انڈیا میں مزید 2400 سے زائد ہلاکتیں، پاکستان میں 1490 نئے یومیہ متاثرین
انڈیا میں کورونا مثبت کیسز کی شرح بدستور کم ہو رہی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انڈیا میں ایک لاکھ 11 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 2400 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ آج سے پاکستان میں پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں چند تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس: پاکستان میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں ہلاک ہونے والے 80 افراد میں سے 24 وینٹیلیٹر پر تھے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں کورونا وائرس کی وجہ سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں 80 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اس دوران 1843 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز ہلاک ہونے والے 80 افراد میں 24 وینٹیلیٹرز پر تھے۔
اس وقت ملک میں کل 446 مریض وینٹیلیٹر پر ہیں۔ وینٹیلیٹرز کی مدد سے سانس لینے والے مریضوں میں سے کوئی بھی صوبہ بلوچستان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، یا گلگت بلستان میں نہیں ہے۔
ملک میں اب تک کورونا وائرس کے کل مریضوں کی تعداد 924667 تک پہنچ چکی ہے جبکہ اموات کی کل تعداد 20930 ہوگئی ہے۔
’ہمیں زندہ تو رہنا ہے‘: برازیلی صدر کا فٹبال ٹورنامنٹ کی میزبانی کا دفاع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برازیل کے صدر نے کورونا وائرس کی وبا کے باوجود ملک میں کوپا امریکہ فٹبال ٹورنامنٹ کی میزبانی کا دفاع کیا ہے۔
اس موقعے پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں وبا کے آغاز سے ہی یہ کہہ رہا ہوں۔ مجھے اموات پر افسوس ہے مگر ہمیں زندہ تو رہنا ہے۔‘
یاد رہے کہ جنوبی امریکی فٹبال اسوسی ایشن کی جانب سے پیر کے روز کیے گئے اعلان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتے شروع ہونے والا ٹورنامنٹ برازیل میں کھیلا جائے گا۔
تاہم برازیلی سپریم کورٹ کے ایک جج نے صدر بولسارنو سے کہا ہے کہ اس فیصلے کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی جائیں۔
برازیل کو کورونا وائرس کی وبا نے انتہائی شدت سے متاثر کیا ہے اور ملک میں تقریباً 463000 اموات ہوئی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے ہنگامی استعمال کے لیے چینی ویکسین کی منظوری دے دی
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہنگامی استعمال کے لیے چین کی سائینوواک ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ اس طرح یہ چین کی دوسری ویکسین بن گئی ہے جسے ڈبلیو ایچ او نے سبز بتی دکھائی ہے۔
عالمی ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ ’ڈبلیو ایچ او نے آج ہنگامی استعمال کے لیے سائینوواک۔کوروناواک کووڈ۔19 ویکسین کی توثیق کی، جس سے ممالک، فنڈز، خریداری کرنے والی ایجنسیوں اور برادریوں کو اعتماد ملے گا کہ یہ حفاظت، افادیت اور تیاری کے بین الاقوامی معیار پر پورا اترتی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
برطانیہ میں پہلی مرتبہ ’صفر کووڈ اموات‘ کا اعلان
،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانیہ نے مارچ 2020 کے بعد پہلی مرتبہ مثبت ٹیسٹ کے 28 دن کے اندر روزانہ کی بنیادوں پر صفر کووڈ اموات کا اعلان کیا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار میں مزید 3165 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ پیر کو 3383 اور ایک ہفتہ قبل 2493 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
