کیئو کے قریب روسی بمباری میں شہریوں کی ہلاکتیں، پولینڈ میں 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین داخل

اطلاعات کے مطابق یوکرینی دارالحکومت کے قریب ایک علاقے میں روسی افواج کی شیلنگ سے ’ایک ہی خاندان کے تین افراد‘ ہلاک ہوگئے ہیں۔ ادھر ماریوپل کی سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ اس جنگ زدہ شہر میں سیزفائر اور شہریوں کے انخلا کا عمل معطل ہوگیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, روسی افواج نے اہم ساحلی شہر خیرسون کو گھیر لیا

    جنوبی یوکرین سے آنے والی اطلاعات کے مطابق خیرسون کے علاقائی مرکز کو روسی فوجیوں نے گھیر لیا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق روسی فوجیوں نے آج صبح ماسکو کے زیر کنٹرول کریمیا کے قریب واقع اس ساحلی شہر پر زمینی حملہ کیا تھا۔

    یہاں کے میئر ایگور کولیخائیف نے فیس بک پر لکھا ’روسی فوجیوں نے خیرسون کے داخلی راستوں پر چوکیاں بنا لی ہیں۔‘

    خیرسون میں مقیم صحافی الینا پنینا نے قومی نشریاتی ادارے یوکرین 24 پر بتایا کہ ’شہر گھیرے میں ہے، ہر طرف بہت سے روسی فوجی ہیں اور انھوں نے باہر جانے والے راستوں پر چوکیاں بنا لی ہیں۔‘

    الینا نے مزید بتایا کہ شہر میں اب بھی بجلی، پانی اور ہیٹنگ سسٹم چل رہا ہے تاہم تین لاکھ آبادی والے اس شہر تک خوراک پہنچانے میں مسائل پیش آ رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر خوراک شہر کے مضافات کے گوداموں میں ذخیرہ کر دی گئی تھی۔

  2. اوختیرکا : یوکرین کے فوجی اڈے پر روسی حملے میں 70 فوجی ہلاک

    Dmytro Zhyvytskyi/ Telegram

    ،تصویر کا ذریعہDmytro Zhyvytskyi/ Telegram

    یوکرینی حکام نے ابھی ابھی تصدیق کی ہے کہ اتوار کو ان کے فوجی اڈے پر روسی حملے میں کم از کم 70 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    یہ حملہ سومی شہر میں اوختیرکا کے ایک فوجی اڈے پر ہوا جس کے نتیجے میں یوکرین کا فوجی یونٹ تباہ ہو گیا ہے اور امدادی کارکن اور رضاکار ابھی تک ملبے سے لاشوں کو نکال رہے ہیں

    یوکرین کی پارلیمنٹ نے ٹویٹ میں ان فوجیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ پالیمنٹ کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں پر گریڈ میزائل سے حملہ کیا گیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. یوکرینی پناہ گزینوں کا افغانستان، شام کے پناہ گزینوں سے موازنہ: کیا مغربی میڈیا کی کوریج متعصبانہ ہے؟

  4. کیئو ہسپتال کا تہہ خانہ بچوں کا وارڈ بن گیا

    کینسر کے مریض بچوں کی کچھ ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں انھیں کیئو کے ایک ہسپتال کے تہہ خانے میں زیر علاج دیکھا جا سکتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روسیوں کی گولہ باری سے بچنے کے لیے اس تہہ خانے کو ایک عارضی بم شیلٹر اور پیڈیاٹرک ڈیپارٹمنٹ (بچوں کا وارڈ) میں تبدیل کیا گیا ہے۔

    REUTERS/Umit Bektas

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS/Umit Bektas

    REUTERS/Umit Bektas

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS/Umit Bektas

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  5. یوکرین پر روسی حملے کا چھٹا دن: روسی فوجیں کہاں تک پہنچی ہیں؟

    bbc

    امریکہ میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار کے تجزیہ کاروں نے یوکرین میں لڑائی کے بارے میں اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی حملے کے چھٹے دن کچھ خاموشی ہے کیونکہ یوکرین کی دفاعی حکمتِ عملی ماسکو کی توقع سے کہیں بڑھ کر تھی اور اب اسی تناظر میں روس اپنی فوجوں کو از سر نو ترتیب دے رہا ہے۔

