امریکی فوج کا اسرائیل کی مدد کے لیے بحری جہاز اور جنگی طیارے بھیجنے کا اعلان
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اسرائیل میں جاری لڑائی کے دوران ’علاقائی مزاحمت کو تقویت دینے‘ کے لیے بحری جہاز اور لڑاکا طیارے تعینات کر رہی ہے۔ تازہ کشیدگی کے بعد اسرائیل میں ہلاکتوں کی تعداد 600 سے زیادہ بتائی گئی ہے جبکہ فلسطینی حکام کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 370 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
لائیو کوریج
اسرائیلی حملے کے بعد غزہ میں تباہی کے مناظر
،ویڈیو کیپشنغزہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد تبائی کے مناظر
غزہ میں ریکارڈ کی جانے والی اس ویڈیو میں اسرائیل پر حماس کی حالیہ کاروائی کے بعد اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے کی جانے والی فضائی کاروائی، بمباری کی شدت اوراس کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو دیکھا جا سکتا ہے۔
جنوبی غزہ کی پٹی کے اہم علاقے ’خان یونس‘ میں تباہ ہونے والی مسجد، اور غزہ میں متعدد دیگر تباہ حال عمارتیں کو دیکھ کر باخوبی اس لڑائی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج کا 400 سے زیادہ فلسطینی عسکریت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے
ترجمان ڈینیئل ہاگری کے مطابق جنوبی اسرائیل اور غزہ کی پٹی میں 400 سے زائد
فلسطینی عسکریت پسند ہلاک اور درجنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اس وقت، (کبوتز) کفر آزا میں شدید لڑائی جاری ہے، بڑی
تعداد میں قصبوں میں تلاشی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تمام قصبوں میں اسرائیلی ڈیفینس
فورس موجود ہے، ایسا کوئی قصبہ نہیں جس میں اُن کی موجودگی نا ہو۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے سامنے آنے والی ایک
رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ سنیچر کے روز حماس کے حملے کے بعد سے اب تک سینکڑوں
فلسطینی مسلح افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تاہم جنوبی اسرائیل میں دفاعی
افواج کی جانب سے حماس کے خلاف آٹھ مقامات پر جھڑپیں جاری ہیں۔
دریں اثنا حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان
میں کہا گیا ہے کہ متعدد علاقوں میں ’شدید لڑائی‘ جاری ہے۔
ہمارے اسرائیل میں دو شہری ہلاک ہو گئے ہیں: تھائی لینڈ کے وزیراعظم
تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل میں حماس کے عسکریت پسندوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں دو تھائی شہری مارے گئے۔
وزیر اعظم سرتا تھاوسین نے دونوں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں جبکہ وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ تھائی شہریوں کو اسرائیل سے نکالنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
کمبوڈیا نے اس سے قبل جھڑپوں کے نتیجے میں کمبوڈیا کے ایک طالب علم کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
اسرائیل میں وہ آٹھ مقامات جہاں حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے
ترکی میں اسرائیلی سفارت خانہ: ’کم از کم 300 اسرائیلی ہلاک ہو گئے ہیں‘
ترکی میں اسرائیلی سفارت خانے نے اسرائیلی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ کم از کم 300 اسرائیلی ہلاک اور درجنوں افراد کو اغوا کیا گیا ہے۔
ہسپتالوں میں تقریباً 2000 افراد زیر علاج ہیں جن میں سے 19 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
فلسطین کی وزارت صحت نے کل سے غزہ میں مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 313 اور زخمیوں کی تعداد 2000 بتائی ہے۔
اسرائیل اور فلسطینی ملیشیا کے درمیان جھڑپوں کی تصاویر
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا ذریعہReuters
سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا آج اسرائیل اور فلسطین کے درمیان نئے بحران کے بارے میں ایک ہنگامی اجلاس آج ہو گا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی کہا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کو مدد کے تمام مناسب ذرائع فراہم کیے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی کہا کہ اس ملک کو ایک طویل اور مشکل جنگ کا سامنا ہے۔ انھوں نے انتقام لینے اور حماس کی تمام فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کا عہد کیا ہے۔
