آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کیپیٹل ہل پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا دھاوا: کب کیا ہوا؟

کانگریس کی توثیق کے بعد اب جو بائیڈن امریکی صدارتی انتخاب کے باضابطہ فاتح قرار دے دیے گئے ہیں اور وہ متوقع طور پر 20 جنوری کو حلف اٹھائی گے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی درہم برہم کرنے کے لیے کانگریس میں گھس کر ہنگامہ آرائی کی گئی تھی۔

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کا مواخذہ، بائیڈن کی صدارت کے پہلے 100 دنوں پر کس طرح اثرانداز ہو گا؟

  2. کیا بلاول بھٹو، آصف زرداری کو بائیڈن کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت ملی؟

  3. صدر ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے اراکین مواخذے کی تحریک کے حامی، آگے کیا ہو گا؟

  4. وہ چیلنجز جو نئے امریکی صدر کو ایک طویل عرصے تک الجھائے رکھ سکتے ہیں

  5. کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے والے مشہور چہرے 'کیو اینون شامان' پر مقدمہ

  6. ٹوئٹر نے ٹرمپ کا اکاؤنٹ مستقل طور پر بند کر دیا

  7. کیپیٹل ہل پر چڑھائی کی پانچ حیرت انگیز اور وائرل ہونے والی تصاویر

  8. امریکہ: 25 ویں ترمیم کیا ہے اور کیا اس سے صدر ٹرمپ کو فوراً ہٹایا جا سکتا ہے؟

  9. رافیل وارنک کا پادری سے جارجیا کے پہلے سیاہ فام سینیٹر تک کا سفر

  10. اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    کیپیٹل ہل کر صدر ٹرمپ کے حامی مظاہرین کے حملے اور اس سے متعلقہ خبروں پر مشتمل بی بی سی اُردو کی خصوصی لائیو کوریج اپنے اختتام کو پہنچی اور اب اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے مزید باخبر رہنے کے لیے اس لنک کو کلک کیجیے کانگریس نے بائیڈن کی فتح کی توثیق کر دی، کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی میں چار ہلاک

  11. امریکی کانگریس پر ہنگارمہ آرائی پر اینگلا مرکل کو ’افسوس اور غصہ‘

    جرمن چانسلر اینگلا مرکل کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی کانگریس پر ہونے والی ہنگامہ آرائی پر ’غصہ اور افسوس‘ ہے۔

    انھوں نے رکن پارلیمان کی ایک میٹنگ میں کہا کہ ’مجھے افسوس ہے کہ صدر ٹرمپ نے انتخاب میں نومبر سے لے کر اب تک اور گذشتہ روز ایک بار پھر اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ انتخاب کے نتائج سے متعلق شکوک کو ہوا دی گئی جس کے باعث ایک ایسی فضا بنی جس نے گذشتہ روز کے واقعات کو ممکن بنایا۔

    انھوں نے نومنتخب صدر جو بائیڈن کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کو خوش آئند قرار دیا اور یہ بھی کہ کانگریس کی جانب سے ان کی کامیابی کی توثیق کر دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بائیڈن کی حلف برادری امریکہ کی جمہوریت کے لیے ’ایک نیا باب کھولے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس کا مطلب ہے کہ جمہوری قوتیں کامیاب ہو گئی ہیں، یہ بات مجھے ہمیشہ سے امریکہ کے بارے میں معلوم تھی اور مجھے ان سے امید بھی یہی تھی۔‘

  12. کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کا تعلق کس گروہ سے تھا؟, شایان سرداریزادے، بی بی سی مانیٹرنگ

    کیو اے نان نامی انتہائی دائیں بازو کی سازشی نظریات کو فروغ دینے والے گروہ اور ٹرمپ ک حامی دیگر انتہائی دائیں بازو کے گروہ گذشتہ کئی ہفتوں سے کانگریس کے باہر مظاہرے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

    کیو اے نان ایک بے بنیاد سازشی نظریات رکھنے والا گروہ ہے جس کا دعویٰ ہے کہ صدر ٹرمپ اور ایک ملٹری انٹیلیجنس کے افسران کی خفیہ ٹیم شیطان کی عبادت کرنے والے اور بچوں کی طرف جنسی رجحان رکھنے والے ڈیموکریٹک جماعت کے افراد کے خلاف جنگ کا اعلان کر چکے ہیں۔

