کیئو کے قریب روسی بمباری میں شہریوں کی ہلاکتیں، پولینڈ میں 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین داخل

اطلاعات کے مطابق یوکرینی دارالحکومت کے قریب ایک علاقے میں روسی افواج کی شیلنگ سے ’ایک ہی خاندان کے تین افراد‘ ہلاک ہوگئے ہیں۔ ادھر ماریوپل کی سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ اس جنگ زدہ شہر میں سیزفائر اور شہریوں کے انخلا کا عمل معطل ہوگیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’یوکرینی وفد بات چیت کے لیے جمعرات کو بیلاروس پہنچے گا‘

    بیلاروس میں یوکرین اور روس کے درمیان بات چیت متوقع ہے۔ تاہم ماسکو کے چیف مذاکرات کار کا کہنا ہے کہ بات چیت بدھ کے بجائے جمعرات تک ملتوی ہوگئی ہے۔

    بیلاروس میں ولادیمیر مدینسکی نے روسی میڈیا کو بتایا ہے کہ ’یوکرینی وفد جمعرات کو مقام پر پہنچے گا۔‘

    انھوں نے کہا ہے کہ روسی دستوں نے اس وفد کو یوکرین میں ’حفاظتی راہداری دی ہے۔‘

  2. یوکرین کے نو لاکھ کے قریب شہری ملک چھوڑ چکے ہیں

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ روسی حملے کے آغاز سے اب تک یوکرین کے 874,026 افراد ملک چھوڑ چکے ہیں۔

    اس کا کہنا ہے کہ ان میں سے نصف سے زیادہ یوکرینی شہری ہمسایہ ملک پولینڈ گئے ہیں۔

    اقوام متحدہ نے ریلیف آپریشن کے لیے دو ارب ڈالر امدادی رقم کا مطالبہ کیا ہے۔

  3. روسی حملے کے ساتویں دن چالیس میل لمبے فوجی قافلے کی رفتار سست، حملے کی شدت میں اضافہ

  4. یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور متوقع

    یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور متوقع

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    روسی اور یوکرینی حکومتوں کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے۔

    دونوں فریقین نے پیر کو ملاقات کی تھی مگر اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔

    بیلاروس کے خبر رساں ادارے بیلٹا کے مطابق ایک روسی وفد مذاکرات کے مقام پر پہنچ رہا ہے۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ مذاکرات کب اور کہاں ہو رہے ہیں۔

    یوکرین کے صدارتی معاون نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات ہوں گے۔

    مگر ان کا کہنا ہے کہ ’کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ ہم اپنی پوزیشن پر برقرار رہیں گے۔‘

  5. روس میں ناقدین کے خلاف کریک ڈاؤن, ول ورنن، بی بی سی نیوز، ماسکو

    روس میں حکام کا آزادانہ نیوز کوریج کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ یوکرین میں مداخلت کو کریملن ’خصوصی فوجی آپریشن‘ کہتا ہے۔

    گذشتہ شب حکام نے ایک کمرشل ریڈیو سٹیشن ایکو کو آف ایئر کیا اور بڑے انٹرنیٹ ٹی وی چینل دوز ایچ ڈی کی ویب سائٹ تک رسائی محدود کر دی۔

    حالیہ دنوں کے دوران حکام نے ذرائع ابلاغ کی کمپنیوں کو دھمکی آمیز خط بھیجے ہیں جس میں یوکرین پر حملے سے متعلق مواد ہٹانے کا کہا گیا ہے ورنہ ان پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

    میڈیا کو ’جنگ‘ یا ’مداخلت‘ کے الفاظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں اور وہ اپنے مواد میں شہریوں اور فوجیوں کی اموات سے متعلق ’غیر مصدقہ‘ (جو سرکاری ذرائع سے نہ لی گئی ہوں) معلومات شامل نہیں کر سکتے۔

    اس ریڈیو سٹیشن کا دعویٰ ہے کہ استغاثہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں یوٹیوب جیسی ہوسٹنگ سروسز کا سہارا لے رہے ہیں۔

