انڈیا میں مزید 2400 سے زائد ہلاکتیں، پاکستان میں 1490 نئے یومیہ متاثرین
انڈیا میں کورونا مثبت کیسز کی شرح بدستور کم ہو رہی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انڈیا میں ایک لاکھ 11 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 2400 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ آج سے پاکستان میں پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں چند تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں۔
لائیو کوریج
ایپل کے ملازمین جلد اپنے دفاتر میں واپس لوٹیں گے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنے ملازمین کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ ستمبر تک تمام ملازمین کی دفاتر میں واپسی چاہتی ہے۔
چیف ایگزیکٹیو ٹِم کُک نے لکھا کہ ملازمین کو ہفتے میں کم از کم تین دن کے لیے دفتر آنا ہوگا اور باقی دو دن وہ گھر سے کام کر سکتے ہیں۔
تاہم جن ٹیمز کو ’مل کر‘ کام کرنا ہوگا وہ چار سے پانچ دن تک کے لیے بھی دفتر آئیں گے۔
ایپل نے اپنے سٹاف کو بتایا کہ وہ سال میں دو ہفتوں کے لیے گھر سے کام کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں تاہم یہ مینیجرز پر منحصر ہوگا کہ وہ ان درخواستوں کو منظور کرتے ہیں یا نہیں۔
ٹم کک نے اپنے پیغام میں کہا کہ گھر سے کام کرنا دفتر میں مل کر ساتھ کام کرنے کا مناسب متبادل نہیں ہو سکتا۔
کوویکس کے لیے مزید 2.4 ارب ڈالر کا عطیہ، ماریشس نے بھی ڈھائی ہزار ڈالر کا حصہ ڈال دیا
،تصویر کا ذریعہReuters
دنیا کے کئی ممالک اور نجی عطیہ کنندگان نے کوویکس پروگرام میں مزید دو اعشاریہ چار ارب ڈالر عطیہ دینے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غریب ممالک کے لوگوں تک بھی کورونا ویکسین پہنچائی جا سکے گی۔
یہ اعلان جاپان اور دی گیوی ویکسین الائنس کے منعقد کردہ سربراہی ویڈیو اجلاس میں کیا گیا۔
ماریشس نے ڈھائی ہزار ڈالر دینے کا اعلان کیا تو امیر ممالک نے کروڑوں ڈالر اور خوراکیں فراہم کرنے کا عہد کیا۔
گیوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان فنڈز سے کوویکس مکمل طور پر سبسڈی یافتہ 1.8 ارب خوراکیں کم آمدنی والے ممالک کو 2021 اور 2022 میں فراہم کر سکے گا جس سے ان ممالک میں 30 فیصد لوگ کورونا سے محفوظ ہو سکیں گے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا کی سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی اس منطق پر سوال اٹھایا ہے کہ کمپنیاں اسے کووڈ کی ویکسین بھاری چھوٹ پر فروخت کر رہی ہیں کیونکہ اس نے بڑے پیمانے پر آرڈر دیا ہے۔
عدالت نے حکومت سے سوال کیا کہ اس صورت میں مرکزی حکومت ریاستوں کے بجائے خود ہی 100 فیصد ویکسین چھوٹ پر کیوں نہیں خرید سکتی ہے۔ مرکز ان کمپنیوں سے 150 روپے میں ویکسین خریدتا ہے جبکہ اسی ویکسین کے لیے ریاستوں کو 300 روپے کی قیمت دینی پڑتی ہے۔
مرکزی حکومت کی ویکسی نیشن پالیسی کے مطابق مرکز صرف 50 فیصد ویکسین خرید سکتا ہے اور باقی نصف حصے کو ریاستوں اور نجی اسپتالوں کے مابین برابر تقسیم ہونا چاہیے۔
عدالت نے کہا کہ ’اگر مرکزی حکومت کی منفرد اجارہ دارانہ خریدار کی حیثیت ہی صرف اسے کمپنیوں سے کم شرح پر ویکسین لینے میں مدد کرتی ہے تو ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا موجودہ ویکسی نیشن پالیسی آئین کے آرٹیکل 14 [مساوات کے حق] کے مطابق ہے یا نہیں، کیوں کہ اس سے خاص طور پر مالی پریشانی میں مبتلا ریاستوں پر شدید بوجھ آ سکتا ہے۔‘
عدالت نے مزید کہا کہ ویکسین خریدنے کے لیے مرکز کے پاس 35 ہزار کروڑ روپے کا بجٹ ہے لیکن اس کے برعکس ریاستوں کے پاس فنڈ کی کمی ہے اور وہ اچانک ویکسین فنڈ کے لیے دباؤ میں ہیں۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی ویکسین بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ براہ راست گفتگو میں ریاستیں بے بس ہیں کیونکہ یہ کمپنیاں وفاقی حکومتوں کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دیتی ہیں۔
