آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کیپیٹل ہل پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا دھاوا: کب کیا ہوا؟

کانگریس کی توثیق کے بعد اب جو بائیڈن امریکی صدارتی انتخاب کے باضابطہ فاتح قرار دے دیے گئے ہیں اور وہ متوقع طور پر 20 جنوری کو حلف اٹھائی گے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی درہم برہم کرنے کے لیے کانگریس میں گھس کر ہنگامہ آرائی کی گئی تھی۔

لائیو کوریج

  1. جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کے لیے سینیٹ اور کانگریس کا مشترکہ اجلاس جاری

    امریکہ کہ نومنتخب صدر جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کے لیے سینیٹ اور کانگریس کا مشترکہ اجلاس جاری ہے جس کی صدارت کانگریس کی سپیکر نینسی پیلوسی اور نائب صدر مائیک پینس اور کر رہے ہیں۔

    اس اجلاس کے دوران الیکٹورل کالج ووٹوں اور انتخابی نتائج کے حوالے سے لگائے گئے اعتراضات کے حوالے سے بحث بھی کی جا رہی ہے اور تمام ریاستوں کی الیکٹورل کالج ووٹوں کی تصدیق کے بعد ہی جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کی جائے گی۔

  2. جب ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بولا

  3. ’جمہوریت کو پامال کرنا بند کرو‘

    واشنگٹن سے نشر ہونے والے مناظر نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے اور اس حوالے سے دنیا بھر کے حکمران ردِ عمل دے رہے ہیں۔

    نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے ٹویٹ کیا کہ ’جمہوریت یعنی لوگوں کا اپنے ووٹ کا حق استمعال کرنا، ان کی آوازوں کو سنا جائے اور اس کے بعد پر امن انداز میں فیصلہ کیا جائے۔ یہ فیصلہ کسی ہجوم کو کبھی بھی نہیں کرنا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ بہت سارے افراد کی طرح میں بھی واشنگٹن میں پیش آنے والے واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہوں، اور جو ہو رہا ہے وہ غلط ہے۔

    جرمنی کے وزیر خارجہ نے ٹرمپ کے حامیوں سے کہا کہ ’جمہوریت کو پامال کرنا بند کرو۔

    ’جمہوریت کے دشمن آج واشنگٹن ڈی سی کے مناظر دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے۔ نفرت آمیز الفاظ پرتشدد رویوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

  4. بریکنگ, سینیٹ نے پینسلوینیا کے انتخابی نتائج پر کیے گئے اعتراض کو مسترد کر دیا

    سینیٹ نے پینسلوینیا کے انتخابی نتائج پر کیے گئے اعتراض کو مسترد کر دیا ہے۔ سینیٹ میں ہونے والے ووٹ میں 92 نے اس اعتراض کو مسترد کرنے جبکہ سات نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

    سینیٹر مچ میکونیل نے مداخلت کرتے ہوئے بحث کا اختتام کیا اور سب کے دو گھنٹے بچائے۔

    میکونیل کو آج رات مزید کسی الیکشن نتیجے کے خلاف چیلنج کی امید نہیں ہے۔

    بالآخر انتخابی نتائج پر کیے گئے ایک اعتراض پر کسی سینیٹر کے دستخط ملے تھے۔ اس سے قبل ایسے تین اعتراضات مسترد کیے گئے تھے جن پر سینیٹر نے دستخط ہی نہیں کیے تھے۔

    یہ ریاست پینسلوینیا کے انتخابی نتائج کے حوالے سے اعتراض تھا اور ریاست میزوری سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جاش ہولی نے اس اعتراض پر اپنے دستخط کیے تھے۔

  5. سینیٹ میں اعتراضات مسترد ہونے پر تالیوں کی گونج

    صدارتی انتخاب کے نتائج پر رپبلیکنز کے تین اعتراضات نائب صدر مائیک پینس کی جانب سے مسترد کر دیے گئے ہیں کیونکہ ان اعتراضات پر قواعد کے مطابق کسی سینیٹر نے دستخط نہیں کیے تھے، جس کے بعد سینیٹ کا ہال تالیوں سے گونج اٹھا ہے۔