برطانیہ میں اسرائیلی سفیر:’ حماس کے ’دہشت گرد ڈھانچے‘ کو تباہ کرنا ہوگا‘
،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM
برطانیہ میں اسرائیل کی سفیر زپی ہوتوولی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس وقت اسرائیلی عوام کے تحفظ کے لیے ’مسلط کردہ جنگ‘ لڑ رہا ہے۔
ہوتوولی نے بی بی سی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران مزید کہا کہ اسرائیل کل ایک ڈراؤنے خواب سے بیدار ہوا ہے۔
زپی ہوتوولی نے حماس کو ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا جو ’معصوم شہریوں اور بچوں‘ کو نشانہ بناتی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ اسرائیل پورے ’دہشت گرد ڈھانچے‘ کی تباہی کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔
اسرائیل کا 400 سے زائد عسکریت پسندوں کو مارنے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی اسرائیل اور غزہ کی پٹی میں چار سو سے زائد فلسطینی عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جبکہ درجنوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
یہ دعویٰ اسرائیل کی ڈیفنس فورسز کے ترجمان ڈینیئل حقاری نے ٹائمز آف اسرائیل سے بات کرتے ہوئے کیا ہے۔
ابھی بھی اسرائیل کے اندر کفارعزہ میں لڑائی کا سلسلہ جاری ہے، جہاں بڑے پیمانے پر تلاشی کا عمل میں جاری ہے۔ ترجمان کے مطابق اس علاقے میں ایسا کوئی قصبہ نہیں ہے جہاں اسرائیلی ڈیفنس فورسز نہ موجود ہوں۔
اس سے قبل برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے بتایا تھا کہ سنیچر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد فلسطین کے سینکڑوں گن مین ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا ’مغویوں‘ کی بازیابی کے لیے زمینی آپریشن پر غور
اسرائیلی رات بھر ایسی ویڈیوز دیکھتے رہے جن میں ان کے شہریوں کو بندوق کی نوک پر ان کے گھروں سے گھسیٹ کر نکالا جا رہا ہے اور انھیں غزہ کی طرف لے جاتے ہوئے اور ان کی تذلیل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ان مناظر سے اسرائیل میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ اب ان ’مغویوں‘ کی بحفاظت بازیابی ہر ایک کے ذہن میں نقش ہو گئی۔
ماضی میں جب بھی حماس اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بناتی تھی تو پھر قیدیوں کے بدلے انھیں مذاکرات کے بعد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ کچھ کو تو کئی برس بعد رہا کیا گیا۔ اس دوران حماس نے اس حکمت کے تحت ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے آزاد کروایا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ حماس اب بھی ایسا ہی کرنا چاہتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ان اسرائیلیوں کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کو آزاد کروائے گی۔
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن ہاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان مغویوں کو نقصان پہنچا تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔
زمینی آپریشن کے بغیر ان مغویوں کی بازیابی ناممکن دکھائی دیتی ہے اور پھر ایسے آپریشن میں یہ بات بھی یقینی بنانی ہے کہ یہ مغوی دو طرفہ فائرنگ میں نہ مارے جائیں۔
اسرائیلی فوج ہزاروں زمینی فوجیواور ٹینکوں کے ساتھ غزہ کی سڑکوں کا رخ کر رہی ہے۔ کسی بھی وقت زمینی آپریشن کیا جا سکتا ہے۔
غزہ میں بینکوں اور اسلحے کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا ہے: اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج نے حماس کے انٹیلیجنس کے سربراہ کمپاؤنڈ کو ہدف بنانے کے دعوے کے بعد یہ کہا ہے کہ اس نے غزہ میں حماس سے منسلک دو بینکوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جو حماس کو ’دہشتگرد کارروائیوں‘ کے لیے مالی مدد فراہم کرتے تھے۔