واضح رہے کہ مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے مرکزی حکومت سے درخواست کی ہے سستے ویکسین کے لیے مرکز خود ہی کمپنیوں سے بات کرے اور ریاستوں کو اسے تقسیم کرنے کے لیے مفت دے۔
مشرقی ریاست اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ نے بھی ملک کے تمام وزرائے اعلیٰ کو ویکسین پالیسی کے موضوع پر خطوط لکھا ہے اور کہا ہے کہ مرکزی حکومت کو خود ویکسین خریدنی چاہئے اور اسے ریاستوں میں تقسیم کرنا چاہیے۔
انڈیا میں کورونا وائرس کی شرح مسلسل دس دن سے 10 فیصد سے کم سطح پر
انڈیا کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 1,34,154 نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ 2887 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد میں بتدریج کمی آئی ہے۔
اس وقت انڈیا میں کورونا وائرس کے فعال کیسز کی تعداد 17,13,413 ہے جبکہ 3,37,989 افراد اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق انڈیا میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح مسلسل دس دن سے 10 فیصد سے کم سطح پر ہے جبکہ بدھ کے روز یہ شرح 6.21 فیصد تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں کورونا کے 2,028 نئے کیس، مزید 92 اموات
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 2,028 نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ اس مہلک وائرس سے مزید 92 اموات ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ اب تک ملک بھر میں کورونا وائرس سے 21,022 اموات ہو چکی ہیں جبکہ 926,695 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹے میں صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 3,889 ہے جبکہ اب تک ملک بھر میں صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 852,574 ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایمازون برطانیہ میں کووڈ ٹیسٹنگ کی سہولیات بڑھائے گا
ایمازون کا کہنا ہے کہ کمپنی برطانیہ میں کووڈ ٹیسٹنگ کی سہولیات بڑھائے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد اپنے ملازمین اور برطانیہ میں صحت عامہ میں بہتری لانا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ثحت عامہ کے سیکٹر میں کاروباری مواقع پیدا کرنا ہے اور کمپنی کام کرنے کے حوالے سے انتہائی خراب صورتحال کو نظرانداز کرتے ہوئے کمپنی کی ساخت کو بہتر کرنا ہے۔
حال ہی میں ایمازون نے امریکہ میں آن لائن فارمیسی بزنس میں قدم رکھا تھا اور یہ سہولت ان کے پرائم صارفین کو فراہم کی جا رہی ہے۔
2020 میں کمپنی نے کنٹیکی اور گریٹر مانچسٹر میں پی سی آر ٹیسٹنگ کے لیے لیبز بنائی تھیں۔ مانچسٹر میں موجود لیب نے اب تک نو لاکھ ٹیسٹ کیے ہیں۔
’نویں اور دسویں جماعتوں کے صرف چار مضامین کے امتحانات ہوں گے‘, پاکستان میں بورڈ امتحانات کا حتمی فیصلہ
،تصویر کا ذریعہPTV
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود
پاکستان کے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ میٹرک اور انٹر کے بورڈ امتحانات کے حوالے سے متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ امتحانات کے بغیر کسی کو پاس نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آج بھی فیصلہ یہ ہی ہے کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں کے امتحانات ہوں گے۔ طلبہ کی طرف سے کورس مکمل نہ ہونے کی شکایت کا ازالہ کرنے کے حوالے سے آج کے اجلاس میں بات ہوئی۔ ہم نے کئی ماہ پہلے نصاب 40 فیصد کم کر دیا تھا تاکہ اساتذہ اور طلبہ کو تیاری میں آسانی ہو۔‘
