آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا میں مزید 3900 سے زیادہ ہلاکتیں، امریکہ کی کورونا ویکسین کے ’پیٹنٹ ختم کرنے‘ کی حمایت

انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث گذشتہ روز چار لاکھ 12 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے جبکہ 3900 سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہوئے۔ ادھر امریکہ نے کورونا ویکسین کے پیٹنٹ ختم کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’غیرمعمولی حالات کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. انڈیا: آکسیجن کا دباؤ کم ہونے کے باعث کووڈ 19 سے متاثرہ کم از کم 12 مریضوں کی موت ہو گئی

    بی بی سی ہندی کے نامہ نگار عمران قریشی نے بنگلور سے بتایا کہ ریاست کرناٹک کے چامراج نگر ضلع کے ایک اسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کورونا سے متاثرہ کم از کم 12 مریضوں کی موت ہوگئی ہے۔ یہ ہسپتال میسور شہر سے 60 کلومیٹر دور ہے۔

    چامرجان نگر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے ڈاکٹروں کی تمام کوششوں کے باوجود مریضوں کی آکسیجن لیول معمول پر نہیں آ سکی اور وہ دم توڑ گئے۔

    میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر جی ایم سنجیو نے بی بی سی ہندی کو بتایا: ’رات 12 بجے کے درمیان آکسیجن کا دباؤ کم ہوا۔ 122 مریضوں میں سے 12 مریض کووڈ کے علاوہ دیگر سنگین بیماری میں مبتلا تھے۔ ہم نے آکسیجن کا دباؤ بڑھانے کے لیے بہت ساری کوششیں کیں لیکن آج صبح تک ہم 12 مریضوں کو نہیں بچا سکے۔‘

    یہ تمام مریض وینٹیلیٹر پر تھے۔

    ڈاکٹر سنجیو نے کہا: ’ہمیں ہر 35 منٹ میں 10 آکسیجن سلنڈرز کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہمیں آکسیجن ملنے میں تاخیر ہوئی اور رات 12 سے 2 بجے کے درمیان آکسیجن کی سطح نیچے آگئی۔‘

  2. بریکنگ, پاکستان اب تک تین کروڑ ویکسین حاصل کرنے کا معاہدے کر چکا ہے: ڈاکٹر فیصل سلطان

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اب تک کورونا وائرس کی مختلف ویکسینز کی تین کروڑ خوراکیں حاصل کرنے کا معاہدہ کر چکا ہے۔

    انھوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ بہت جلد قومی ادارہ صحت (نیشنل انسٹٹیوٹ آف ہیلتھ) ماہانہ تیس لاکھ ویکسین تیار کرنے کا قابل ہو جائے گا جو کہ چینی ساختہ کانسینو ویکسین ہوگی اور اس کی مدد سے پاکستان کا ویکسین حاصل کرنے کے لیے دیگر ممالک پر انحصار کم ہو جائے گا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ مناسب نہیں ہے کہ پاکستان کا ان ممالک سے موازنہ کیا جائے جہاں ویکسین مقامی طور پر تیار ہوتی ہے اور موازنہ کرتے ہوئے سیاق و سباق کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ مختلف ممالک کا حجم اور آبادی کتنی ہے اور پاکستان کی کتنی۔

    انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاں ویکسینشن بے حد ضروری ہے، اس سے بھی زیادہ اہم بات یا ہے کہ پاکستان اس موجودہ لہر میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اور تمام قواعد اور ایس او پیز پر پوری طرح عمل کرے۔

  3. چینی سوشل میڈیا ویب سائٹ ویبو پر انڈین کووڈ بحران کے بارے میں تضحیک آمیز پوسٹ پر تنقید

    چینی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ویبو پر چین کی کمیونسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک صارف نے پوسٹ کی جس میں انڈیا میں جاری کورونا وائرس کے بحران کا مذاق اڑایا گیا تھا اور اس پھر سوشل میڈیا میں تنازع چھڑ گیا۔

