آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انڈیا میں مزید 3900 سے زیادہ ہلاکتیں، امریکہ کی کورونا ویکسین کے ’پیٹنٹ ختم کرنے‘ کی حمایت

انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث گذشتہ روز چار لاکھ 12 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے جبکہ 3900 سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہوئے۔ ادھر امریکہ نے کورونا ویکسین کے پیٹنٹ ختم کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’غیرمعمولی حالات کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔‘

لائیو کوریج

  1. بنارس: وزیراعظم کے حلقے میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں پر شدید غم و غصہ, گیتا پانڈے، بی بی سی نیوز

    انڈیا کا شہر بنارس (وارانسی) اس وقت ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔

    اترپردیش کے اس ضلعے کے لوگ شدید غصے میں ہیں اور وہ پوچھتے نظر آتے ہیں کہ ان کے علاقے کا رکن پارلیمان کہاں ہے۔

    یہ دراصل ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کا حلقہ ہے اور یہاں کورونا بہت تیزی سے پھیلا ہے۔ کئی لوگ 29 مارچ کو ہولی کے تہوار کے لیے گھروں کو لوٹے جبکہ 18 اپریل کو ہونے والے انتخابات، جو ماہرین کے خبردار کرنے کے باوجود منعقد ہوئے، نے بھی وائرس کو پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا۔

    بنارس میں اب تک 70 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں اور 690 اموات ہوئی ہیں جن میں سے 65 فیصد یعنی 40 ہزار سے زیادہ کیسز یکم اپریل کے بعد سامنے آئے ہیں۔

    اگرچہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں یومیہ اموات کی تعداد 10 سے 11 کے درمیان ہے تاہم مقامی افراد کے مطابق ایسا ممکن ہی نہیں۔

    دو شمشان گھاٹ کے قریب رہنے والے ایک شہری نے بتایا کہ ایک ماہ سے گنگا کنارے واقعے ان گھاٹوں پر چتائیں جلانے کا کام بغیر کسی وقفے سے جاری ہے۔

    ایک مقامی ریتوران کے مالک کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور وزار اعلی چھپ گئے ہیں اور مقامی بی جے پی رہنما بھی لاپتہ ہیں۔ ’انھوں نے اپنے فون بند کر دیے ہیں اور بنارس کے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔‘

  2. گلگت بلتستان میں 15 سیاحوں میں کورونا وائرس کی تصدیق

    محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے 15 سیاحوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جن کو اس وقت تلاش کرکے ہوٹلوں میں قرنطینہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    محکمہ صحت گلگت بلتستان کے کورونا کے لیے فوکل پرسن ڈاکٹر شاہ زمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جہاں پر سیاحوں پر یہ پابندی ہے کہ وہ اپنا کورونا منفی ٹیسٹ ساتھ لے کر گلگت بلتستان میں داخل ہوں وہاں پر محکمہ صحت سیاحوں کی متفرق ٹیسٹنگ بھی کرتا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’جس کے نتیجے میں اب تک 15 سیاحوں میں کورونا پازیٹو آیا ہے۔

    ڈاکٹر شاہ زمان کے مطابق ان سیاحوں کو ڈیٹا کی مدد سے تلاش کرکے ان کو ہوٹلوں میں قرنیطیہ کیا جا رہا ہے۔ جس میں رابطے کی سہولتوں کی وجہ سے کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے زمینی حقائق باقی پاکستان سے کچھ ہٹ کر ہیں۔ یہاں پر وہ سہولتیں موجود نہیں ہیں جو باقی پاکستان میں ہیں۔

    اس وقت ہنزہ اور گلگت میں آکسیچن پلانٹ نصب کیے گے ہیں۔ مگر مریضوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے تو شاید وہ ضرورت پوری نہ کر پائیں۔ ڈاکٹر شاہ زمان کے مطابق اس طرح باقی سہولتوں کی بھی صورتحال خراب ہے۔

    ’پاکستان کے باقی علاقوں میں تو ہنگامی بنیادوں پر بھی انتطامات ممکن ہیں مگر گلگت بلتستان کے محل وقوع کی وجہ سے شاید ایسا ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔ اس لیے گلگت بلتستان میں کچھ سخت ایس او پیز متعارف کروائے گئے ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ سیاحوں سے گزارش ہے کہ وہ گلگت بلتستان آنے سے پہلے ہر صورت میں اپنا ٹیسٹ کروائیں تاکہ وہ خود بھی پریشانی سے بچ سکیں اور کورونا پھیلاؤ کا بھی سبب نہ بنیں۔

