وزیراعظم نتن یاہو کے استعفے تک پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج جاری رہے گا: اسرائیلی مظاہرین
اس وقت کچھ مظاہرین اسرائیلی پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو استعفیٰ نہیں دیتے وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی۔
لائیو کوریج
بریکنگ, غزہ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 10300 سے بڑھ گئی، مرنے والوں میں 4100 سے زیادہ بچے بھی شامل
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 10,300 سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اغزہ پر جوابی کارروائئوں کے نتیجے میں کل 10,328 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 4,100 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔
بعض سیاست دانوں نے غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کی درستگی پر سوال اٹھائے ہیں تاہم عالمی ادارہ صحت نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اعداد و شمار قابل اعتماد ہیں۔
آٹا اور ایندھن ختم ہونے کے بعد شمالی غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا, بی بی سی نیوز کے صحافی رشدی ابوالوف کی خان یونس سے رپورٹنگ

،تصویر کا ذریعہRex Features
شمالی غزہ میں اس وقت آٹھ اہم محاذوں پر جاری لڑائیاں جاری ہیں جن میں سب سے زیادہ پرتشدد کاروائیاں شمال مغربی اور جنوب مغربی علاقوں میں کی جا رہی ہیں۔
یہاں غزہ شہر کی طرف جانے والی شاہراہ اور ساحل کے متوازی سڑک کا کنٹرول اسرائیلی افواج کے ہاتھ میں ہے۔ فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمین پر جاری اسرائیلی فوج کی کاروائیوں کا زور ساحل کے قریب واقع پناہ گزین کیمپ کے اطراف اور غزہ کے جنوب مغرب میں الشفاء ہسپتال اور القدس ہسپتال کے آس پاس کے علاقوں ہے۔
شمالی غزہ میں غزائی قلت کے سبب صورت حال انتہائی ابتر ہے جہاں آٹا اور ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے بیشتر بیکریاں بند ہو چکی ہیں۔
شہرمیں اگرچہ پانی کے کنووں کی بہتات ہے تاہم ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے پانی کو پمپ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے اور ان کی حفاظت کے لیے جنوب کی طرف نقل مکانی کی بار بار تنبیہ کی جا چکی ہے تاہم پانچ لاکھ فلسطینی اب بھی شمالی علاقوں میں مقیم ہیں۔
حامدی الحتو نامی ایک شہری نے بتایا کہ ’ہم سڑک تباہ ہونے کی وجہ سے باہر نہیں نکل سکے اور میں دل کے پٹھوں کی کمزوری کے باعث پانچ کلومیٹر پیدل نہیں چل سکتا۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ہم نو افراد پر مشتمل خاندان ہیں۔ میں کافی بیچ کراپنی گزر بسر کرتا تھا تاہم آج میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ نہ کھانا ہے نہ پانی۔ کچھ بھی نہیں ہے۔ میرے بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔‘
جنوبی غزہ کے علاقے میں رات کو اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں جنھوں نے رفح، خان یونس اور دیر البلاح شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ سبھی محفوظ علاقے میں واقع ہیں جہاں آبادی کا تین چوتھائی حصہ رہتا ہے۔ یہاں خان یونس میں شہر کے مرکزی بازار کے دورے کے دوران میں نے خوراک، ادویات اور صاف پانی کے حصول کے لیے لوگوں کی تکالیف دیکھی ہیں ۔ غزہ میں جنگ جاری رہنے سے انسانی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
غزہ اسرائیل جنگ: اب تک کی پیش رفت کا خلاصہ

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل اور غزہ کی جنگ میں آج کے دن کی اب تک کی پیش رفت کا خلاصہ ذیل میں دیا جا رہا ہے۔
- غزہ کی وزارت صحت کے مطابق رفح اور خان یونس میں اسرائیل کی جانب سے دو الگ الگ فضائی حملوں میں کم از کم 23 افراد مارے گئے۔
- فلسطین کی خبر رساں ایجنسی وفا نے رپورٹ کیا ہے کہ غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک فلسطینی صحافی اپنے خاندان کے 42 افراد سمیت ہلاک ہو گیا ہے۔
- وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کے غزہ پر جوابی حملوں میں 10 ہزارسے زائد افراد مارے گئے ہیں۔
- اسرائیل پر حماس کی جانب سے حملوں کو آج (سات اکتوبر) کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے۔
- اسرائیل پر حملے میں 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 200 سے زیادہ یرغمال بنائے گئے تھے۔
- اسرائیلی ڈیفینس فورس (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات گئے شمالی غزہ کی پٹی میں حماس کے مضبوط گڑھ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
- 600 کے قریب غیر ملکی شہری آج رفح بارڈر کے راستے غزہ سے مصر جائیں گے۔
- اسرائیل کا کہنا ہے کہ 70 مزید امدادی ٹرک سرحد عبور کر کے غزہ میں داخل ہو گئے ہیں۔
حماس نے اسرائیل میں معصوم شہریوں کو قتل نہیں کیا: حماس رہنما کا دعویٰ

حماس کے سینیئر رہنما نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ ان کے گروپ نے اسرائیل میں معصوم شہریوں کو قتل کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جانب سے صرف ان لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جو فوج میں بھرتی تھے۔
موسیٰ ابو مرزوق نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس کی جانب سے ’خواتین، بچوں اور عام شہریوں‘ کو کچھ نہیں کہا گیا تھا۔
ان کی جانب سے یہ دعوے ان ویڈیو شواہد کے برخلاف ہیں جن میں حماس کے عسکریت پسندوں کو بڑوں اور بچوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا تھا۔
اسرائیل کے سات اکتوبر کو حماس کے حملے میں 1400 عام شہری ہلاک ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔
موسیٰ ابو مارزوک تنظیم کے ڈپٹی پولیٹیکل لیڈر ہیں جن کے اثاثوں کو برطانیہ میں انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کی خلاف ورزی کے باعث منجمد کیا گیا ہے۔
بی بی سی کی جانب سے جب ان سے غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کو ایسی صورتحال میں نہیں چھوڑا جا سکتا ہے جب ایک طرف غزہ میں بمباری کی جا رہی ہے۔
غزہ میں وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 10 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم انھیں چھوڑ دیں گے لیکن اس کے لیے لڑائی روکنی ضروری ہے۔‘
غزہ کے ’قدرے محفوظ‘ علاقوں پر بھی اسرائیل کے حملے: ’غزہ کی صورتحال پر اسرائیلی عوام نے اپنے دل سخت کر لیے ہیں‘, جیریمی بوون، انٹرنیشنل ایڈیٹر
اسرائیل کی جانب سے اس وقت غزہ پر یہ کہہ کر انتہائی بھاری بمباری کی جا رہی ہے کہ وہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے تاہم اس دوران عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی ہلاک کیا جا رہا ہے اور اسرائیل کو بظاہر اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑ رہا۔
وہ ایسی کارروائیوں سے خود کو یہ کہہ کر بری الذمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اعلانات اور آسمان سے پمفلٹس پھینک کر لوگوں کو خبردار کرتے ہیں۔
تاہم جس علاقے کو اسرائیلی فوج نے قدرے محفوظ قرار دیا تھا یعنی غزہ کی پٹی کا جنوبی علاقہ وہاں بھی حملے کیے گئے ہیں۔
گذشتہ رات رفح پر بھی حملہ کیا گیا جو مصر کے غزہ کا سرحدی شہر ہے جہاں سے اکثر غزہ کے لوگ فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم لوگ یہاں بھی خود کو محفوظ نہیں کر رہے۔
میرے خیال میں اسرائیل میں اس وقت ایسا ماحول بن چکا ہے کہ لوگوں نے غزہ کی صورتحال کے حوالے سے اپنے دل سخت کر لیے ہیں۔
میں نے متعدد اسرائیلیوں سے اس بارے میں بات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ افسوس ناک ہے لیکن یہ مصیبت حماس کی وجہ سے آئی ہے اور یا تو اب وہ رہیں گے یا ہم۔
بین الاقوامی امداد کے 70 ٹرک آج رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہوئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غیر ملکی شہریوں کا ایک اور گروپ منگل کو غزہ سے رفح کراسنگ کے ذریعے مصر جائے گا۔ جنرل اتھارٹی فار کراسنگ اینڈ بارڈرز کی طرف سے شائع کردہ ایک نئی فہرست میں دو برطانوی شہریوں سمیت تقریباً 600 غیرملکی پاسپورٹ ہولڈرز شامل ہیں۔
