آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
رانا شمیم: اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج پر توہین عدالت کے کیس میں فرد جرم عائد کر دی
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم پر عدلیہ کو بدنام کرنے کے معاملے میں فرد جرم عائد کر دی ہے تاہم اس مقدمے میں شامل دیگر ملزمان پر فردِ جرم عائد کرنے کا معاملہ موخر کر دیا گیا ہے۔
توہین عدالت کے اس کیس کی سماعت جمعرات کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔
رانا شمیم پر فرد جرم اس بیان حلفی کے پس منظر میں عائد کی گئی ہے جو گذشتہ دنوں مقامی میڈیا پر شائع ہوا تھا اور اس میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ سنہ 2018 میں اس وقت ملک کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو حکم دیا تھا کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج عامر فاروق سے ملاقات کریں اور ان سے کہیں کہ سنہ 2018 میں عام انتخابات سے قبل سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی احتساب کیسز میں ضمانت نہیں ہونی چاہیے۔
عدالت نے گلگت بلتستان کے سابق جج پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے وہ بیان حلفی سارا پڑھ کر سُنایا جو کہ انھوں نے برطانیہ میں نوٹری پبلک کے سامنے لکھ کر دیا تھا۔
اس مقدمے میں جنگ اور جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان، اخبار دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری اور رپورٹر انصار عباسی کو بھی توہین عدالت میں اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے تھے تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے اُن تینوں کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی مؤخر کر دی کہ اگر اس مقدمے کی کارروائی کے دوران کہیں یہ تاثر ملا کہ بیان حلفی جان بوجھ کر شائع کیا گیا ہے تو عدالت ان افراد پر بھی فرد جرم عائد کرے گی۔
پاکستان کی تاریخ میں رانا شمیم پہلے جج ہیں جن کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
اس سے پہلے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے دور میں فیڈرل شریعت کورٹ کے جج شفیع محمدی کو توہین عدالت کے مقدمے میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا کیونکہ انھوں نے ایک فیصلہ لکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کہے تھے۔ بعد ازاں فیڈرل شریعت کورٹ کے مذکورہ جج اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
’کیا کوڑا زور سے لگتا ہے؟‘
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے توہین عدالت کے مقدمے میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے جمعرات کی تاریخ مقرر کر رکھی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سماعت شروع ہوئی تو صحافی تنظیموں کے نمائندہ ناصر زیدی نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اس بیان حلفی کو شائع کرنے میں کوئی ایڈیٹوریل غلطی ہوئی ہو لیکن اگر اس غلطی کو بنیاد بناتے ہوئے ان صحافیوں پر فرد جرم عائد ہو گئی تو پھر نہ صرف دنیا میں ملک کی بدنامی ہو گی بلکہ اس سے آزادی اظہار رائے پر بھی حرف آئے گا۔
اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ کی آزادی بھی اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ ہی منسلک ہے لیکن اظہار رائے کی آزادی اور کسی ادارے کو سکینڈلائز کرنے میں فرق ہونا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ یہ بیان حلفی اس وقت شائع کیا گیا جب ایک خاص مقدمے کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری تھی۔
یہ بھی پڑھیے
ناصر زیدی کا کہنا تھا کہ صحافتی تنظیمیں قواعد و ضوابط بنا ہری ہیں جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات سے متعلق کوئی بات کس طریقے سے کی جانی چاہیے۔
اس کیس میں پراسیکیوٹر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے ناصر زیدی کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ رانا شمیم پر فرد جرم عائد کر دی جائے اور باقی تین افراد پر اگر فرد جرم ختم نہیں کی جا سکتی تو کم از کم اس کو موخر کر دیا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے صدر ثاقب بشیر نے بھی عدالت سے استدعا کی کہ صحافیوں کی حد تک فرد جرم کو مؤخر کیا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس بات سے مطمئن دکھائی دیے اور انھوں نے ناصر زیدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’زیدی صاحب یہ بتائیں کہ کیا کوڑا زور سے لگتا ہے۔‘ جج کے اس ریمارکس پر عدالت میں قہقہہ بلند ہوا۔ واضح رہے کہ ناصر زیدی ان صحافیوں میں سے ہیں جنھیں سابق فوجی صدر ضیا الحق کے دور میں کوڑے مارے گئے تھے۔
ناصر زیدی نے اٹارنی جنرل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد صاحب کو بھی ضیا کے دور میں کوڑے پڑے تھے۔
’جج صاحب مجھے سنگل آؤٹ نہ کریں‘
رانا شمیم کو جب روسٹرم پر بلایا گیا تو انھوں نے کہا کہ اگر فرد جرم عائد کرنی ہے تو تمام افراد پر اکٹھی کریں۔ انھوں نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جج صاحب مجھے سنگل آؤٹ نہ کریں۔‘
بینچ کے سربراہ نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا انھوں نے جس صحافی نے یہ خبر شائع کی اور جس نوٹری پبلک کے سامنے یہ بیان ریکارڈ کروایا تھا، ان کے خلاف کوئی کارروائی کی۔
اس پر انھوں نے نفی میں جواب دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کا کہنا تھا کہ انھوں نے صحافی کو بیان حلفی شائع کرنے کے بارے میں نہیں کہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ پہلے ان کے بیان حلفی کی انکوائری کروا لیں اور اس کے بعد فرد جرم عائد کریں۔
رانا شمیم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی عدالت میں طلب کریں تاکہ وہ اس بیان حلفی سے متعلق جرح کر سکیں۔ اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اوپن کورٹ میں ہونے والی کارروائی انکوائری سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ ابھی فرد جرم ہے اور فرد جرم کوئی فیصلہ نہیں ہوتا جس پر رانا شمیم کا کہنا ہے کہ جس طرح عدالت ان کے ساتھ سلوک کر رہی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ انھیں فرد جرم کے ساتھ سزا بھی سُنا دیں۔
گلگلت بلتستان کے سابق چیف جج نے اٹارنی جنرل کے بطور پراسیکیوٹر کام کرنے پر اعتراض کیا اور کہا کہ وہ ان کے خلاف بغض رکھتے ہیں تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ان کی نظر میں کس کو اس مقدمے میں پراسیکیوٹر ہونا چاہیے۔
اس پر رانا شمیم کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کو پراسیکیوٹر مقرر کیا جائے تاہم عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔
عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 15 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