    یوکرین میں اس وقت کہاں کہاں لڑائی چل رہی ہے:

    کیئو (دارالحکومت): اس شہر میں یوکرین کا دفاع اب تک مضبوط رہا ہے۔ فی الحال روسی سرگرمیاں محدود ہیں کیونکہ وہ مزید فوج کا انتظار کر رہے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں روسی فوجی مزید طاقت کے ساتھ اپنا حملہ دوبارہ شروع کریں گے۔

    تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر روس اپنی فوجیں بیجھنے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے تو یوکرین شاید ان افواج کو شہر گھیرنے سے نہیں روک سکتا، لیکن وہ دارالحکومت پر کنٹرول حاصل کرنے کی روسی کوششوں کو ’انتہائی مہنگا اور ممکنہ طور پر ناکام‘ بنا سکتا ہے۔

    خارخیو (شمال مغرب): گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران یوکرین کے اس دوسرے بڑے شہر پر روسی حملے شدید ہو گئے ہیں۔

    روسی فوجیں اب ٹیوب اور راکٹ لانچر جیسے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں جن سے بہت زیادہ تعداد میں لوگ مارے جا رہے ہیں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

    یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ خارخیو میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اس کے علاوہ، روس پر تھرمو بارک ہتھیار یا ویکیوم بم جیسے ممنوعہ ہتھیار استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

    بی بی سی نےابھی تک ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    جنوبی یوکرین: تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہاں حالیہ دنوں میں روسی پیش قدمی سست رہی ہے۔

    اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ روس مشرق میں ماریوپل اور ممکنہ طور پر زپوریزیا کے شہروں پر ’فیصلہ کن‘ حملہ کرنے کے لیے فوجیوں کو اکٹھا کر رہا ہے۔

  6. دونیتسک پر یوکرین کی گولہ باری سے شہری شدید مایوس ہیں

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    ،تصویر کا کیپشنشہری پریشان ہیں اور ان میں سے ایک نے پوچھا: ’یہ سب ختم ہونے میں اور کتنا وقت لگے گا‘

    منگل کو علیحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول شہر دونیتسک میں یوکرین کی شیلنگ کے بعد عمارتوں میں آگ لگ گئی اور کاریں تباہ ہو گئیں۔

    روسی سرکاری ایجنسی آر آئی اے نووستی نے رپورٹ کیا کہ دھماکوں کے بعد شہر کے کئی اضلاع میں جزوی طور پر بجلی منقطع ہو گئی ہے۔ شہری پریشان ہیں اور ان میں سے ایک نے پوچھا: ’یہ سب ختم ہونے میں اور کتنا وقت لگے گا۔‘

  7. لییو یوکرین: ’خوف بیان کرنا مشکل ہے، سب جل رہا ہے‘

    یوکرین کے شہر لیویو میں خوف اور ڈر سے کئی لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں، وہاں کے ٹرین سٹیشن پر موجود ایک ماں نے بی بی سی کو کیا بتایا، جانیے اس ویڈیو میں۔

  8. یوکرین کے تمام شہروں میں فضائی حملوں کے سائرن بجائے جا رہے ہیں

    یوکرین میں صبح کا آغاز ایئر سائرن سے ہوا ہے۔

    بی بی سی یوکرین سروس کے مطابق کیئو کے علاوہ مغربی شہروں ترنوپل، وینتسیا، ریون کے علاوہ مرکزی شہروں چرکیسی اور کروپیوینیتسکی میں بھی فضائی حملوں کے سائرن بجائے جا رہے ہیں۔

  9. روسی گولہ باری کے نتیجے میں 70 یوکرینی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق

    Dmytro Zhyvytskyi/Telegram

    ،تصویر کا ذریعہDmytro Zhyvytskyi/Telegram

    یوکرین کے ایک اہلکار کے مطابق اتوار کو شمال مشرقی شہر اوختیرکا پر روسی گولہ باری کے نتیجے میں 70 یوکرینی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    سومی کی ریاستی انتظامیہ کے سربراہ دیمیترو زیویتسکی کا کہنا ہے کہ روسی حملے میں یوکرین کا ایک فوجی یونٹ تباہ ہو گیا ہے اور امدادی کارکن اور رضاکار ملبے سے لاشوں کو نکال رہے ہیں۔

    زیویتسکی نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کیا ’بہت سے لوگ مر چکے ہیں۔ فی الحال تقریباً 70 فوجیوں کی قبریں تیار کی جا رہی ہیں۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’دشمن کو بھی ایسا ہی جواب دیا گیا ہے جس کا وہ مستحق تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ شہر میں ’روسی فوجیوں کی بہت سی لاشیں‘ پڑی تھیں جنھیں اب ریڈ کراس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

    بی بی سی ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  10. زیلنسکی: روس کے ساتھ مذاکرات میں مطلوبہ نتائج نہیں حاصل ہوئے

    AFP

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے 28 فروری کو یوکرین کے ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو خطاب میں کہا ہے کہ یوکرین کو روس کے ساتھ مذاکرات سے کوئی مطلوبہ نتائج نہیں ملے۔

    انھوں نے کہا کہ روس نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے، ہم نے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی خواہشات کا ظہار کیا ہے اور ہمیں کچھ اشارے ملے ہیں۔

    زیلنسکی نے کہا ’جب یہ وفد کیئو واپس آئے گا تو ہم مذاکرات کے اگلے دور کے متعلق فیصلہ کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران روس نے حملے جاری رکھے۔ زیلنسکی نے کہا ’مجھے یقین ہے کہ روس صرف دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن میں انھیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنا وقت ضائع نہ کریں کیونکہ ہم اس طرح کے حربوں کو نہیں مانتے۔‘

  11. بریکنگ, یوکرین: روسی فوجیوں نے خیرسون پر حملہ کر دیا ہے

    یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ روسی فوجیوں نے جنوب میں میکولائیو اور نیو کافووکا کے درمیان واقع شہر خیرسون پر حملہ شروع کر دیا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق دشمن ہوائی اڈے سے نکولائیو ہائی وے اور کولڈ سٹوریج پلانٹ کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ یوکرین کے ریاستی ادارے برائے سپیشل کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن پروٹیکشن نے اس حوالے سے اپنے ٹیلیگرام چینل پر اطلاع دی ہے۔

    اس سے قبل بی بی سی یوکرین نے رپورٹ کیا کہ خیرسون ہوائی اڈے کے قریب زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ہیں۔

    خیرسون کی ریاستی انتظامیہ نے بھی فیس بک پر لکھا ہے کہ شہر کو روسی فوجیوں نے گھیر لیا ہے تاہم ابھی تک اس پر قبضہ نہیں ہوا۔

    شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے شہر کے داخلی راستوں پر چوکیاں بنا لی ہیں۔

  12. یوکرین کی گولہ باری سے دونتسک میں ہونے والی تباہی

    مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول علاقے دونتسک سے آنے والی تصاویر وہاں ہونے والی تباہی کو ظاہر کرتی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ تباہی یوکرین کی گولہ باری کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

    اس صوبے میں رہنے والی روسی زبان بولتے ہیں اور یہاں ہر جانب تباہ حال گھروں کا ملبہ اور جلی ہوئی کاریں نظر آ رپی ہیں۔

    پیر کو دونتسک کے قصبے ہورلیوکا میں کمیونٹی نے سکول کے دو اساتذہ کی آخری رسومات ادا کیں۔ ان دونوں کی ہلاکت یوکرین کی گولہ باری کے نتیجے میں ہوئی۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  13. یوکرین: روسی فوجیوں نے دارالحکومت کیئو پر دوبارہ حملہ شروع کر دیا ہے