اس فہرست میں جرمنی، رومانیہ، فرانس، فلپائن، یوکرین، کینیڈا اور مالدووا کے شہری بھی شامل ہیں۔
رفح کراسنگ تین ہفتے سے زیادہ بند رہنے کے بعد یکم نومبر کو کچھ غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والوں اور زخمی فلسطینیوں کے لیے کھول دی گئی۔
یہ سنیچر کو دوبارہ بند ہوئی جس کے بعد پیر کو اسے دوبارہ کھول دیا گیا۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق بین الاقوامی امداد کے 70 ٹرک آج رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہوئے جن میں طبی سامان اور کھانے پینے کی اشیا موجود تھیں اور ان کا معائنہ کرنے کے بعد انھیں غزہ میں داخل ہونے دیا گیا۔
اقوامِ متحدہ کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ سے قبل روزانہ 500 ٹرک داخل ہوتے تھے اور 12 لاکھ لوگ اس امداد پر زندگی گزار رہے ہیں۔
شمالی غزہ سے جنوب کی جانب جانے کے لیے ’محفوظ راستہ‘ چند گھنٹے کے لیے کھل گیا

،تصویر کا ذریعہRex Features
اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی فوج ایک بار پھر شہریوں کو غزہ کے شمال سے جنوب کی طرف جانے کی اجازت دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر پیغام میں ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے سے دوپہر دو بجے کے درمیان صلاح الدین روڈ پر سفر کی اجازت دی ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ ’اپنے تحفظ کے لیے، وادی غزہ سے دور جنوب کی طرف جانے کے لیے یہ موقع استعمال کریں‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’بہت سے لوگ‘ پہلے ہی یہ راستہ استعمال کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے پہلی مرتبہ 13 اکتوبر کو غزہ کے شمالی علاقے سے لوگوں کو جنوب کی طرف جانے کے لیے کہا تھا۔
نتن یاہو کا اعلان: غزہ میں ’سکیورٹی ذمہ داریوں‘ کا کیا مطلب ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہIDF VIA REUTERS
اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ حالیہ تنازع ختم ہو جانے پر غزہ کی پٹی کی سکیورٹی غیر معینہ مدت تک اسرائیل اپنے ہاتھ میں رکھے گا۔
نتن یاہو نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز کو انٹرویو دیا جس میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اسرائیل، غیر معینہ مدت تک، سکیورٹی کی مجموعی ذمہ داری اپنے پاس رکھے گا۔ جب ہمارے پاس یہ ذمہ داری نہیں ہوتی تو پھر حماس کی جانب سے اس سطح کی شدت پسندی ہوتی ہے جو ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔‘
نتن یاہو نے اس دوران جنگ بندی کے امکان کو بھی مسترد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’یرغمالیوں کی رہائی کے بغیر کسی قسم کی جنگ بندی نہیں ہو گی۔‘
تاہم نتن یاہو نے مختصر مدت کے وقفوں کا عندیہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’جہاں تک ٹکٹیکل معاملات ہیں، مختصر وقفےیعنی ایک گھنٹے تک، ہوتے رہیں گے اور ہم حالات دیکھ کر سامان کی ترسیل یا اپنے یرغمالیوں کو نکلنے کے لیے وفقہ لیں گے۔‘
واضح رہے کہ اسرائی فوج نے 38 سال تک غزہ میں موجود رہنے کے بعد 2005 میں انخلا کیا تھا۔ نتن یاہو کی جانب سے اس اعلان کا واضح مفہوم بیان کرنا مشکل ہے۔
اس وقت ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی قسم کا قبضہ ہو گا جس میں ذمہ داریوں کی نوعیت صرف دفاع اور امن و عامہ تک محدود ہو گی۔
’سکیورٹی ذمہ داری‘ کا لفظ غرب اردن کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اوسلو معاہدے کے تحت، جو اسرائیل اور فلسطین میں پہلا معاہدہ تھا، یہ طے ہوا تھا کہ غرب اردن میں میونسپل کنٹرول فلسطین کے پاس جبکہ سکیورٹی ذمہ داریاں اسرائیل کے پاس رہیں گی۔
یعنی اسرائیل اپنی مرضی سے قانون نافذ کرے گا تاہم روز مرہ امور جیسا کہ سکول چلانا یا دیگر کام فلسطینیوں کے ذمہ ہوں گے۔