    ایک چیلنج نومبر میں ریاست جارجیا سے منتخب ہونے والے کانگریس کے رکن جوڈی ہائیس نے دائر کیا تھا۔

    جارجیا سے ایک اور نمائندہ مارجری ٹیلر گرین نے مشیگن کے ووٹوں پر اعتراض کیا مگر ناکام رہیں۔ حال ہی میں منتخب ہونے والی کانگریس رکن نے ماضی میں کیو اینون نامی سازشی نظریے کی حمایت کی تھی۔

    تیسرا چیلنج ایلابامہ سے کانگریس کے رکن مو بروکس نے دائر کیا تھا جنھوں نے نیواڈا میں نتائج پر اعتراض کیا تھا۔

  6. واشنگٹن ڈی سی میں بھاری نفری تعینات

    امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کیپیٹل ہل کی عمارت کے گرد ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنے کے لیے مخصوص لباس میں ملبوس پولیس افسران کی بھاری نفری موجود ہے۔

    یہ مناظر واشنگٹن کی میئر باؤزر کی جانب سے بدھ کی شام کو کرفیو لگنے کے بعد سے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    اب سے کچھ دیر قبل ڈی سی پولیس چیف کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اب تک ان کی جانب سے 52 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے چار کے پاس بغیر لائسنس کے اسلحہ موجود تھا۔ ان میں سے ایک کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور 47 کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

    پولیس کو دو پائپ بم بھی ملے ہیں جن میں سے ایک ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے دفاتر سے، جو کیپیٹل ہل سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہیں اور دوسرا رپبلکن نیشنل کمیٹی کے ہیڈکوارٹر کے پاس سے۔

  7. بریکنگ, کیپیٹل ہل ہنگامہ آرائی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیلات

    واشنگٹن ڈی سی کی میئر باؤزر اور پولیس چیف رابرٹ کونٹی نے اب سے کچھ دیر قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران کیپٹل ہل میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان اور مجموعی صورتحال کے حوالے سے بات کی ہے۔

    انھوں نے اس دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جس خاتون کو پولیس کی جانب سے گولی مار کر ہلاک کیا گیا وہ متعدد افراد کے اس گروہ کا حصہ تھیں جنھوں نے اجلاس کے دوران زبردستی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔

    اس گروہ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے پکڑنے کی کوشش کی اور اس دوران ایک افسر کو اسلحے کا استعمال کرنا پڑا۔

    اس خاتون کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہنچنے پر ان کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔ ان کی شناخت اس وقت تک نہیں بتائی جائے گی جب تک ان کے قریبی رشتہ داروں کو اطلاع نہ دے دی جائے۔

    انھوں نے دیگر اموات کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے تین دیگر افراد میں ایک ادھیڑ عمر خاتون اور دو مرد شامل ہیں۔ ان تینوں کی موت مختلف نوعیت کی طبی ایمرجنسیز کے باعث ہوئی۔

    میٹرو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے تقریباً 14 افراد اس دوران زخمی بھی ہوئے جن میں سے دو کو ہسپتال داخل کروانا پڑا۔ ان میں سے ایک کو شدید چوٹیں آئیں کیونکہ انھیں گھسیٹ کر مجمعے میں لایا گیا تھا۔

  8. بریکنگ, واشنگٹن ڈی سی میں ایمرجنسی میں 15 روز کی توسیع

    امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی میئر نے شہر میں ایمرجنسی میں 15 روز کی توسیع کر دی ہے۔ یعنی اب یہ ایمرجنسی جو بائیڈن کی حلف برداری تک جاری رہے گی۔

    میئر میریئل باؤزر نے بتایا کہ ’متعدد افراد شہر میں مسلح گروہ کی صورت میں آئے تھے اور ان کا مقصد یہاں تشدد اور انتشار پھیلانا تھا۔ ان کی جانب سے پتھراؤ بھی کیا گیا، بوتلیں بھی پھینکی گئیں اور اسلحے کا استعمال بھی کیا گیا

    اس فیصلے کے بعد انتظامیہ کو شہر میں اضافی وسائل منگوانے میں مدد ملے گی جس کے ذریعے وہ شہر میں کرفیو کا نفاذ، ایمرجنسی سروسز کا دائرہ وسیع کرنے اور لوگوں تک خوراک کی فراہمی یقینی بنا پائیں گے۔

