کیا حکومت مذہبی رہنماؤں سے کچھ منوا بھی سکی ہے یا نہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
آج وزیرِ اعظم عمران خان اور صدر عارف علوی دونوں نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے بیانات دیے ہیں جہاں صدر عارف علوی نے ماہِ رمضان میں تراویح اور اجتماعات کے حوالے سے بات کی، وہیں عمران خان نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے بارے میں وضاحتیں دیں۔
صدر عارف علوی نے ملک بھر کے مختلف مکاتبِ فکر کے علما اور مشائخ کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے مشاورتی اجلاس کی صدارت کی جس کے بعد 20 نکاتی تجاویز کا اعلان کیا ہے۔
صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ یہ تمام فیصلے اتفاقِ رائے سے کیے گئے اور اس حوالے سے یہ کسی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اصولوں کی پابندی کریں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
20 نکاتی تجاویز:
- مساجد اور امام بارگاہوں میں کالین یا دریاں نہیں بچھائی جائیں گی۔
- جو گھر سے جائے نماز لانا چاہیں وہ ایسا ضرور کریں
- نماز سے پہلے اور بعد میں ہجوم لگانے سے پرہیز کریں۔
- جہاں صحن موجود ہو وہاں ہال کی بجائے صحن میں نماز پڑھائی جائے۔
- 50 سال سے زائد عمر، نابالغ بچے اور کھانسی، نزلہ، بخار سے متاثرہ افراد مسجد میں نہ جائیں۔
- مسجد کے احاطے میں نماز تراویح کا اہتمام کیا جائے، فٹ پاتھ پر نہ پڑھی جائے۔
- کلورین کے محلول کے ذریعے مساجد کو دھویا جائے۔
- صف بندی کا اہتمام ایسے کیا جائے کہ دو نمازیوں کے درمیان دو نمازیوں کی جگہ خالی چھوڑی جائے۔
- مساجد میں کمیٹیاں بنائی جائیں جو اس بات کو یقینی بنائیں کے تجاویز پر عمل ہو اور نشانات لگائے جائیں۔
- وضو گھر میں کریں، 20 سیکنڈ تک ہاتھ صابن سے دھوئیں۔
- ماسک پہن کر مساجد میں آنا لازمی قرار، دوسروں سے بغل گیر نہ ہوں، ہاتھ نہ ملائیں۔
- موجودہ صورتحال میں بہتر یہ ہے کہ گھر پر اعتکاف بیٹھیں۔
- مسجد میں سحری اور افطاری کا اجتماعی اہتمام نہ کیا جائے
- چہرے پر ہاتھ نہ لگائیں۔
- مسجد اور امام بارگاہ کی انتظامیہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ رابطہ رکھیں۔
- ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ تراویح اور باجماعت نماز مشروط ہے۔

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
صدر عارف علوی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا ہے یا متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کرے گی۔
اس کے علاوہ حکومت کو اس بات کا بھی اختیار ہے کہ شدید متاثرہ علاقے کے لیے احکامات اور پالیسی بدل دی جائے گی۔
’امام مسجد کسی نمازی کو مسجد میں آنے سے نہیں روک سکتا‘
وفاق المداس کے سیکرٹری جنرل محمد حنحف جالندھری کا کہنا ہے کہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کورونا وائرس کے بچاو کے حوالے سے جن 20 نکات پر اتفاق ہوا ہے اس پر عمل درآمد کروائیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ رمضان شروع ہونے سے پہلے اس بات پر اتفاق کرلیا جائے گا کہ اس 20 نکاتی پر عمل درآمد سے پہلے تمام مساجد میں اس بارے میں اعلانات کروائے جائیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اُنھوں نے کہا کہ نماز تروایح کے لیے صدر مملکت کی طرف سے جو اعلان کیا گیا ہے یعنی ہر نمازی کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ ہو تو اس کو مدنظر رکھتے ہوئے جتنے نمازی پہلے مسجد میں آجائیں گے تو انھیں تو باجماعت نماز تراویح ادا کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ باقی رہ جانے والے افراد کو کہا جائے گا کہ وہ گھروں میں جاکر نماز تراویح ادا کریں۔
تاہم اس کے ساتھ ساتھ حنیف جالندھری کا کہنا تھا کہ امام مسجد کسی نمازی کو مسجد میں آنے سے نہیں روک سکتا۔
’اصل مسئلہ اس 20 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کا ہوگا‘
مذہبی جماعتوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے صحافی علی شیر کا کہنا ہے کہ ’اصل مسئلہ اس 20 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کا ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی کے شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چند ہفتے قبل بھی مختلف مکاتب فکر کے علما نے صدر مملکت کے ساتھ جو ملاقات کی تھی اس میں طے پانے والے معائدے کی شق نمبر5 میں یہ لکھا تھا کہ مساجد میں زیادہ سے زیادہ پانچ افراد باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں اور اس پر علما نے اتفاق بھی کیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔
اُنھوں نے کہا کہ بہت سے ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں امام مسجد اور انتظامیہ کی طرف سے لوگوں کو مسجد میں آنے سے روکنے پر لڑائی جھگڑے بھی ہوئے۔
ان کا مزید کہنا تھا اس 20 نکاتی فارمولے میں علما کی تجاویز کو تسلیم کیا گیا ہے اور اس میں وہ نکات بھی شامل ہیں جن کا اعلان مفتی منیب الرحمن اور مفتی تقی عثمانی نے چند روز قبل کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا تھا۔























