نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘
ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکی سینیٹر اور ڈیموکریٹک جماعت سے تعلق رکھنے والے برنی سینڈرز کا کہنا ہے کہ الیکشن کے دن قومی سطح پر چھٹی ہونی چاہیے۔
وائٹ ہاؤس پارٹی: سینکڑوں افراد مدعو، کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ, تارا میکلوے، بی بی سی نیوز واشنگٹن
،تصویر کا ذریعہReuters
وائٹ ہاؤس میں الیکشن کی رات کو منعقد ہونے والی پارٹی میں سینکڑوں افراد کو مدعو کیا گیا ہے اور مرد اور خواتین وائٹ ہاؤس میں اپنی شفٹ کے لیے بھی جا رہے ہیں۔
میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے ابھی سے کالی ٹائی لگا رکھی تھی اور دیگر افراد جنھوں نے کپڑوں کے تھیلے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھے تھے۔ ان سب نے ماسک بھی پہن رکھے تھے۔
لوگوں کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی پارٹی کے باعث کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ ستمبر میں وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں جج ایمی کونی بیرٹ کے اعزاز میں رکھی گئی ایک تقریب کو کورونا وائرس کے تناظر میں ایک ’سپر سپریڈر تقریب‘ کہا گیا تھا کیونکہ اس کے بعد اکثر افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو گئی تھی۔
آج کی رات منعقد ہونے والی تقریب کچھ مختلف ہو گی۔
یہ وائٹ ہاؤس کے اندر منعقد ہو گی نہ کہ کھلی فضا میں اور یہی وجہ ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھ جائے گا۔
تمام مہمانوں کا اس تقریب میں شمولیت سے قبل کووڈ 19 کا ٹیسٹ کیا جانا تھا۔
امریکی ریاست فلوریڈا کو صدارتی انتخاب میں اتنی اہمیت کیوں حاصل ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
سیاست کے تناظر میں ریاست فلوریڈا کا نام لیتے ہی رپبلکن جماعت کے حامیوں کے چہروں پر مسکراہٹ اور ڈیموکیریٹک جماعت کے حامیوں کے ماتھوں پر پسینے آ جاتے ہیں۔
فلوریڈا وہ جگہ ہے جہاں لبرل خواب ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سنہ 2018 کے الیکشن میں ڈیموکریٹک جماعت نے گورنرشپ اور سینیٹ کی سیٹ کانٹے کے مقابلے کے بعد ہاری تھی۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں سنہ 2000 میں 537 ووٹوں کے باعث ڈیموکریٹک جماعت کے امیدوار ایل گور کی بجائے رپبلکن جارج بش صدر بنے تھے۔
ڈیموکریٹس کے لیے فلوریڈا ایک بے وفا دوست کی طرح ہے جو کبھی بھی اس وقت کام نہیں آتا جب ضرورت ہوتی ہے۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ آخری تین میں سے دو انتخابی شکستوں میں سے اگر وہ فلوریڈا میں فتح حاصل کر لیتے تو وہ الیکشن جیت جاتے۔
اگر آج کی بات کی جائے تو فلوریڈا ایک مرتبہ پھر ایک ایسی ریاست ہے جو صدارتی انتخاب کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح عوامی جائزے بتاتے ہیں کہ یہاں کانٹے کا مقابلہ ہو گا۔ تاہم اگر مجموعی طور پر تمام ریاستوں میں کانٹے کا مقابلہ ہوا تو فلوریڈا کے 29 الیکٹورل ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
الیکشن کا دن: اب تک کیا ہوا ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
اگر آپ نے ہمارا لائیو کوریج ابھی ابھی دیکھنا شروع کیا ہے تو ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ آج کے اہم واقعات کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
امریکی شہریوں کو خودکار فون کالز کے ذریعے گھر رہنے کی ہدایات موصول ہونے کی اطلاعات آنے کے بعد امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی (ایف بی آئی) نے اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
