وزیراعظم نتن یاہو کے استعفے تک پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج جاری رہے گا: اسرائیلی مظاہرین

اس وقت کچھ مظاہرین اسرائیلی پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو استعفیٰ نہیں دیتے وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی۔

لائیو کوریج

  1. بین الاقوامی امداد کے 70 ٹرک آج رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہوئے

    رفح کراسنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غیر ملکی شہریوں کا ایک اور گروپ منگل کو غزہ سے رفح کراسنگ کے ذریعے مصر جائے گا۔ جنرل اتھارٹی فار کراسنگ اینڈ بارڈرز کی طرف سے شائع کردہ ایک نئی فہرست میں دو برطانوی شہریوں سمیت تقریباً 600 غیرملکی پاسپورٹ ہولڈرز شامل ہیں۔

    اس فہرست میں جرمنی، رومانیہ، فرانس، فلپائن، یوکرین، کینیڈا اور مالدووا کے شہری بھی شامل ہیں۔

    رفح کراسنگ تین ہفتے سے زیادہ بند رہنے کے بعد یکم نومبر کو کچھ غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والوں اور زخمی فلسطینیوں کے لیے کھول دی گئی۔

    یہ سنیچر کو دوبارہ بند ہوئی جس کے بعد پیر کو اسے دوبارہ کھول دیا گیا۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق بین الاقوامی امداد کے 70 ٹرک آج رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہوئے جن میں طبی سامان اور کھانے پینے کی اشیا موجود تھیں اور ان کا معائنہ کرنے کے بعد انھیں غزہ میں داخل ہونے دیا گیا۔

    اقوامِ متحدہ کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ سے قبل روزانہ 500 ٹرک داخل ہوتے تھے اور 12 لاکھ لوگ اس امداد پر زندگی گزار رہے ہیں۔

  2. شمالی غزہ سے جنوب کی جانب جانے کے لیے ’محفوظ راستہ‘ چند گھنٹے کے لیے کھل گیا

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہRex Features

    اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی فوج ایک بار پھر شہریوں کو غزہ کے شمال سے جنوب کی طرف جانے کی اجازت دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر پیغام میں ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے سے دوپہر دو بجے کے درمیان صلاح الدین روڈ پر سفر کی اجازت دی ہے۔

    ترجمان نے کہا ہے کہ ’اپنے تحفظ کے لیے، وادی غزہ سے دور جنوب کی طرف جانے کے لیے یہ موقع استعمال کریں‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’بہت سے لوگ‘ پہلے ہی یہ راستہ استعمال کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے پہلی مرتبہ 13 اکتوبر کو غزہ کے شمالی علاقے سے لوگوں کو جنوب کی طرف جانے کے لیے کہا تھا۔

  3. نتن یاہو کا اعلان: غزہ میں ’سکیورٹی ذمہ داریوں‘ کا کیا مطلب ہو گا؟

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہIDF VIA REUTERS

    اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ حالیہ تنازع ختم ہو جانے پر غزہ کی پٹی کی سکیورٹی غیر معینہ مدت تک اسرائیل اپنے ہاتھ میں رکھے گا۔

    نتن یاہو نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز کو انٹرویو دیا جس میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اسرائیل، غیر معینہ مدت تک، سکیورٹی کی مجموعی ذمہ داری اپنے پاس رکھے گا۔ جب ہمارے پاس یہ ذمہ داری نہیں ہوتی تو پھر حماس کی جانب سے اس سطح کی شدت پسندی ہوتی ہے جو ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔‘

    نتن یاہو نے اس دوران جنگ بندی کے امکان کو بھی مسترد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’یرغمالیوں کی رہائی کے بغیر کسی قسم کی جنگ بندی نہیں ہو گی۔‘

    تاہم نتن یاہو نے مختصر مدت کے وقفوں کا عندیہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک ٹکٹیکل معاملات ہیں، مختصر وقفےیعنی ایک گھنٹے تک، ہوتے رہیں گے اور ہم حالات دیکھ کر سامان کی ترسیل یا اپنے یرغمالیوں کو نکلنے کے لیے وفقہ لیں گے۔‘

    واضح رہے کہ اسرائی فوج نے 38 سال تک غزہ میں موجود رہنے کے بعد 2005 میں انخلا کیا تھا۔ نتن یاہو کی جانب سے اس اعلان کا واضح مفہوم بیان کرنا مشکل ہے۔