’نویں، دسویں کا صرف اختیاری مضامین اور میتھس (ریاضی) میں امتحان لیا جائے گا۔ یعنی نویں اور دسویں کے صرف چار مضامین کے امتحانات ہوں گے۔ گیارہویں اور بارہویں کے صرف اختیاری مضامین کے امتحانات لیے جائیں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں کے امتحانات دس جولائی کے بعد شروع ہوں گے۔ اس ضمن میں دسویں اور بارہویں کے امتحانات پہلے منعقد ہوں گے۔‘
’ہم نے بورڈز کو کہا ہے کہ پرچوں کے درمیان کچھ وفقہ بھی رکھیں تاکہ طلبہ کو تیاری کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت ملے۔ اس وقت دسویں اور بارہویں کی کلاسز جاری ہیں۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ نویں اور گیارہویں کے لیے بھی سکول و کالجز کھول دیے جائیں تاکہ وہ تیاری کر سکیں۔‘
شفقت محمود نے واضح کیا کہ ’امتحانات لینے کے فیصلے پر کسی قسم کی نظرثانی نہیں ہوگی۔ بچے تیاری کریں۔ طلبہ کے جائز مطالبات پر ہم نے کافی نرمی کی ہے۔ یہ بچوں کے مستقبل اور تعلیم کا فیصلہ ہے۔‘
’کسی استاد یا معاون عملے کو بغیر ویکسین کے امتحانی عملے میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
پاکستان میں گذشتہ روز تین لاکھ سے زیادہ ویکسینیشنز, ملک میں اب تک 79 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں گذشتہ روز تین لاکھ سے زیادہ ویکسینیشنز کی گئی ہیں اور ملک میں ویکسین لگوانے والے کل افراد کی تعداد 79 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
تاہم حکومت کی جانب سے اس حوالے سے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے گیے کہ کتنے افراد کو ویکسین کی ایک خوراک دی گئی ہے اور کتنوں کو دو۔
آسٹریلوی ریاست وکٹوریا میں لاک ڈاؤن میں 10 جون تک توسیع
،تصویر کا ذریعہEPA
آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا میں لاک ڈاؤن کا دورانیہ بڑھا دیا گیا تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کیسز وائرس کی میلبرن قسم B.1.617.1 سے متاثر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن کو ایک حفاظتی تدبیر کے طور پر بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وائرس کی اس قسم کا نام گاما رکھا گیا ہے۔
آسٹریلیا کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اب 10 جون تک لاک ڈاؤن میں رہے گی۔ یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ یہاں کے شہریوں کو ان پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بدھ کے روز مزید چھ نئے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ ریاست کے قائم مقام پریمیئر جیمز میرلینو کا کہنا ہے کہ ’مجھے معلوم ہے کہ کوئی بھی یہ خبر سننے کو تیار نہیں ہے لیکن جس رفتار سے کورونا وائرس کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔‘
کووڈ 19: کورونا وائرس کے چینی لیب سے نکلنے کا نظریہ دوبارہ کیوں مقبول ہونے لگا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈیڑھ برس قبل چین کے شہر ووہان میں کووڈ کی اولین دریافت کے بعد ابھی تک اس سوال کا حتمی جواب نہیں ملا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی اس بیماری کی شروعات کیسے ہوئی تھی۔
لیکن حالیہ ہفتوں میں اس دعوے کو دوبارہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس ایک چینی لیب سے نکلا ہے۔ ماہرین نے اب تک اسے سازشی مفروضہ کہتے ہوئے مسترد کیا ہے کیونکہ اس کے کوئی شواہد دستیاب نہیں ہو پائے ہیں۔
اب نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی حکومت فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر رہی ہے جو اس وبا کے آغاز کے حوالے سے اس مفروضے (چینی لیب سے اس کی ابتدا) کی جانچ بھی کرے گی۔