شمالی کیرولائنا کے الیکشن بورڈ نے چار پولنگ سٹیشنز کو مقررہ وقت سے کم از کم 45 منٹ زیادہ کھلے رہنے کی اجازت دی ہے جس کی وجہ سے نتائج مرتب کرنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن اب تک عوامی رائے شماری میں آگے ہیں تاہم سوئنگ سٹیٹس میں اب بھی کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
دونوں امیدوار الیکشن کے دن مستقل سفر کرتے رہے۔ ٹرمپ نے آرلنگٹن، ورجینیا میں ریپبلکن جماعت کے دفاتر کا دورہ کیا جبکہ بائیڈن سکرینٹن، پینسلوینیا میں اس محلے لوٹے جہاں انھوں نے اپنا بچپن گزارا تھا۔
ان انتخابات میں الیکشن کے دن سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر ڈاک کے ذریعے 10 کروڑ تک ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔
انڈیا کے ایک گاؤں سے کملا ہیرس کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام, پرمیلا کرشنن، نمائندہ بی بی سی تمل سروس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے ایک گاؤں تھلاسیندرپورم کے رہائشی منگل کی صبح مقامی مندر میں جمع ہوئے اور امریکی انتخاب میں نائب صدارت کی امیدوار کملا ہیرس کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی۔
تقریباً 5 ہزار آبادی والے اس گاؤں میں لوگوں نے دو ماہ سے امریکی انتخاب پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ اس دلچسپی کی وجہ کیا ہے؟ دراصل کملا ہیرس کے آباؤ اجداد کا تعلق اس گاؤں سے تھا اور پانچ سال کی عمر میں وہ خود بھی ایک بار اسی مندر کا دورہ کر چکی ہیں۔
مندر کے دروازے پر ایک بورڈ پر کملا ہیرس کے لیے ’گڈ لک‘ کا پیغام لکھا ہے۔ منگل کی صبح پچاس کے قریب گاؤں والوں نے ان کے لیے ہونے والی پوجا میں شرکت کی۔
کملا ہیرس کا خاندان بہت پہلے اس گاؤں سے پہلے چنئی اور پھر وہاں سے امریکہ منتقل ہو گیا تھا لیکن وہ لوگ اس مندر کی تزئین و آرائش کے لیے عطیات بھیجتے رہے ہیں۔
مندر کی دیوار پر عطیہ دینے والوں کی فہرست میں کملا ہیرس کا نام بھی ہے جنھوں نے سنہ 2014 میں 5 ہزار روپے کا عطیہ دیا تھا۔
ایف بی آئی شہریوں کو ’گھر رہنے کی ہدایات دینے والی خود کار کالوں‘ کی تحقیقات کر رہی ہے
امریکی شہریوں کو خودکار فون کالز کے ذریعے گھر رہنے کی ہدایات موصول ہونے کی اطلاعات آنے کے بعد امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی (ایف بی آئی) نے اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی کے ایک اہلکار نے ان کالز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ اطلاعات کئی ریاستوں سے موصول ہوئی ہیں اور انھیں ’ووٹنگ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں‘ قرار دیا۔
تاہم اہلکار کے مطابق ایسے واقعات تقریباً ہر الیکشن میں سامنے آتے ہیں۔
نیویارک کی اٹارنی جنرل لائیٹیشا جیمز نے کہا کہ ایسی کالز کے حوالے سے ان کے دفتر کو بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور وہ بھی اپنی ریاست کے شہریوں کو موصول ہونے والی کالز کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
اسی طرح مشیگن کی اٹارنی جنرل ڈینا نیسل نے ٹویٹ کیا کہ انھیں بھی خود کار کالز کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں یہ غلط معلومات دی گئی تھیں کہ فلنٹ کے رہائشی ووٹنگ سنٹرز پر رش کے باعث اگلے روز ووٹ ڈالنے جا سکتے ہیں۔
انھوں نے خبردار کیا کہ یہ معلومات سراسر غلط ہیں اور شہریوں کو ان پر کان نہیں دھرنے چاہییں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
الیکشن کا رزلٹ ہمیں کب پتا چلے گا؟
عام طور پر انتخاب کی رات اس وقت رزلٹ کا اعلان کر دیا جاتا ہے جب اتنے ووٹ گنے جائیں کہ کسی امیدوار کا جیتنا یقینی ہو جائے۔
سنہ 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک میں مقامی وقت کے مطابق رات کے تین بجے اپنے حامیوں کے سامنے فتح کا اعلان کر دیا تھا۔
لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس سال صورتحال انتہائی غیر معمولی ہے۔
