ڈسکہ ضمنی انتخاب: ’جس میٹنگ کا تذکرہ کیا گیا وہ حقائق کے برعکس ہے‘، الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

سابق وفاقی وزیر اور حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف ڈاکٹر فردوس عاشق نے الیکشن کمیشن کی ڈسکہ ضمنی الیکشن سے متعلق رپورٹ پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ رپورٹ میں اسسٹنٹ کمشنر آفس میں جس میٹنگ کا تذکرہ کیا گیا وہ حقائق کے برعکس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کہ چند نام نہاد ذاتی بغض میں مبتلا افراد الیکشن کمیشن کی رپورٹ پڑھے بغیر سنی سنائی فرضی کہانیوں کو میڈیا میں بیان کرکے میری ذاتی اور سیاسی شہرت کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کر رہے ہیں۔

ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی 133 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو ہائی لائٹ کرنے اور اس میں رنگ بھرنے کیلئے ایک سطر میں میرا نام لکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ڈسکہ سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے بارے میں اپنی تفتیشی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں ’دھاندلی کی گئی جس کی منصوبہ بندی میں وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان بھی ملوث تھیں۔‘

الیکشن کمیشن کی جانب سے سیالکوٹ کے شہر ڈسکہ میں 19 فروری 2021 کو ضمنی انتخاب منعقد کیا گیا تھا۔

یہ انتخاب اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی سید افتخار الحسن کی وفات کے بعد منعقد کیا جا رہا تھا۔

اس واقعے کے بعد پانچ اپریل 2021 کو الیکشن کمیشن نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے تحت تمام افسران کو 16 اپریل کو حاضر ہونے کا کہا گیا تھا۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وکلا سے مشاورت کے بعد حقائق مسخ کرکے غلط اور بوگس رپورٹنگ کے مرتکب عناصر کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

تاہم دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ڈسکہ الیکشن کی تحقیقاتی رپورٹ پر الیکشن کمیشن سے وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

‎‎مریم اورنگزیب نے ڈسکہ الیکشن کی تحقیقاتی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’واضح ہو گیا کہ عمران صاحب کی ایما پر وزیراعلی پنجاب، وفاقی وزرا اور دیگر حکومتی رہنماؤں نے منظم انداز سے دھاندلی کے جرم کا ارتکاب کیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’‎الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر فی الفور عمل درآمد کیا جائے اور تمام ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔‘

اس سے قبل الیکشن کے دوران فائرنگ کے معاملے پر مسلم لیگ (نواز) کے احسن اقبال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ڈسکہ کے مسلم لیگ نواز کے مضبوط علاقوں میں سارا دن فائرنگ کر کے خوف و ہراس کی فضا بنائی گئی جس کا مقصد مسلم لیگ نواز کے ووٹروں کا ٹرن آؤٹ کم کرنے کی کوشش تھی۔

رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

بی بی سی کو موصول ہونے والی اس رپورٹ کی کاپی کے مطابق اس انتخاب کے دوران 20 ایسے پولنگ سٹیشن سامنے آئے تھے جہاں انتخاب کے دوران پولیس افسران نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی، بروقت انتخاب نہیں ہوا اور یہ پورا عمل کرپشن کا شکار رہا۔

یہ رپورٹ جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر سعید گل نے تیار کی ہے اور اس رپورٹ کی تکمیل کے لیے ان تمام افسران اور ریٹرننگ افسران سے تفتیش کی گئی ہے جو اس روز ڈیوٹی پر موجود تھے۔

یہ رپورٹ تین حصوں پر مشتمل ہے جس کے پہلے حصے میں پریزائیڈنگ افسران اور محکمہ تعلیم کے افسران سے بات کی گئی ہے، دوسرے میں پولیس افسران، اور تیسرے میں ریٹرننگ افسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر سے بات کی گئی ہے۔

انتخاب کے دن کب کیا ہوا؟

الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق انتخاب 08 بجے شروع ہو کر 05 بجے ختم ہوا۔

لیکن رپورٹ میں بتایا گیا کہ انتخاب شروع ہونے کے تین گھنٹے بعد ہی ڈسکہ میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو گئی اور 20 سے زائد پولنگ سٹیشنز کے باہر ہوائی فائرنگ کی گئی۔

دو ہلاکتوں کی اطلاعات کے بعد حالات مزید خرابی کی طرف بڑھ گئے جس کے نتیجے میں ووٹرز پریشان رہے اور فائرنگ کی وجہ سے ایک علاقے تک محدود رہ گئے۔

اس دوران ریٹرننگ افسر کو شام 5:39 بجے تک نتائج ملنا شروع ہوگئے تھے لیکن 20 پولنگ سٹیشن کی طرف سے پوچھنے پر بھی کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ پولنگ سٹیشز کے افسران کے موبائل فون بند جا رہے تھے اور ان ہی پولنگ سٹیشنز کے 20 پریزائیڈنگ افسران ’لاپتہ‘ بھی ہو چکے تھے۔

اس دوران ان 20 حلقوں سے لوگ نتائج حاصل کرنے ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچنا شروع ہوگئے اور اس دوران امن و امان کی صورتحال مزید بگڑ گئی۔

