وزیراعظم نتن یاہو کے استعفے تک پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج جاری رہے گا: اسرائیلی مظاہرین
اس وقت کچھ مظاہرین اسرائیلی پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو استعفیٰ نہیں دیتے وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نے کہا ہے کہ یرغمالیوں کی رہائی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی۔
لائیو کوریج
وزیراعظم نتن یاہو کے استعفے تک پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج جاری رہے گا: اسرائیلی مظاہرین, پال ایڈمز، نامہ نگار برائے سفارتی امور

اس وقت کچھ مظاہرین اسرائیلی پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو استعفیٰ نہیں دیتے وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔
یہ مظاہرین سات اکتوبر کو حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ جب تک جنگ جاری ہے اس وقت تک احتساب کی بات نہیں چھیڑا جائے گا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کے باہر ان مظاہرین میں سے ایک موئز انون ہیں جنھوں نے حماس کے 7 اکتوبر والے حملے میں اپنے والدین کھو دیے ہیں۔
ایک ماہ غم منانے کے بعد اب وہ اپنے حق کے لیے سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ غم سے نڈھال ہیں مگر انھیں شدید غصہ بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے میرے والدین کو دغا دیا ہے۔ حکومت نے 1400 لوگوں سے بے وفائی کی ہے اور اس نے یرغمال بنائے جانے والے 240 لوگوں سے بے وفائی کی ہے۔
ان کی 76 برس کی ماں نتن یاہو کی سخت ناقدین میں سے تھیں۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہلاک کر دی گئیں جب وہ سات اکتوبر کو ایک اور مقام پر اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف احتجاج کے لیے جا رہی تھیں۔
موہز کا کہنا ہے کہ ’اب میں اپنی ماں کی جگہ پر یہاں پرموجود ہوں اور میں بھی نتن یاہو کے استعفے کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘
موہز سمیت پارلیمنٹ کے باہر سراپا احتجاج ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ نتن یاہو کے استعفے تک اپنا دھرنا ختم نہیں کریں گے۔
ہمارے یرغمالیوں کی رہائی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی: اسرائیلی وزیراعظم
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ ’میں (جنگ بندی سے متعلق) مختلف اطراف سے پھیلائی جانے والی تمام افواہوں کو رد کر دینا چاہتا ہوں اور یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے یرغمالیوں کی رہائی تک کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی۔‘
اس سے پہلے ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ اسرائیل کے ساتھ انسانی بنیادوں پر جنگ میں تین دن تک کے وقفے سے متعلق مذاکرات ہو رہے ہیں تا کہ حماس کی قید میں 12 یرغمالیوں کو رہا کروایا جا سکے۔ ان میں سے آدھے یرغمالی امریکی شہری ہیں۔
ایک امریکی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر ساتھ ساتھ وہ وقفے کو یقینی بناتے ہیں تا کہ عام شہریوں کے لیے اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
غزہ میں کم از کم 130 سرنگیں تباہ کر دیں: اسرائیل کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے غزہ میں کم از کم 130 سرنگوں کو تباہ کر دیا ہے۔
فوج نے ٹیلیگرام پر مؤقف اختیار کیا کہ غزہ میں لڑنے والے اس کے انجنیئرز نے دشمن کے ہتھیار تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ شہر میں سرنگوں کا پتا چلا رہے ہیں اور انھیں اڑا رہے ہیں۔