    اس کے علاوہ انتخابی مہم ’سٹاپ دی سٹیل‘ یعنی الیکشن فراڈ بند کرو نامی مہم کے حامی، پراؤڈ بوائز اور دیگر گروہ اپنے فالوئرز کو مظاہرے میں شرکت کرنے کی ترغیب دے رہے تھے۔

    نام نہاد ’پیٹریاٹ کاراوانز‘ اور دیگر ایسے آن لائن اقدامات کیے گئے تاکہ مختلف افراد کو واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرے تک لانے میں مدد دی جا سکے۔

  13. چھ جنوری صدر ٹرمپ کی سیاسی میراث کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟

  14. ٹرمپ کا ’اقتدار کی پرامن منتقلی‘ کا وعدہ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں یہ اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ ’20 جنوری کو اقتدار کی منظم منتقلی‘ کے حامی ہیں تاہم ساتھ ہی انھوں نے ایک مرتبہ پھر انتخابی دھاندلی سے متعلق بے بنیاد دعوے بھی کیے ہیں۔

    ان کے ترجمان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حالانکہ میں انتخاب کے نتائج سے مکمل طور پر اختلاف کرتا ہوں اور اس حوالے سے حقائق بھی میری دعوؤں کی تصدیق کرتے ہیں لیکن20 جنوری کو منظم منتقلی ہوئی تھی۔

    خیال رہے کہ ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کو عارضی طور پر بلاک کر دیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں ہمیشہ سے یہ کہتا آیا ہوں کہ ہم صرف قانونی ووٹوں کی گنتی یقینی بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ یہ صرف ہماری جدوجہد کا آغاز ہے تاکہ امریکہ کو ایک مرتبہ پھر عظیم بنیا جا سکے۔

    اب تک ٹرمپ کی الیکنش مہم کی جانب سے چلائے جانے والے تقریباً 60 کے قریب درخواستیں مسترد کیے جا چکے ہیں۔

  15. واشنگٹن ڈی سی کے مناظر کچھ ایسے ہیں!

    امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں بدھ کے روز خاصے ڈرامائی مناظر دیکھنے میں آئے جو اب پوری دنیا میں بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔

    بدھ کی دوپہر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل پر دھاوا بولا گیا اور جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔

    مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے سے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا اور نیشنل گارڈ کی خدمات بھی طلب کر لی گئیں۔

    ایسے میں سینیٹ اور کانگریس کے مشترکہ اجلاس کے نتیجے میں جو بائیڈن کی فتح کی توثیق کر دی گئی اور نتائج سے متعلق اعتراضات مسترد کر دیے گئے۔

    واشنگٹن ڈی سی کی میئر نے شہر میں ایمرجنسی میں 15 روز کی توسیع کر دی، تاہم کرفیو کا خاتمہ مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح چھ بجے کر دیا جائے گا۔

    اس دوران کیپیٹل ہل کے اردگرد سڑکوں پر بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

    دریں اثنا اب سے کچھ دیر قبل ایف بی آئی کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرتشدد مظاہرین کی شناخت کے لیے ان کی مدد کریں۔

  16. کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی: عمارت میں موجود ایک خاتون صحافی نے کیا دیکھا

    جیمی سٹائم سیاسی موضوعات پر لکھنے والی ایک امریکی کالم نگار ہیں جو واشنگٹن ڈی سی میں کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل میں اُس وقت موجود تھیں جب ٹرمپ کے حامیوں نے اس پر دھاوا بولا۔ ایوانِ نمائندگان کی پریس گیلری میں موجود جیمی نے کیا مناظر دیکھے ان ہی کی زبانی سُنیے۔

    میں نے اپنی بہن سے پہلے ہی کہا تھا 'آج کچھ بُرا ہونے والا ہے۔ مجھے نہیں پتا کیا، لیکن کچھ نہ کچھ بُرا ضرور ہوگا۔'