لیکن ایسا کرنے کے لیے کسی ایسی فلسطینی تنظیم کا ہونا ضروری ہے جو اسرائیل کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہو۔ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بعد جو فلسطینی ایسا کرنے کی کوشش کرے گا اس کے لیے مشکلات کھڑی ہوں گی اور اسے غدار گردانا جائے گا۔
ایسا لگتا ہے کہ فی الحال اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ سے قبضہ کرنے کا منصوبہ ہے۔
رفح اور خان یونس میں ’اسرائیلی حملوں‘ میں 23 ہلاک
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، حماس کے زیر انتظام غزہ میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ کے شہروں رفح اور خان یونس میں دو الگ الگ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ان حملوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ذیل میں خان یونس میں حملے کے بعد کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں کیوں تقسیم کرنا چاہتا ہے؟
اسرائیل کا شمالی غزہ میں حماس کے اہم ٹھکانے پر قبضے کا دعویٰ
منگل کو اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے شمالی غزہ میں حماس کے ایک اہم ٹھکانے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہاں سے انھیں ٹینک شکن میزائل اور دیگر ہتھیار بھی ملے ہیں۔
ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیلی بحریہ نے حماس کے مزید ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ غزہ شہر میں القدس ہسپتال کے نزدیک حماس کی ایک عمارت پر فضائی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں وہاں موجود ہتھیار بھی تباہ کر دیے گئے۔
حماس کی جانب سے تاحال ان اسرائیلی دعووں کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔
ادھر بی بی سی کو جنوبی غزہ میں خان یونس کے علاقے میں ایک اور اسرائیلی فضائی حملے کی بھی اطلاعات ملی ہیں تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اپنی بریفنگ میں ایسی کارروائی کی تصدیق نہیں کی۔
غزہ میں چار ہزار بچوں سمیت ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار سے بڑھ گئی
غزہ میں وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ علاقے میں ایک ماہ قبل شروع ہونے والی اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
حکام کے مطابق مرنے والوں میں چار ہزار سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ 2007 میں حماس کی جانب سے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اسرائیلی بمباری سے ہونے والی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔
اسرائیل نے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے عسکریت پسندوں کی جانب سے اسرائیلی علاقوں میں داخل ہو کر 1400 افراد کو ہلاک کرنے اور دو سو سے زیادہ کو یرغمالی بنائے جانے کے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد غزہ کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔
اسرائیل نے اب تک جنگ بندی کی عالمی درخواستوں کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ حماس کے انفراسٹرکچر اور اس کے عسکریت پسندوں کو ختم کر رہا ہے تاکہ وہ مستقبل میں اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔ اسرائیلی بمباری سے شمالی غزہ کے علاوہ جنوبی غزہ کے متعدد علاقے تباہ ہوئے ہیں۔
کیا غیر ملکی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کا نقصان واقعی اسرائیل کو ہو گا؟
کیا ہم سب چائنا کا مال ہیں: محمد حنیف کا کالم
’تسمے باندھنے کی فکر مت کرو‘: پاکستان میں اغوا اور قتل ہونے والے امریکی صحافی ڈینیئل پرل پر کیا بیتی؟
اسرائیل کا غیر قانونی سفر کرنے والے پاکستانی ملزمان کے چند رشتہ دار بھی وہاں جا چکے ہیں، ایف آئی اے کا دعوی
اسرائیل کے بازاروں میں پاکستانی میوہ جات اور مسالے کیسے پہنچے؟
حماس کے محمد ضیف، جو کئی برسوں سے اسرائیلیوں کو چکما دے رہے ہیں