    یہ حکم نامہ 21 جنوری کی دوپہر تین بجے تک نافذ العمل رہے گا، یعنی نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کے ایک دن بعد تک۔

    شہر میں اس وقت میئر کی جانب سے کرفیو نافذ کیا گیا ہے جو مقامی وقت کے مطابق بدھ شام چھ بجے سے جمعرات صبح چھ بجے تک رہے گا جبکہ اب تک درجنوں افراد کو اس کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

  9. بریکنگ, ’کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی میں چار افراد ہلاک ہوئے‘

    واشنگٹن ڈی سی کی پولیس کا کہنا ہے کہ کیپیٹل ہل ہر صدر ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چار ہے۔

    ان میں سے ایک خاتون پولیس کی گولی سے ہلاک ہوئیں جبکہ دیگر تین طبی مسائل کی وجہ سے جان سے گئے۔

    پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک 52 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے 47 کرفیو کی خلاف ورزی پر پکڑے گئے ہیں۔

  10. مودی واشنگٹن میں تشدد اور بلوے کی خبروں سے پریشان

    انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے واشنگٹن میں بدھ کو پیش آنے والے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد اور بلوے کی خبریں پریشان کن ہیں۔

    ان کے مطابق انتقالِ اقتدار کا عمل پرامن طریقے سے جاری رہنا چاہیے اور اسے غیرقانونی مظاہروں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

  11. بریکنگ, ہنگامہ آرائی میں ہلاک ہونے والی خاتون ’امریکی فضائیہ کی سابق ملازم‘ تھیں

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کو کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کے دوران ہلاک ہونے والی خاتون سان ڈیاگو کی رہائشی ایشلی بیبٹ تھیں۔

    ایشلی ماضی میں امریکی فضائیہ کی ملازم رہ چکی تھیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ جب وہ دیگر مظاہرین کے ہمراہ عمارت میں داخل ہو رہی تھیں تو انھیں گولی لگی۔

    امریکی چینل فاکس فائیو نے ایشلی کی ساس سے بات کی جن کے مطابق وہ ٹرمپ کی حامی تھیں۔

  12. کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں کیا ہو رہا ہے؟

    اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ اراکین پارلیمان ریاستوں سے آنے والے ایلیکٹورل کالج ووٹوں کی توثیق کر رہے ہیں۔ بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخاب میں 232 کے مقابلے میں 306 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

    ووٹوں کی تعداد کے بارے میں ریاست در ریاست پڑھ کر سنایا جاتا ہے۔ اگر اس حوالے سےدونوں سینیٹ اور کانگریس کے کسی رکن کی جانب سے اعتراض اٹھایا جائے تو اراکین اپنے چیمبرز میں جاتے ہیں اور اس موضوع پر دو گھنٹے تک بحث کرتے ہیں جس کے بعد یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کیا یہ قابلِ اعتراض ہے بھی یا نہیں۔

    ہم نے اب سے کچھ دیر قبل دیکھا کہ سینیٹ نے ایریزونا کے نتائج کے خلاف اعتراض کو ایک ووٹ کے ذریعے ناکام بنایا جبکہ امید یہی کی جا رہی ہے کہ اگلے ایک گھنٹے میں کانگریس میں بھی کچھ ایسا ہی ہو گا۔

    یاد رہے کہ ایک ریاست کے الیکٹورل کالج ووٹوں کو کالعدم قرار دینے کے لیے سینیٹ اور کانگریس دونوں میں اکثریت کو ایسا کرنے کے حق میں ووٹ کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ آج کے حملے کے بعد اکثریت رپبلکنز نے اپنی آرا بدل دی ہیں اور کیونکہ اس وقت کانگریس ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں ہے اس لیے یہ تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔

  13. بریکنگ, ریاست ایریزونا میں نتائج پر اعتراض 93 کے مقابلے میں چھ ووٹوں سے ناکام

    ریاست ایریزونا کے نتائج پر اعتراض ناکام ہو چکا ہے کیونکہ صرف چھ رپبلکنز جن میں ٹیڈ کروز اور جاش ہولی شامل ہیں نے اس کے حق میں ووٹ کیا جبکہ 93 نے مخالفت میں۔