    اس وقت ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی قسم کا قبضہ ہو گا جس میں ذمہ داریوں کی نوعیت صرف دفاع اور امن و عامہ تک محدود ہو گی۔

    ’سکیورٹی ذمہ داری‘ کا لفظ غرب اردن کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اوسلو معاہدے کے تحت، جو اسرائیل اور فلسطین میں پہلا معاہدہ تھا، یہ طے ہوا تھا کہ غرب اردن میں میونسپل کنٹرول فلسطین کے پاس جبکہ سکیورٹی ذمہ داریاں اسرائیل کے پاس رہیں گی۔

    یعنی اسرائیل اپنی مرضی سے قانون نافذ کرے گا تاہم روز مرہ امور جیسا کہ سکول چلانا یا دیگر کام فلسطینیوں کے ذمہ ہوں گے۔

    لیکن ایسا کرنے کے لیے کسی ایسی فلسطینی تنظیم کا ہونا ضروری ہے جو اسرائیل کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہو۔ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بعد جو فلسطینی ایسا کرنے کی کوشش کرے گا اس کے لیے مشکلات کھڑی ہوں گی اور اسے غدار گردانا جائے گا۔

    ایسا لگتا ہے کہ فی الحال اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ سے قبضہ کرنے کا منصوبہ ہے۔

  4. رفح اور خان یونس میں ’اسرائیلی حملوں‘ میں 23 ہلاک

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، حماس کے زیر انتظام غزہ میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ کے شہروں رفح اور خان یونس میں دو الگ الگ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ان حملوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ذیل میں خان یونس میں حملے کے بعد کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    خان یونس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خان یونس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  5. اسرائیل غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں کیوں تقسیم کرنا چاہتا ہے؟

  6. اسرائیل کا شمالی غزہ میں حماس کے اہم ٹھکانے پر قبضے کا دعویٰ

    منگل کو اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے شمالی غزہ میں حماس کے ایک اہم ٹھکانے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہاں سے انھیں ٹینک شکن میزائل اور دیگر ہتھیار بھی ملے ہیں۔

    ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیلی بحریہ نے حماس کے مزید ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ غزہ شہر میں القدس ہسپتال کے نزدیک حماس کی ایک عمارت پر فضائی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں وہاں موجود ہتھیار بھی تباہ کر دیے گئے۔

    حماس کی جانب سے تاحال ان اسرائیلی دعووں کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

    ادھر بی بی سی کو جنوبی غزہ میں خان یونس کے علاقے میں ایک اور اسرائیلی فضائی حملے کی بھی اطلاعات ملی ہیں تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اپنی بریفنگ میں ایسی کارروائی کی تصدیق نہیں کی۔

  7. غزہ میں چار ہزار بچوں سمیت ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار سے بڑھ گئی

    غزہ میں وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ علاقے میں ایک ماہ قبل شروع ہونے والی اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

    حکام کے مطابق مرنے والوں میں چار ہزار سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ 2007 میں حماس کی جانب سے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اسرائیلی بمباری سے ہونے والی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

    اسرائیل نے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے عسکریت پسندوں کی جانب سے اسرائیلی علاقوں میں داخل ہو کر 1400 افراد کو ہلاک کرنے اور دو سو سے زیادہ کو یرغمالی بنائے جانے کے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد غزہ کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔

    اسرائیل نے اب تک جنگ بندی کی عالمی درخواستوں کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ حماس کے انفراسٹرکچر اور اس کے عسکریت پسندوں کو ختم کر رہا ہے تاکہ وہ مستقبل میں اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔ اسرائیلی بمباری سے شمالی غزہ کے علاوہ جنوبی غزہ کے متعدد علاقے تباہ ہوئے ہیں۔

  8. کیا غیر ملکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کا نقصان واقعی اسرائیل کو ہو گا؟

  9. کیا ہم سب چائنا کا مال ہیں: محمد حنیف کا کالم

  10. ’تسمے باندھنے کی فکر مت کرو‘: پاکستان میں اغوا اور قتل ہونے والے امریکی صحافی ڈینیئل پرل پر کیا بیتی؟

  11. اسرائیل کا غیر قانونی سفر کرنے والے پاکستانی ملزمان کے چند رشتہ دار بھی وہاں جا چکے ہیں، ایف آئی اے کا دعوی

  12. اسرائیل کے بازاروں میں پاکستانی میوہ جات اور مسالے کیسے پہنچے؟

  13. حماس کے محمد ضیف، جو کئی برسوں سے اسرائیلیوں کو چکما دے رہے ہیں