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کی فوج کا کہنا ہے کہ روسی فوجیوں نے دارالحکومت کیئو پر دوبارہ حملہ شروع کر دیا ہے۔

    یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی فیس بک پوسٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’کیئو کے ارد گرد حالات بدستور کشیدہ ہیں۔‘

    پوسٹ میں کہا گیا ہے ’دشمن فوجی اور سویلین اہداف پر گولہ باری جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

    پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس ’ریپبلک آف بیلاروس کے اعلیٰ تربیت یافتہ فوجی یونٹوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے‘ اور بیلاروس کی فضائی حدود کو یوکرین پر فضائی حملوں کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    اس سے قبل پیر کو امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ اسے ابھی تک بیلاروس کے فوجیوں کی نقل و حرکت کے کوئی اشارے نہیں ملے۔

  14. 40 میل تک پھیلے روسی قافلے کی نئی تصاویر

    سیٹلائٹ کمپنی میکسار ٹیکنالوجیز کی طرف سے جاری کی گئی تصاویر میں 40 میل طویل روسی قافلہ دکھایا گیا ہے جو کیئو کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    میکسار کے مطابق، تصاویر یوکرین کے دارالحکومت کے بالکل شمال میں ایوانکیو قصبے سے لی گئی ہیں۔

    Maxar

    ،تصویر کا ذریعہMaxar

    Maxar

    ،تصویر کا ذریعہMaxar

  15. بریکنگ, ’40 میل تک‘ پھیلا روسی فوجی گاڑیوں کا قافلہ کیئو کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے

    سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی گاڑیوں کا ایک بہت بڑا قافلہ جو تقریباً 40 میل تک پھیلا ہوا ہے، یوکرین کے دارالحکومت کیئو کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔

    سیٹلائٹ امیجری بنانے والی کمپنی میکسار ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کی رپورٹس جن میں بتایا گیا تھا یہ قافلہ 17 میل (27 کلومیٹر)تک پھیلا ہوا ہے، غلط ہیں۔ میکسر کے مطابق دراصل یہ قافلہ تقریباً 40 میل تک پھیلا ہوا ہے۔

    کمپنی نے مزید کہا ہے کہ نئی تصاویر میں جنوبی بیلاروس میں یوکرین کی سرحد سے 20 میل سے بھی کم فاصلے پر زمینی دستوں اور حملہ آور ہیلی کاپٹروں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

  16. روسی فوج نے خیرسون پر حملے شروع کر دیے، یوکرین کا دعوی

    Ukraine

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے خیرسون پر حملے کا آغاز کر دیا ہے۔ خیرسون نیو خاخوکا اور میکوالیو کے درمیان جنوب میں واقع ہے۔

    یوکرین کی سرکاری سروس برائے اطلاعات و نشریات نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر خبر دیتے ہوئے کہا کہ ’عینی شاہدین کے مطابق دشمن کی فوجیں ایئرپورٹ کی جانب سے نیخولیو ہائی وے کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں اور کولڈ سٹورج پلانٹ کے قریب اکٹھا ہو رہی ہیں۔‘

    اس سے قبل بی بی سی یوکرینی سروس نے خبر دی تھی کہ خیرسون ایئرپورٹ کے قریب زور دار دھماکے ہوئے ہیں۔

    خیرسون کے شہری انتظامیہ نے بھی فیس بک پر لکھا تھا کہ شہر کو روسی فوجیوں نے گھیر لیا ہے تاہم ابھی اس پر قبضہ نہیں ہوا ہے۔

    شہر کے میئر کا بھی کہنا تھا کہ روسی فوج نے شہر کے داخلی راستوں پر چیک پوسٹ قائم کر لی ہیں۔

  17. کیا صدر پوتن نے واقعی عمران خان کی تعریف کی؟ روس، یوکرین تنازع میں جھوٹے دعوے اور خبریں

  18. بریکنگ, روسی قومی فٹ بال ٹیمز، کلبز کو فیفا اور یوئیفا کے مقابلوں سے باہر کر دیا گیا