    امریکی نائب صدر مائیک پینس کہتے ہیں کہ ’اس حوالے سے مخالفت منظور نہیں کی گئی۔‘

    اس وقت سینیٹ کو کانگریس میں کیے گئے ایک ووٹ کے ذریعے سے نتائج کے خلاف اعتراض خلاف ووٹ کرنے کا اننتظار کرنا ہو گا۔

    سینیٹ میں رپبلکن رہنما میکونیل کا کہنا ہے کہ ان کا اندازہ ہے کہ کانگریس میں یہ ووٹ رات ساڑھے دس بجے اور رات 12 بجے کے درمیان مکمل ہو جائے گا۔

    اس کے بعد تمام اراکین کا اجلاس دوبارہ بلایا جائے گا اور اس دوران ریاستوں کے نتائج کے خلاف ووٹ گنے جا سکیں گے۔

  14. بریکنگ, ’بس بہت ہو گیا‘، ٹرمپ کے بڑے حامی سینیٹر گراہم نے بھی ہاتھ کھینچ لیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے حامیوں میں شمار ہونے والے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی بدھ کو ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے بعد ان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔

    کانگریس کے مشترکہ اجلاس کے دوبارہ آغاز کے بعد تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا۔ ’اب مجھے ساتھ شامل نہ سمجھیں۔ بس بہت ہو گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جو بائیڈن اور کملا ہیرس قانونی طور پر منتخب شدہ رہنما ہیں اور 20 جنوری کو امریکہ کے صدر اور نائب صدر بنیں گے۔‘

  15. 25ویں ترمیم کی بات کیوں ہو رہی ہے؟

    بی بی سی کے پارٹنر سی بی ایس نیوز کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی کابینہ کے اندر ممکنہ طور پر 25ویں ترمیم کو استعمال کرنے کے لیے چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔

    لیکن اس سے ہو گا کیا؟

    یہ ایک ایسی آئینی ترمیم ہے جو یہ کہتی ہے کہ اگر صدر اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینے میں ناکام ہیں تو اس عہدے کے لیے دوبارہ سے نامزدگی ہو سکتی ہے۔

    اس صورتحال میں کابینہ کے زیادہ تر اراکین اور نائب صدر کو کانگرس کو لکھ کر کہنا ہو گا کہ نائب صدر پینس قائمقام صدر ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکی آئین کی یہ 25 ترمیم کبھی بھی استعمال میں نہیں لائی گئی اس کی توثیق سنہ 1967 میں کی گئی تھی۔

    ابھی فی الحال نائب صدر مائیک پینس کے سامنے رسمی طور پر کچھ بھی پیش نہیں کیا گیا۔

    کچھ نے تو پہلے ہی پینس سے کہا ہے کہ وہ 25 آئین ترمیم کا استعمال کریں۔ انھوں نے صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے تشدد پر اکسایا ہے۔

  16. ہنگامہ آرائی کے بعد وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکریٹری مستعفی

    وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکریٹری سارہ میتھیوز نے کیپیٹل ہل میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’مجھے ٹرمپ انتظامیہ میں خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل ہے اور ان پالیسیوں پر فخر ہے جنھیں ہم نے نافذ کیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا ایک ایسا انسان جس نے کانگریس کے ہالوں میں کام کیا ہو۔ میں بہت زیادہ پریشان ہوں اس سب سے جو میں نے آج دیکھا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہماری قوم کو پرامن طور پر انتقال اقتدار کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ کی اہلیہ کے سٹاف کی سربراہ اور ٹرمپ کی سابق پریس سیکریٹری سٹیفینی گریم مستعفی ہوئیں۔

    یہ معلوم نہیں کہ ان کے استعفے کا کیپیٹل ہل حملے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

    انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ٹرمپ کی اہلیہ کی جانب سے بچوں کی مدد کے مشن کی ٹیم کا حصہ رہنے انھیں فخر ہے۔