اختتامِ ہفتہ اور ہفتے کے شروع میں روزانہ اموات کی اطلاعات اکثر کم آتی ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ شماریات دانوں کی چھٹی ہونے کی وجہ سے کم گنتی ہوتی ہے۔
انڈیا: بلیک فنگس کے بعد تشویشناک حالت کے مریضوں کو وائٹ فنگس کا خطرہ, سوتک بسواس، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے شہر کولکتہ میں مئی کے دوران ایک درمیانی عمر کے آدمی کو کووڈ 19 کے علاج کے دوران انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں منتقل کیا گیا۔ اس کی حالت مزید خراب ہونے پر اسے وینٹیلیٹر کی سہولت دی گئی اور سٹیرائڈز دیے گئے جن کی مدد سے انتہائی تشویشناک حالت کے کووڈ مریضوں کو بچایا جاچکا تھا۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس نے ان کی قوت مدافعت کو بھی کمزور کر دیا اور ان کے خون میں چینی کی مقدار کافی زیادہ بڑھ گئی۔
آئی سی یو میں رہنے کے بعد جب مریض صحتیاب ہوچکا تھا اور گھر جانے کو تیار تھا تو ڈاکٹروں کو معلوم ہوا کہ وہ ایک خطرناک فنگل انفیکشن سے متاثرہ ہیں جس پر ادویات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
کینڈیڈا اوریس نامی اس فنگس کو قریب ایک دہائی قبل دریافت کیا گیا اور یہ ہسپتال میں پایا جانے والا سب سے خطرناک جرثومہ ہے۔
اس سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور یہ دنیا بھر کے انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں سب سے زیادہ پایا جانے والا جراثیم ہے۔ اس سے اموات کی شرح قریب 70 فیصد ہے۔
ممبئی میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر اوم سریواستو کا کہنا ہے ک ’کووڈ کی دوسری لہر کے دوران انڈیا میں آئی سی یو میں کافی بیمار لوگ موجود ہیں جن میں سے کئی کو سٹیرائڈ کی بڑی مقدار دی گئی۔ یہ ایک وجہ ہوسکتی ہے۔‘
اس سے قبل کووڈ سے جڑے بلیک فنگس کے متاثرین بھی انڈیا میں بڑھے ہیں۔ اب تک ایسے 12 ہزار کیسز اور 200 اموات سے زیادہ اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔
اب ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس وائٹ فنگس کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسرائیل میں ملک گیر ویکسینیشن مہم کے بعد سختیوں میں نرمی
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنتل ابیب کے ایک ہسپتال میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے دوران طبی عملے کی کارکردگی کو سراہنے کے لیے کنسرٹ کا اہتمام
اسرائیل میں ویکسینیشن کی ملک گیر مہم اور نئے متاثرین میں بڑی کمی کے بعد کووڈ 19 کی وجہ سے لگائی گئی سختیوں میں نرمی لائی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ریستوران اور تفریحی مقامات پر داخلے کے لیے اب ویکسین سرٹیفیکیٹ دکھانے کی ضرورت نہیں جبکہ تجارتی مراکز اور دفاتر میں زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی کو بھی ختم کیا کر دیا گیا ہے۔
صحت کے وزیر نے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں میں عمارتوں کے اندر ماسک پہننے کی شرط کا خاتمہ زیر غور ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان تبدیلیوں کے بعد ’اسرائیل کی معیشت اور لوگوں کی سانسیں مزید بحال ہوسکتی ہیں۔‘
