کیا حکومت مذہبی رہنماؤں سے کچھ منوا بھی سکی ہے یا نہیں؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

آج وزیرِ اعظم عمران خان اور صدر عارف علوی دونوں نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے بیانات دیے ہیں جہاں صدر عارف علوی نے ماہِ رمضان میں تراویح اور اجتماعات کے حوالے سے بات کی، وہیں عمران خان نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے بارے میں وضاحتیں دیں۔

صدر عارف علوی نے ملک بھر کے مختلف مکاتبِ فکر کے علما اور مشائخ کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے مشاورتی اجلاس کی صدارت کی جس کے بعد 20 نکاتی تجاویز کا اعلان کیا ہے۔

صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ یہ تمام فیصلے اتفاقِ رائے سے کیے گئے اور اس حوالے سے یہ کسی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اصولوں کی پابندی کریں۔

یہ بھی پڑھیے

20 نکاتی تجاویز:

  • مساجد اور امام بارگاہوں میں کالین یا دریاں نہیں بچھائی جائیں گی۔
  • جو گھر سے جائے نماز لانا چاہیں وہ ایسا ضرور کریں
  • نماز سے پہلے اور بعد میں ہجوم لگانے سے پرہیز کریں۔
  • جہاں صحن موجود ہو وہاں ہال کی بجائے صحن میں نماز پڑھائی جائے۔
  • 50 سال سے زائد عمر، نابالغ بچے اور کھانسی، نزلہ، بخار سے متاثرہ افراد مسجد میں نہ جائیں۔
  • مسجد کے احاطے میں نماز تراویح کا اہتمام کیا جائے، فٹ پاتھ پر نہ پڑھی جائے۔
  • کلورین کے محلول کے ذریعے مساجد کو دھویا جائے۔
  • صف بندی کا اہتمام ایسے کیا جائے کہ دو نمازیوں کے درمیان دو نمازیوں کی جگہ خالی چھوڑی جائے۔
  • مساجد میں کمیٹیاں بنائی جائیں جو اس بات کو یقینی بنائیں کے تجاویز پر عمل ہو اور نشانات لگائے جائیں۔
  • وضو گھر میں کریں، 20 سیکنڈ تک ہاتھ صابن سے دھوئیں۔
  • ماسک پہن کر مساجد میں آنا لازمی قرار، دوسروں سے بغل گیر نہ ہوں، ہاتھ نہ ملائیں۔
  • موجودہ صورتحال میں بہتر یہ ہے کہ گھر پر اعتکاف بیٹھیں۔
  • مسجد میں سحری اور افطاری کا اجتماعی اہتمام نہ کیا جائے
  • چہرے پر ہاتھ نہ لگائیں۔
  • مسجد اور امام بارگاہ کی انتظامیہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ رابطہ رکھیں۔
  • ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ تراویح اور باجماعت نماز مشروط ہے۔

صدر عارف علوی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا ہے یا متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کرے گی۔

اس کے علاوہ حکومت کو اس بات کا بھی اختیار ہے کہ شدید متاثرہ علاقے کے لیے احکامات اور پالیسی بدل دی جائے گی۔

’امام مسجد کسی نمازی کو مسجد میں آنے سے نہیں روک سکتا‘

وفاق المداس کے سیکرٹری جنرل محمد حنحف جالندھری کا کہنا ہے کہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کورونا وائرس کے بچاو کے حوالے سے جن 20 نکات پر اتفاق ہوا ہے اس پر عمل درآمد کروائیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ رمضان شروع ہونے سے پہلے اس بات پر اتفاق کرلیا جائے گا کہ اس 20 نکاتی پر عمل درآمد سے پہلے تمام مساجد میں اس بارے میں اعلانات کروائے جائیں۔

اُنھوں نے کہا کہ نماز تروایح کے لیے صدر مملکت کی طرف سے جو اعلان کیا گیا ہے یعنی ہر نمازی کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ ہو تو اس کو مدنظر رکھتے ہوئے جتنے نمازی پہلے مسجد میں آجائیں گے تو انھیں تو باجماعت نماز تراویح ادا کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ باقی رہ جانے والے افراد کو کہا جائے گا کہ وہ گھروں میں جاکر نماز تراویح ادا کریں۔

تاہم اس کے ساتھ ساتھ حنیف جالندھری کا کہنا تھا کہ امام مسجد کسی نمازی کو مسجد میں آنے سے نہیں روک سکتا۔

اصل مسئلہ اس 20 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کا ہوگا

مذہبی جماعتوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے صحافی علی شیر کا کہنا ہے کہ ’اصل مسئلہ اس 20 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کا ہوگا۔‘

بی بی سی کے شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چند ہفتے قبل بھی مختلف مکاتب فکر کے علما نے صدر مملکت کے ساتھ جو ملاقات کی تھی اس میں طے پانے والے معائدے کی شق نمبر5 میں یہ لکھا تھا کہ مساجد میں زیادہ سے زیادہ پانچ افراد باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں اور اس پر علما نے اتفاق بھی کیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔

اُنھوں نے کہا کہ بہت سے ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں امام مسجد اور انتظامیہ کی طرف سے لوگوں کو مسجد میں آنے سے روکنے پر لڑائی جھگڑے بھی ہوئے۔

ان کا مزید کہنا تھا اس 20 نکاتی فارمولے میں علما کی تجاویز کو تسلیم کیا گیا ہے اور اس میں وہ نکات بھی شامل ہیں جن کا اعلان مفتی منیب الرحمن اور مفتی تقی عثمانی نے چند روز قبل کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا تھا۔