    اب تک گلگلت بلتستان میں مجموعی ہلاکتیں ایک سو سات ہیں، اموات کی شرح دو فیصد ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر مثبت کیسز کی شرح 0.77 فیصد ہے۔

  3. بریکنگ, انڈیا میں 3400 سے زیادہ ہلاکتیں، مثبت کیسز کی شرح 19 فیصد سے بڑھ گئی

    انڈیا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا زور فی الحال ٹوٹتا دکھائی نہیں دے رہا اور ملک میں گذشتہ روز یوں تو پہلے کے مقابلے میں کم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں لیکن اس کی ایک ٹیسٹوں کی کمی ہے اور اس دوران مثبت کیسز کی شرح 19 فیصد آئی ہے۔

    گذشتہ روز ملک میں 3435 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے۔

    ملک میں گذشتہ روز 18 اعشاریہ چھ لاکھ کورونا ٹیسٹ کیے گیے، جو گذشتہ دنوں کے مقابلے میں قدرے کم ہے، لیکن ان میں 19 فیصد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی، جو پریشان کن ہے۔

  4. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور کورونا وائرس کے باعث 161 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ چند روز سے ملک میں ہلاکتوں کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آ رہی تھی اور گذشتہ روز ملک میں ایک عرصے کے بعد 100 سے کم اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔

    ادھر ملک میں نئے مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن گذشتہ روز ٹیسٹوں کی تعداد بھی انتہائی کم رہی ہے۔ اس وقت ملک میں مثبت کیسز کی شرح تقریباً نو فیصد ہے۔

  5. چین کی تیار کردہ ویکسین کو عالمی ادارہ صحت کے کوویکس پروگرام میں شامل کرنے پر غور شروع

    چین کی تیار کردہ دو اقسام کی ویکسین کو عالمی ادارہ صحت کے پروگرام کوویکس میں شامل کرنے کے لیے مشاورت شروع کر دی ہے۔ اس حوالے سے اس ہفتے کے اختتام پر کوئی نتیجہ سامنے آنے کے امکانات ہیں۔

    اگر یہ ویکسین عالمی ادارہ صحت کی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو پھر چین پہلا غیر مغربی ملک ہو گا کہ جس کی ویکسین عالمی ادارہ صحت دنیا میں فراہم کرے گا، یوں دنیا میں ویکسین تقسیم کرنے سے متعلق چین کو اہم کردار مل جائے گا۔

    چین کے ریاستی خبر رساں ادارے سی جی ٹی این کے مطابق چین نے پہلے ہی دوست ممالک کو اپنی تیار کردہ ویکسین ۔۔ سائنو فارم اور سائینوویک۔۔ بھیج دی ہے اور اس وقت 67 ممالک اور دیگر ایسے علاقے ہیں جہاں چین کی ویکسین ہی لگائی گئی ہے۔

    ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی طرف سے چین کی ویکسین کی منظوری نہ دینے کی وجہ ڈیٹا میں شفافیت اور اس کے مؤثر ہونے سے متعلق تحفظات تھے۔

  6. یونان میں آؤٹ ڈور کھانوں کا دور پھر واپس لوٹ آیا

    یونان میں کئی ماہ بعد باہر بیٹھ کر کھانا کھانے کا دور ایک بار پھر واپس لوٹ آیا ہے۔

    یونان میں پیر کو کورونا وائرس سے متعلق پابندیوں میں نرمی کے بعد اب ریستوران، کافی شاپس اور بارز کو اب یہ اجازت مل گئی ہے کہ وہ چھ تک کے گروپ کو کھانا یا مشروب آفر کر سکتے ہیں۔

    یونان میں گذشتہ برس اس حوالے سے پابندیوں میں سختی کی گئی تھی جب ملک کورونا وائرس کی دوسری لپیٹ میں آ گیا تھا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ اب وہ ملک کو غیر ملکی سیاحت کے لیے دوبارہ کھول دیں گے۔

    • انڈیا کی ریاست بہار میں پٹنہ میونسپل کارپوریشن نے وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی چتاؤں کے لیے 300 ٹن لکڑیاں جمع کر لیں