  6. روس میں جنگ مخالف مظاہرے پر پرائمری سکول کے بچے زیر حراست, گیبریئل گیٹ ہاؤس، بی بی سی نیوز نائٹ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ماسکو میں پرائمری سکول کے بچوں نے منگل کو یوکرینی سفارتخانے کے باہر پھول رکھے اور اس دوران انھوں نے جنگ مخالف پوسٹر پکڑے ہوئے تھے۔

    میں نے ایسی تصاویر دیکھیں کہ روسی پولیس نے اس کے بعد ان بچوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ مجھے اس پر ہرگز یقین نہ آیا۔

    مگر اب اس پیشرفت کی تصدیق نوبیل انعام یافتہ اخبار نوایا گزیٹا نے کردی ہے۔ اس اخبار نے بتایا ہے کہ اب ان بچوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

    تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ یہ بچے بظاہر ایک پولیس کی گاڑی میں افسران کے ساتھ سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ پھر انھیں پولیس سٹیشن میں پھول اور پوٹسر تھامے دیکھا جاسکتا ہے۔

    بظاہر جنگ پر مبنی اپنے بیانیے کو مضبوط رکھنے کے لیے کریملن سخت اقدامات اٹھا رہا ہے۔

  7. ’ایک چھوٹے بچے کو آپ کی مدد درکار ہے‘, خارخیو میں تباہی کے بعد کا منظر

    خارخیو میں ریسکیو کا عملہ میزائل سے تباہ ہونے والی ایک رہائشی عمارت کے ملبے میں ایک چھوٹے بچے کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    یوکرین میں ایمرجنسی سروسز کے ترجمان نے فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں بتایا ہے کہ ’شہر کے مرکز کو میزائلوں سے تباہ کر دیا گیا ہے۔‘

    وہ اس ویڈیو میں دکھاتے ہیں کہ کیسے سڑکوں پر ملبہ موجود ہے اور ذرائع ابلاغ کی تاریں کٹ چکی ہیں۔

  8. روسی حملے کا راجپوتوں کی مبینہ نسل کشی سے موازنہ، انڈیا میں یوکرینی سفیر پر تنقید

  9. ماریوپل میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدش: حکام, جول گنٹر، بی بی سی

    ماریوپل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روسی سرحد کے قریب واقع یوکرین کے جنوب مشرقی شہر ماریوپل کے حکام کا کہنا ہے کہ شہر پر گھنٹوں تک شیلنگ کے بعد بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

    شہر کے ڈپٹی میئر کہتے ہیں کہ دریا کے کنارے واقع اس شہر میں 130000 افراد مقیم ہیں اور اب یہ ’قریب مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔‘

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ہم یہاں متاثرین کو گن نہیں سکتے مگر ہمیں لگتا ہے کہ کم از کم سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہم باہر نکل کر ان کی لاشیں بھی نہیں ڈھونڈ سکتے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’روسی فوج یہاں ہر طرح کے ہتھیار استعمال کر رہی ہے جس میں راکٹ لانچ سسٹم، جنگی جہاز اور ٹیکٹیکل راکٹ شامل ہیں۔ وہ اس شہر کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ روسی افواج ہر طرف سے چند کلومیٹر دور ہیں۔

    ’یوکرینی فوج بہت بہادر ہے اور وہ اس شہر کا دفاع جاری رکھے گی۔ لیکن روسی فوج قزاقوں کی طرح ہے۔ وہ اپنی فوج کے ساتھ نہیں لڑتے۔ وہ بس پورے شہر تباہ کر دیتے ہیں۔‘

  10. روسیوں کو چرنیہیو سے نکال دیا گیا، یوکرینی فوج کا دعویٰ

    یوکرین، ملٹری

    ،تصویر کا ذریعہUkraine military

    ہماری توجہ یوکرین کے اہم شہروں کیئو، خارخیو اور خیرسون پر مرکوز ہے لیکن کئی دوسرے مقامات پر بھی لڑائی ہو رہی ہے۔

    یوکرین کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے کیئو اور بیلاروس کی سرحد کے بیچ واقع شمالی شہر چرنیہیو میں کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا مگر اب وہاں راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔

    فوج کا کہنا ہے کہ یہ راکٹ شہر کے ہسپتال کے قریب انتظامی امور کی عمارتوں سے ٹکرائے ہیں۔ ان دھماکوں سے ہسپتال تباہ ہوا ہے تاہم مریضوں کو اس وقت شیلٹر میں رکھا گیا تھا۔

    یہاں ان حملوں سے پانی کی ترسیل کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔

  11. یوکرین کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ کے گرد علاقہ ’روس کے کنٹرول میں‘

    روس کا کہنا ہے کہ اس نے شہر زپوریزیا کے قریب واقع سب سے بڑے یوکرینی جوہری پاور پلانٹ کے گرد کا علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

    انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ روس کے مطابق پاور پلانٹ کا عملہ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔

    آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ زپوریزیا کے اس پلانٹ میں ملک کے کل 15 میں سے چھ نیوکلیئر ری ایکٹرز موجود ہیں۔

    اس علاقے کے رہائشیوں کی جانب سے سڑکیں بلاک کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    یوکرین میں جوہری ادارے کے حکام نے آئی اے ای اے سے شمالی یوکرین میں چرنوبل میں حفاظتی سرگرمیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ ماضی کے جوہری حادثے کے اس مقام کو روسی دستوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

    چرنوبل
  12. ’امن مذاکرات بحال ہو رہے ہیں‘

    امن مذاکرات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان بدھ کو امن مذاکرات بحال ہو رہے ہیں۔

    کریملن کے ترجمان ڈمٹری پیسکو کہتے ہیں کہ ’ہمارا وفد مذاکرات بحال کرنے کے لیے تیار ہوگا۔‘

    روس اور بیلاروس کی سرحد پر مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی ناکام ہوگیا تھا۔

    اطلاعات کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن کے معاون ولادیمیر مدینسکی روس کی جانب سے مذاکرات کریں گے۔

    روسی صدارتی معاون نے کہا ہے کہ ’میرے خیال میں حالات ایسے ہی رہیں گے۔ کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ ہم اپنی پوزیشن پر برقرار رہیں گے۔ وہی لوگ اس میں ملوث ہیں۔‘

    اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی کہ یہ مذاکرات کہاں ہوں گے۔

  13. بریکنگ, یوکرین میں 2000 سے زیادہ شہری ہلاک

    یوکرین میں حکام کا کہنا ہے کہ روسی حملے کے آغاز سے اب تک ملک میں 2000 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ ریسکیو کے عملے کے 10 افراد بھی مارے گئے ہیں۔

    روسی شیلنگ کے دوران ایمرجنسی سروسز نے 400 سے زیادہ مقامات پر آگ بجھائی ہے اور 416 مقامات پر دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنایا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’سات روز سے جاری جنگ کے دوران روس نے سینکڑوں ٹرانسپورٹ مراکز، رہائشی عمارتوں، ہسپتالوں اور بچوں کے سکولوں کو تباہ کیا ہے۔‘

  14. روس، یوکرین جنگ: آج کی اہم اطلاعات

    یوکرین، روس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    • یوکرین کے شمالی، مشرقی اور جنوبی علاقوں میں شدید لڑائیوں کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ روسی فوجیں اپنی کارروائیوں میں یوکرین کے شہروں خارخیو اور خیرسون کو نشانہ بنا رہی ہیں
    • آج صبح خارخیو میں ایک پولیس کوارٹر اور یونیورسٹی کی عمارت سے میزائل ٹکرائے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اب تک اس حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں
    • روس کا دعویٰ ہے کہ اس نے اہم ساحلی شہر خیرسون پر قبضہ کر لیا ہے۔ تاہم مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ شہر اب بھی یوکرین کے کنٹرول میں ہے
    • صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر یوکرین کی تاریخ مٹانے کا الزام لگایا ہے۔ انھوں نے یوکرینی فوج کے حوصلے کو داد دی ہے
    • وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ برطانیہ معاشی طور پر یوکرین کی مدد کرے گا ، وہاں ہتھیاروں بھیجے جائیں گے اور انسانی ہمدردی کی امداد دی جائے گی
    • اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یوکرین کے قریب سات لاکھ افراد شہری اپنا ملک چھوڑ چکے ہیں اور یوکرین میں مزید امدادی سامان کی ضروری ہے
    • یوکرین پر روسی حملہ ساتویں روز میں داخل ہوگیا ہے اور اس کے ساتھ تیل اور گیس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے
    • روس اور بیلاروس کے ایتھلیٹ صرف اسی صورت بیجنگ پیرالمپکس میں حصہ لے سکتے ہیں اگر وہ خود کو نیوٹرل قرار دیں گے
  15. ایلون مسک کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ یوکرین پہنچ گیا مگر کیا یہ کارآمد ہو گا؟