تاہم وزارت سیاحت کے مطابق ملک میں بیرون ملک سے آنے والے کئی افراد پر سفری پابندیاں نافذ ہیں۔ آزمائشی منصوبے میں صرف پہلے درجے کے رشتہ داروں، کچھ ماہرین اور ایسے افراد جنھیں ویکسین مل چکی ہے کو آنے کی اجازت ہے۔
منگل کو اسرائیل میں وائرس کے چار نئے مریضوں کی تشخیص ہوئی جبکہ فعال مریضوں کی تعداد 350 ہے۔
انڈیا جلد ایک ساتھ مختلف ویکسینز کے استمعال پر تحقیق کا آغاز کرے گا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا جلد ہی مختلف کووڈ ویکسینوں کو ملا کر ان کی مدافعتی ردعمل کی کا جائزہ لینا شروع کرے گا۔ انڈین اخبارات کے مطابق یہ عمل ان سبھی ویکسینز کے استعمال سے کیا جا سکتا ہے جو اس وقت ملک میں دستیاب ہیں اور مستقبل میں دستیاب ہو سکتے ہیں۔
ہمارے نامہ نگار نیاز فاروقی کے مطابق ان ویکسینز سے متعلق نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے تحت کووڈ 19 ورکنگ گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر این کے اروڑا کے مطابق اس منصوبے پر ’کچھ ہفتوں میں‘ کام شروع ہونے کی امید ہے۔
اگرچہ ابھی تک اںڈیا نے مختلف ابتدائی اور بوسٹر ڈوز کا استعمال باضابطہ طور پر نہیں کیا ہے لیکن تحقیق کے مطابق خوراکیں ملانے سے ویکسینیشن کے مؤثر رہنے کے دورانیے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انڈیا فی الحال اپنے ویکسینیشن پروگرام کے تحت کوویشیلڈ، کوویکسین اور سپوتنک وی دے رہا ہے۔
ڈاکٹر اروڑا نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت تقریباً آٹھ ویکسینوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے تحت یہ مطالعہ کیا جائے گا کہ کیا مختلف ویکسینوں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں اور کون سی ویکسین پہلی اور دوسری خوراک میں دی جانی چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم ایسی ویکسین کا مرکب ڈھونڈ رہے ہیں جو بہتر تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس وقت استعمال کی جانے والی ویکسینیں شدید بیماریوں سے تحفظ فراہم کر رہی ہیں لیکن وہ اس حد تک انفیکشن اور وائرس سے تحفظ فراہم نہیں کررہی ہیں جس حد تک ہم چاہتے ہیں۔‘
انڈیا فی الحال چھ کووڈ 19 ویکسینوں کو ملک میں متعارف کرانا چاہتا ہے۔ جن میں سیرم انسٹی ٹیوٹ کا کوویکس، بایولوجیکل ای کا کوربی ویکس، زائڈس کیڈیلا کا زائکوف-ڈی، جینیوا کا ایم آر این اے ویکسین، جانسن اور جانسن ویکسین کا بایو ای ورژن، اور بھارت بائیوٹیک کے تحت دی جانے والی ویکسین۔
حکومت فائزر کمپنی کا ایم آر این اے ویکسین ملک میں متعارف کرانے کے لیے بھی کمپنی سے رابطے میں ہے۔
ماہرین نے وائرس کی اقسام کے نام یونانی حروف تہجی سے منسوب کیوں کیے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کی اقسام کے نام یونانی حروف تہجی پر رکھے جا رہے ہیں تاکہ اس حوالے سے بحث کی پیچدگی کو کم کیا جا سکے اور اس حوالے سے جغرافیائی ناموں سے جڑی رسوائی کو زائل کیا جا سکے۔
ایسٹ اینگلیا یونیورسٹی کے پروفیسر برائے مائیکروبیئل جینومکس پروفیسر مارک پیلن اس گروپ کے رکن تھے جس نے یہ نئے نام تجویز کیے۔
انھوں نے کہا کہ ملکوں یا علاقوں کے ناموں سے وائرس کی اقسام کو منسوب کرنا جیسے کینٹ یا انڈیا کا مطلب یہ ہے کہ ’آپ نہ صرف درست بات نہیں کر رہے کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ وائرس کی یہ قسم اسی ملک سے نکلی ہو لیکن ساتھ ہی اس سے مختلف گروہوں کو رسوا بھی کیا جاتا ہے۔‘
