آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کیپیٹل ہل پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا دھاوا: کب کیا ہوا؟

کانگریس کی توثیق کے بعد اب جو بائیڈن امریکی صدارتی انتخاب کے باضابطہ فاتح قرار دے دیے گئے ہیں اور وہ متوقع طور پر 20 جنوری کو حلف اٹھائی گے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی درہم برہم کرنے کے لیے کانگریس میں گھس کر ہنگامہ آرائی کی گئی تھی۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ کے ہمسائے ’جہموریت پر حملے‘ پر پریشان

    عالمی رہنماؤں کی جانب سے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں بدھ کو پیش آنے والے واقعات پر تشویش کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔

    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ کینیڈا کے عوام ’جمہوریت پر حملے‘ سے پریشان ہیں۔

    ارجنٹائن کے صدر البرٹو فرنینڈز نے جو بائیڈن کی حمایت کرتے ہوئے پرتشدد واقعات کی مذمت کی ہے۔

    کولمبیا کے صدر نے بھی تشدد کو مسترد کرتے ہوئے امریکی کانگریس کے ارکان سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

    چلی کے صدر نے کہا ہے کہ ایسے اقدامات قابلِ مذمت ہیں جو جمہوری عمل کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔

  2. ’ایسے انتخابی نتائج کو بنانا ریبلک میں متنازع کیا جاتا ہے۔۔‘

    سابق امریکی صدر جارج بش نے کیپیٹل ہل میں حملے کو دلخراش قرار دیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایسے انتخابی نتائج کو بنانا ریپبلک میں متنازع کیا جاتا ہے ہمارے ڈیموکریٹک ریپبلک میں نہیں۔

    جارج بش نے کہا کہ جب سے انتخاب ہوئے ہیں وہ کچھ سیاست دانوں کے لاپرواہ رویے کے باعث پریشان ہیں۔

    انھوں نے صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کا نام لینے سے احتراز برتا۔

    لیکن ریپبلکنرہنما سینیٹر مٹ رومنے نے آج کے واقعے کی اس سے بڑھ کر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اس بغاوت پر لوگوں کو اکسایا تھا۔

    سینیٹر مٹ رومنے نے مزید لکھا کہ وہ جو ٹرمپ کی حمایت کرتے ہیں انھیں ہمیشہ ہماری جمہوریت کے خلاف غیر معمولی حملے میں ملوث لوگوں کے طور پر دیکھا جائے گا۔

    صدر ٹرمپ نے ابھی کیپیٹل ہل میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور جھڑپوں کی مذمت نہیں کی لیکن انھوں نے لوگوں کے نام پیغام میں انھیں پرامن رہنے کو کہا تھا۔

  3. ’تم جیتے نہیں، تشدد کی کبھی جیت نہیں ہوتی‘

    نائب صدر مائیک پینس نے کیپیٹل ہل پر پرتشدد حملہ کرنے والوں کے نام پیغام میں کہا ہے کہ ’تم جیتے نہیں‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’تشدد کی کبھی جیت نہیں ہوتی۔ آزادی جیتتی ہے اور یہ اب بھی عوام کا ایوان ہے۔ ہم نے دوبارہ اجلاس شروع کر دیا ہے۔ دنیا تشدد اور توڑ پھوڑ کے باوجود ہماری جمہوریت کے دوبارہ ابھرنے کی قوت اور طاقت کا مظاہرہ دیکھے گی۔‘

  4. نائب صدر مائیک پینس: ’آج ایک تاریک دن تھا‘

    کانگریس کے مشترکہ اجلاس کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔ اجلاس کے آغاز پر نائب صدر مائیک پینس نے کہا کہ ’آج کیپیٹل ہل میں ایک تاریک دن تھا۔‘

    اس سے قبل ان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پینس حملے کے دوران ’کیپیٹل سے نہیں گئے‘۔ نائب صد پینس کانگریس کے سرکردہ رہنماؤں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ’مسلسل رابطے‘ میں تھے تاکہ ’کیپیٹل کو محفوظ بنایا جا سکے اور اجلگس کا دوبارہ آغآز کیا جا سکے‘۔

    ان پرتشدد واقعات کی وجہ سے کانگریس کا یہ مشترکہ اجلاس روک دیا گیا تھا جس کا مقصد جو بائیڈن کی الیکٹورل کالج میں فتح کی باقاعدہ توثیق کرنا ہے۔

  5. کیپیٹل ہل کا محاصرہ تصاویر میں

  6. ’صدر ٹرمپ نے ہی ہجوم جمع کیا، ٹرمپ نے ہی اسے اشتعال دلایا‘

    صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت رپبلکن پارٹی میں بدھ کو کیپیٹل پل پر پیش آنے واقعات کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