حماس سے علیحدہ ایک اور اسلامی گروپ کے فضائی ہتھیاروں کی پیداوار کے یونٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کے مطابق اس نے اس عمارت پر بمباری کی ہے جہاں جنگی ساز و سامان ذخیرہ کیا گیا تھا اور دفاتر بھی قائم تھے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 256 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 1800 زخمی ہیں۔
فلسطین اور اسرائیل کا تنازع کیا ہے اور کیا اس کا کوئی حل ممکن ہے؟
گذشتہ رات سے کیا اہم واقعات رونما ہوئے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہEPA
حماس کے اسرائیل پر حملے کے 24 گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا ہے۔ ان گذشتہ 24 گھنٹوں میں رونما ہونے والے اہم واقعات کا احوال یہاں جانیے۔
1- اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ابھی بھی اسرائیل کے اندر آٹھ مقامات ایسے ہیں جہاں اس کی حماس کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے جنوبی حصے میں 22 مقامات کا کنٹرول دوبارہ سنبھال لیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس وقت اس کی اسرائیلی فوج کے ساتھ اسرائیل کے اندر شدید لڑائی جاری ہے۔
2- اسرائیل کے وزیراعظم بینجامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایک طویل اور مشکل جنگ میں داخل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ان پر یہ جنگ حماس کی طرف سے مسلط کی گئی ہے۔
3- اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جوابی فضائی حملے کیے ہیں اور وہاں لوگوں کو پناہ لینے کے بارے میں مشورہ دیا ہے۔ اس وقت تک اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے 250 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ ان حملوں سے بچنے کے لیے غزہ سے لوگ اقوام متحدہ کے تحت چلائے جانے والوں سکولوں میں پناہ لے رہے ہیں۔
4- حماس کے حملوں کے نتیجے میں اس وقت تک کم از کم 250 ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں اسرائیلی سفارتخانے کے مطابق حماس کے بری، بحری اور فضائی حملوں کے بعد 100 اسرائیلی فوجی اور عام شہریوں کو اغوا بھی کیا گیا ہے۔
5- لبنان کا حزب اللہ گروپ بھی حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان جاری لڑائی میں کود پڑا ہے۔ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے اندر ماؤنٹ ڈاو پر حملے کیے ہیں۔ اسرائیل نے حزب اللہ کے ان حملوں کا جواب لبنان پر بمباری سے دیا ہے اور حزب اللہ کو اس تنازع میں شامل ہونے سے باز رہنے کا کہا ہے۔
بریکنگ, اسرائیلی فضائیہ کا حماس کے انٹیلیجنس سربراہ کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنانے جبکہ حماس کا اسرائیل کے اندر ’شدید لڑائی‘ جاری ہونے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے ’حماس‘
کے انٹیلی جنس کے سربراہ کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا ہے۔
سنیچر کے روز حماس کی جانب سے اسرائیلی علاقے پر حملے کے
بعد سے اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں 250 سے زیادہ
افراد مارے گئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق غزہ شہر میں دھماکوں کی
آوازیں مسلسل سنائی دے رہی ہیں۔
اس سے قبل اسرائیلی افواج نے کہا کہ وہ اب بھی آٹھ مقامات
پر فلسطینی عسکریت پسندوں سے نمٹ رہے ہیں اور اس بات کی تصدیق کر رہے کہ یہ علاقے ’دہشت
گردوں سے پاک‘ ہیں۔
اسرائیل نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ آیا اس کی افواج
عسکریت پسندوں کے ساتھ زمینی جھڑپیں کر رہی ہے۔
لیکن حماس نے دعوی کیا ہے کہ وہ اب بھی اسرائیل کے اندر ’سخت
لڑائی‘ میں مصروف ہے۔
تاہم بی بی سی ان آٹھ علاقوں میں تازہ ترین صورتحال کے
متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔
اسرائیل کے مطابق یہ آٹھ علاقے سڈروٹ، یخینی، کفار عزا، صوفا،
بیری، کبوتز ریئم، کسوفیم اور زیکیم کے قریب ہوم فرنٹ کمانڈ کے ہیں۔
غزہ میں 250 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں: فلسطینی حکام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلسطین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں 20 بچوں سمیت 256 فلسطینی مارے گئے ہیں۔ وزارت کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں 1788 شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی فضائیہ نے اس سے قبل اپنے فضائی حملوں کی فوٹیج جاری کی تھی جس میں دکھایا گیا ہے کہ غزہ میں متعدد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