    فٹ بال

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا اور یورپی فٹ بال تنظیم یوئیفا نے روس کے تمام کلبز اور قومی ٹیمز کو تمام مقابلوں سے خارج کر دیا ہے۔

    اس سے قبل بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ روسی اور بیلاروسی ایتھلیٹس اور حکام کو کسی بھی بین الاقوامی مقابلے میں شامل نہ ہونے دیا جائے۔

    اس کا مطلب ہے کہ روسی مینز ٹیم اگلے ماہ ورلڈ کپ کے پلے آف میچ نہیں کھیلے گی جبکہ ویمنز ٹیم رواں گرمیوں میں یورپی چیمپیئنشپ میں حصہ نہیں لے سکے گی۔

    فیفا اور یوئیفا نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ’فٹبال یہاں مکمل طور پر متحد ہے اور یوکرین میں متاثرہ لوگوں کے ساتھ مکمل طور پر یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔‘

  19. پابندیاں کیا ہوتی ہیں اور اس سے کسی ملک کو کیا نقصان پہنچتا ہے؟

    پابندی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ماسکو اس وقت اپنے اوپر عائد مغربی اقتصادی پابندیوں سے نمٹنے کی کوششوں میں ہے اور اس نے بروکرز پر غیر ملکی سکیوریٹیز فروخت کرنے پر پابندی لگا دی ہے اور شرحِ سود میں اضافہ کر دیا ہے۔

    مگر پابندی کیا چیز ہوتی ہے، یہ کیوں عائد کی جاتی ہیں اور روس پر کیا پابندیاں عائد کی گئی ہیں؟

    آسان الفاظ میں کہیں تو پابندی کسی ملک پر عائد کی گئی ایسی ’سزا‘ ہوتی ہے جو اسے عالمی قانون توڑنے کی صورت میں، یا جارحیت سے روکنے کے لیے دی جاتی ہے۔

    ان کا مقصد ملک کو معاشی طور پر نقصان پہنچانا اور افراد بشمول سرکردہ سیاستدانوں کو مالی زک پہنچانا ہوتا ہے۔ ان میں سفری پابندیاں اور اسلحے کی فروخت پر پابندی بھی ہو سکتی ہے۔ کسی ملک کا دوسرے کے خلاف پابندیاں عائد کرنا جنگ سے صرف ایک درجہ نیچے کا مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔

    روس پر کیا پابندیاں عائد کی گئی ہیں؟

    امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور اتحادی ممالک نے کچھ روسی بینکس کو سوئفٹ میسجنگ سسٹم سے نکال دیا ہے جو بین الاقوامی سطح پر رقوم کی منتقلی آسان بنانے کا ایک نظام ہے۔

    سوئفٹ سے نکالنے کا مقصد روس کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے نکالنا اور ’ان کی عالمی سطح پر کام کرنے کی صلاحیت کو زک پہنچانا‘ ہے۔

    مغربی ممالک نے روس کے مرکزی بینک کے اثاثے بھی منجمد کر دیے ہیں جس سے روس کی اپنے 630 ارب ڈالر (470 ارب پاؤنڈ) کے ذخائر تک رسائی محدود ہو جائے گی۔

    دیگر بڑے روسی بینکوں کے اثاثے بھی منجمد کیے جا رہے ہیں اور انھیں برطانوی مالیاتی نظام سے نکالا جا رہا ہے۔ اس سے وہ پاؤنڈز تک رسائی اور برطانیہ سے ادائیگیوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کریں گے۔

    اس کے علاوہ مغربی حکومتوں نے کچھ افراد بشمول روسی صدر ولادیمیر پوتن، وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف، اور روسی اشرافیہ کے کئی ارکان شامل ہیں۔

    امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور یورپی یونین نے پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور کمپنیوں کے اثاثوں کی کھوج کے لیے ایک بین الاقوامی ٹاسک فورس بنائی ہے۔

  20. دو مرتبہ کراچی آنے والا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ روسی حملے میں تباہ