گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی کا معاملہ: ہائی کورٹ کا رانا شمیم کو اصل بیان حلفی اور شوکاز کا جواب جمع کروانے کا حکم

وقت اشاعت

گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی مبینہ طور پر ضمانت نہ لینے کے بارے میں احکامات سے متعلق جو بیان حلفی انھوں نے مقامی اخبار ’دی نیوز‘ کو دیا تھا وہ اشاعت کے لیے نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس خط کے شائع ہونے کے بعد مقامی اخبار کے ذمہ داران نے ان سے رابطہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت کیس پر اثرانداز ہونے کے دعوے کا نوٹس لیتے ہوئے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم سمیت صحافی انصار عباسی اور میر شکیل کے خلاف توہین عدالت کی باقاعدہ کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ’دی نیوز‘ اخبار میں گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کی طرف سے شائع کیے گئے بیان حلفی پر توہین عدالت سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

عدالت نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کو روسٹرم پر طلب کیا اور ان سے استفسار کیا کہ انھوں نے تین سال بعد ایک بیان حلفی دیا اور اخبار نے بیان حلفی عوام تک پہنچایا۔

اس پر رانا شمیم نے عدالت کو بتایا کہ بیان حلفی شائع ہونے کے بعد ان سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے رپورٹر کو تصدیق کی کہ یہ بیان حلفی انہی کا ہے۔

رانا شمیم نے کہا کہ ان کا بیان حلفی سر بمہر تھا اور انھیں نہیں معلوم کہ وہ کس طرح لیک ہوا، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے اپنا بیان حلفی مقامی اخبار کو نہیں دیا؟

گلگت بلتستان کے سابق جج نے اس پر عدالت کو بتایا کہ انھوں نے اپنا بیان حلفی اشاعت کے لیے نہیں دیا تھا۔

جب عدالت نے سوال کیا کہ انھوں نے لندن میں بیان حلفی کسی مقصد کے لیے دیا تو رانا شمیم اپنے جواب سے عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کہ تین سال بعد یہ بیان حلفی کس مقصد کے لیے دیا گیا؟ انھوں نے سابق چیف جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس بیان حلفی کے ذریعے عوام کا عدالت سے اعتماد اٹھانے کی کوشش کی۔

عدالت نے رانا شمیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت انھیں پانچ روز کا وقت دے رہی ہے اور اس عرصے کے دوران وہ اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کروائیں۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت سے استدعا کی کہ رانا شمیم سے جواب مانگا جائے کیونکہ ان کے بقول انھوں نے یہ بیان حلفی لندن میں ریکارڈ کرایا۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی رانا شمیم کو اصل بیان حلفی پیش کرنے کی ہدایت کی جائے۔

گلگت بلتستان کے سابق چیف جج نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ جو بیان حلفی رپورٹ ہوا وہ کون سا ہے اور خواہش ظاہر کی کہ وہ پہلے رپورٹ کیا جانے والا بیان حلفی دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’جس شخص نے بیان حلفی دیا اسے یہ بھی یاد نہیں کہ بیان حلفی میں کیا لکھا ہے۔‘

خالد جاوید کا کہنا تھا کہ اگر رانا شمیم کو نہیں معلوم تو پھر یہ بیان حلفی جو اخبار میں شائع ہوا ہے، کس نے تیار کروایا؟

انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ یہ بات ریکارڈ پر لائیں کہ رانا شمیم نے جو بیان حلفی میں کہا ہے انھیں اس بارے میں معلوم نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’دس نومبر کو بیان حلفی دیا گیا اور آج وہ کہتے ہیں کہ انھیں پتہ نہیں اس میں کیا لکھا ہے؟‘

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر رانا شمیم کے بقول انھوں نے بیان حلفی سیل کر کے اپنے پوتے کو دیا تو اخبار پر بڑی ذمہ داری آ جائے گی۔

عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر بیان حلفی سیل تھا تو پھر اخبار کو یہ بیان حلفی کیسے ملا؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان نے اخبار کے لیے معاملہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں میڈیا کا کردار ثانوی ہے لہذا میڈیا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی مؤخر کی جائے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت نے کچھ معیار سیٹ کیے ہیں اور ہماری اپنی آزادی، آزادی صحافت پر منحصر ہے۔

عدالت نے کہا کہ ججز کو تنقید کا سامنا کرنا چاہیے لیکن سیاسی بیانیے کے لیے کم از کم اس ہائی کورٹ کو بدنام کرنے سے باز رہیں۔

عدالت نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کو اصل بیان حلفی اور شوکاز کا جواب جمع کروانے کا حکم دیا جبکہ از خود نوٹس کی سماعت سات دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