یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں ہو رہا!
کورونا وائرس کے بارے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کے دارالحکومت دلی میں مسلسل دوسرے روز بھی ہلاکتوں کی تعداد 400 سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ جے پور گولڈن ہپستال نے کہا ہے کہ اس کے پاس فقط تین گھنٹوں کی آکسیجن سپلائی رہ گئی ہے۔ ادھر پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مزید 78 ہزار افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے۔
کورونا وائرس کے بارے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 74 نئے مریضوں کی شناخت ہوئی ہے جو کہ گذشتہ ایک ہفتے کی کم ترین یومیہ تعداد ہے۔ اسی دوران ان علاقوں میں 6 افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ 85 افراد کورونا وائرس کے مرض سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔
اب تک پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 17 ہزار سے زیادہ مریض سامنے آ چکے ہیں اور 483 اموات واقع ہو چکی ہیں۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا میں کورونا وائرس کی سنگین صورتحال کے پیشِ نظر 1000 وینٹیلیٹر بطور امداد بھیجیں گے۔
وزیراعظم بورس جانس نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ برطانیہ ضرورت کے وقت ہمیشے انڈیا کے ساتھ ہوگا۔
دنیا کے متعدد ممالک اگرچہ کووڈ وبا کی حالیہ لہر کے تباہ کن اثرات کے زیر اثر ہیں وہیں ایشیا کا ایک چھوٹا سا جزیرہ اس وبائی امراض سے دور ایک بہترین جگہ بن کر ابھرا ہے۔ کووڈ کے خلاف مدافعت کے معاملے میں رواں ہفتے سنگاپور بلومبرگ کووڈ ریزیليئنس رینکنگ سرفہرست رہا اور اس نے کئی مہینوں تک سرفہرست رہنے والے ملک نیوزی لینڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
دلی کے علاقے روہینی میں موجود جے پور گولڈن ہاسپٹل کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان کے پاس صرف تین گھنٹوں کی آکسیجن رہ گئی ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ہسپتال کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہسپتال کی سپلائی پہنچنے میں دیر ہوگئی ہے۔
ہسپتال کے اکاؤنٹ سے دلی کے چیف منسٹر کو ٹیگ کیا گیا اور عام آدمی پارٹی کے راجیو چندا کو اور وکیل راہل مہرا کو بھی ٹیگ کیا گیا ہے۔
ہسپتال کا کہا ہے کہ 150 مریضوں کو آکسیجن سپورٹ پر رکھا گیا ہے جن میں سے 70 آئی سی یو میں ہیں۔
اس سے پہلے جمعے کو آکسیجن کی کمی سے 20 مریض ہلاک ہو گئے تھے۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا کے 1707 مثبت کیسز سامنے آئے ہیں اور 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
انھوں نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 16,846کورونا کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 78 ہزار افراد کی یکسینیشن کی گئی ہے۔
وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس موقع پر مزید کہا کہ اس وقت بھکر میں کورونا کے مثبت کیسزکی شرح 33 فیصد،لیہ میں 31 فیصد، ملتان میں 25 فیصد، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 24 فیصد، فیصل آباد میں 22 فیصد، گوجرانوالہ میں 20 فیصد، پاکپتن میں 19فیصد، لاہورمیں 18فیصد، ڈیرہ غازی خان میں 18فیصد، سرگودھامیں 18 فیصد، بہاولنگرمیں 17فیصد، وہاڑی میں 16 فیصد، خانیوال میں 15 فیصد، میانوالی میں 15 فیصد، راجن پورمیں 14 فیصد، خوشاب میں 14 فیصد، جھنگ میں 13 فیصد،چکوال میں 13 فیصد، حافظ آباد میں 11 فیصد، بہاول پور میں 10 فیصد، ساہیوال میں 10 فیصد، قصور میں 9 فیصد، رحیم یارخان میں 9 فیصد، شیخوپورہ میں 9 فیصد، مظفرگڑھ میں 8 فیصد، راولپنڈی میں 8 فیصد اورگجرات میں 8 فیصد تک جاپہنچی ہے۔
پنجاب کے ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہیڈ کواٹرز ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کیلئے2730 بسترمختص کے گئے ہیں جن میں سے 600 بستروں پر کورونا کے مریضوں کا علاج جاری ہے۔
ڈی ایچ کیوز اور ٹی ایچ کیوز میں کورونا کے مریضوں کے لیے 97 وینٹی لیٹرزمختص ہیں جن میں سے 20 زیر استعمال ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاہورمیں اس وقت 30 سمارٹ لاک ڈاؤنز نافذ العمل ہیں۔
