سندھ کی ’ڈانسنگ گرل‘ کے عریاں دھڑ پر انڈیا میں تنازع کیوں ہوا؟

    • مصنف, شیریلن مولن
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

انڈین نصابی کتب میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کے نمایاں نوادرات میں شامل عُریاں مورتی کی تصویر کو ڈھانپنے کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا تھا تاہم بڑے پیمانے پر تنقید کے بعد اب تصویر کو اصل شکل میں بحال کیا جا رہا ہے۔

کانسی سے بنی یہ عُریاں مورتی ایک لڑکی کی ہے جس نے ایک ہاتھ کمر پر رکھا ہوا ہے، اسے موہنجو دڑو کی ’ڈانسنگ گرل‘ کہا جاتا ہے۔

تاہم، نویں جماعت کے لیے جاری کی گئی نئی نصابی کتب میں اس مجسمے کے دھڑ پر سیاہی پھیر دی گئی تھی جس سے اس کے جسمانی خدوخال چھپ گئے۔

یہ نصابی کتاب نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے تیار کی تھی اور ڈانسنگ گرل کی تصویر میں ترمیم کرنے پر اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ہنگامہ کھڑا ہونے کے بعد حکام نے کہا کہ کتاب کے ڈیجیٹل ورژن میں اصل تصویر بحال کر دی گئی اور نئی چھپی ہوئی کتابوں میں اس کانسی کے مجسمے کی غیر ترمیم شدہ تصویر شامل ہو گی۔

این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر دنیش سکلانی نے صحافیوں کو بتایا کہ ترمیم شدہ تصویر کو کتاب سے نکال دیا جائے گا۔

انھوں نے اے این آئی نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ماہرین سے مشاورت کے بعد ڈانسنگ گرل کی تصویر کو اس کی اصل شکل میں واپس لایا جا رہا ہے۔‘

بی بی سی نے تبصرے کے لیے سکلانی سے رابطہ کیا۔

وادیٔ سندھ تہذیب سے متعلق باب انڈین سکولوں کے نصاب کا مستقل حصہ رہا ہے اور ’ڈانسنگ گرل‘ کا مجسمہ بھی کئی دہائیوں سے نصابی کتب میں شامل ہوتا رہا ہے۔ بشمول ان کتب کے جو این سی ای آر ٹی شائع کرتا تھا۔

لیکن اس سے پہلے اس کے دھڑ کو کبھی بھی اس طرح نہیں چھپایا گیا تھا۔

این سی ای آر ٹی نے ابھی تک تصویر میں ترمیم کرنے کی وجہ بیان نہیں کی تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کا تعلق عریانی سے متعلق خدشات سے ہو سکتا ہے۔

اخبار انڈین ایکسپریس نے سب سے پہلے یہ خبر شائع کی، اپنے ادارے میں اس ترمیم پر تنقید کرتے ہوئے اخبار نے لکھا کہ ’ڈانسنگ گرل اس لیے اہم ہے کہ وہ وقار اور خود اعتمادی کی نمائندگی کرتی ہے۔‘

یہ نصابی کتاب این سی ای آر ٹی کی نئی ’آرٹس ایجوکیشن سیریز‘ کا حصہ ہے، جو نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت متعارف کرائی گئی تاکہ بصری، ادبی اور ادکاری سے متعلق فنون کو مرکزی تعلیم میں شامل کیا جا سکے۔

موہنجو دڑو وادیٔ سندھ کی تہذیب کی سب سے بڑی بستیوں میں سے ایک ہے۔ یہاں سے دریافت ہونے والا ’ڈانسنگ گرل‘ کا مجسمہ ایک ایسی لڑکی کو ظاہر کرتا ہے جو زیورات سے آراستہ ہے اور اس کے بال جوڑے کی شکل میں بندھے ہوئے ہیں۔

اس کی وضع انسانی جسم کی حرکت کو ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ طویل عرصے سے اس مجسمے کو ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ قدیم تہذیب میں بھی دھات کے کام کا جدید علم موجود تھا۔

یہ مجسمہ اس وقت دہلی کے نیشنل میوزیم میں رکھا گیا ہے۔