انھوں نے بی بی سی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے غیر جانبدار، میڈیا دوست نام رکھنا اہم ہے تاکہ اس سے جڑی رسوائی سے بھی بچا جا سکے۔
پیلن کا کہنا ہے کہ حالانکہ یونانی حروف تہجی درجن بھر ہی ہیں لیکن سائنسدانوں کو امید ہے کہ انھیں اس سے زیادہ اقسام کو نام دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس سےقبل سائنسدانوں کو خدشہ تھا کہ ان کے ناموں کے لیے ایک ایسا نظام بنانا پڑے گا جس میں مختلف نام دینے کے ہزاروں امکانات ہوں گے۔
انڈیا میں آٹھ اپریل کے بعد سے سب سے کم یومیہ مریض، 2700 سے زیادہ ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی وزارتِ صحت کے مطابق گدشتہ روز ملک میں کورونا وائرس کے ایک لاکھ 27 ہزار 510 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو آٹھ اپریل کے بعد سے یومیہ مریضوں کی سب سے کم تعداد ہے۔
گذشتہ روز انڈیا میں 2795 ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی تھیں۔
جنوبی ایشیا ملک انڈیا جو اپریل میں کورونا کی دوسری لہر کی زد میں آ کر وائرس کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بن گیا تھا یہاں اب تک دو کروڑ 82 لاکھ افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ تین لاکھ 31 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
انڈیا کا صحت کے نظام پر اس پھیلاؤ کے باعث خاصا دباؤ پڑا تھا اور یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ یہاں ہونے والی اموات کے سرکاری اعداد و شمار سے بہت کم ہیں۔
تاہم ان نئے اعداد و شمار سے ملک میں یہ امید ضرور پیدا ہو رہی ہے کہ دوسری لہر کا عروج اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔
ایلو پیتھی کے بارے میں رام دیو کے متنازع بیان پر آج انڈیا میں ڈاکٹروں کا یومِ سیاہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یوگا گورو رام دیو کے ایلوپیتھی کے بارے میں متنازع تبصرے کے باعث آج انڈیا بھر میں ڈاکٹر یومِ سیاہ منا رہے ہیں۔ اپنے اس تبصرے کے بارے میں انھوں نے بظاہر جدید طبی علاج کو ’بیوقوف‘ کہا تھا۔
مختلف طبی جماعتوں نے رام دیو کے ’غیر حساس اور توہین آمیز‘ تبصروں کے بعد ان سے ’غیر مشروط عوامی معافی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس تبصرے میں یوگا گورو نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ کورونا وائرس کے دوران اس مہلک بیماری کے مقابلے میں جدید دوا سے زیادہ افراد کی موت ہوئی ہے۔
فیڈریشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (فورڈا)، جس نے احتجاج کا مطالبہ کیا ہے، نے کہا ہے کہ رام دیو کے بیانات پر اعتراضات کے باوجود بھی ’ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔‘
ایلوپیتھک ڈاکٹروں کی اعلیٰ ترین تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی اس احتجاج کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ڈاکٹر کالے بیجز پہنیں گے۔
پچھلے ہفتے ایک وسیع پیمانے پر شیئر ہونے والی ویڈیو میں رام دیو کو ایک پروگرام میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ ’لاکھوں افراد ایلوپیتھک دوائیوں کی وجہ سے مر چکے ہیں، جن کی تعداد آکسیجن کی کمی یا علاج نہیں ملنے کی وجہ سے مرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔‘
پتنجلی گروپ جو کہ انڈیا میں سب سے بڑے آیورویدک کاروبار میں سے ایک ہے نے رام دیو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس ویڈیو میں ترمیم کی گئی ہے اور بیان ’سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا ہے‘۔
پتنجلی نے مزید کہا کہ رام دیو کی ’جدید سائنس اور جدید طب کے اچھے ڈاکٹروں کے خلاف کوئی شکایت نہیں ہے۔‘
انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی گزارش کی کہ وہ ’کووڈ ویکسینیشن کے بارے میں غلط معلومات کی مبینہ مہم چلانے‘ کے الزام میں رام دیو کے خلاف بغاوت اور دیگر الزامات کے تحت کارروائی کریں۔
لیکن اس کے بعد بھی رام دیو کا ایک اور متنازعہ ویڈیو سامنے آیا جس میں وہ اپنی گرفتاری کی مطالبہ کو چیلنج کرتے ہوئے کہ رہے ہیں کہ ’ان کا باپ بھی سوامی رام دیو کو گرفتار نہیں کرسکتا۔‘
ملائیشیا میں کورونا وائرس کے متاثرین میں تیزی سے اضافہ، ملک میں دوسرا لاک ڈاؤن، کاروبار بند
،تصویر کا ذریعہReuters
ملائیشیا میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے
پیش نظر ملک میں دوسرے لاک ڈاؤن کو نافذ کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ملک کے کئی
کاروبار کی طرح کار بنانے والی کمپنیاں ٹویوٹا اور ہنڈا کو اپنی فیکٹریاں بند کرنی
پڑ گئی ہیں۔
ملائیشیا کے وزیر اعظم محی الدین یاسین نے
چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ پہلی جون سے لے کر 14
جون تک ملائیشیا میں نئے متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر لاک ڈاؤن لگایا
جائے گا۔
ٹویوٹا کی ترجمان نے بتایا کہ ان کی کمپنی ملائیشیا میں
51 ہزار گاڑیاں تیار کرتی ہے اور منگل سے وہ پروڈکشن کو عارضی طور پر روک رہے ہیں
اور ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ دوبارہ اسے کب شروع کیا جائے گا۔
اسی طرح ہنڈا کمپنی کے ترجمان نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے
باعث ملک میں دو فیکٹریاں بند کی جائیں گی جن میں سالانہ ایک لاکھ گاڑیاں اور تین
لاکھ موٹر سائیکل بنتی ہیں۔
ملائیشیا میں 12 مئی سے محدود لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا
تھا لیکن جمعے کو یومیہ متاثرین کی تعداد آٹھ ہزار اور ہفتے کو نو ہزار سے بڑھ گئی
تو انھوں نے اعلان کیا کہ دو ہفتے کے لیے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا جا رہا
ہے۔
چلی میں جولائی تک ’ہرڈ امیونٹی‘ حاصل کرنے کا ہدف، نوجوانوں کے لیے فائزر ویکسین کے استعمال کی منظوری
،تصویر کا ذریعہReuters
لاطینی امریکی ملک چلی کے محکمہ صحت نے پیر
کو ملک بھر کے نوجوانوں کے لیے فائزر بائیو این ٹیک کی کووڈ ویکسین کی منظوری دے
دی ہے تاکہ وہ حکومت کے جولائی تک ہرڈ امیونٹی حاصل کرنے کے ہدف تک پہنچ سکیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چلی میں
فائزر کی ویکسین 17 سال یا ان سے بڑی عمر کے افراد
کے لیے پہلے سے ہی استعمال ہو رہی ہے اور اب اسے 12 سے 16 سال کی عمر کے نوجوانوں
کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ چلی حکومت کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب
امریکی حکام اور یورپی میڈیسن ایجنسی نے بھی ملک میں نوجوانوں کے لیے ایسی ہی
منظوری دے دی ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں اب تک ڈیڑھ کروڑ افراد
کو کم از کم ایک خوراک دی جا چکی ہے جبکہ تقریباً 80
لاکھافراد کو دو خوراکیں مل چکی ہیں۔
پاکستان: مئی میں حالات میں بہتری، 70 لاکھ افراد کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک مل گئی