  16. انڈین شہریوں کو ’فوراً‘ خارخیو سے نکلنے کی ہدایت, یوکرین میں انڈین سفارتخانے کا پیغام

    انڈین حکومت نے اپنے شہریوں کو جاری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ وہ ’اپنی حفاظت اور سلامتی کے لیے‘ یوکرین کے شہر خارخیو سے فوری طور پر نکل جائیں۔

    یوکرین میں انڈین سفارتخانے نے شہریوں سے ہر صورت مخصوص علاقوں کی پناہ گاہوں میں پہنچنے کا کہا ہے۔

    اس سے قبل پولینڈ میں انڈین سفارتخانے نے یوکرین میں اپنے شہریوں کو سرحد پر پہنچنے کا کہا تھا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. خارخیو میں سٹی کونسل کی عمارت پر ’میرائل حملہ‘

    یوکرین کے مشرقی شہر خارخیو کے علاقائی ڈپٹی گورنر کا کہنا ہے کہ ایک روسی کروز میزائل سٹی کونسل کی عمارت پر داغا گیا ہے۔

    یہ شہر روسی سرحد سے 30 میل دور ہے اور گذشتہ دو روز کے دوران یہاں شدید شیلنگ ہوتی رہی ہے۔

    گذشتہ رات روسی چھاتہ بردار فوجیوں کی جانب سے شہر میں داخل ہونے کے بعد یہاں سڑکوں پر لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. روسی چھاتہ بردار فوجی خارخیو میں داخل

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    یوکرین کے شہر خارخیو میں روسی چھاتہ بردار فوجی اترے ہیں۔ شہر پر ہونے والی گولہ باری میں درجنوں عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں۔

  19. روس یوکرین تنازع: روس کے پاس کتنے جوہری ہتھیار ہیں؟

    russia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روس کی نیوکلیئر فورسز کو 'خصوصی' الرٹ پر رہنے کا حکم دیا ہے، جس سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان اقدامات سے روس ممکنہ طور پر دوسرے ممالک کو خبردار کرنا چاہتا ہے کہ وہ یوکرین میں کشیدگی میں اضافہ کرنے میں مداخلت نہ کریں نہ کہ وہ جوہری ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔

    جوہری ہتھیار تقریباً 80 سال سے موجود ہیں اور بہت سے ممالک انہیں ایک ایسی دفاعی صلاحیت کے طور پر دیکھتے ہیں جو ان کی قومی سلامتی کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔

  20. بریکنگ, ہم روسی ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کر سکتے: کریملن

    کریملن کے ترجمان دمتری پسکوو نے کہا ہے کہ وہ یوکرین پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والے روسی فوجیوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس تعداد کی تصدیق صدف روسی وزارتِ دفاع کر سکتی ہے۔

    جن ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر پوتن کو ہلاکتوں کی تعداد بتائی جاتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ‘ہاں، ظاہر ہے، وہ کمانڈر ان چیف ہیں۔‘

    یاد رہے کہ اس سے قبل یوکرین کی فوج نے کہا تھا کہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق اس حملے کے آغاز سے اب تک انھوں نے 5840 روسی فوجی مار دیے ہیں۔

    بی بی سی ان دعؤوں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتا تاہم برطانوی وزارتِ دفاع کا ماننا ہے کہ روسی فوج کو اس حملے کے دوران بھاری نقصان ہوا ہے۔