    شمالی کیرولائنا سے سینیٹ کے رکن رچرڈ پر نے ٹرمپ کو ہی ہنگامہ آرائی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’آج پیش آنے والے واقعات کے ذمہ دار صدر ہیں کیونکہ انھوں نے بےبنیاد سازشی نظریات کو بڑھاوا دیا جس سے بات یہاں تک پہنچی۔‘

    وایومنگ سے کانگریس کی رکن لز چینی کا بھی کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر نے ہجوم جمع کیا، صدر نے اس ہجوم کو اشتعال دلایا اور صدر نے اس ہجوم سے خطاب کیا۔ آگ انھوں نے ہی لگائی۔‘

    ریاست واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی رکن کانگریس کیتھی میکمورس راجرز نے کہا ہے کہ اس واقعے کے بعد انھوں نے جو بائیڈن کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے بدھ کو پیش آنے والے واقعات کو ’غیرقانونی اور ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ ’اس پاگل پن کی مذمت کریں اور اسے ختم کروائیں۔‘

  7. فیس بک، یو ٹیوب اور ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کا ویڈیو پیغام ہٹا دیا

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ یو ٹیوب اور ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی جانب سے کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے والے مظاہرین کے نام بھجوائے گئے پیغام کو ہٹا دیا ہے۔

    ان پیغامات میں صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو گھر واپس لوٹنے کو کہا تھا تاہم ساتھ ہی انھوں نے انتخاب میں فراڈ سے متعلق جھوٹےدعوے بھی کیے تھے۔

    فیس بک نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ’ہم نے انھیں اس لیے ہٹایا ہے کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس نے جاری تشدد کے خطرے کو کم کرنے کے بجائے اس میں کردار ادا کیا گیا۔

    اس پرتشدد ہنگامہ آرائی سے پہلے صدر ٹرمپ نے واشنگٹن کے نیشنل مال میں اپنے حامیوں سے کہا کہ انتخاب چوری ہوا ہے۔

    کئی گھنٹوں کے بعد جب امریکی کیپیٹل ہل کے اندر اور باہر تشدد ہو رہا تھا تو صدر ٹرمپ ایک ویڈیو میں دکھائی دیے جس میں انھوں نے دوبارہ انتخاب سے متعلق جھوٹے دعوے کیے۔

    یو ٹیوب کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ویڈیو کو اس لیے ہٹایا گیا ہے کیونکہ اس میں ’الیکشن میں دھاندلی کے حوالے معلومات پھیلانے سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

    ابتدا میں ٹوئٹر نے ویڈیو کو نہیں ہٹایا تھا تاہم بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔

    ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ تشدد کے خطرے کے پیشِ نظر ہم اپنی شہری تحفظ کی پالیسی کے تحت ایسی لیبل لگی ٹوئٹس پر پابندی لگا رہے ہیں۔

    فیس بک کی جانب سے بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ کیپیٹل ہل میں پرتشدد مظاہرے رسوائی ہیں۔ ہم اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے تشدد پر اکسانے اور ایسا کرنے کے اقدامات کی اجازت نہیں دتیے۔ ہم ان قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کا فعال انداز میں جائزہ لے رہے ہیں اور اسے ہٹا رہے ہیں۔

    فیس بک کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت وہ اس تمام مواد کو تلاش کر رہے ہیں اور ہٹا رہے ہیں جس نے کیپیٹل ہل میں تشدد پر اکسایا یا اس کی حمایت کی۔

    خیال رہے کہ یہ کیپٹل ہل کی جانب سے مارچ کے انعقاد کے لیے آن لائن کام بھی ہوا تھا اور اس میں فیس بک گروپس اور فیس بک پیجز شامل تھے۔

  8. کیپیٹل ہل کی صورتحال ’جمہوریت پر حملہ‘ ہے : عالمی رہنماؤں کا ردعمل

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے کیپیٹل ہل پر حملے کی مذمت کی ہے اور ان کی جانب سے اس اقدام کو امریکی انتخابی عمل میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    کینیڈا کے وزیر خارجہ فرانسسکو فلپ کا کہنا ہے کہ ’کینیڈا واشنگٹن ڈی سی کی صورتحال پر انتھائی صدمے میں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی جمہوریت کی بنیادی قوت ہے۔ اسے جاری رہنا چاہیے اور یہ جاری رہے گی۔ ہم اس صورتحال کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ہماری نیک خواہشات امریکی عوام کے ساتھ ہیں۔