      پٹنہ میونسپل کارپوریشن نے مختلف علاقوں سے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی چتاؤں کے لیے 300 ٹن لکڑی درآمد کر لی ہے۔

      کارپوریشن نے پیر کو لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تین میں سے کسی بھی گھاٹ جانے سے قبل کنٹرول روم میں فون کریں گے اور آخری رسومات کا وقت طے کریں گے۔

      ان تین میں سے ایک گھاٹ کا نام بمبو گھاٹ ہے جہاں صرف کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی چتا کی جاتی ہے۔

      کارپوریشن نے واضح کیا ہے کہ کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے کوئی پیسے وصول نہیں کیے جائیں گے۔

      اس وقت بہار کی ریاست میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 1,07,667 بنتی ہے۔ اس ریاست میں اس وائرس سے صحت مند ہونے والوں کی شرح 78.29 فیصد بنتی ہے۔

      بہار ریاست کے دارالحکومت پٹنہ میں متاثرین کی تعداد 17,224 بنتی ہے جبکہ 3 مئی کو پٹنہ میں اس وائرس سے 24 افراد ہلاک بھی ہوئے۔ اس ریاست میں کورونا وائرس سے کل 2821 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دیگر ریاستوں کی طرح بہار پر بھی یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ متاثرین کی حقیقی تعداد کو چھپا رہی ہے۔

    • کورونا وائرس: دلی حکومت نے فوج کی مدد طلب کر لی

      انڈیا کے دارالحکومت دلی کی حکومت نے کورونا وائرس بحران سے نمنٹے کے لیے فوج کی مدد طلب کر لی ہے۔ اس وقت کورونا وائرس کی وجہ سے دلی میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے اور سہولیات کا فقدان ہے۔اس وقت دلی میں آکسیجن اور ہستالوں میں انتہائی نگہداشت والے بیڈز کی قلت ہو گئی ہے۔

      انڈیا میں کورونا وائرس کی نئی لہر میں دلی انتہائی متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔

    • گذشتہ دو ہفتوں میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد وبا پھوٹنے کے ابتدائی چھ ماہ سے بھی زیادہ ہو گئی: عالمی ادارہ صحت

      عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ تیدروس ادھانوم غبرائسس نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں گذشتہ دو ہفتوں میں کورونا وائرس سے جتنے لوگ متاثر ہوئے ہیں اتنے تو اس وبا کے آغاز کے چھ ماہ میں بھی نہیں ہوئے تھے۔

    • ایسٹ کراچی میں کورونا وائرس پھیلنے کی شرح 22 فیصد تک پہنچ گئی

      وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایسٹ کراچی میں گذشتہ ایک ہفتے میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ 22 فیصد تک جا پہنچا ہے۔

      وزیر اعلیٰ ہاؤس سندھ میں کورونا وائرس کی روک تھام سے متعلق ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام سے وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے حوالے سے ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے احکامات دیے ہیں۔

      اس اجلاس میں صوبائی وزرا سمیت جن میں ڈاکٹر عذرا فضل، سعید غنی اور مرتضی وہاب شامل ہیں نے شرکت کی جبکہ اس اجلاس میں سیکریٹری صحت سمیت دیگر اہم صوبائی حکام بھی شریک ہوئے۔

      اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ ایسٹ کراچی میں 5609 ٹیسٹ لیے گیے جن میں سے 1257 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ یہ شرح 22 فیصد بنتی ہے۔

      حیدر آباد میں 1336 ٹیسٹ کیے گئے جن میں 6962 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ وائرس پھپلاؤ کی یہ شرح 19 فیصد بنتی ہے۔

      ساؤتھ کراچی میں 13 فیصد کے حساب سے وائرس پھیل رہا ہے جبکہ سنٹرل کراچی میں دس فیصد کی شرح سے وائرس کے پھیلاؤ کے رحجان کا پتا لگایا گیا ہے۔

    • لاہور میں اعتکاف کی اجازت نہیں ہو گی، پنجاب کے دس اضلاع میں ایس پی او پیز کے ساتھ اعتکاف کی اجازت

      کمشنر لاہور نے کہا ہے کہ اس سال لاہور ڈویژن میں حکومت پنجاب کے احکامات پر اعتکاف کی اجازت نہیں ہے۔

      ان کے مطابق عوام کے تعاون سے کورونا وائرس کم ہوا ہے مگر خطرہ ابھی منڈلا رہا ہے۔

      کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان نے اپیل کی ہے کہ کہ گھر پر عبادات کو ترجیح دیں اور احتیاط میں حیات ہے۔

