سماجی رابطوں کی ویب سائٹ یو ٹیوب اور ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی جانب سے کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے والے مظاہرین کے نام بھجوائے گئے پیغام کو ہٹا دیا ہے۔
ان پیغامات میں صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو گھر واپس لوٹنے کو کہا تھا تاہم ساتھ ہی انھوں نے انتخاب میں فراڈ سے متعلق جھوٹےدعوے بھی کیے تھے۔
فیس بک نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ’ہم نے انھیں اس لیے ہٹایا ہے کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس نے جاری تشدد کے خطرے کو کم کرنے کے بجائے اس میں کردار ادا کیا گیا۔
اس پرتشدد ہنگامہ آرائی سے پہلے صدر ٹرمپ نے واشنگٹن کے نیشنل مال میں اپنے حامیوں سے کہا کہ انتخاب چوری ہوا ہے۔
کئی گھنٹوں کے بعد جب امریکی کیپیٹل ہل کے اندر اور باہر تشدد ہو رہا تھا تو صدر ٹرمپ ایک ویڈیو میں دکھائی دیے جس میں انھوں نے دوبارہ انتخاب سے متعلق جھوٹے دعوے کیے۔
یو ٹیوب کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ویڈیو کو اس لیے ہٹایا گیا ہے کیونکہ اس میں ’الیکشن میں دھاندلی کے حوالے معلومات پھیلانے سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
ابتدا میں ٹوئٹر نے ویڈیو کو نہیں ہٹایا تھا تاہم بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔
ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ تشدد کے خطرے کے پیشِ نظر ہم اپنی شہری تحفظ کی پالیسی کے تحت ایسی لیبل لگی ٹوئٹس پر پابندی لگا رہے ہیں۔
فیس بک کی جانب سے بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ کیپیٹل ہل میں پرتشدد مظاہرے رسوائی ہیں۔ ہم اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے تشدد پر اکسانے اور ایسا کرنے کے اقدامات کی اجازت نہیں دتیے۔ ہم ان قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے مواد کا فعال انداز میں جائزہ لے رہے ہیں اور اسے ہٹا رہے ہیں۔
فیس بک کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت وہ اس تمام مواد کو تلاش کر رہے ہیں اور ہٹا رہے ہیں جس نے کیپیٹل ہل میں تشدد پر اکسایا یا اس کی حمایت کی۔
خیال رہے کہ یہ کیپٹل ہل کی جانب سے مارچ کے انعقاد کے لیے آن لائن کام بھی ہوا تھا اور اس میں فیس بک گروپس اور فیس بک پیجز شامل تھے۔