امریکہ میں روسی تیل کی برآمد پر پابندی لگانے پر اتفاق رائے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں جب کہا کہ روس کو اپنے اقدامات کے نتائج برداشت کرنا ہوں گے تو انھیں کافی داد ملی اور کانگریس میں دونوں جماعتوں ڈیموکریٹک اور ریپبلکنز نے ان کے لیے تالیاں بجائیں۔ صدر بائئڈن نے امریکی فضائی حدود میں سے روسی طیاروں کے گزرنے پر پابندی لگا دی ہے اور انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کریملن سے منسلک اہم شخصیات کے اثاثاجات کو نشانہ بنائیں گے۔
ادھر دونوں سیاسی جماعتوں کے سینیئر اراکین نے وائٹ ہاؤس پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ روس سے تیل برآمد کرنے پر پابندی لگا دیں۔ تاہم ریپبلکن پارٹی کے اراکین نے اس کو بطور صدر بائیڈن کی تقریر پر ایک تنقید استعمال کیا ہے جہاں وہ کہہ رہے ہیں کہ تنازعے کے بیچ بھی امریکہ میں روس سے تیل برآمد کرنے کی اجازت ہے۔
ادھر ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین بھی روس سے تیل برآمد کرنے پر پابندی کے حامی ہیں تاہم وہ امریکہ میں تیل کی داخلی پیداوار بڑھانے کی اجازت نہیں دینا چاہتے۔