      ان کے مطابق ذرا سی بھی بے احتیاطی اور کورونا ایس اوپیز کی خلاف ورزی کی گنجائش نہیں ہے۔

      صوبے میں بڑھتے ہوئے کیسز اور شدید بیمارہونے والوں کی شرح میں اضافہ کی باعث صرف کم مثبت شرح والے اضلاع میں اعتکاف کی اجازت دی گئی ہے۔

      نوٹفیکیشن کے مطابق صرف دس اضلاع کی مساجد میں اعتکاف بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔

      کم مثبت شرح والے اضلاع میں ساہیوال، بہاولپور،چنیوٹ، گجرات، اوکاڑہ، اٹک، سیالکوٹ، ڈی جی خان، حافظ آباد اور جھنگ شامل ہیں۔

      سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق زیادہ شرح والے اضلاع کے شہری گھروں پر اعتکاف کریں۔

      انھوں نے عوام سے گزارش کی ہے کہ ایس او پیز پر عمل کریں۔

    • برطانیہ میں 50 ملین تک کورونا وائرس ویکسین لگوائی جا چکی ہے: وزیر صحت

      برطانیہ کے وزیر برائے صحت ہیٹ ہانکاک نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ میں اب تک 50 ملین کورونا وائرس ویکسین لگائی جا چکی ہیں۔

      ایک ٹویٹ میں انھوں نے اس بڑی کامیابی کی تعریف کی اور ہر کسی کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے قومی کوششوں میں حکومت کا ساتھ دیا۔

      برطانوی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ یہ ویکسین ہمیں دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد دے گی۔ انھوں نے ملک بھر میں اس قدر زیادہ ویکسین لگوائے جانے کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ انھوں نے برطانوی شہریوں پر زور دیا ہے کہ جب آپ کو ویکسین کے لیے بلایا جائے تو ویکسین ضرور لگوایے۔

    • خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے 31 مریض دم توڑ گئے

      محکمہ صوبہ خیبر پختونخوا کے مطابق صوبہ بھر میں نئے 526 کورونا کیسز کے ساتھ مجموعی تعداد 120590 ہوگئی ہے۔

      گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 31 کورونا مریض دم توڑگے ہیں، جس سے صوبہ بھر میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 3423 ہو گئی ہے۔

      صوبے میں سات روزہ ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق پازیٹو شرح دس فیصد سے کچھ اوپر تک پہنچ چکی ہے۔ چند دن پہلے تک یہ شرح پندرہ فیصد تک تھی۔

      محکمہ صحت کے مطابق پشاور ڈویژن میں 13 مریض ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 197 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

      مردان ڈویژن میں 11 ہلاکتیں اور 39 نئے کیسزسامنے آئے ہیں۔

      مالاکنڈ ڈویثرن میں چار ہلاکتیں اور 151 مزید افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

      ہزارہ ڈویژن میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی جبکہ 30 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ کوہاٹ ڈویژن میں بھی کوئی ہلاکت نہیں ہوئی جبکہ 59 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

      بنوں ڈویژن میں دو ہلاکتیں اور نو نئے مریض جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مریض ہلاک ہوا ہے جبکہ 41 نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

      دو مئی تک کے ڈیٹا تجزیے کے مطابق صوبہ بھر میں کورونا پازیٹو مریضوں کی شرح اس وقت 10.1 فیصد ہے۔

      صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور خان جھگڑا کے مطابق پابندیاں عائد کرنا مشکل تھا، جس کے کاروبار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مگر سخت محنت کے نتائج مل رہے ہیں اور کورونا مریضوں کی شرح نیچے جارہی ہے۔

      ان کا کہنا تھا کہ پشاور اور مردان میں سات روز کے دوران پازیٹو کیسز کی شرح کم ہوئی ہے۔

      تیمور خان جھگڑا کے مطابق ہائی ڈیسپنڈیرسی یونٹ(ایچ ڈی یو) میں اس وقت پچھلے سات روز سے مریضوں کی تعداد کم ہو کر 953 رہ گئی ہے۔ یہ تعداد پہلے 1081 تھی۔

      اس وقت صوبہ بھر میں 1789مریض مختلف ہسپتالوں میھں زیر علاج ہیں۔

    • بورس جانسن: 21 جون سے برطانیہ میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی شرط کے خاتمے کے روشن امکانات موجود ہیں

      برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ برطانیہ میں 21 جون سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک میٹر اور اس سے زائد کے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی شرط کے خاتمے کے روشن امکانات موجود ہیں۔

      برطانوی وزیراعظم نے ہارٹلیپول ہسپتال کے دورے کے دوران کہا کہ جس طرح برطانیہ میں ویکسین کا عمل آگے بڑھ رہا ہے اس اعتبار سے برطانیہ میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی شرط بھی ختم کیے جانے کے امکانات موجود ہیں۔

      انھوں نے کہا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کے نتائج واقعتاً وبائی امراض میں ظاہر ہونے لگے ہیں۔

      خیال رہے کہ برطانیہ میں 17 جون سے سفری پابندیوں جبکہ 21 جون سے کورونا وائرس سے متعلق پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا جائے گا۔

      ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں آگے بڑھنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ایسا لگ رہا ہے کہ 17 مئی بہت اچھا دن ثابت ہوگا۔ ہسپتال کے دورے کے دوران بورس جانسن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ برطانیہ میں لاک ڈاؤن ہٹانے کے بعد بھی برطانیہ یک دم عالمی سیاحوں اور مسافروں کے لیے دروازے کھولنے سے متعلق احتیاط برتے گا تا کہ وائرس واپس نہ آ سکے۔

      بورس جانسن کے مطابق انھیں ایسا لگ رہا ہے کہ 21 جون سے ہم ایک میٹر اور اس سے زائد سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پابندی ختم کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

      ان کے مطابق اس کا ابھی بھی انحصار ڈیٹا پر ہی ہو گا کیونکہ ابھی اس حوالے سے ہم کوئی حتمی بات نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ہمیں ابھی اس وبا پر نظر رکھنی ہے جس طرح کے ہم کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ہم کس حد تک اس بیماری سے نمٹنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مگر ابھی مجھے ایسا ہی لگ رہا ہے (کہ ہم جلد ان پابندیوں کو ختم کر دیں گے۔)

    • غریب ممالک کو ویکسین فراہمی کے لیے کوویکس کا ماڈرنا کمپنی سے معاہدہ

      اقوام متحدہ کی سرپرستی میں غریب ممالک کو مفت ویکسین فراہم کرنے سے متعلق بنائے گئے پلیٹ فارم کوویکس نے ڈرگ بنانے والی کمپنی ماڈرنا سے 500 ملین ویکسین کی خوراکیں فراہم کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔

      ایڈوانس خریداری کے اس معاہدے کا پیر کو اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت رواں برس کے اختتام تک 34 ملین ویکسین کی خوراکیں دستیاب ہوں گی اور یوں سال 2022 میں بڑی تعداد میں ویکسین دستیاب ہو گی۔

      ماڈرنا کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ویکسین کوویکس کو رعائتی نرخوں پر دی جائے گی۔

      عالمی ادارہ صحت نے متعدد بار امیر ملکوں سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ دنیا بھر میں ویکسین کی فراہمی کے عمل کو یقینی بنائیں۔ پیر کو سویڈن نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے آسٹرا زینیکا کو ایےک ملین ویکسین کی خوراکوں کی فراہمی یقینی بنائے گا۔

    • ‎پروازوں میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے: پی آئی اے

      این سی او سی کے جاری کردہ اعلامیہ کے حوالے سے قومی ایئر لائنز پی آئی اے نے وضاحت کی ہے کہ نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر کی ہدایات کی روشنی میں مجموعی طور پر پروازوں میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

      پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق اس کمی کے تناظر میں پی آئی اے کا فیصل آباد اور کوئٹہ کا فضائی آپریشن متاثر نہیں ہوگا اور کوئٹہ کا ملک کے دیگر علاقوں سے رابطہ عید کے دنوں میں بھی بحال رہے گا۔

    • یورپی کمیشن نے غیر ضروری سفر کے حوالے سے نئی تجاویز جاری کر دیں

      یورپی کمیشن نے غیر ضروری سفر یعنی سیاحت یا تفریح کی خاطر یورپی یونین سفر کرنے والے مسافروں کے لیے نئی پالیسی تجاویز جاری کر دیں ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ وہ مسافر جنھوں نے ویکسین کی دونوں خوراکیں لگا لی ہیں اور وہ ایسے ملک سے آ رہے ہیں جہاں ’وبا کی صورتحال اچھی ہے‘تو انھیں ای یو میں داخل ہونے کی اجازت دے دی جائے گی۔

