انڈیا میں مزید 2400 سے زائد ہلاکتیں، پاکستان میں 1490 نئے یومیہ متاثرین
انڈیا میں کورونا مثبت کیسز کی شرح بدستور کم ہو رہی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انڈیا میں ایک لاکھ 11 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 2400 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ آج سے پاکستان میں پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں چند تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں۔
لائیو کوریج
کورونا: دہلی میں لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کا اعلان
،تصویر کا ذریعہFacebook/Arvind Kejriwal
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اعلان کیا ہے کہ لاک ڈاؤن سات جون کے بعد بھی جاری رہے گا لیکن ساتھ ہی ساتھ بہت سی مراعات بھی دی جائیں گی۔
انھوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ دہلی میٹرو کا 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ دوبارہ آغاز ہو جائے گا۔ اس دوران دکانیں صبح 10 بجے سے شام 8 بجے تک کھل سکیں گی۔
دہلی میں سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے گروپ اے کے افسران کی دفاتر میں 100 فیصد حاضری جبکہ باقی افسران کی 50 فیصد گھر اور 50 فیصد دفتر میں حاضری لازم ہو گی۔
یو ایس ایڈ نے کووڈ سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو امدادی سامان بھیج دیا
امریکہ کی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) نے کووڈ سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو امدادی سامان بھیجا ہے۔
آج بذریعہ جہاز پاکستان پہنچنے والی اس امداد میں طبی عملے کے لیے حفاظتی سامان ، پلس آکسیمٹر اور دیگر طبی سامان شامل ہیں۔
امریکی سفارتحانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آج کووڈ 19 کے وبائی مرض کے خلاف لڑائی میں امریکی حکومت پاکستان کے ساتھ اپنی قابل فخر شراکت جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
’اس ساری جدوجہد کے دوران ہم نے متاثرہ افراد کو وسائل اور امداد فراہم کرنے جبکہ صف اول میں کام کرنے والوں کی مدد کے لیے مل کر کام کیا ہے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں تنہا نہیں۔‘
انڈیا میں کورونا وائرس سے مزید 3357 افراد ہلاک
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا وائرس سے 3357 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مزید 120306 افراد میں اس مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
جمعے کے روز ملک میں 22.8 لاکھ افراد کا کورونا ٹیسٹ کیا گیا جس میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 5.3 فیصد رہی۔
دوسری جانب جمعے کے روز 36.3 لاکھ افراد کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان میں یومیہ متاثرین کی تعداد دو ہزار سے کم
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کورونا وائرس کے 1,923 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ مزید 84 لوگ اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔
اب تک ملک بھر میں 930,511 افراد کورونا وائرس سے متاثر جبکہ 21,189 ہلاک ہو چکے ہیں تاہم اس وقت ملک بھر میں فعال کیسز کی تعداد 48,937 ہے۔
کورونا وائرس سے اب تک صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 860,385 ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
انڈیا میں کورونا ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے والے افراد کی تعداد امریکا سے زیادہ
،تصویر کا ذریعہANI
انڈین
حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے والی افراد کی
تعداد امریکہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
انڈیا
کی مرکزی حکومت نے کہا کہ ویکسینیشن مہم کو آنے والے دنوں میں مزید تیز کردیا جائے
گا۔
نیتی
آیوگ (محکمہ صحت) کے رکن وی کے پال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 60 سال