ایک اور پوسٹ میں اسرائیلی فوج نے لکھا کہ اس کی فوج نے بیت حانون میں ایک سکول کے قریب ایک سرنگ کو تباہ کیا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے ایک امریکی ڈرون مار گرایا: امریکہ
امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے ایک امریکی ڈرون ایم کیو-9 ریپر ڈرون مار گرایا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کو امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ’حوثی باغیوں نے بغیر پائلٹ والے اس ڈرون کو یمن کے ساحل کے قریب نشانہ بنایا ہے۔‘
یہ حوثی باغی سنہ 2015 سے سعودی حکومت کی سربراہی میں فوجی اتحاد سے لڑ رہا ہے۔
غزّہ: جنگ بندی کے عالمی مطالبے پر کون عملدرآمد کروائے گا؟
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کی کون سے ممالک حمایت کر رہے ہیں، کون مخالف ہے اور کون خاموش؟
لاطینی امریکہ کا وہ ملک جس کی معیشت فلسطینی پناہ گزینوں کی آمد اور محنت سے چمک اٹھی
اسرائیلی فوج کا حماس کے شعبہ اسلحہ کے رہنما کو مارنے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہIDF
،تصویر کا کیپشنمحسن ابو زینا اسرائیلی ڈیفینس فورس (ایس ڈی ایف) کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے محسن ابو زینا کو ہلاک کر دیا ہے۔ وہ حماس کے شعبہ انٹیلیجنس اور اسلحے کے سربراہ ہیں اور ’سٹریٹیجک اسلحے اور راکٹس کی پروڈکشن کے سربراہوں میں سے ایک ہیں۔‘
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں ’دہشتگردوں‘ کو ہلاک کرنا جاری رکھیں گے اور جہازوں سے حماس کی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہیں گے۔
رفح میں دھماکہ: ماں نے اپنی زخمی بچی کو فوٹیج دیکھ کر پہچان لیا
رفح کراسنگ مصر کی سرحد پر غزہ کے جنوب کی جانب ہے۔ یہ ایک نام نہاد محفوط علاقہ ہے۔ رفح کے قریب ایک رہائشی علاقے میں دھماکہ ہوا ہے۔
لوگوں نے ملبے کے نیچے دبے ہوئے متاثرین کو اپنے ہاتھوں سے نکالا ہے۔
ایک ریسکیور کی جانب سے ایک چھوٹی بچی کو النجر ہسپتال لے جایا گیا۔ اس بچی کا چہرہ جل گیا اور اس کی کمر پر بھی ایک شدید چوٹ لگی ہے، جس کی وجہ سے خون بہہ رہا ہے۔ بی بی سی کے محمد باسم نے اس بچی کی کی ویڈیو بنائی۔
کچھ دیر بعد انھوں نے ہسپتال کے باہر ایک خاتون کو دیکھا جو جو اپنی بچی کے انتظار میں تھیں۔
رانا ال سندے کا کہنا ہے کہ ان کی بچی جب بمباری ہوئی تو ان کی بچی ہمسائی کے گھر پر تھی۔
وہ چلاتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ ’وہاں اب کچھ نہیں بچا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری بچی اب کہاں ہے۔ میں اسے دیکھنا چاہتی ہوں۔‘
محمد باسم نے انھیں وہ فوٹیج بھی دکھائی جس میں ایک زخمی بچی کو دکھایا گیا ہے تو اس ویڈیو میں انھوں نے اس فوٹیج میں اپنی سات سال کی بچی میرا کو پہچان لیا۔ اس وقت تک میرا کو علاج کی غرض سے ایک دوسرے ہسپتال منتقل کیا جا چکا تھا۔
ہمیں ابھی یہ نہیں معلوم کہ رعنا انھیں تلاش کرنے میں کامیاب ہوں سکی ہے یا نہیں مگر محمد باسم کو یقین ہے کہ وہ اپنی بچی سے مل چکی ہیں۔
ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ ان کا قافلہ غزہ میں فائرنگ کی زد میں آیا

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس نے کہا ہے کہ غزہ میں امداد فراہم کرنے کی کوشش میں ان کے دو ٹرک تباہ اور ایک ڈرائیور زخمی ہوا ہے۔
ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اس کے زندگی بچانے والی ادویات لے کر جانے والی دو گاڑیوں کے علاوہ دیگر پانچ ٹرکوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ غزہ اور اپنے تحت چلائے جانے والے القدس ہسپتال کے لیے یہ امداد پہنچا رہے تھے۔
ریڈ کراس نے فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری کسی پر عائد نہیں کی ہے۔
ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد اس نے اپنا روٹ تبدیل کر دیا تا کہ الشفا ہسپتال تک ہر صورت امداد کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
بعد میں اس قافلے کے ہمراہ چھے ایمبولینسز بھی شدید زخمی مریضوں کو لے کر رفح کراسنگ کی طرف گئیں۔ ریڈ کراس کے سربراہ نے نے زور دیا ہے کہ جنگ کے دوران انسانی امداد پہنچانا کتنا مشکل ہو گیا ہے۔
عزہ میں ریڈ کراس کے وفد کے سربراہ ولیم شومبرگ نے کہا ہے کہ ایسی صورتحال میں انسانی امداد پہنچانے والے کارکن کام نہیں کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عالمی انسانی قانون کے تحت ایسی ضروری طبی امداد پہنچانا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
اسرائیل غزہ پر قبضہ یا اس کا انتظام نہیں سنبھالے گا: اسرائیلی حکام کی وضاحت
اسرائیلی حکام نے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے اس بیان کی وضاحت کی ہے کہ جنگ کے بعد غزہ پر اسرائیل کی نظر رہے گی۔
اسرائیل کی جنگی کابینہ کے متعدد اراکین نے بھی اسرائیلی وزیراعظم کے گذشتہ رات موجودہ تنازعے کے خاتمے کے بعد غزہ کے مستقبل سے متعلق دیے گئے بیان پر وضاحت طلب کی ہے۔
اسرائیل کے وزیر برائے تزویراتی امور ران دیرمر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جب وزیراعظم نتن یاہو کہتے ہیں کہ اسرائیل غزہ کی مجموعی سکیورٹی کی ذمہ داری لے گا تو ان کا مطلب ہے کہ یہ علاقہ غیرفوجی رہے اور یہ کہ اسرائیلی دفاعی افواج یہاں کسی بھی نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی آپریشن کریں گی۔
انھوں نے وضاحت کی کہ اسرائیل غزہ پر دوبارہ قبضہ نہیں کرے گا اور نہ اس کا حکومتی انتطام سبنھالے گا۔
اس سے قبل امریکہ نے اسرائیل کے غزہ پر قبضے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حصہ ہر صورت میں فلسطین کا حصہ رہنا چاہیے۔
امریکی صدر کی اسرائیلی وزیراعظم کو جنگ میں وقفے کی تجویز
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جاری جنگ میں وقفہ کریں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں نے جنگی حکمت عملی کے تحت غزہ میں جاری فوجی آپریشن میں وقفے پر بات کی ہے۔ ان کے مطابق اس وقفے کا مقصد غزہ میں انسانی امداد کو یقینی بنانا اور وہاں حماس کی طرف سے یرغمال بنائے جانے والے شہریوں کی واپسی کو یقینی بنانا ہے۔
صدر بائیڈن سے جب ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا انھوں نے تین دن وقفے کی تجویز دی ہے تو انھوں نے اس وقفے کے عرصے سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
واشنگٹن دیگر متعدد مغربی ممالک کی طرف اسرائیل کے اس مؤقف کا بھی حمایتی ہے کہ جنگ میں وقفہ صرف حماس کو فائدہ پہنچائے گا۔
حماس کا اسرائیلی فوج کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ
حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا فوجی ونگ اس وقت اسرائیلی فوج کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور اس نے اسرائیل کی فوج کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی ونگ نے گذشتہ دنوں میں بیت حانون اور مغربی غزہ میں واقع پناہ گزینوں کے بیچ کیمپ کے قریب متعدد اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو جزوی یا مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت غزہ کے وسط میں آپریشن کر رہی ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کی فوج نے حماس کے ہزاروں جنگجوؤں کو قتل کر دیا ہے۔
بی بی سی ہر دو فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
اسرائیلی اور فلسطینی والد جو اپنی بیٹیوں کی ہلاکت کے بعد ’بھائیوں جیسے دوست‘ بن گئے