تو اب تک ہم وائرس کے شروع ہونے کے حوالے سے کیا کیا جانتے ہیں؟ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ بحث کیوں ضروری ہے؟
گلگت بلتستان میں محفوظ سیاحت یقینی بنانے کے لیے مسافروں کے لیے نئی شرائط
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے گلگت بلتستان میں محفوظ سیاحت کو یقینی بنانے کے لیے 30 برس سے زیادہ عمر کے افراد کو ویکسین سرٹیفیکیٹ کے بغیر جہاز میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہو گی تاہم اگر 30 سے 50 برس کے افراد میں سے کسی کے پاس فلائٹ سے 72 گھنٹے پہلے تک کا کورونا منفی ٹیسٹ موجود ہو تو انھیں جانے دیا جائے گا۔
ان شرائط کا اطلاق 30 جون تک ہو گا۔ ان شرائط سے مقامی افراد، اس خطے کے رہائشی اور گلگت بلتستان کی حکومت کے اہلکاروں کو چھوٹ دی جائے گی۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق 50 برس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے ویکسین سرٹیفیکیٹ دکھانا لازمی ہے جبکہ 18 سے 30 برس کی عمر کے افراد کے لیے فلائٹ سے 72 گھنٹے پہلے تک کا کورونا منفی ٹیسٹ موجود ہونا ضروری ہے۔
انڈیا میں حاملہ خواتین کووڈ 19 سے غیرمحفوظ اور پریشان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب جگریتی ایادالا کو فروری میں علم ہوا کہ وہ حاملہ ہیں تو انھوں نے اس خوشخبری کا جشن منانے کے لیے انھوں نے چھٹیوں پر کہیں گھومنے جانے کا سوچا۔ اس عرصے کے دوران ان کی شادی کی سالگرہ بھی تھی اور انڈیا میں کووڈ کیسز بھی زوال پزیر تھے۔
تاہم ایک ماہ کے اندر اندر 29 سالہ جگریتی نے خود کو ایک کمرے میں بند پایا، کیونکہ انڈیا میں کیسز تیزی سے بڑھنے لگے اور انھیں خوف تھا کہ کہیں وہ اس سے متاثر نہ ہو جائیں۔ ان کے شوہر کے لیے کام پر جانا ضروری تھا اس لیے انھوں نے گھر پر خود کو سب سے علیحدہ کر لیا۔
اس وقت تک انڈیا نے ویکسینیشن کا آغاز تو کر دیا تھا لیکن ان میں جگریت کے لیے کوئی آپشن موجود نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اب تک ملک میں حاملہ خواتین کے لیے کسی بھی ویکسین کو منظوری نہیں دی گئی اور تاحال اس حوالے سے جلد کوئی خبر آنے کا امکان نہیں ہے جس سے گھبراہٹ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جگریتی کے مطابق انھوں نے نومبر میں کووڈ ہو چکا ہے اور ان کے جسم میں اینٹی باڈیز کی مقدار بھی تسلی بخش ہے لیکن انھیں ڈاکٹر نے اس دوران انتہائی محتاط رہنے کو کہا ہے۔
اس حوالے سے سامنے آنے والی تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ حاملہ خواتین کو کووڈ سے ہلاک ہونے کا زیادہ خدشہ ہے اور اس بات کا بھی زیادہ امکان ہے کہ وہ وائرس سے شدید بیمار ہو کر آئی سی یو میں داخل ہوں۔
انڈیا میں کورونا وائرس سے سینکڑوں خواتین ہلاک ہوئی ہیں لیکن اس بارے میں سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔
انڈیا میں کورونا وائرس کے باعث والدین کھو دینے والے بچوں کا پرسان حال کون ہوتا ہے؟
،تصویر کا ذریعہCHANDAN CHOWDHARY
'تنہا رہ جانے کا احساس سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ گھر میں اس کھانے کے سوا کچھ نہیں تھا جو میری ماں نے ہمارے لیے آخری بار پکایا تھا۔ کسی نے بھی ہمیں اس وقت تک کچھ نہیں دیا جب تک کہ ہماری کورونا کی جانچ منفی نہیں آ گئی۔'
18 سالہ سونی کے والدین کووڈ کے باعث ہلاک ہوئے ہیں اور اب چھوٹے بھائی اور بہن کی ذمہ داری ان ہی کے سر ہے۔
انڈیا میں کووڈ سے مرنے والوں کی تعداد دنیا کے سب سے زیادہ اموات والے ممالک میں سے ایک ہے اور سونی جیسے حالات بہت سے لوگوں کو درپیش ہیں۔
تاہم وبائی مرض کی وجہ سے جو بچے یتیم ہو رہے ہیں ان کا پرسان حال کون ہوتا ہے؟