سے زیادہ عمر کے 43 فیصد آبادی کو کورونا ویکسین کی کم از کم ایک خوراک دی گئی ہے۔
انھوں
نے یہ بھی بتایا کہ 45 سال سے زیادہ عمر کے 37 فیصد افراد ویکسینیشن مہم کے دائرہ کار
میں آ چکے ہیں۔
جمعرات
کے عالمی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انڈیا میں 172 ملین افراد
کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک دی جا چکی ہے جبکہ امریکہ میں ایسے لوگوں کی تعداد
169 ملین ہے۔
وی
کے پال کا کہنا تھا کہ ’اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ہم آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے
ہیں اور ویکسینیشن مہم تیز کی جا رہی ہے۔‘
پنجاب بھر میں ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ مزارات کھولنے کی اجازت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان
کے صوبہ پنجاب میں ایس او پیز کی پابندی کے ساتھ آج سے مزارات کھولنے کی اجازت دے
دی گئی ہے۔
کیبنٹ
کمیٹی برائے کورونا کی سفارشات کے مطابق پنجاب بھر میں تمام مزارات کھولنے کی اجازت
کے لیے سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔
یہ
نوٹیفیکشن چار جون سے 15 جون تک نافذالعمل رہے گا۔
سیکرٹری
پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق مزارات پر حاضری کے
دوران سماجی فاصلے اور دیگر ایس او پیز کا خیال رکھا جائے۔
سیکرٹری
پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مزار انتظامیہ حاضرین کے
لیے ایس او پیز کے مطابق انتظامات یقینی بنائیں۔
جبکہ
عوام ایس او پیز پر عمل درآمد میں انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ
دیں۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 124 برس کی خاتون کو کورونا ویکسین لگائی گئی
،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا
کے زیر انتظام کشمیر میں بارہ مولہ کے علاقے میں ایک 124 سالہ خاتون کو کوڈ ویکسین
کی پہلی خوراک لگائی گئی ہے۔
انڈیا
کے زیر انتظام کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے دفتر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ
بارہمولہ کی 124 سالہ رحمت بیگم کورونا ویکسین لینے والی عمر رسیدہ خاتون بن گئی ہیں۔
ریاست
جموں وکشمیر کے علاقوں شارکواڑہ ، بارہمولہ کے پرائمری ہیلتھ کیئر سنٹر کے میڈیکل آفیسر
، تجمل مالک کا کہنا ہے کہ ’ ہم نے ایک 124 سالہ خاتون کو کووڈ ویکیسن دی ہے، وہ صحت مند ہیں، ہم نے ویکسین
لگانے کے بعد بھی ان کی خیریت دریافت کی ہے وہ ٹھیک ہیں۔‘
رحمت
بیگم گذشتہ 20 برس سے اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ رہ رہی ہیں۔
بریکنگ, خیبر پختونخوا میں پہلی مرتبہ تین مریضوں میں کووڈ 19 کی انڈین اور افریقی اقسام کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں پہلی مرتبہ تین مریضوں میں کووڈ 19 کے انڈین اور افریقہ کے ویرینٹس پائے گئے ہیں۔
پشاور میں کووڈ 19 کی ٹیسٹنگ کے انچارج ڈاکٹر آصف نے بی بی سی کو بتایا کہ ایئر پرٹ سے ملنے والے ریپڈ انٹیجنٹ ٹیسٹ کے جو نمونے آئے ان میں مثبت پائے گئے نمونوں میں سے آٹھ نمونے اسلام آباد میں قائم این آئی ایچ بھیجے گئے جہاں سے تین مریضوں میں یہ ویرینٹس پائے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے دو میں افریقن اور ایک میں انڈین ویرینٹس پائے گئے ہیں اور ان مسافرں کا تعلق پشاور سے بتایا گیا ہے۔
ان مسافروں کی عمریں 18 سال، 38 سال اور 41 سال بتائی گئی ہیں۔
ڈاکٹر آصف نے بتایا کہ ان کی لیبارٹری میں روزانہ تین ہزار ٹیسٹس کیے جارہے ہیں اور اب ان میں اضافہ کرکے 4000 ٹیسٹ یومیہ کر دی جائے گی۔
امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے کووڈ ریلیف سپورٹ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت پاکستان نے
امریکی حکومت کی جانب سے ضروری سامان کی فراہمی پر شکریہ ادا کیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان
زاہد حفیظ چودھری نے بتایا کہ امریکہ کی طرف سے فراہم کی جانے والی کووڈ ریلیف سپورٹ
کی مد میں کو سامان آیا ہے اس میں جس میں چھ لاکھ 85 ہزار کے این 95 ماسک، 50ہزار حفاظتی
چشمے ، ڈھایئ لاکھ تشخیصی کٹس ، اور 1000 پلس آکسیمٹرز شامل ہیں۔
اس سے قبل ، امریکی
حکومت نے کوویڈ 19 کے مریضوں کے لیے 200 وینٹیلیٹر پاکستان کو فراہم کیے تھے۔
وزرات خارجہ کے
ترجمان کا کہنا تھا ’یہ اُس مسلسل امداد کا حصہ ہے جو امریکہ نے ہمارے کووڈ ریلیف اور
روک تھام کی کوششوں کی مدد کے لیے پاکستان کو فراہم کیا ہے۔‘
کووڈ بی ون سِکس، ون سیون: کیا پاکستان کورونا وائرس کی انڈین قسم سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان میں حالیہ دنوں خلیجی ممالک سے پشاور آنے والے 140 مسافروں کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آیا۔ سول ایوی ایشن کے مطابق مسافروں کے شور مچانے پر ان کا دوبارہ ٹیسٹ کیا گیا جو دوبارہ مثبت آیا۔
اب اس وقت پاکستان میں جہاں کووڈ وبا کی تیسری لہر کے نتیجے میں نئے کیسز میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، وہیں حکام کو خدشہ ہے کہ دیگر ملکوں کی طرح کہیں خلیجی ممالک سے آنے والی پروازوں کے ذریعے کووڈ وبا کی انڈین قسمیں (بی ون سِکس، ون سیون) پاکستان میں نہ پھیل جائے۔
لیکن اس وقت سوال یہ ہے کہ اگر کووڈ وبا کی انڈین قسم پاکستان پہنچی ہے تو اس بارے میں کیا اقدامات کیے گئے ہیں، کیا یہ اقدامات کافی ہیں، اور آیا سفری پابندیوں سے وبا کا ملک میں داخلہ روکا جاسکتا ہے؟اس بارے میں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
پاکستان میں مزید ڈھائی لاکھ افراد کو کووڈ سے بچاؤ کی ویکسین لگا دی گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کے مطابق تین جون کو 255،121 کو پورے پاکستان میں ویکسین لگائی گئی۔
پاکستان بھر میں مجموعی طور پر اب تک 8،518،924 افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔
پاکستان میں اب 18 سال تک کی عمر کے افراد بھی ویکسین کے لگوا سکتے ہیں۔
سماجی دوری سے متعلق ڈبلیو ایچ او سے منسوب جعلی پوسٹ پر یقین نہ کریں: وزارت صحت
پاکستان کی وزرات صحت نے خبردا کیا ہے کہ سوشل میڈیا کی وہ پوسٹ بے بنیاد ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے سماجی دوری اختیار کرنے کی اب کوئی ضرورت نہیں۔
وزرات صحت کے اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’سوشل میڈیا اور واٹس اپپ پر چلنے والی یہ خبر بالکل غلط ہے۔ WHO نے کبھی ایسی بات نہیں کی۔‘
پوسٹ مںی مزید کہا گیا ہے کہ ’احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوے ہی ہم وبا کے پھیلاؤ پر کچھ حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوے ہیں۔ ہمیشہ مستند ذرائع کی خبر پر یقین کریں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
کووڈ 19: کورونا وائرس کے چینی لیب سے نکلنے کا نظریہ دوبارہ کیوں مقبول ہونے لگا ہے؟
،تصویر کا ذریعہget
ڈیڑھ برس قبل چین کے شہر ووہان میں کووڈ کی اولین دریافت کے بعد ابھی تک اس سوال کا حتمی جواب نہیں ملا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی اس بیماری کی شروعات کیسے ہوئی تھی۔
لیکن حالیہ ہفتوں میں اس دعوے کو دوبارہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس ایک چینی لیب سے نکلا ہے۔ ماہرین نے اب تک اسے سازشی مفروضہ کہتے ہوئے مسترد کیا ہے کیونکہ اس کے کوئی شواہد دستیاب نہیں ہو پائے ہیں۔
اب نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی حکومت فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر رہی ہے جو اس وبا کے آغاز کے حوالے سے اس مفروضے (چینی لیب سے اس کی ابتدا) کی جانچ بھی کرے گی۔
تو اب تک ہم وائرس کے شروع ہونے کے حوالے سے کیا کیا جانتے ہیں؟ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ بحث کیوں ضروری ہے؟ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