`شام 6 بجے سے سحری تک تمام تر سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
رمضان بازار، پھل،ڈیری، گوشت، تندور، سمال گروسری اور کریانہ سٹورصبح 9 بجے سے شام6 بجے تک کھلے رہیں گے۔ `
اس وقت اِن ڈورشادیوں، مارکیز، ہالز، کمیونٹی سنٹرز اور ایونٹ ہالز پرمکمل پابندی ہے۔ اِن ڈور اور آؤٹ ڈورڈائیننگ پر مکمل پابندی ہے۔ ہرقسم کے تفریحی مقامات بند کردیے گئے ہیں۔ سرکاری دفاترمیں 50 فیصد ہوم پالیسی اورصبح 9 بجے سے دوپہر2 بجے تک کے اوقات کار کو یقینی بنایا جارہا ہے۔
صوبے کے سیمینا گھروں،تھیٹرزاور جمزمکمل طورپر بند کر دیے گئے ہیں۔
ہفتہ میں دو روز بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد ہے جبکہ ریل گاڑیوں میں 70 فیصد سواریوں کے ساتھ سفر کی اجازت ہوگی۔ ایک شہر سے دوسرے شہر 50 فیصد سواریوں کے ساتھ سفرکی اجازت ہے۔ لاہورمیں مثبت کیسزکے شرح میں واضح فرق آیا ہے جس کا کریڈٹ انتظامیہ کودینا چاہیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ہمارے پاس 81 فیصد وینٹی لیٹرز کورونا کے مریضوں کے زیراستعمال ہیں۔ گذشتہ دنوں میں وینٹی لیٹرز کی تعداد میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔
صوبے میں یوم علی ؓ کے جلوسوں پر پابندی لگائی گئی ہے اور گھروں میں اعتکاف بارے زور دیا جارہا ہے۔
انڈیا کے دارالحکومت دلی میں محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 20394 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
حکام نے مسلسل دوسرے روز بھی ہلاکتوں کی تعداد 400 سے زائد بتائی ہے۔
دلی میں اس وقت کل مریضوں کی تعداد 92290 ہے جبکہ 16966 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
انڈیا کی 13 اپوزیشن جماعتوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک بھر میں کورونا کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر مفت ویکسین فراہم کریں۔
ان جماعتوں نے ایک مشترکہ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام ہسپتالوں اور ہیلتھ کیئر کے اداروں کو آکسیجن فراہم کریں۔
اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں میں سونیا گاندھی، جی ڈی ایس رہنما اور سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیو، این سی پی لیڈر شرد پور اور دیگر شامل ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں بے قابو ہوتے ہوئے کورونا وائرس کے اس مرحلے میں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی توجہ ملک بھر کے ہسپتالوں اور ہیلتھ کیئر سینٹرز میں بلاتعطل آکسیجن کی فراہمی پر مرکوز رکھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہم مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر پورے ملک میں فری ویسکین پروگرام شروع کرے۔
گلگت بلتستان محکمہ صحت کے مطابق اس وقت گلگت بلتستان میں مریضوں کی تعداد 118 ہے جبکہ ایک اور مریض کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 107 تک پہنچ چکی ہے۔
صحافی زبیر خان کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران سب سے زیادہ پندرہ سے تیس سال تک کی عمر کے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ جن میں پندرہ سے تیس سال کے41 افراد شامل ہیں۔
مریضوں میں پندرہ سال تک کے آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔
گلگت بلتستان محکمہ صحت کے مطابق 30 سے 45 سال کے 37 مریض، 45 سال سے ساٹھ کے10، ساٹھ سے 75 سال تک 19 اور 75 سال سے زیادہ عمر کے تین لوگ اس وقت گلگت بلتستان کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ 47 مریض مرکزی علاقے گلگت میں ہیں۔
مجموعی مریضوں میں 38 خواتین اور 80 مرد شامل ہیں۔ صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 5087 اور صحت یابی کی شرح 95 فیصد سے زیادہ ہے۔
کمشنر لاہور کی جانب حکم ملنے پر سپیل سکواڈ نے چیکنگ کے دوران کرونا ایس اوپیز خلاف ورزیوں پر مختلف سٹور سیل کر دیے ہیں۔
کمشنر لاہور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یورو سٹور فیصل ٹاون اور جوہر ٹاون کرونا ایس اوپیز پابندی نہ کرنے پر سیل کر دیے گیے۔