غزہ سے بہت کم اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر جاری کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے متعدد عمارتوں اور عبادت گاہوں کو ان حملوں میں زمین بوس کر دیا گیا ہے۔
کچھ مناظر میں فلسطینی شہریوں کو ہسپتالوں میں پناہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
100 اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو اغوا کیا گیا ہے: امریکہ میں اسرائیلی سفارتخانے کی ٹویٹ
ابھی بی بی سی کے پاس کوئی مصدقہ اعدادو شمار نہیں ہیں کہ حماس نے کتنے اسرائیلیوں کو حراست میں لیا ہے۔ تاہم امریکہ میں اسرائیلی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پر ’اغوا‘ کیے جانے والے شہریوں کی تعداد 100 بتائی ہے۔
سفارتخانے کے مطابق اغوا ہونے والوں میں فوجی اور عام شہری بھی شامل ہیں۔
ایکس، سابقہ ٹوئٹر، پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی سفارتخانے نے یہ بھی لکھا ہے کہ 300 سے زائد اسرائیلی ہلاک بھی ہوئے ہیں اور 1800 تک زخمی ہوئے ہیں۔
تاہم اسرائیل کی طرف سے سرکاری طور پر ان اعدادوشمار کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
حماس کی طرف سے ’یرغمال‘ بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟, ایلس ڈیویز، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہTwitter
اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ حماس نے بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجیوں اور عام شہریوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ فوج کے مطابق یرغمال بنائے جانے والوں میں بچے، خواتین، معمر افراد اور معذور بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان کرنل جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ یہ شبہ ہے یرغمال بنائے گئے شہریوں میں سے کچھ مار دیے گئے ہیں جبکہ کچھ ابھی زندہ ہیں۔
ان کے مطابق یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ جس کے بارے میں ابھی تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ترجمان کے مطابق یہ چیز جنگ کے مسقبل کے خدوخال کو طے کرے گی۔
حماس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے اسرائیلیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور انھیں غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ حماس ان اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہے اور اسرائیل ہر اس فریق کے خلاف برابر کی کارروائی کرے گا جس اسے نقصان پہنچائے گا۔
فوٹیج میں اسرائیلیوں کو گھروں نکال کر لے جایا جا رہا ہے
اس وقت آن لائن متعدد فوٹیجز وائرل ہیں جن میں اسرائیلی شہریوں کو حماس کی حراست میں دکھایا گیا ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک بھرا ٹرک غزہ میں رش والی جگہ سے گزر رہا ہے، جن کے بارے میں غالب امکان یہی ہے کہ وہ اسرائیلی شہری ہیں جنھیں حماس نے یرغمال بنا لیا تھا۔
غزہ کی پٹی میں ایک اور ویڈیو میں ایک ننگے پاؤں والی خاتون کو دکھایا گیا ہے جنھیں ٹرک کے پیچھے سے گھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس خاتون کے خون آلود ہاتھ ان کی پشت پر باندھے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی جوڑے کو پارٹی سے حراست میں لیا گیا
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حماس نے کچھ اسرائیلیوں کو ’آؤٹ ڈور‘ پارٹیوں یعنی گھر سے باہر عوامی مقام ’کبوتز ریم‘ سے حراست میں لیا ہے۔ یہ اوفاکریم شہر کا مضافاتی علاقہ ہے جو غزہ سے زیادہ دور نہیں ہے۔
عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا ہے کہ موٹر سائیکل پر آنے والے حملہ آوروں نے پارٹی میں شریک افراد پر فائرنگ شروع کر دی، جن میں سے اکثر افراد ابھی لاپتہ ہیں۔
بی بی سی نے ایک ایسی ہی سوشل میڈیا پر ویڈیو دیکھی، بی بی سی اس کی تصدیق نہیں کر سکا ہے، جس میں پارٹی میں شریک ایک خاتون کو اغوا کر کے دو آدمی موٹرسائیکل پر لے جا رہے ہیں۔
ان خاتون کی شناخت ان کے شریک حیات کے بھائی ’موشے اور‘ نے ایک اسرائیلی خاتون نوحہ ارغمانی کے طور پر کرائی ہے۔