بریکنگ, غزہ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 10300 سے بڑھ گئی، مرنے والوں میں 4100 سے زیادہ بچے بھی شامل
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 10,300 سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اغزہ پر جوابی کارروائئوں کے نتیجے میں کل 10,328 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 4,100 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔
بعض سیاست دانوں نے غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کی درستگی پر سوال اٹھائے ہیں تاہم عالمی ادارہ صحت نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اعداد و شمار قابل اعتماد ہیں۔
آٹا اور ایندھن ختم ہونے کے بعد شمالی غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا, بی بی سی نیوز کے صحافی رشدی ابوالوف کی خان یونس سے رپورٹنگ

،تصویر کا ذریعہRex Features
شمالی غزہ میں اس وقت آٹھ اہم محاذوں پر جاری لڑائیاں جاری ہیں جن میں سب سے زیادہ پرتشدد کاروائیاں شمال مغربی اور جنوب مغربی علاقوں میں کی جا رہی ہیں۔
یہاں غزہ شہر کی طرف جانے والی شاہراہ اور ساحل کے متوازی سڑک کا کنٹرول اسرائیلی افواج کے ہاتھ میں ہے۔ فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمین پر جاری اسرائیلی فوج کی کاروائیوں کا زور ساحل کے قریب واقع پناہ گزین کیمپ کے اطراف اور غزہ کے جنوب مغرب میں الشفاء ہسپتال اور القدس ہسپتال کے آس پاس کے علاقوں ہے۔
شمالی غزہ میں غزائی قلت کے سبب صورت حال انتہائی ابتر ہے جہاں آٹا اور ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے بیشتر بیکریاں بند ہو چکی ہیں۔
شہرمیں اگرچہ پانی کے کنووں کی بہتات ہے تاہم ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے پانی کو پمپ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے اور ان کی حفاظت کے لیے جنوب کی طرف نقل مکانی کی بار بار تنبیہ کی جا چکی ہے تاہم پانچ لاکھ فلسطینی اب بھی شمالی علاقوں میں مقیم ہیں۔
حامدی الحتو نامی ایک شہری نے بتایا کہ ’ہم سڑک تباہ ہونے کی وجہ سے باہر نہیں نکل سکے اور میں دل کے پٹھوں کی کمزوری کے باعث پانچ کلومیٹر پیدل نہیں چل سکتا۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ہم نو افراد پر مشتمل خاندان ہیں۔ میں کافی بیچ کراپنی گزر بسر کرتا تھا تاہم آج میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ نہ کھانا ہے نہ پانی۔ کچھ بھی نہیں ہے۔ میرے بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔‘
جنوبی غزہ کے علاقے میں رات کو اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں جنھوں نے رفح، خان یونس اور دیر البلاح شہروں کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ سبھی محفوظ علاقے میں واقع ہیں جہاں آبادی کا تین چوتھائی حصہ رہتا ہے۔ یہاں خان یونس میں شہر کے مرکزی بازار کے دورے کے دوران میں نے خوراک، ادویات اور صاف پانی کے حصول کے لیے لوگوں کی تکالیف دیکھی ہیں ۔ غزہ میں جنگ جاری رہنے سے انسانی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
غزہ اسرائیل جنگ: اب تک کی پیش رفت کا خلاصہ

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل اور غزہ کی جنگ میں آج کے دن کی اب تک کی پیش رفت کا خلاصہ ذیل میں دیا جا رہا ہے۔
- غزہ کی وزارت صحت کے مطابق رفح اور خان یونس میں اسرائیل کی جانب سے دو الگ الگ فضائی حملوں میں کم از کم 23 افراد مارے گئے۔
- فلسطین کی خبر رساں ایجنسی وفا نے رپورٹ کیا ہے کہ غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک فلسطینی صحافی اپنے خاندان کے 42 افراد سمیت ہلاک ہو گیا ہے۔
- وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کے غزہ پر جوابی حملوں میں 10 ہزارسے زائد افراد مارے گئے ہیں۔
- اسرائیل پر حماس کی جانب سے حملوں کو آج (سات اکتوبر) کو ایک ماہ مکمل ہو گیا ہے۔
- اسرائیل پر حملے میں 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 200 سے زیادہ یرغمال بنائے گئے تھے۔
- اسرائیلی ڈیفینس فورس (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات گئے شمالی غزہ کی پٹی میں حماس کے مضبوط گڑھ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
- 600 کے قریب غیر ملکی شہری آج رفح بارڈر کے راستے غزہ سے مصر جائیں گے۔
- اسرائیل کا کہنا ہے کہ 70 مزید امدادی ٹرک سرحد عبور کر کے غزہ میں داخل ہو گئے ہیں۔
حماس نے اسرائیل میں معصوم شہریوں کو قتل نہیں کیا: حماس رہنما کا دعویٰ

حماس کے سینیئر رہنما نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ ان کے گروپ نے اسرائیل میں معصوم شہریوں کو قتل کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جانب سے صرف ان لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جو فوج میں بھرتی تھے۔
موسیٰ ابو مرزوق نے بی بی سی کو بتایا کہ حماس کی جانب سے ’خواتین، بچوں اور عام شہریوں‘ کو کچھ نہیں کہا گیا تھا۔
ان کی جانب سے یہ دعوے ان ویڈیو شواہد کے برخلاف ہیں جن میں حماس کے عسکریت پسندوں کو بڑوں اور بچوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا تھا۔
اسرائیل کے سات اکتوبر کو حماس کے حملے میں 1400 عام شہری ہلاک ہوئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔
موسیٰ ابو مارزوک تنظیم کے ڈپٹی پولیٹیکل لیڈر ہیں جن کے اثاثوں کو برطانیہ میں انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کی خلاف ورزی کے باعث منجمد کیا گیا ہے۔
بی بی سی کی جانب سے جب ان سے غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کو ایسی صورتحال میں نہیں چھوڑا جا سکتا ہے جب ایک طرف غزہ میں بمباری کی جا رہی ہے۔
غزہ میں وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 10 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم انھیں چھوڑ دیں گے لیکن اس کے لیے لڑائی روکنی ضروری ہے۔‘
غزہ کے ’قدرے محفوظ‘ علاقوں پر بھی اسرائیل کے حملے: ’غزہ کی صورتحال پر اسرائیلی عوام نے اپنے دل سخت کر لیے ہیں‘, جیریمی بوون، انٹرنیشنل ایڈیٹر
اسرائیل کی جانب سے اس وقت غزہ پر یہ کہہ کر انتہائی بھاری بمباری کی جا رہی ہے کہ وہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے تاہم اس دوران عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی ہلاک کیا جا رہا ہے اور اسرائیل کو بظاہر اس سے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑ رہا۔
وہ ایسی کارروائیوں سے خود کو یہ کہہ کر بری الذمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اعلانات اور آسمان سے پمفلٹس پھینک کر لوگوں کو خبردار کرتے ہیں۔
تاہم جس علاقے کو اسرائیلی فوج نے قدرے محفوظ قرار دیا تھا یعنی غزہ کی پٹی کا جنوبی علاقہ وہاں بھی حملے کیے گئے ہیں۔
گذشتہ رات رفح پر بھی حملہ کیا گیا جو مصر کے غزہ کا سرحدی شہر ہے جہاں سے اکثر غزہ کے لوگ فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم لوگ یہاں بھی خود کو محفوظ نہیں کر رہے۔
میرے خیال میں اسرائیل میں اس وقت ایسا ماحول بن چکا ہے کہ لوگوں نے غزہ کی صورتحال کے حوالے سے اپنے دل سخت کر لیے ہیں۔
میں نے متعدد اسرائیلیوں سے اس بارے میں بات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ افسوس ناک ہے لیکن یہ مصیبت حماس کی وجہ سے آئی ہے اور یا تو اب وہ رہیں گے یا ہم۔
