوجوان خواتین 'روایتی' شعبوں میں رہنے اور 'رواج' کے چکر میں خوابوں کی قربانی دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

چوتھی قسط: 'طلاق بیٹی کے مر جانے سے بہتر ہے'

انڈیا اور پاکستان میں ہر سال ہزاروں خواتین گھروں میں تشدد اور زیادتی کے ہاتھوں مجبور ہو کر خود کشی کر لیتی ہیں۔دونوں ممالک میں طلاق کو ایک ایسا دھبہ سمجھا جاتا ہے کہ خواتین علیحدگی کے بجائے زیادتی برداشت کرتی چلی جاتی ہیں۔

اس قسط میں ثمرہ نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ طلاق کے خوف سے متاثرہ خواتین کی ذہنی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس قسط میں اس حوالے سے بھی بات ہوئی کہ گھریلو تشدد اور زیادتی سے بچنے کے لیے خواتین کیا کچھ کر سکتی ہیں۔

پانچویں قسط: گلابی رنگ اور لڑکے

ڈرامہ کوئین کی اس قسط میں ثمرہ نے ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی الگ الگ انداز میں پرورش کس حد تک ٹھیک ہے۔

انھوں نے کچھ ایسی ماؤں سے بات کی ہے جو لڑکا لڑکی کی اس روایتی تقسیم میں یقین نہیں رکھتیں اور اس حوالے سے نہ صرف ارد گرد کے لوگوں سے بات کر رہی ہیں بلکہ سکولوں میں بھی تربیتی پروگراموں کا اہتمام کر رہی ہیں۔ ظاہر ہے بچوں کی مختلف انداز میں پرورش کے سبب اکثر اوقات انہیں ڈرامہ کوئین کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

یہ ہفتہ وار آڈیو سیریز بی بی سی اردو اور بی بی سی ہندی کی ویب سائٹس کے علاوہ ان دونوں زبانوں کے یُو ٹیوب چینلز پر بھی دستیاب ہوگی۔ اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی قسطوں کی شکل میں اس پوڈ کاسٹ کو بی بی سی اردو اور بی بی سی ہندی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی سنا جا سکے گا۔ ڈرامہ کوئین پوڈکاسٹ کو اردو یا ہندی میں آپ آڈیو سٹریمنگ پلیٹفارمز 'سپوٹیفائی' اور 'ایپل' پر بھی سن سکیں گے۔

اردو میں یہ پوڈ کاسٹ ڈیجیٹل آڈیو سروس 'پٹاری' پر بھی دستیاب ہوگا۔ جبکہ ہندی زبان میں ڈرامہ کوئین 'گانا' اور 'جیو ساون' کے ڈجیٹل آڈیو پلیٹ فارمز سے بھی نشر کی جائے گا۔ یہ سیریز انڈیا میں ایف ایم ریڈیو 'مِشٹی' (سیلیگڑی اور گینگٹوک میں) ٹماٹو ایف ایم ( کولہاپور) کے علاوہ 'ڈیلی ہنٹ' اور 'جیو سنیما' کی سٹریمِنگ ایپس پر بھی سنی جا سکے گی۔

ڈرامہ کوئین کا اردو یا ہندی ٹریلر دیکھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بی بی سی اردو نیوز اور بی بی سی ہندی نیوز، بی بی سی کی عالمی سروس کا حصہ ہیں۔