    فرانس کے وزیر خارجہ نے بھی اپنے بیان میں ان مظاہروں کو جمہوریت پر سنجیدہ نوعیت کا حملہ قرار دیا ہے۔

    ولندیزی وزیراعظم مارک روتھ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’واشنگٹن ڈی سی کی خوفناک تصویر۔ ڈیئر ٹرمپ جوبائیڈن کو آج آگلا صدر تسلیم کر لیں۔

    یورپین کونسل کے صدر چارلس میچل نے اپنی ٹویٹ میں پیغام لکھا کہ امریکی کانگرس جمہوریت کا مندر ہے۔ آج شب جو واشنگٹن ڈی سی کے مناظر دیکھے وہ دہشت ناک ہیں۔ ہم امریکہ پر یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کو یقینی بنائے گا۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیف جوزگ بورل نے کہا ہے کہ ’یہ امریکی جمہوریت اس کے اداروں اور قانون کی حکمرانی پر ایک نہ دکھائی دینے والا حملہ ہے۔ یہ امریکہ نہیں ہے۔ 3 نومبر کے انتخابی نتائج کا مکل طور پر احترام ہونا چاہیے۔

  9. ’تصور کریں کہ اگر بلیک لائیوز میٹر نے ایسا کیا ہوتا تو؟‘

    کیپیٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے دوران سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے حامی مظاہرین کے خلاف پولیس کے ردعمل کا موازنہ موسم گرما میں ہونے والے ’بلیک لائیوز میٹر‘ (بی ایل ایم) کے مظاہروں سے کیا جاتا رہا۔

    سی این این کے سیاسی تجزیہ کار وان جونز نے کہا کہ ’تصور کریں کہ اگر کیپیٹل کی عمارت پر بلیک لائیوز میٹر نے دھاوا بولا ہوتا۔ ہزاروں سیاہ فام افراد حکومت کا محاصرہ کر لیتے‘۔

    گذشتہ موسم گرما میں بی ایل ایم کے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے پولیس اور نینشل گارڈ کے اہلکار اکثر حفاظتی لباس میں نظر آتے تھے۔ ان عموماً پرامن مظاہروں کے نتیجے میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور تقریباً 20 مظاہرین ہلاک ہوئے (یہ اعداد و شمار آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اور ایونٹ ڈیٹا پروجیکٹ کے مرتب کردہ ہیں)۔

    بدھ کو واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین نے کیپیٹل کی عمارت کے باہر کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو عبور کیا۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بظاہر پولیس اہلکاروں نے جو کہ مظاہرین کے مقابلے میں بہت کم تعداد میں تھے، گیٹ کھول کر مظاہرین کو اندر داخل ہونے دیا جبکہ عمارت میں داخل ہونے والے مظاہرین کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو سیلفیاں لیتے دیکھا گیا۔

  10. بریکنگ, ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کا اکاؤنٹ لاک کر دیا

    ٹوئٹر نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ اگلے 12 گھنٹے تک قابلِ استعمال نہیں ہو گا جس کی وجہ بدھ کو ان کے اکاؤنٹ سے الیکشن کے بارے میں کی جانے والی ٹویٹس ہیں۔

    سوشل پلیٹ فارم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں پیش آنے والے ان پرتشدد واقعات کی وجہ سے جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، ضرورت ہے کہ صدر ٹرمپ کی ایسی تین ٹویٹس ہٹا دی جائیں جو بدھ کے دن کی گئیں۔

    ٹوئٹرکا کہنا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی تین ٹویٹس نہیں ہٹاتے تو ان کا اکاؤنٹ لاک ہی رہے گا۔

    ٹوئٹر نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں قواعد کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہا تو صدر ٹرمپ کا اکاؤنٹ مستقل طور پر معطل بھی کیا جا سکتا ہے۔

    • بریکنگ, 2700 سکیورٹی اہلکار کیپیٹل ہل پر تعینات

      کیپیٹل ہل کے قریب موجود لوگوں کا ہجوم وہاں نیشنل گارڈ کے دستوں کی تعیناتی کے بعد ہی منتشر ہونا شروع ہو گیا ہے۔

      نیشنل گارڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ڈی سے تقریباً 2700 اہلکاروں پر مشتمل فوجی اور فضائیہ کے دستے تعینات کیے گئے ہیں جبکہ 650 سکیورٹی اہکار ریاست ورجینیا سے آئے ہیں۔

    • ’ہم اب تاریخ کا حصہ بن جائیں گے‘

      کیپیٹل ہل پر صدر ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد معطل ہونے والا امریکی سینیٹ کا اجلاس مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔

      اس سے قبل سپیکر نینسی پلوسی نے کہا تھا کہ قانون ساز دوبارہ اسمبلی میں اپنا کام کریں گے۔