حیران کُن طور پر جن 20 پولنگ سٹیشنز سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، ادھر سے انتخابی نتائج تقریباً 20 فروری کی صبح چار بجے موصول ہونا شروع ہو گئے، جبکہ یہی 20 پریزائیڈنگ افسران 20 فروری کی صبح ساڑھے چھ بجے ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچنا شروع ہو گئے۔

دھاندلی میں کون کون ملوث تھا؟

رپورٹ کے مطابق مختلف افسران جن میں ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز محمد اقبال شامل ہیں، اسسٹنٹ کمشنر ہاؤس ڈسکہ میں الیکشن عمل میں دھاندلی کروانے کی غرض سے منعقد ہونے والے اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی اجلاس میں پاکستان تحریکِ انصاف کی اُس وقت کی وفاقی وزیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈسکہ میں فائرنگ اور دو ہلاکتوں کی اطلاعات آنے کے بعد رینجرز کی نفری بلائی گئی تھی لیکن اس کے باوجود حالات قابو میں نہیں آ سکے۔

رپورٹ کے مطابق سینیئر اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسر غلام عباس نے بتایا کہ پولنگ کے عمل کے دوران پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے لوگ اُن کے ساتھ موجود رہے اور پریزائیڈنگ افسران کو کہا گیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ، پولیس کے کام میں مداخلت نہ کریں اور انھیں کام کرنے دیں۔

’لاپتہ عملہ‘ کہاں تھا؟

لاپتہ عملے کے معاملے پر انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عملے کو نامعلوم مقام پر لے جایا گیا تھا تاکہ انتخابی عمل سستی کا شکار رہے۔

رپورٹ کے مطابق پریزائیڈنگ افسران منصوبے کے تحت نجی گاڑیوں میں پولنگ سٹیشنز سے روانہ ہوئے۔ ان افسران نے سیالکوٹ پہنچنے سے قبل پولنگ سٹیشن قلعہ کلر والا، ڈی ایس پی آفس پسرور اور منڈیکی میں قیام کیا۔

پھر یہ پریزائیڈنگ افسران شہاب پورہ میں سات گھنٹے تک کسی نامعلوم عمارت میں رہے جس کے بعد اُنھیں پولیس سیکیورٹی میں ریٹرننگ افسر جاسیر والا کے دفتر منتقل کیا گیا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ متعلقہ ایس ایچ اوز نے الیکشن عمل کو سست کرنے اور جوڑ توڑ میں بھرپور کردار ادا کیا اور کئی مقامات پر پولیس افسران اپنی وضع کردہ حدود سے تجاوز کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیے

انکوائری کے لیے کیے جانے والے انٹرویوز کے دوران انکشاف ہوا کہ پریزائیڈنگ افسران کو پولیس گاڑیوں کے قافلے میں ڈی ایس پی آفس پسرور اور پھر سیالکوٹ لے جایا گیا، پولیس اہلکاروں نے غیر مجاز افراد کو پولنگ سٹیشنز میں آنے دیا اور پریزائیڈنگ افسران کی غیر مجاز افراد کے ساتھ غیر قانونی ملاقاتیں کروائیں۔

اس کے علاوہ پولیس اہکاروں نے محافظ کے بجائے اغوا کاروں کا کردار ادا کیا اور پریزائیڈنگ افسران کو غیر متعلقہ افراد کے حوالے کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس ایچ او پولنگ سٹیشنز کے اندر پولنگ سٹاف سے ملے جس کی انھیں اجازت نہیں تھی جبکہ پریزائیڈنگ افسران کو نامعلوم مقامات لے جانے کے لیے سرکاری گاڑیاں استعمال کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق ریٹرننگ افسر (آر او) اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر (ڈی آر او) کو ان کے دفاتر تک محدود کر دیا گیا جبکہ دونوں معاملات خراب ہونے پر اپنی ذمہ داری نہیں نبھا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’غیر مجاز افراد کی الیکشن افسران سے غیر قانونی ملاقاتوں سے آر او اور ڈی آر او لاعلم رہے، جبکہ ڈی آر او لا علم رہے کہ پولیس، نائب قاصد اور ڈرائیورز نے غیر حساس الیکشن مواد پریزائیڈنگ افسران کے بغیر آر او کے دفتر میں چھوڑ دیے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعد میں دونوں نے اعتراف کیا کہ رات دو بجے انھیں علم ہوا کہ 20 پریزائیڈنگ افسران لاپتہ ہیں۔

ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کا پس منظر

واضح رہے کہ مذکورہ واقعے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ’الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی‘ پر ڈسکہ میں ہونے والے اس ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اس انتخاب میں اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اُمیدوار سیدہ نوشین افتخار کا مقابلہ پاکستان تحریکِ انصاف کے علی اسجد ملہی سے تھا۔

سیدہ نوشین افتخار کے والد کی وفات کے بعد ہی یہ نشست خالی ہوئی تھی۔

بعد میں علی اسجد ملہی نے الیکشن کمیشن کے انتخاب کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا تھا تاہم عدالتِ عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

اس کے بعد 10 اپریل کو ڈسکہ میں ضمنی انتخاب دوبارہ منعقد ہوا تھا جس میں سیدہ نوشین افتخار کامیاب ہوئی تھیں۔