اس کے علاوہ فریش سبربن سپر سٹور جوہر ٹاون کو بھی سیل کردیا۔
آفس گلبرگ میں این جینٹس سپا اینڈ سیلون بھی سیل کر دیا گیا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کورونا ایس اوپیز کے تحت اتوار کو مکمل لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر سیل کیے گئے ہیں۔
انڈین خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ شاید دلی یونیورسٹی کے سالانہ امتحان وبا کی صورتحال کی وجہ سے ملتوی کر دیے جائیں۔
پاکستان میں صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کے بازاروں میں کورونا وائرس کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ضابطہ اخلاق پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
اس تصویر میں شہر کے مرکز میں واقع کمرشل مارکیٹ کی ایک دکان دکھائی دے رہی ہیں جہاں خواتین کے علاوہ بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
مختلف دکانوں پر داخلے کے وقت اب نہ تو ماسک کے لیے بطور خاص ہدایت کی جاتی ہے اور نہ ہی ہینڈ سینیٹائزر گاہکوں کو لگانے کو کہا جاتا ہے۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے رمضان کے آخری عشرے آمد کے موقع پر اعتکاف کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے چند شرائط اور ہدایات جاری کی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری تحریری حکمنامے میں تاکید کی گئی ہے کہ فقط صحت مند افراد ہی اعتکاف بیھٹیں۔
اسی طرح 27 رمضان یعنی شب قدر کے موقع پر بھی بچوں اور بوڑھوں کو مسجد کے بجائے گھر پر عبادت کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
عید کے موقع پر نمازیوں کے لیے تین فٹ کا فاصلہ لازم قرار دیا گیا ہے۔
شہریوں کو عید کے موقع پر غیر ضروری سفر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
مدافعتی نظام پر کام کرنے والے برطانوی ماہر اور پروفیسر پیٹر اوپن شا نے بی بی سی کے اینڈریو مار کو انٹرویو میں بتایا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے انڈیا کو ’ویکسین کی دو کروڑ خوراکیں عطیہ کی جا سکتی ہیں۔‘
انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا: ’ہم نے اپنی ضروریات سے دو گنا زیادہ ویکسین آرڈر کی ہوئی ہیں، اور ویکسین کی فراہمی برابری کی سطح پر ہونی چاہیے۔‘
پیٹر اوپن شا کا کہنا تھا کہ جو خبریں آئی ہیں کہ برطانیہ انڈیا کو ویکسین عطیہ کرے گا، ’بہت مناسب‘ بات ہے لیکن انھوں نے مزید کہا کہ ویکسین کی فراہمی کے حوالے سے جو مسائل سامنے آئے ہیں انھیں حل کرنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ انڈیا کی جانب سے 50 لاکھ ویکسین خوراکوں کا انتظار کر رہا ہے لیکن انڈین حکومت کی جانب سے ویکسین کی فراہمی پر پابندی لگی ہوئی ہے اور انڈیا اس وقت وائرس کے باعث شدید بحران کا شکار ہے۔
برطانیہ نے سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے بی بی سی کے اینڈریو راب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا کووڈ 19 کی وجہ سے عائد کی گئی تمام پابندیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ شواہد اور اعداد و شمار کی روشنی میں ہوگا اور حکومت کا ’ارادہ‘ ہے 21 جون کو انھیں ختم کر دیا جائے، لیکن چند ’حفاظتی اقدامات‘ پھر بھی لاگو رہیں گے۔
انھوں نے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ جون کے اختتام تک ہم ایسے مقام پر پہنچ جائیں کہ ہم زندگی کو معمول پر واپس لا سکیں لیکن پھر بھی چند حفاظتی اقدامات لاگو رہیں گے۔‘
ان اقدامات کے بارے میں کیے گئے سوال کے جواب میں سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ سماجی فاصلوں کے حوالے سے ہوں گے اور کچھ ماسکس کے حوالے سے لیکن وہ اس بارے میں اس وقت یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ٹویٹ میں بتایا کہ ان کے وزیر صحت ستیندر جین کے والد کی کووڈ 19 کے مرض کے باعث موت ہو گئی۔
اروند کیجریوال نے لکھا کہ ہمارے وزیر صحت ستیندر جین کووڈ 19 کی وجہ سے آج اپنے والد سے محروم ہوگئے ہیں۔ خدا ان کی روح کو آرام عطا کرے۔ کنبہ سے میری دلی تعزیت۔‘