      27 ممالک پر مشتمل ای یو نے صرف سات ممالک کو غیر ضروری سفر کی اجازت دی ہے لیکن اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو مزید ممالک کو اجازت مل جائے گی۔

      کمیشن ’ایمرجنسی بریک‘ کا نظام بھی تجویز کیا ہے جس کے تحت ای یو کے ممبر ممالک وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کی صورت میں فوری اور عارضی طور پر وطن میں داخل ہونے والے مسافروں پر پابندی عائد کر سکتے ہیں۔

      یورپی یونین میں ان تجاویز پر منگل سے بحث شروع ہو گی۔

    • بریکنگ, آئی پی ایل: کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے دو کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت، رائل چیلنجرز بنگلور کے ساتھ آج کا میچ ملتوی

      انڈین پریمئیر لیگ کی کولکتہ نائٹ رائیڈرز ٹیم کے دو کھلاڑی ورون چکرورتی اور سندیپ واریر کا کورونا مثبت ہونے کے سبب پیر کے روز ان کا رائل چیلنجرز بنگلور کے ساتھ ہونے والا میچ ملتوی کردیا گیا ہے۔

      بورڈ آف کرکٹ کنٹرول انڈیا کی جانب سے جاری کیے گئے پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ اس میچ کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

      بیان میں بتایا گیا کہ ان دونوں کھلاڑیوں کے ٹیسٹس مثبت قرار آئے ہیں تاہم ٹیم کے دیگر تمام ممبروں کی رپورٹ منفی آئی ہے۔

      ان دونوں کھلاڑیوں نے خود کو قرنطینہ میں محدود کر لیا ہے۔

      واضح رہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس سے ہونے والے شدید بحران کے سبب ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے موقع پر یہ ٹورنامنٹ کرانا نہایت ہی ’غیر مناسب‘ ہے۔

      اسی حوالے سے حال ہی میں بی بی سی اردو کی رپورٹ شائع ہوئی تھی جس پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

    • ‎مختلف یورپی ممالک میں کیا صورتحال ہے؟

      یورپ کے دیگر ممالک کی طرح فرانس میں بھی اب کورونا وائرس کے حوالے سے عائد پابندیوں میں نرمی لائی جا رہی ہے۔

      پیر تین مئی سے مقامی سطح پر سفر کرنے پر لگائی گئی پابندی ختم کر دی گئی ہے اور مڈل اور ہائی سکول کے طلبہ اب سکول جا کر تعلیم حاصل کر سکیں گے۔

      اس کے علاوہ یونان میں بھی نومبر سے لگائے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد پہلی بار ریستورانز اور شراب خانے بھی کھل گئے ہیں۔

      یونان کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے سے ملک میں ان لوگوں کے لیے سیاحت کھول دیں گے جن کو ویکسین لگ چکی ہے یا ان کا کورونا وائرس ٹیسٹ منفی آیا ہے۔

      اس کے علاوہ ہفتے کو پرتگال نے بھی ملک میں نافذ ایمرجنسی ختم کر دی ہے اور سپین کے ساتھ سرحد کو کھول دی ہے۔

      لیکن ابھی بھی زیادہ انفیکشن ہونے کے باعث دیگر ممالک کے لیے سفری پابندی 16 مئی تک رہے گی۔

    • برطانوی اراکین پارلیمان کا چھٹیاں منانے بیرون مالک جانے پر پابندی برقرار رکھنے کا مطالبہ

      برطانوی پارلیمان کے چند اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی مختلف اقسام سامنے آنے کے باعث بیرون ملک چھٹیاں منانے کے لیے جانے پر عائد پابندی کو برقرار رکھا جائے۔

      آل پارٹی پارلیمنٹری گروپ سے تعلق رکھنے والے اراکین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سیاحت کی غرض سے بیرون ملک جانے سے لوگوں کو روکے ورنہ اگر مختلف ہیت والے کورونا وائرس برطانیہ آئے تو اس کی وجہ سے ملک میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن لگانا پڑے گا اور مزید اموات کا بھی خدشہ ہے۔

      توقع ہے کہ حکومت 17 مئی سے بیرون ملک جانے پر لگائی پابندی ہٹا دے۔