،تصویر کا ذریعہEPA
گذشتہ برس فروری میں وبا کے آغاز کے بعد اپریل 2021 پاکستانی عوام کے لیے سب سے مشکل رہا جب ملک میں سب سے ماہانہ اموات اور
نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی تھی۔
اسی مہینے پڑوسی ملک انڈیا میں کووڈ کی وجہ سے انتہائی مخدوش حالات تھے اور ڈر
تھا کہ کہیں پاکستان میں بھی ایسی صورتحال پیدا نہ ہو جائے۔
ایسے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن اور کاروبار کی بندش جیسے کئی
اقدامات لیے جس کا نتیجہ مئی کے اعداد و شمار میں دیکھا جا سکتا ہے جب وائرس کا
زور قدرے کم ہوتا نظر آیا۔
مئی کے 31 دنوں میں پاکستان میں مجموعی طور پر 92 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین
کی تشخیص ہوئی جبکہ اپریل میں یہ تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ تھی۔
اسی طرح ہلاکتوں میں بھی اپریل کی 3427 اموات کے مقابلے میں مئی میں 2780
افراد ہلاک ہوئے۔
اس اعتبار سے سب سے اہم پیش رفت فعال مریضوں کی تعداد میں دیکھنے میں آئی۔ اپریل کے مہینے کے آخر تک پاکستان میں 90 ہزار سے زیادہ فعال مریض تھے جبکہ مئی کے اختتام تک یہ تعداد گر کر 57 ہزار مریضوں تک آ گئی۔
سب سے اہم چیز مئی میں پاکستان بھر میں ویکسینیشن کی مہم میں تیزی تھی اور اس
وقت ملک میں 30 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کے لیے ویکسینیشن لگانے کا سلسلہ
جاری ہے اور مہینے کے آخر تک 70 لاکھ افراد کو کم از کم ایک خوراک دی جا چکی ہے۔
،تصویر کا ذریعہCovid.org.pk
بریکنگ, پاکستان: گذشتہ 24 گھنٹوں میں کُل 71 ہلاکتیں، مثبت ٹیسٹس کی شرح پانچ فیصد سے کم
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے
دوران 47 ہزار سے زیادہ ٹیسٹس کیے گئے جس کے نتیجے میں 1771 مثبت متاثرین کی تشخیص
ہوئی۔
اس اعتبار سے ملک میں مثبت ٹیسٹس کی شرح محض 3.71% رہی۔
انھی 24
گھنٹوں میں ملک میں کُل 71 ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
لندن میں ’ریڈ لسٹ‘ ممالک سے آنے والوں کے لیے ہیتھرو ایئر پورٹ پر خصوصی ٹرمینل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لندن میں ’ریڈ لسٹ‘ والے ممالک سے آنے والوں کے لیے ہیتھرو ایئر پورٹ پر خصوصی ٹرمینل کھولا جا رہا ہے۔
مقامی وقت چار بجے کے بعد سے آئندہ ’ریڈ لسٹ‘ ممالک سے براہِ راست آنے والوں کو ہیتھر ایئرپورٹ کے ٹرمینل تھری سے گزرنا پڑے گا۔
ہیتھرو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوامی صحت عامہ کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔
یاد رہے کہ اس وقت برطانیہ کی ریڈ لسٹ میں 43 ممالک ہیں جن میں پاکستان شامل ہے۔
برطانوی یا آئرش شہریوں یا پھر ایسے افراد جن کی برطانیہ میں مستقل رہائش ہے، صرف ایسے افراد کو ریڈ لسٹ ممالک سے برطانیہ میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ تاہم انھیں بھی 10 روز کے ہوٹل میں قرنطینہ کرنا لازمی ہے۔
تاہم خیال کیا جا رہا تھا کہ ریڈ لسٹ ممالک سے آنے والے ایسے مسافر امیگریشن ہالز جیسی جگہوں پر عام مسافروں سے گھل مل رہے تھے جس کی وجہ سے ہیتھرو پر ان کے لیے خصوصی ٹرمینل کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
پیرو میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد کا اسِرنو جائزہ، اموات پہلے سے دگنی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاطینی امریکہ کے ملک پیرو میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار کا اسرِنو جائزہ لینے کے بعد حکام نے ان اعداد و شمار میں تبدیلی کی ہے جس کے بعد پیرو آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ اموات والا ملک بن گیا ہے۔