انھوں نے لکھا کہ ان کے وزیر صحت خود ہر گھڑی لوگوں کی مدد کے لیے کام کر رہے ہیں۔
حکومتِ سندھ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں پہلی مئی تک پانچ لاکھ 65 ہزار سے زیادہ ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کو میسر کردہ مجموعی ویکسین کی خوراکوں میں سے 923000 سندھ کو وصول ہوئی ہیں جن میں سے سائنو فارم، کینسینو اور سائنو ویک شامل ہیں۔
واضح رہے کہ کانسینو سنگل ڈوز ویکسین ہے یعنی اس کی صرف ایک خوراک دی جاتی ہے۔
اب تک دی جانے والی ویکسین کے اعداد و شمار:
سائنو فارم:
وصول شدہ ویکسین: 832000 استعمال کی گئی ویکسین: 529928
کانسینو:
وصول شدہ ویکسین: 11000 استعمال کی گئی ویکسین: 11000
سائنو ویک:
وصول شدہ ویکسین: 80000 استعمال کی گئی ویکسین: 24858
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کی حکومت کے مشیر ڈاکٹر رانجیو رانجن نے کہا ہے کہ انڈیا کو کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر 15 دن کا لاک ڈاؤن نافذ کرنا ہوگا تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
آل انڈین انسٹٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے مرکزی مشیر ڈاکٹر رانجیو رانجن نے بی بی سی کے انڈریو مار کو انٹرویو میں بتایا کہ ’ہر خاندان‘ میں کوئی نہ کوئی ایسا ہے جو کووڈ سے متاثر ہوا ہے۔
’آپ کو روزانہ خبر ملتی ہے کہ کوئی نہ کوئی نامور شخصیت کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئی تو یہ بہت ہی درد ناک ہے۔‘
ڈاکٹر رانجن نے بتایا کہ انڈیا میں دوسری لہر کا عروج ’ایک ہفتے‘ کے اندر تک آ جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وائرس کی منتقلی کے سلسلے کو روکنے کے لیے ملک میں 15 روز کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کرنا ضروری ہے اور انھوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ حکومت یہ فیصلہ کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت توجہ ہے کہ ’زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگائے جائے۔‘
’ہم سب سے زیادہ ویکسین بنانے والا ملک ہیں، لیکن ہماری آبادی بھی ایک ارب سے زیادہ ہے۔‘
صوبہ پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد نے اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےہ بتایا کہ لاہور میں انفیکشن ریٹ میں دوسرے شہروں کے برعکس خاطر خواہ کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اس کے سہرا انھوں نے انتظامیہ کی ایس او پیز نافذ کرانے کے اقدامات کو ٹھیرایا۔
ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ پنجاب میں سامنے آنے والے نئے متاثرین میں سے صرف دس فیصد مریض ووہان قسم والے وائرس سے متاثر ہیں جبکہ 90 فیصد مریضوں میں برطانوی قسم کی تشخیص ہوئی ہے۔
یاسمین راشد نے کہا کہ ’لاہور کے بارے میں بہت خبریں تھیں کہ حالات بہت برے ہیں۔ ہم نے شہر کے 30 کے قریب علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے۔ 25 اپریل کو ہمارے پاس ہسپتالوں میں 1340 مریض داخل تھے لیکن یہ تعداد گھٹ کر آج 1149 ہو گئی ہے۔‘
یاسمین راشد نے مزید بتایا کہ آکیجسن والے بستروں کے استعمال میں بھی کمی آئی ہے اور 72 فیصد سے اب یہ تناسب 42 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق وہ افراد جنھوں نے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد سے ملاقات کی ہو، انھیں قرنطینہ کرنے کی شاید اب ضرورت نہ رہے۔
اس تجربہ میں یہ جانچا جائے گا کہ اگر کوئی شخص کسی کورونا وائرس سے متاثرہ شخص سے ملاقات کرے، تو پھر دس دن قرنطینہ کے بجائے انھیں اگلے سات روز کے لیے ’فلو ٹیسٹ‘ دیے جائیں گے اور یہ دیکھا جائے گا کہ ان کا ٹیسٹ مثبت آیا کہ نہیں۔
اپنی زندگی معمول کے مطابق جاری و ساری رکھنے کے لیے شرط یہ ہے کہ ’فلو ٹیسٹس‘ منفی رہیں۔
انگلینڈ میں نو مئی سے ایسے تقریباً 40 ہزار افراد کو اس تجربے میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
’لیٹرل فلو ٹیسٹ‘ کورونا وائرس کی تشخیص کا ایک ایسا ٹیسٹ ہے جس میں نتیجہ صرف 30 منٹ میں آتا ہے لیکن اس کی حساسیت پی سی آر ٹیسٹ کے مقابلے میں کم ہوتی ہے اور وہ نتیجہ دینے میں کم از کم 24 گھنٹے لگاتا ہے۔