  17. ’ایک حتمی، خوفناک اور نہ بھولنے والی میراث‘

    ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر چک شومر کا کہنا ہے کہ ’اب ہم 6 جنوری کو امریکی تاریخ میں تاریخوں کی بہت چھوٹی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں جس کی بدنامی ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ‘

    ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے مندر کی توہین کی گئی۔

    ’دنیا نے دیکھا، امریکہ کے منتخب حکام نے جلد بازی میں نہیں شروع کیا کیونکہ وہ نقصان میں تھے۔ جب تک حملہ کرنے والے ان ہالز سے نکل نہیں گئے اور انخلا کا حکم نہیں ملا یہ ایوان اور سینیٹ کے فرش محفوظ جگہیں تھیں۔

    سینیٹر چک شومر نے اس پر تشدد حملے میں خاتون کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے ملک پر ایک دھبے کی مانند ہے جو آسانی سے نہیں دھل سکے گا۔ یہ ریاست ہائے متحدہ کے 45 ویں صدر کی ایک حتمی ، خوفناک ، انمول میراث ہے جو بلا شبہ ہماری بدترین ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کو مظاہرہ نہیں کہا جا سکتا اور ان کی نظر میں یہ داخلی دہشت گردی ہے جو امریکہ کی نمائندگی نہیں کرتی۔

  18. 1812 کے بعد یو ایس کیپیٹل پر پہلا حملہ

    یو ایس کیپیٹل ہسٹاریکل سوسائٹی کے تاریخ دانوں کے مطابق 1812 کی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکی پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بولا گیا ہے۔

    اگست 1814 میں برطانوی فوجیوں نے واشنگٹن میں داخل ہونے کے بعد کیپیٹل کی زیرِ تعمیر عمارت کو آگ لگا دی تھی تاہم بارش کی وجہ سے یہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچ گئی تھی۔

    امریکیوں کی جانب سے اس واقعے سے ایک برس قبل کینیڈا میں ایسے ہی واقعے کے ردعمل میں برطانوی فوجیوں نے وائٹ ہاؤس سمیت دارالحکومت کی کئی اور عمارتوں کو بھی آگ لگائی تھی۔

    خیال رہے کہ اس وقت تک کینیڈا بطور ملک موجود نہیں تھا بلکہ وہ برطانوی نوآبادیات کا مجموعہ تھا۔

    بدھ کو ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل پر ہنگامہ آرائی کے بعد ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یو ایس کیپیٹل صرف ایک عمارت ہی نہیں یہ امریکی جمہوریت اور ہمارے طرزِ زندگی کا مجسم ثبوت ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’ہم (امریکی) قوانین کی پاسداری کرنے والی قوم ہیں اور اقتدار کی پرامن منتقلی ہماری آئینی ریاست کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔‘

  19. بریکنگ, ٹوئٹر کے بعد فیس بک نے بھی ٹرمپ کو بلاک کر دیا

    ٹوئٹر کے بعد سماجی رابطوں کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک نے بھی 24 گھنٹے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے پوسٹ کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

    کمپنی کی جانب سے اس اقدام کی وجہ صدر ٹرمپ کے فیس بک پیج کی جانب سے ادارے کی پالیسی کی خلاف ورزی کو قرار دیا گیا ہے۔

  20. ’انھوں نے ہماری جمہوریت پر حملہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوئے‘

    رپبلکن سینیٹر مچ میک کونل نے اجلاس کے دوران کہا کہ ہم وہی مکمل کر رہے ہیں جس کا ہم نے آغاز کیا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ امریکی کانگرس نے آج ہجوم کے حملے سے زیادہ بڑے خطرات کا سامنا کیا ہے۔

    ’انھوں نے ہماری جمہوریت پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ ناکام ہوئے‘۔

    سینیٹر مچ میک کونل کا کہنا تھا کہ اگلے صدر کو باضابطہ طور پر صدر بنانے کا اہم کام مکمل ہو جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو شروع کیا تھا ہم اس عمل کو مکمل کرنے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے لیے بطور مثال موجود طریقہ کار، اپنے قانون اور آئین کی پیروی کرتے ہیں۔ اور ہم سنہ 2020 کے انتخاب جیتنے والے کی تصدیق کریں گے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی عوام اس سے کم کے حقدار نہیں ہیں۔