پشاور میں نشے کے عادی افراد کی بحالی کا پروگرام: ’میں دن میں دس دس انجیکشن لگایا کرتی تھی‘

نشے کی لت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

’جب میری چوتھی بیٹی پیدا ہوئی تو ایک دن میرے شوہر نے مجھے ایک انجیکشن لگایا جس سے مجھے سکون ملا اور اس کے بعد پھر جب مجھے بے سکونی ہوتی تو میرے شوہر مجھے یہ انجیکشن دیتے۔ اس کے بعد میں ایسی عادی ہوئی کہ خود شوہر سے کہتی کہ میرے لیے انجیکشن لاؤ۔‘

’آہستہ اہستہ انجیکشن کی تعداد اتنی بڑھی گئی کہ ایسا وقت بھی آیا کہ میں دن میں دس دس انجیکشن لگایا کرتی تھی۔ یہ انجیکشن میڈیکل سٹور پر مل جاتے ہیں، بنیادی طور پر یہ انجیکشن درد کے لیے ہیں لیکن لوگ انھیں نشے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘

35 برس کی پلوشہ (فرضی نام ) شادی کے کچھ عرصے بعد نشے کی عادی ہو گئی تھیں لیکن اب وہ زندگی کی جانب لوٹ رہی ہیں۔

پلوشہ اور ان جیسے نشے کے عادی ہزاروں افراد کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد خیبرپختونخوا کے شہر پشاور کے مختلف علاقوں میں گندگی کے ڈھیروں، فٹ پاتھ، پلوں کے نیچے اور ریل کی پٹری کے آس پاس زندگی گزارتے نظر آتے ہیں۔

ان میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے، جو ملک کے دوسرے صوبوں سے آئے ہیں کیونکہ ان افراد کا کہنا ہے کہ پشاور میں نشہ دیگر شہروں سے سستا مل جاتا ہے اس لیے یہ لوگ یہاں آ جاتے ہیں۔

شہر میں ہر قسم کا نشہ استعمال کرنے والے موجود ہیں اور ہیروئین، چرس اور آئس استعمال کرنے والے عادی افراد جگہ جگہ ٹولیوں کی شکل میں موجود رہتے ہیں۔

صوبائی حکومت نے اب ان لوگوں کو سہارا دینے کا کام شروع کیا ہے اور نشے کے عادی ان تمام افراد کا سرکاری سطح پر علاج کیا جا رہا ہے۔

پشاور میں اس وقت کوئی 1180 ایسے افراد کو بحالی مراکز اور ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کے علاج کے ساتھ ساتھ انھیں بہتر شہری بنانے کے لیے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

نشے کی لت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’آہستہ آہستہ سب نے میرا ساتھ چھوڑ دیا‘

پلوشہ نے بی بی سی کو بتایا کہ گھر میں روزانہ کی بنیاد پر شوہر کے ساتھ جھگڑا رہتا تھا اور پھر ان جھگڑوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے انھوں نے نوکری شروع کر دی جبکہ شوہر کوئی کام نہیں کرتا تھا۔

’میں نے اپنے بچوں کی خاطر شوہر سے خلع لے لی اور پھر اپنی ماں کے ساتھ رہنے لگی لیکن نشے کی لت ایسی تھی کہ ماں کے گھر میں بھی اس سے چھٹکارا حاصل نہ ہو سکا۔ میری والدہ مجھے پھر انجیکشن لا کر دیتی تھیں لیکن پھر میری والدہ بھی انتقال کر گئیں۔‘

’آہستہ آہستہ سب خاندان والوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا۔ اپنے بچوں کے پاس گئی تو انھوں نے مجھے اپنے ساتھ رکھنے سے انکار کر دیا۔ بچوں نے مجھے کہا کہ وہ نشے کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے۔ میں فٹ پاتھ پر آ گئی اور یہاں پھر میں آئس کی عادی ہو گئی۔ باچا خان چوک پر فٹ پاتھ پر آئس مل جاتی تھی۔‘

پلوشہ نے بتایا کہ لوگ انھیں جسمانی طور پر تنگ کرتے تھے اور ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے اور ایسے حالات میں انھوں نے خود کشی کی کوشش بھی کی۔

پلوشہ اب پشاور کے الخدمت ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور خوش دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا اگر انھیں پہلے ایسے محبت اور پیار کرنے والے لوگ مل جاتے تو شاید وہ کبھی نشے کی عادی نہ ہوتیں اور ان کی زندگی خوشحال ہوتی۔