کووڈ 19: انڈیا میں 24 گھنٹوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد نئے کیسز اور 2،713 اموات
،تصویر کا ذریعہPankaj Nangia/Anadolu Agency via Getty Images)
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ 19 انفیکشن کے کل 1،32،364 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ اسی عرصے کے دوران 2،713 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
انڈین وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران، اس مرض سے صحت یاب ہونے کے بعد 2،07،071 افراد کو ہسپتال سے فارغ کیا گیا ہے۔
ملک میں کوویڈ 19 کے کل 2،85،74،350 کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں سے 16،35،993 کیسز اب بھی ایکٹو ہیں۔
اب تک مجموعی طور پر 3،40،702 افراد انفیکشن کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور علاج کے بعد 2،65،97،655 افراد ٹھیک ہو چکے ہیں۔
انڈیا میں اب تک مجموعی طور پر ڈھائی کروڑ سے زائد افراد کو کووڈ ویکسین دی جا چکی ہے۔
چین کووڈ سے ہونے والی تباہی کا ہرجانہ ادا کرے: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہFacebook/Trump
ٹرمپ نے کہا کہ چین کو امریکہ اور پوری دنیا میں
ہونے والی تباہی کا 10 کھرب ڈالر معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔
انھوں نے اپنے بیان میں کہا ، ’کسی کے لیے بھی ڈاکٹر
فوچی اور چین کے مابین ہونے والی گفتگو کو نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔‘
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس کو 'چینی
وائرس' اور 'ووہان وائرس' کہتے تھے۔ چین نے اس پر سخت اعتراض کا اظہار کیا تھا اور
اسے نسل پرستانہ قرار دیا تھا۔
اس سال کے شروع میں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک
ٹیم ووہان گئی تھی تاکہ اس وبا سے وابستہ حقائق کا پتہ چلایا جاسکے۔
تاہم، مارچ میں اپنی رپورٹ میں ڈبلیو ایچ او نے
کہا کہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ کافی حقائق موجود نہیں ہیں کووڈ وائرس ووہان کی لیب
سے پوری دنیا میں پھیلا۔
چین پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے ورلڈ
ہیلتھ آرگنائزیشن کی ٹیم کے ساتھ تحقیقات میں مکمل تعاون نہیں کیا اور ووہان لیب سے
متعلق معلومات کو چھپائیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ اور برطانیہ سے انٹیلیجنس کی تازہ ترین اطلاعات
کچھ دن پہلے ، ایک امریکی انٹلیجنس رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ نومبر 2019 میں کورونا وبا پھیلنے سے کچھ پہلے قبل ، ووہان لیب کے تین محققین بیمار ہوگئے تھے اور ان کی علامات کوڈ 19 کی طرح تھیں۔
چین نے اس رپورٹ کو مکمل 'غلط' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج تک ووہان لیب کا کوئی عملہ کورونا سے متاثر نہیں ہوا ہے۔
اس رپورٹ کے آنے کے بعد ، امریکی صدر جو بائیڈن نے انٹیلی جنس ٹیموں کو 90 دن میں کورونا وائرس کے منبع سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
امریکہ کے بعد ، برطانیہ کی ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ ووہان لیب سے کورونا وائرس کا اخراج ہو۔
کووڈ 19: لاہور پنجاب کا سب سے متاثرہ شہر 20 گھنٹوں میں 17 افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ 19 کے 401 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مجموعی طور پر مثبت کیسز کی تعداد 341,390 ہو گئی۔
اب تک پاکستان میں کل 928،588 افراد کووڈ سے متاثر ہو چکے ہیں۔
ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق سب سے زیادہ کیسز لاہورمیں 173راولپنڈی 25، فیصل آباد 24، سامنے آئے۔
ادارے کے مطابق لاہور میں مزید 17 اموات کے بعد اموات کی کل تعداد 4,136 ہو چکی ہے جبکہ صوبے بھر میں کورونا وائرس سے مزید 52 اموات، اموات کی کل تعداد 10,184 ہوچکی ہے۔