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر: حکومت کا پہلی سے آٹھویں جماعت کے تمام طلبا کو بغیر امتحانات اگلی جماعت میں ترقی دینے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے کورونا وبا کے پیش نظر پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے تمام طلبا کو بغیر امتحانات کامیاب قرار دیتے ہوئے اگلی جماعتوں میں ترقی دے دی ہے۔
ہمارے ساتھی اورنگزیب جرال کے مطابق اس خطے کے محکمہ تعلیم ایلیمنٹری ایند سیکنڈری کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے کورونا وائرس کے تدارک اور تعلیمی اداروں میں پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے سالانہ امتحانات کی تکمیل اور نتائج کی تدوین کے لیے ناسازگار حالات کی بنا پر ان کلاسز کے تمام طلبا کو کامیاب قرار دیتے ہوئے انھیں بالترتیب اگلی جماعتوں میں ترقی دینے کی منظوری دے دی ہے۔
انٹرمیڈیٹ اور میٹرک وایف ایس سی بورڈ میرپور کے چئیرمین پروفیسر قاضی ابراہیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بورڈ کے زیر اہتمام رواں ماہ 26 جون سے بارہویں جماعت، 14 جولائی سے دسویں، 10 اگست سے گیارہویں اور 31 اگست سے نویں جماعت کے امتحانات منعقد کیے جایں گے۔
جلد صحتیابی اور علامات کی کم شدت کی وجہ ویکسینیشن تھی: شفقت محمود
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وفاقی وزیرِ برائے تعلیم شفقت محمود نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے صحتیاب ہو چکے ہیں اور آج سے کام پر جانا شروع کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ان میں کووڈ کی علامت کی شدت میں کمی اور جلد صحتیابی کی وجہ بغیر کسی شک کے ویکسینیشن ہی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ظاہر ہے ویکسینز کام کرتی ہیں اور یہ اس انتہائی خطرناک بیماری کے خلاف بہترین دفاع ہیں۔
بریکنگ, چین میں برڈ فلو کی قسم H10N3 کی انسانوں میں منتقلی کا پہلا کیس رپورٹ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چینی حکام کے مطابق ملک میں ایک 41 سالہ شخص برڈ فلو کی ایک قسم H10N3 سے متاثر ہو گئے ہیں جو اس وائرس کی انسانوں میں منتقلی کا پہلا کیس ہے۔
حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ شخص برڈ فلو سے کیسے متاثر ہوا لیکن برڈ فلو H10N3 قسم کے حوالے سے موجود معلومات کے مطابق انسانوں سے انسانوں میں اتنی آسانی سے نہیں پھیلتا۔
یہ شخص صوبہ جیانگسو کا رہائشی تھا اور یہ اب اس مرض سے صحتیاب ہو کر ہسپتال سے گھر منتقل ہونے کے قریب ہے۔
برڈ فلو کی مختلف اقسام ہیں اور یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کہ جو افراد پولٹری کے کاروبار سے منسلک ہیں وہ اس سے متاثر ہو جائیں۔
چینی حکام کے مطابق اس دوران کی جانے والی کانٹیکٹ ٹریسنگ سے مزید کیسز کی شناخت نہیں ہو سکی۔
بیجنگ کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کی جانب سے منگل کے روز بتایا گیا تھا کہ یہ شخص شہر ژینجیانگ کا رہائشی ہے اور اسے 28 اپریل کو ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا اور تقریباً ایک ماہ بعد یہ معلوم ہو سکا تھا کہ اسے برڈ فلو کی قسم H10N3 نے متاثر کیا تھا۔
اخبار گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق این ایچ سی نے کہا کہ ’اب تک H10N3 کے انسانوں میں کوئی بھی کیس رپورٹ نہیں ہوئے۔ یہ کیس بھی پولٹری سے انسانوں میں منتقلی کا ایک کیس ہے اور اس حوالے سے بڑے پیمانے پر اس کے پھیلاؤ کے امکانات بہت کم ہیں۔
کمیشن کے مطابق H10N3 کم پیتھوجینک ہے یعنی اس سے متاثر ہونے کے بعد پولٹری میں بیماری کی شدت بہت زیادہ نہیں ہوتی اور اس کا پھیلاؤ بھی تیزی سے نہیں ہوتا۔
عالمی ادارہ صحت نے روئٹرز کو بتایا کہ ’اس وقت H10N3 کے انسانوں سے انسانوں میں پھیلاؤ کے حوالے سے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا مزید کہنا تھا کہ جب تک پولٹری میں ایویئن انفلوئینزہ پھیلتا رہے گا انسانوں میں اس کے اکا دکا کیسز سامنے آنا حیرت کی بات نہیں ہے۔ لیکن یہ اس بات کی یاد دہانی ضرور ہے کہ انفلوئینزہ کی عالمی وبا سے بھی ہمیں بہت خطرہ ہے۔