پشاور کے الخدمت ہسپتال میں اس وقت کوئی 155 سے زیادہ نشے کے عادی افراد کا علاج ہو رہا ہے۔

نشے کی لت

حکومت کا بڑا قدم

پشاور میں نشے کے عادی یہ افراد کہیں بھیک مانگتے اور کہیں سڑک کنارے نشے میں دھت پڑے نظر آتے ہیں۔

کمشنر پشاور ریاض محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ تین ماہ قبل اس بارے میں اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور تمام متعلقہ محکموں کو ایک پیج پر لایا گیا اور پھر تین ماہ تک مکمل تحقیق کر کے یہ مہم شروع کی گئی۔

اس مہم میں انتظامیہ کے ساتھ پولیس، انسداد منشیات کا ادارہ، محکمہ صحت، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، سوشل ویلفیئر اور کچھ غیر سرکاری ادارے شامل ہیں۔

اس وقت 1180 مریض پشاور کے مختلف اداروں میں زیر علاج ہیں اور ان میں 44 مریض ایسے بھی ہیں جن میں ایچ آئی وی مثبت پایا گیا۔ اس کے علاوہ ہیپا ٹائٹس کے مریض بھی شامل ہیں۔

کمشنر پشاور ریاض محسود کا کہنا ہے کہ اس مہم کے لیے صوبائی حکومت کی مکمل معاونت حاصل رہی ہے اور منشیات کے عادی افراد کا علاج اور ان کی بحالی حکومت کی ترجیح ہے اور یہ مہم اگر پشاور میں کامیاب ہوتی ہے تو اس طرح کی مہم دیگر شہروں میں بھی شروع کی جائے گی۔

نشے کی لت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ بھی پڑھیے

ایم فل بیٹیوں کا باپ نشے کا عادی

پشاور کے عرفان (فرضی نام) کی عمر 54 سال ہے ان کی چھ بیٹیاں ہیں، جو سب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور سب نے ایم فل کر رکھا ہے۔

عرفان نے بتایا کہ انھیں شادی سے پہلے ہی سگریٹ اور چرس پینے کی عادت تھی۔

’ماں باپ زندہ تھے تو وہ میرا اور میرے بچوں کا خرچ اٹھاتے تھے لیکن بیوی اور گھر والے کہتے تھے کہ تمھارے نشے کی وجہ سے تمھاری بیٹیوں کی رشتے نہیں ہو رہے۔‘

’یہ حالات دیکھے تو میں باہر ملک چلا گیا اور جاپان میں محنت مزدوری شروع کر دی۔ میں وہاں سے پیسے بھیجتا جس سے گھر کا ماحول بہتر ہو گیا تھا اور پانچ بیٹیوں کے رشتے ہو گئے۔‘

’پانچ سال پہلے میں واپس آیا اور یہاں آتے ہی پھر سے نشے کی لت پڑ گئی۔ اب یہاں ہسپتال میں زیر علاج ہوں۔‘

الخدمت ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اقتدار احمد روغانی کا کہنا تھا کہ جتنے مریض ان کے پاس آئے ہیں ان میں 60 فیصد ایسے ہیں، جن کا مستقبل میں نشے کی طرف راغب ہونا بہت مشکل ہے۔

وگمہ اور ان کے شوہر دونوں نشے کی لت کا شکار

وگمہ (فرضی نام ) کا تعلق افغانستان سے ہے لیکن وہ ایک عرصے سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ وگمہ اور ان کے شوہر بھی نشے کی لت میں مبتلا ہیں جبکہ ان کے تین بچے ان کی والدہ کے پاس رہتے ہیں۔

وگمہ نے بتایا کہ ’میری ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور شدید درد رہتا تھا۔ ایک دن شوہر نے مجھے انجیکشن لگایا جس سے درد ختم ہوا اور میں سو بھی گئی۔ اس انجیکشن سے ایسا سکون ملا کہ میں عادی ہو گئی۔ اس کے بعد میں اور میرے شوہر نشے کے عادی ہو گئے اور ہر قسم کا نشہ کرنے لگے۔ میرے شوہر جو کماتے، ہم اسے نشے پر خرچ کر دیتے اور پل کے نیچے ہی سو جاتے تھے۔‘

وگمہ نے بتایا کہ اب ان کا علاج شروع ہو گیا ہے جبکہ ان کے شوہر کا علاج دوسرے بحالی مرکز میں ہو رہا ہے اور اس علاج کے بعد کوشش ہو گی کہ یہ نشہ دوبارہ شروع نہ ہو سکے۔