سرکاری سطح پر اموات کی تعداد اب 180000 سے زیادہ ہے جب پہلے یہ تعداد 69342 بتائی جا رہی تھی۔
وزیراعظم ویئولیٹا برمیوڈیز کا کہنا ہے کہ یہ تعداد پیرو کے اور بین الاقوامی ماہرین کی تجویز پر بڑھائی گئی ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار ملک میں ’اضافی اموات‘ سے مماثلت رکھتے ہیں۔ اضافی اموات اس پیمانے کو کہا جاتا ہے جو یہ جانچتا ہے کہ گذشتہ سالوں کے رجحان کے مطابق کتنی اموات متوقع تھیں، اور اس سے کتنی زیادہ اموات واقع ہوئیں۔
پیرو کورونا وائرس سے لاطینی امریکہ میں بدترین متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے جہاں صحت عامہ کے نظام میں شدید مدکلات آئیں اور آکسیجن ٹینکوں کی بھی بہت کمی ہے۔
بریکنگ, عالمی ادارہِ صحت نے کورونا کی اقسام کے ناموں کے لیے یونانی حروف کا اعلان کر دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کی اقسام کے ناموں کے لیے ایک نئے نظام کا اعلان کیا ہے جس میں یونانی حروف کا استعمال کیا گیا ہے۔
اب سے عالمی ادارہِ صحت برطانیہ، جنوبی افریقہ اور انڈیا میں سب سے پہلے دریافت ہونے والی وائرس کی اقسام کے لیے مختلف یونانی حروف استعمال کرے گی۔
مثالاً برطانیہ میں دریافت ہونے والی قسم کو ایلفا، جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والی قسم کو بیِٹا، اور انڈیا میں دریافت ہونے والی قسم کو ڈیلٹا کہا جائے گا۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس مقصد اس حوالے سے بات چیت کو آسان بنانا ہے اور ساتھ میں ان ممالک کے ناموں کے ساتھ جڑنے سے ان ممالک کے بارے میں منفی تاثرات کو رد کرنا بھی ہے۔
یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں انڈین حکومت نے کورونا وائرس کی قسم بی 1.617.2 جو کہ گذشتہ اکتوبر میں انڈیا میں دریافت ہوئی تھی، اس قسم کو انڈین قسم کہنے پر شدید تنقید کی تھی اگرچہ ڈبلیو ایچ او نے سرکاری سطح پر اسے کبھی بھی انڈین قسم کا نام نہیں دیا تھا۔
برطانیہ میں بھی کووڈ 19 کی تیسری لہر کے خدشات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے نیو اینڈ ایمرجنگ ریسپائریٹری وائرس تھریٹ ایڈوائزی گروپ کے رکن پروفیسر روی گپتا نے کہا ہے کہ برطانیہ کووڈ 19 انفیکشن کی 'تیسری لہر' کے ابتدائی مراحل کی گرفت میں ہے جو کہ وائرس کی انڈین قسم سے پھیل رہا ہے۔
بی بی سی ریڈیو 4 نے جب ان سے پوچھا کہ کیا برطانیہ پہلے ہی کورونا وائرس کی تیسری لہر کی زد میں ہے تو کیمبرج یونیورسٹی کے اکیڈمکس نے کہا: 'ہاں، نئے کیسوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور ان میں کم از کم تین چوتھائی نئی اقسام کے وائرس ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ 'اگر چہ فی الحال نئے کیسز کی تعداد کم ہے لیکن ہر نئی قسم کم سے ہی شروع ہوتی ہے اور پھر دھماکہ خیز ہو جاتی ہے۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ ہم اس نئی لہر کی علامات شروع میں ہی دیکھ پا رہے ہیں۔
'شاید پہلے آنے والی لہروں کے مقابلے میں اس نئی لہر کے ابھرنے میں زیادہ وقت لگے کیونکہ ہمارے یہاں بڑی آبادی کو ویکسین لگ چکا ہے اور یہ کچھ دنوں تک وائرس سے تحفظ کا غلط احساس پیدا کر سکتا ہے اور یہی بات ہماری تشویش کا باعث ہے۔'