خیال رہے کہ پرندوں میں پایا جانے والی وائرس کی قسم H5N8 کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے اکثر یورپی ممالک میں پولٹری کو بڑے پیمانے پر ذبح کیا جا رہا ہے۔
رواں برس فروری میں H5N8 قسم کی انسانوں میں منتقلی کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔
بریکنگ, انڈیا میں کووڈ کی دوسری لہر کے دوران 594 ڈاکٹر ہلاک ہوئے: انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث ہونے والا نقصان اب بھی جاری ہے۔ حالانکہ یومیہ کیسز کی شرح میں بتدریج کمی دیکھنے کو مل رہی ہے لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔
یہ خطرہ سب سے زیادہ ڈاکٹروں کے لیے ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انڈیا میں دوسری لہر کے دوران 594 ڈاکٹروں کی ہلاکت رپورٹ ہو چکی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
یہ اعداد و شمار انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کی جانب سے شائع کیے گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر اموات دارالحکومت نئی دہلی میں ہوئی ہیں جہاں 107 ڈاکٹروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ ریاست بہار میں 96 جبکہ اترپردیش میں 67 ڈاکٹروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
انڈیا میں کووڈ کی صرف ڈیلٹا قسم کے حوالے سے تشویش ہے: عالمی ادارہ صحت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اسے انڈیا میں پائی جانے والے کووڈ کی قسم کی ذیلی اقسام میں سے صرف ایک ہی قسم کے حوالے سے تشویش ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کووڈ 19 کی ایک قسم جسے اب ’ڈیلٹا‘ کا نام دیا گیا ہے کے بارے میں اسے تشویش ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اسے ملک میں پائی جانے والی وائرس کی دیگر دو اقسام کے حوالے سے تشویش نہیں ہے اور ان کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہو چکی ہے۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انڈیا میں کورونا کی دوسری لہر کی ذمہ دارا کووڈ کی B.1.617 قسم تھی۔ یہ ایک ٹرپل میوٹنٹ قسم ہے کیونکہ یہ مزید تین ذیلی اقسام میں تقسیم ہو جاتی ہے۔
گذشتہ ماہ عالمی ادارہ صحت نے اس قسم کی تمام ذیلی اقسام یعنی سٹرینز کو بھی تشویش کا باعث قرار دیا تھا تاہم منگل کے روز ادارے کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اب صرف ایک تشویشناک ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس وبا کے بارے میں اپنے ہفتہ وار اپ ڈیٹ پروگرام کے دوران کہا ہے کہ یہ واضح ہے کہ اس وقت کورونا کے زیادہ تر کیسز B.1.617.2 کے باعث دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
پاکستان میں لوگ ویکسین لگوانے سے ہچکچا کیوں رہے ہیں؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کیا کورونا کی ویکسین لگوانے میں آپ کو کوئی ہچکچاہٹ ہے؟ پاکستان کی لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر کورونا ویکسین سے متعلق لوگوں کے خدشات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بریکنگ, انڈیا میں مزید ایک لاکھ 33 ہزار مثبت کیسز، 3196 اموات
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈیا میں گذشتہ روز ایک لاکھ 33 ہزار افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ 3196 ہلاک ہوئے ہیں۔
گذشتہ روز دو لاکھ 31 ہزار افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں اور انڈیا میں 23 لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے۔
انڈیا میں مثبت کیسز کی شرح گر کر چھ اعشاریہ تین فیصد ہو گئی ہے۔