      نینسی پلوسی نے اپنے بیان میں کیپیٹل ہل پر حملے کو جمہوریت پر شرمناک حملہ قرار دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ پھر بھی ہمیں جو بائیڈن کے الیکشن کی تصدیق کرنے سے متعلق ذمہ داری سے نہیں روک سکتا۔

      انھوں نے کہا کہ ’رات شاید اب لمبی ہو جائے لیکن ہم مختصر ایجنڈے کے لیے پرامید ہیں۔ ہمارا مقصد حاصل ہو جائے گا۔‘

      نینسی پلوسی نے مزید کہا کہ الیکٹورل کالج پر غلط اعتراضات کے باوجود ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم مثبت طریقے سے تاریخ کا حصہ بنیں گے۔

      ’ہم اب تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔ ہمارے ملک کی شرمناک تصویر دنیا کے سامنے رکھی گئی جس کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر اکسایا گیا۔‘

      خیال رہے کہ ہنگامہ آرائی کے دوران مظاہرین نینسی پلوسی کے دفتر میں بھی گھس گئے تھے اور ایک شخص کو کیپیٹل بلڈنگ میں ان کا لیکچرن اٹھائے پھرتے دیکھا گیا تھا

    • بریکنگ, کیپیٹل ہل میں کانگرس کا اجلاس دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

      اطلاعات کے مطابق امریکی کانگرس کا اجلاس جسے کیپیٹل ہل میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کے دھاوے کے بعد روک دیا گیا تھا اب کچھ گھنٹوں کے بعد دوبارہ شروع ہو گا۔

      ایوان نمائندگان کی ترجمان نینسی پلوسی نے اعلان کیا ہے کہ آج شب قانون ساز دوبارہ آئیں گے اور رائے شماری میں حصہ لیں گے۔

      ان کا کہنا ہے کہ دیگر ڈیموکریٹ رہنماؤں، پینٹاگون، محکمہ انصاف اور نائب صدر کے ساتھ مشاورت کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جیسے ہی کیپیٹل ہل کلیئر ہو جائے اجلاس کو آج شب دوبارہ شروع کیا جانا چاہیے۔

    • بریکنگ, ہنگامہ آرائی کے بعد 13 افراد گرفتار

      کیپٹیل ہل پر ہنگامہ آرائی کے بعد حکام نے کم از کم 13 افراد کو حراست میں لیا ہے۔

      واشنگٹن ڈی سی میٹ پولیس کے مطابق پانچ بندوقیں بھی ضبط کی گئی ہیں جن میں ہینڈگن اور بڑی بندوقیں دونوں شامل ہیں۔

      پولیس کے سربراہ رابرٹ کونٹی نے صحافیوں کو بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے تمام افراد مقامی نہیں ہیں۔

      ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے عمل کے دوران کچھ پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    • واشنگٹن میں تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

      کرفیو کے نفاد کے اعلان کے باوجود واشنگٹن میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں نہیں ہے۔

      شہر میں کرفیو لگنے سے قبل پولیس کیپیٹل ہل میں داخل ہوئی تھی اور امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس نے ہجوم کو عمارت سے باہر نکالنے اور دور رکھنے کے لیے فلیش بینگ کا استعمال کیا ہے۔

      واشنگٹن میں نیشنل گارڈز تعینات کر دیے گئے ہیں اور میئر مریئل باؤزر نے ہمسایہ ریاستوں ورجینیا اور میری لینڈ سے اضافی کمک بھیجنے کی اپیل کی ہے۔

      میئر باؤزر نے کہا ہے کہ کرفیو کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار سڑکوں پر گشت کریں گے اور مظاہرین اور فوراً پیچھے ہٹنا ہو گا۔

      ادھر امریکی کانگریس نے اپنا مشترکہ اجلاس دوبارہ شروع کر دیا ہے جس کا مقصد 2020 کے صدارتی انتخاب کے نتائج کی توثیق کرنا ہے۔

      سینیٹ میں اپنے خطاب میں رپبلکن سینیٹر بین ساسی نے صدر ٹرمپ کو ہنگامہ آرائی کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا یہ تشدد صدر ٹرمپ کی تقسیم کرنے کی کوششوں کا بدصورت نتیجہ تھا اور جو ہوا وہ ہونا ہی تھا۔

    • کیپیٹل ہل کے اندر اور باہر کے مناظر

      کیپیٹل ہل میں جس وقت مظاہرین داخل ہوئے وہاں امریکی کانگریس کا مشترکہ اجلاس جاری تھا۔