کینیا میں رات کے کرفیو، ریلیوں پر 60 دنوں کی مزید پابندی عائد
،تصویر کا ذریعہReuters
کینیا نے گذشتہ روز یعنی 30 مئی کو سرکاری طور پر کووڈ 19 کے لیے جاری پابندیوں کو 28 جولائی تک بڑھا دیا ہے۔
کینیا براڈکاسٹنگ کارپوریشن (کے بی سی) کی ویب سائٹ کے مطابق کووڈ 19 کے لیے عائد شام 10 بجے سے صبح 4 بجے تک والے کرفیو میں توسیع کردی گئی اور اسے 28 جولائی تک بڑھا دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ فریڈ متیانگی نے کہا کہ سیاسی اجتماعات کو بھی 60 دن کے لیے معطل رکھا جائے گا۔
حکومت نے گذشتہ ہفتے متنبہ کیا تھا کہ برطانیہ، انڈیا اور جنوبی افریقہ سے آنے والے کووڈ 19 کی اقسام ملک میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ کینیا میں تصدیق شدہ کورونا وائرس کے کیسز ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ مرنے والوں کی تعداد تین ہزار 157 ہے۔
بریکنگ, چین میں کووڈ 19 کے کیسز میں اچانک اضافے کی اطلاعات
،تصویر کا ذریعہReuters
چین میں پیر کو ملک کے جنوب میں کووڈ 19 کے انفیکشنز میں اچانک اضافے کی اطلاع آئی ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین نے 30 مئی کو گوانگ زو شہر میں 18 نئے مقامی کیسز کے بارے میں بتایا ہے جس کے بعد ہنگامی طور پر پروازیں منسوخ کرنے کے لیے ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔
قومی صحت کی اتھارٹی نے اپنی روزانہ کے بریفنگ میں بتایا ہے جنوبی عالمے میں پائے جانے والے 27 نئے کیسز میں سے صرف سات انفیکشنز کا تعلق باہر سے ہے جبکہ باقی ماندہ صوبے گوانگڈونگ میں ہی پیدا ہوئے ہیں۔
صوبہ گوانگڈونگ کے ہیلتھ افسروں کے مطابق 30 مئی کو مقامی طور پر تصدیق شدہ 20 مریضوں میں سے 18 کا گوانگ زو شہر سے تعلق ہے جبکہ دو کیسز فوشان شہر میں پائے گئے ہیں۔
ہوابازی کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ویریئفلائٹ کے مطابق صبح 11:40 بجے تک گوانگژاؤ بائیون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کل 519 پروازیں منسوخ کردی گئیں جو پیر کے روز کل پروازوں کا 37 فیصد تھیں۔ گوانگ زو بائیون بین الاقوامی ہوائی اڈہ جہاں سے گذشتہ سال 43.8 ملین مسافر نے سفر کیا وہ وبائی بیماری کے دوران دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ تھا۔
اتوار کے روز دیر گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ ائیر پورٹ، ٹرین سٹیشنوں اور شٹل بس سٹیشنوں سے شہر چھوڑنے والے افراد کو تین دن کے اندر کووڈ 19 منفی ٹیسٹ کا ثبوت دکھانا ہوگا۔
سنیچر کے روز گوانگ زو حکومت نے شہر کے ضلع لیون میں پانچ سڑکوں پر آباد رہائشیوں کو گھر پر ہی رہنے کا حکم جاری کیا ہے اور غیر ضروری خدمات معطل کردیں ہیں جبکہ تفریحی مقامات اور بازاروں کو بند کردیا گیا ہے۔
شہر کے میونسپل ہیلتھ کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر چن بن نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جینوم کے سلسلے کی جانچ کے نتائج کے مطابق شہر میں حالیہ انفیکشن کا انکشاف ایک تیزی سے پھیلنے والے وائرس سے ہوا ہے جس کا انڈیا میں پتا چلا تھا۔
چین میں 19 نئے غیر علامتی انفیکشن کی بھی اطلاع ہے جسے چین نے 30 مئی کو تصدیق شدہ کیسوں کی فہرست میں نہیں رکھا ہے جبکہ ایک دن پہلے 22 کیسز سامنے آئے تھے۔ 30 مئی تک چین میے مجموعی طور پر 91 ہزرار 99 کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ابھی تک چار ہزار 636 ہے۔