    کیپیٹل ہل کے باہر میرا سامنا ٹرمپ کے انتہائی پُرجوش حامیوں کے ایک گروپ سے ہوا جو جھنڈے لہرا رہے تھے اور اُن سے اپنی وفاداری کا اظہار کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر کچھ کچھ سمجھ آنے لگا تھا کہ بات بگڑ رہی ہے۔

  17. بریکنگ, امریکی کانگریس نے جو بائیڈن کی فتح کی توثیق کر دی

    امریکی کانگریس نے باضابطہ طور پر جو بائیڈن کی امریکی صدارتی انتخاب میں کامیابی کی توثیق کر دی ہے۔

    کانگریس کی جانب سے تصدیق کی گیی ہے کہ جو بائیڈن اور کملا ہیرس امریکہ کے اگلے صدر اور نائب صدر ہوں گے۔

    الیکٹورل ووٹوں کی اس وقت باضابطہ طور پر تصدیق ہوئی جب سینیٹ اور کانگریس دونوں ہی میں اراکین نے ریاست ایریزونا اور پینسلوینیا کے نتائج پر موجود اعتراضات کو مسترد کر دیا۔

    یاد رہے کہ عام طور پر ضابطے کی کارروائی کے لیے بلایا گیا اجلاس اس وقت روکنا پڑا تھا جب ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا تھا۔ یہ مشترکہ اجلاس عمارت کو مظاہرین سے خالی کروانے کے بعد دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔

  18. ٹرمپ کے قومی سلامتی کے ڈپٹی مشیر میٹ پوٹنجر مستعفی

    صدر ٹرمپ کے تعینات کردہ قومی سلامتی کے ڈپٹی مشیر میٹ پوٹنجر نے مبینہ طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

    بلومبرگ نیوز نے پوٹنجر کے قریبی ذرائع کا حولہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’کیپیٹل پر حملے اور ٹرمپ کے مظاہرین کو اکسانے پر مایوس‘ تھے جبکہ ذرائع نے سی این این کے حوالے سے بتایا ہے کہ پوٹنجر نے کہا تھا کہ ’ان کے پاس غور کرنے کے لیے زیادہ چیزیں نہیں تھیں۔‘

    ان کے استعفے کی خبر ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے جن کے مطابق وائٹ ہاؤس کے عملے نے آج کانگریس پر ہونے والے حملے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

    جن لوگوں نے استعفیٰ دیا ہے ان میں ڈپٹی پریس سیکریٹری سارہ میتھیوز، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کی چیف آف سٹاف سٹیفنی گرشن اور وائٹ ہاؤس سوشل سیکریٹری رکی نیسیٹا شامل ہیں۔

  19. ’انھوں نے زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، پھر میں نے گولی چلنے کی آواز سُنی‘

  20. امریکی کانگریس پر مظاہرین کا حملہ، تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    امریکی کانگریس پر مظاہرین کے حملے سے متعلق تازہ ترین تفصیلات کچھ یوں ہیں۔

    • امریکی قانون ساز نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کی فتح کی تصدیق کرنے کے مرحلے میں ہیں۔
    • اس سے تھوڑی ہی دیر قبل کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک ہوئے۔
    • ٹرمپ کے حامیوں کا یہ خیال ہے کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں دھاندلی ہوئی، چنانچہ جو بائیڈن کی بطور صدر توثیق کے عمل کو روکنے کے لیے انھوں نے عمارت پر دھاوا بول دیا جس سے کانگریس کا مشترکہ اجلاس رک گیا۔
    • واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے پولیس سڑکوں پر موجود ہے۔
    • اب تک 52 لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس میں سے 47 افراد کو کرفیو کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا ہے۔
    • ٹوئٹر اور فیس بک نے صدر ٹرمپ کے اکاؤنٹس لاک کر دیے ہیں جس کے بعد وہ سوشل میڈیا پر محدود مدت کے لیے پوسٹ نہیں کر سکتے۔
    • ڈیموکریٹس نے جارجیا سے دو رپبلکن سینیٹرز کی فتح کو چیلنج کیا تھا اور یہ چیلنج جیت لینے کے بعد ڈیموکریٹس نے سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