ترجمان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 21,908 ٹیسٹ کیے گئے، اب تک کل 5,232,385 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق پنجاب میں کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 315,234 ہو چکی ہے۔
کووڈ 19 کے باعث پاکستان میں سب سے زیادہ اموات صوبہ پنجاب میں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کےمطابق پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جبکہ اس کے بعد سندھ سب سے متاثرہ صوبہ ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کل 83 اموات ہوئیں جن میں سے 34 افراد وینٹیلیٹرز پر تھے۔
مزید 1893 افراد میں کووڈ کی تصدیق ہوئی۔
4 جون تک پاکستان میں مجموعی طور پر کوویڈ کے ایکٹو کیسز 51،478 ہیں۔ 856،005 لوگ اب تک پورے پاکستان میں اس وبا سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔ بلوچستان ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں وینٹیلیٹر پر کوئی مریض نہیں ہے۔
اب تک پاکستان میں کوووڈ سے 21105 اموات ہو چکی ہیں جن میں سے سندھ میں 5089، پنجاب میں 10184 ، خیبر پختونخوا میں 4125، اسلام آباد میں 763 ، بلوچستان میں 287 گلگت بلتستان میں 107 ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 550 افراد وبا کے شکار بن گئے۔
انڈین حکومت نے کووڈ19 کی ’غیر منظور شدہ ویکسین‘ کی 30 کروڑ خوراکیں خریدی گی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈین حکومت نے جمعرات کے روز کووڈ19 کے خلاف ایک ایسی ویکسین کی 30 کروڑ خوراکوں کا آرڈر دیا ہے جو کہ تاحال غیر منظور شدہ ہے اور اس کی ابھی ٹیسٹنگ جاری ہے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل انڈیا کی سپریم کورٹ نے حکومت پر تنقید کی تھی کہ انھوں نے ملک میں ویکسین لگانے کے عمل میں کوتاہی کی ہے۔
انڈیا میں اب تک کورونا وائرس کی وجہ سے 338000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تاہم ملک میں ابھی تک صرف 4.7 فیصد افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک مقامی کمپنی بائیولوجیکل ای سے 30 کروڑ خوراکیں خریدے گی اور اس سلسلے میں بیس کروڑ ڈالر سے زیاد ہرقم ایڈوانس بھی ادا کی جا چکی ہے۔ تاہم اس کمپنی کی ویکسین کے ابھی فیز تھری ٹرائلز جاری ہیں۔
برطانیہ میں نصف سے زیادہ بالغ افراد کو ویکسین کی دوسری خوراک مل گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک نصف سے زیادہ بالغان کو کورونا وائرس ویکسین کی دوسری خوراک لگ چکی ہے۔
وزیرِ اعظم بورس جانسن کو بھی جمعرات کو دوسری خوراک لگائی گئی۔ اُنھوں نے اس ’حیران کُن کامیابی‘ کا خیر مقدم کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’آئیں اب کام ختم کرتے ہیں۔‘
چھ ماہ پہلے ویکسینیشن شروع ہونے سے لے کر اب تک دو کروڑ 64 لاکھ 22 ہزار 303 دوسری خوراکیں لگائی جا چکی ہیں۔
ایک روز قبل وزیرِ صحت میٹ ہینکوک نے تصدیق کی تھی کہ برطانوی بالغان کی تین چوتھائی تعداد کو کورونا ویکسین کی پہلی خوراک لگائی جا چکی ہے۔
اس دوران برطانیہ میں جمعرات کو کورونا کے 5274 نئے متاثرین سامنے آئے۔
کورونا کی انڈین قسم برطانیہ میں سب سے غالب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے بتایا ہے کہ کورونا وائرس کی انڈین قسم اب برطانیہ میں سب سے زیادہ غالب کورونا قسم ہے۔
گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں کورونا کے مثبت ٹیسٹس کی شرح میں 79 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اب 12 ہزار 431 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ڈیلٹا کہلانے والی اس قسم نے کینٹ یا ایلفا قسم کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ڈیلٹا قسم کی وجہ سے ہسپتالوں میں داخلے کی شرح بڑھنے کا بھی شک ہے۔
یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کی چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر جینی ہیریز نے کہا کہ ’اس قسم کو روکنے کا مؤثر طریقہ مجموعی طور پر کورونا کو روکنا ہے۔‘