    • بریکنگ, ہنگامہ آرائی کے بعد کیپیٹل ہل کی عمارت محفوظ، واشنٹگن میں کرفیو نافذ

      • امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کئی گھنٹے جاری رہنے والی ہنگامہ آرائی کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔ہے۔
      • کرفیو مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے لگایا گیا اور یہ جمعرات کی صبح تک نافذ رہے گا
      • کرفیو کے نفاذ کے اعلان سے قبل امریکی حکام نے اعلان کیا تھا کہ اب کیپیٹل ہل کی عمارت کو محفوظ بنا لیا گیا ہے۔ کیپیٹل ہل میں موجود صحافیوں کے مطابق جب یہ اطلاع امریکی قانون دانوں تک پہنچی تو انھوں نے اس کا خیرمقدم کیا۔
      • اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ کی درخواست پر نیشنل گارڈز کو پولیس کی مدد کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔
    • بریکنگ, کیپیٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے دوران گولی لگنے سے خاتون ہلاک

      پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مظاہروں کے دوران گولی لگنے سے زخمی ہونے والی خاتون ہلاک ہوگئی ہیں۔

      حکام نے ابھی تک ان کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے لیکن اس سے پہلے پولیس کا کہنا تھا کہ وہ ایک عام شہری تھیں۔

    • بات یہاں تک کیسے پہنچی؟

      اگر آپ اب ہماری لائیو کوریج پر آئے ہیں تو جانیے کہ واشنگٹن میں حالات خراب کیسے ہوئے

      • اس صورتحال کا آغاز ریاست جورجیا سے ڈیموکریٹس کے لیے اس اچھی خبر کے آنے کے بعد ہوا کہ وہاں سینیٹ کی دونوں نشستوں پر ہونے والا انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدواروں کی جیت کے امکانات روشن ہیں اور یوں چھ برس بعد نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی جماعت امریکی سینیٹ میں اکثریتی جماعت بن سکتی ہے۔
      • ملک کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنٹگن میں اپنے حامیوں سے خطاب کیا اور کہا وہ کبھی شکست نہیں مانیں گے اور یہ وقت کمزوری دکھانے کا نہیں ہے۔
      • اس وقت جب ٹرمپ اپنی تقریر ختم کر رہے تھے واشنگٹن میں ہی امریکی کانگریس کا مشترکہ اجلاس شروع ہوا تاکہ 2020 کے صدارتی انتخاب کے نتائج اور جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کی جائے۔ یہ 20 جنوری کو جو بائیڈن کی امریکہ کے 46ویں صدر کے طور پر حلف برداری سے قبل آخری مرحلہ تھا۔
      • اس اجلاس کے کارروائی کو متاثر کرنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے کیپیٹل ہل پر دھاوا بول دیا۔ مظاہرین نے وہاں لگائی گئی رکاوٹیں توڑ دیں، وہ دیواروں پر چڑھ گئے اور عمارت میں داخل ہو گئے۔
      • یہ ہنگامہ آرائی کئی گھنٹے جاری رہی اور اس دوران امریکی کانگریس کے ارکان کو عمارت خالی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
      • مظاہرین کے عمارت میں داخلے کے بعد نومنتخب صدر جو بائیڈن کی جانب سے کیپیٹل ہل کا محاصرہ ختم کروانے کے لیے صدر ٹرمپ کے نام پیغام میں کہا گیا کہ وہ اپنے حلف کی پاسداری کریں اور آئین کا تحفظ کریں۔
      • جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ کیپیٹل ہل پر حملہ احتجاج نہیں بلکہ بغاوت ہے اور اس وقت جب کہ جمہوریت کمزور ہے اس کے تحفظ کے لیے ایسے رہنما چاہییں جو ذاتی طاقت کے حصول کے لیے نہیں بلکہ عمومی بہتری کے لیے پرعزم ہوں۔
      • اس مطالبے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے اپنے ویڈیو پیغام میں الیکشن ’چوری‘ ہونے کا الزام دہراتے ہوئے اپنے حامیوں سے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے آپ تکلیف میں ہیں مجھے معلوم ہے آپ کو دکھ ہوا ہے۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے، خاص طور پر دوسری جانب والے لیکن اب آپ کو گھر جانا ہو گا۔‘ انھوں نے انتخابی مہم کے اس نعرے کو دہرایا کہ ’ہمیں امن حاصل کرنا ہو گا، ہمیں آئین اور قانون نافذ کرنا ہو گا۔‘
    • بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

      واشنگٹن ڈی سی سے میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے اور اس کے محاصرے پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج جاری ہے۔ اب تک کی تازہ ترین صورتحال کے لیے یہاں کلک کریں۔