جب انھوں نے ویڈیو نے دیکھی تھی تو انھوں نے اپنے بھائی اور بھابھی کی گمشدگی کی اطلاع دی تھی مگر بعد میں انھوں نے یہ ویڈیو میں دیکھ لیا کہ انھیں کئی عسکریت پسند اغوا کر کے لے جا رہے ہیں۔
اس خاتون کے دیور نے اسرائیلی چینل 12 کو انٹرویو میں بتایا کہ انھوں نے نوحہ کو ویڈیو میں دیکھا جو خوفزدہ اور ڈری ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کے ان کے ذہن میں کیا چل رہا ہے مگر وہ موٹرسائیکل پر خوف سے چلا رہی ہیں۔
بعد میں آنے والی ایک اور ویڈیو میں، جس کی بی بی سی تصدیق نہیں کر سکا ہے، میں اس خاتون کو غزہ کے ایک ایک کمرے میں پانی پیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
غزہ کی پٹی کے باہر کے علاقے میں اسرائیل کی فوج نے کچھ اسرائیلی شہریوں کو آزاد کروایا ہے، جنھیں پہلے مغوی بنا لیا گیا تھا۔
اسرائیلی ٹی وی چینل کے مطابق کبوتز میں ایک کمرے سے 18 گھنٹوں بعد بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس کمرے میں 50 تک شہریوں کو رکھا گیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایلا نامی ایک خاتون نے کہا ہے کہ انھیں اس قصبے میں فائرنگ کے نرغے میں کئی گھنٹوں تک محصور رکھا گیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اس دوران ہمیں کئی گن فائر کی آوازیں آئیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ ’دہشتگرد‘ کھانے کے روم میں ہیں، ہمیں بہت زیادہ گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔‘
ان کے مطابق ’میرا اپنے خاندان سے رابطہ کٹ کر رہ گیا۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے والد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔۔۔۔ ہمیں صورتحال کے بارے میں کوئی آگاہ کرنے والا نہیں۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری ماں زندہ ہے یا نہیں۔‘
ایک ویڈیو جس کی بی بی سی نے تصدیق کی ہے میں اسرائیل کے ’بیری‘ قصبے میں عسکریت پسند کچھ لوگوں کو ننگے پاؤں لے کر جا رہے ہیں۔ یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنھیں ڈائننگ روم سے اغوا کیا گیا تھا۔
اسرائیل کے سرکاری چینل ’کان‘ کے مطابق عسکریت پسندوں کی جانب سے اغوا کیے گیے اوفاکم میں دو مغوی اسرائیلی شہریوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بندوقوں والے افراد شہر میں داخل ہوئے اور شہریوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ جب شہر میں الارم بجنے کے باعث ’بمب شیلٹرز‘ کی طرف بھاگ نکلے۔
دو شہری اپارٹمنٹ پر ہی ٹھہر گئے، جہاں چار عسکریت پسندوں نے انھیں یرغمال بنا لیا۔ ان عسکریت پسندوں کو بعد میں اسرائیلی فوج نے قتل کر دیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اس ریسکیو آپریشن میں اسرائیلی فوج معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حزب اللہ تنازع کا حصہ بننے سے باز رہے: اسرائیل کا انتباہ
اسرائیل کی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ماؤنٹ ڈاو کے علاقے سے اسرائیل پر مارٹر گولے فائر کیے گئے ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جو اسرائیل، مصر اور لبنان کی سرحد بنتا ہے۔
اسرائیل اس علاقے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ اسرائیل نے لبنان کی حزب اللہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ جاری تنازعے میں کودنے اور اسرائیل کو نشانہ بنانے سے باز رہے۔
سنہ 2006 میں حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف ایک ماہ طویل جنگ کی تھی۔ جولائی میں بھی اسرائیل نے لبنان فائر کیے گئے میزائل پر جوابی وار کیا تھا۔
غزہ میں 20 بچوں سمیت 256 ہلاکتیں
حکام نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 20 بچوں سمیت 256 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی کی جوابی فضائی کارروائی میں 121 بچوں سمیت 1,788 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حزب اللہ کا اسرائیلی فوجی تنصیبات پر بمباری کا دعویٰ
لبنانی حزب اللہ نے الرعد، زیبدین اور رویسات العالم میں اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر بڑی تعداد میں توپ خانے کے گولوں اور گائیڈڈ میزائلوں سے بمباری کا دعویٰ کیا ہے۔