    اس پوسٹ میں ایک تصویر میں دکھایا گیا کہ چین میں ایک راکٹ لانچ ہو رہا ہے جبکہ اس کے ساتھ انڈیا میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی آخری رسومات کی تصویر بھی ہے۔

    اس تصویر کے ساتھ عنوان درج ہے: ’چین میں لگائی گئی آگ اور انڈیا میں لگائی گئی آگ۔‘

    ہفتے کے روز کی گئی اس پوسٹ کو اب حذف کر دیا گیا ہے۔

    صارفین نے اس پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ نامناسب ہے اور چین کو چاہیے کہ وہ انڈیا کے ساتھ ہمدردی دکھائے۔

    چینی میڈیا ادارے گلوبل ٹائمز کے مدیر ہو ژیجن نے بھی اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انسانیت کا پیغام دینا چاہیے، انڈیا کے ساتھ اظہار ہمدردی دکھائیں۔‘

    یہ پوسٹ ایسے وقت میں آئی ہے جب جب ایک روز قبل چینی صدر شی جن پنگ نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو کووڈ کے حوالے سے پیغام بھیجا تھا اور ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

  4. انڈیا میں مجموعی متاثرین کی تعداد دو کروڑ کے قریب پہنچ گئی، ملک میں تمام بالغوں کے لیے ویکسینشن شروع

    انڈیا میں حکومت نے باضابطہ طور پر تمام بالغان کے لیے ویکسینشن کا سلسلہ شروع کر دیا ہے لیکن وہیں دوسری جانب ملک میں وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے۔

    تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز انڈیا میں 368147 نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 3417 افراد کی مصدقہ ہلاکت ہوئی ہے، جس کے ساتھ اب ملک میں مجموعی طور پر اموات کی تعداد 218959 ہو چکی ہے۔

    ویکسینشن کے حوالے سے دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں۔

  5. بریکنگ, اسلام آباد میں آٹھ سے 16 مئی تک مختلف پابندیاں عائد، لازمی سروسز مستثنی

    اسلام آباد کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق دارالحکومت میں کورونا وائرس میں اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے آٹھ سے 16 مئی تک مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں تاہم لازمی سروسز سے منسلک کاروبار اور دفاتر اس پابندی سے مستثنی رہیں گے۔

    اعلامیے کے مطابق چاند رات کے بازاروں پر بھی پابندی رہے گی اور اس کے علاوہ سیاحت پر پابندی کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت سیاحتی مقامات اور ان کے نزدیک موجود ہوٹل اور ریستوران وغیرہ سب بند رہیں گے۔

    بین الصوبائی اور شہروں کے درمیان سفر کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے لیکن اس میں نجی گاڑیاں اور رکشہ ، ٹیکسی وغیرہ جس میں گنجائش سے 50 فیصد سے کم مسافروں کی موجودگی کی صورت میں انھیں سفر کی اجازت ہوگی۔

  6. بریکنگ, پاکستان میں لگاتار دوسرے روز بھی پانچ ہزار سے کم نئے متاثرین کی تشخیص، 79 اموات

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 45 ہزار سے زیادہ ٹیسٹس کے بعد پاکستان میں 4213 نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے اور جس کے تحت انفیکشن ریٹ نو اعشاریہ ایک سات ہے۔

    اسی دورانیے میں 79 اموات کی تصدیق ہوئی ہے اور اب پاکستان میں مجموعی اموات کی تعداد 18149 ہو چکی ہے۔

    خوش آئند بات یہ ہے کہ نہ صرف دو دن سے نئے متاثرین کی تعداد میں قدرے کمی سامنے آئی ہے بلکہ فعال مریضوں کی تعداد میں لگاتار تین دن سے کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

  7. بی بی سی کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی اردو کے تازہ ترین لائیو پیج میں خوش آمدید جہاں آپ کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستان اور دنیا بھر کی معلومات سے آگاہ رہ سکتے ہیں۔

    اگر آپ گذشتہ چند دنوں کے واقعات جاننا چاہتے ہیں تو ہمارے پچھلے لائیو پیجز کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