امریکی حکام وارننگ دے چکے ہیں کہ اس بار بڑی تعداد میں ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی وجہ سے حتمی نتیجہ آنے میں کئی دن نہیں بلکہ ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔
اس سے پہلے سنہ 2000 وہ سال تھا جب الیکشن کا نتیجہ پہلے چند گھنٹوں میں واضح نہیں ہوا تھا۔ یہ وہ سال تھا جب جیتنے والے امیدوار کا اعلان انتخاب کے ایک مہینے کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے ہوا تھا۔
پانچ سینیٹ مقابلے جو دلچسپ ہو سکتے ہیں
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنخلاباز مارک کیلی، فٹبال کوچ ٹامی ٹیوبرولے اور کیلی لویفلر ان امیدواروں میں سے ہیں جو سینیٹ کی سیٹس کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔
جہاں ہر کسی کی توجہ امریکی صدارتی انتخاب پر ہے وہیں اس وقت کانگریس کو کنٹرول کرنے کے لیے انتہائی اہم انتخابات جاری ہیں۔
ڈیموکریٹس اس وقت ایوانِ نمائندگان میں اکثریت رکھتے ہیں اور انھیں امید ہے کہ وہ اسے قائم رکھ پائیں گے۔ تاہم وہ چاہتے ہیں کہ وہ سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل کر لیں۔
رپبلکنز کو سینیٹ میں معمولی برتری حاصل ہے اور یہاں 35 سینیٹ سیٹوں پر دوبارہ انتخابات ہونے ہیں، اور ان میں سے اکثر میں مقابلہ سخت ہونے کی توقع ہے۔
ڈیموکریٹس اگر ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں برتری حاصل کر لیتے ہیں تو ان کے پاس صدر ٹرمپ کے فیصلوں کو دوسری مدت کے دوران روکنے یا ممکنہ طور صدر بائیڈن کے فیصلوں کی توثیق کرنے کی طاقت ہو گی۔
یہ وہ پانچ ایسے مقابلے ہیں جن کے نتائج دلچسپ ہو سکتے ہیں:
ریاست ایریزونا میں سابق خلاباز مارک کیلی کا مقابلہ رپبلکن امیدوار مارتھا میکسیلی سے اور اسے ایک ’سپیشل مقابلہ‘ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ سنہ 2018 میں سینیٹر جان مکین کی وفات کے باعث خالی ہونے والی سیٹ ہے۔
ریاست جنوبی کیرولائنا میں رپبلکن امیدوار لنڈسے گراہم، جو پہلے تو صدر ٹرمپ کے مخالف تھے لیکن اب ان کے حامی ہیں، کا مقابلہ جیمی ہیریسن سے ہے جو ریاستی سطح پر ڈیموکریٹک جماعت کے سابق لابیئسٹ اور چیئرمین رہ چکے ہیں۔
ریاست مین میں ووٹرز ایک ایسے درمیانے نظریات رکھنے والے رپبلکن کے بظاہر مخالف نظر آ رہے ہیں جن کا نام سوزن کالنز ہے جو اس بات کی نشانی ہے کہ ٹرمپ کے دور میں درمیانے نظریات رکھنا کتنا مشکل ہے۔
ریاست جارجیا میں ڈیموکریٹس نے سنہ 1992 سے اب تک سینیٹ کی یہ سیٹ نہیں جیتی تاہم یہاں لبرل نظریات اور نوجوانوں کا ریاست میں آنے کے باعث اس مرتبہ نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ چار برس قبل ہلری کلنٹن نے ایٹلانٹا میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔
ریاست ایلاباما میں ہونے والے انتخاب میں رپبلکنز کے لیے ڈیموکریٹس کی جانب سے حاصل کردہ سیٹ حاصل کرنے کا اچھا موقع ہے۔ کیونکہ ڈیموکریٹ ڈگ جونز اس وقت عوامی جائزوں کے مطابق رپبلکن ٹومی ٹیوبرولے سے 10 پوائنٹ پیچھے ہیں۔ ٹیوبرولے کو صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے اور وہ اس سے قبل یونیورسٹی فٹبال کوچ رہ چکے ہیں۔
بی بی سی کا پول آف پولز: کیا ہم رائے شماری پر اعتبار کر سکتے ہیں؟
یہ کہنا آسان ہے کہ رائے شماری 2016 میں غلط تھی اور صدر ٹرمپ اکثر یہی کرتے ہیں مگر یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ زیادہ تر رائے شماری میں ہیلری کلنٹن کچھ فیصد برتری میں تھیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ رائے شماری غلط تھی کیونکہ انھوں نے 30 لاکھ زیادہ ووٹ تو لیے تھے۔
رائے شماری کرنے والوں نے 2016 میں کچھ غلطیاں تو کیں جیسے کہ انھوں نے ایسے افراد جن کے پاس کالج ڈگری نہیں ہے، انھیں درست طور پر ابتدائی طور پر نہیں ناپا یعنی ٹرمپ کو جن حلقوں میں برتری حاصل تھی وہ آخری مراحل تک واضح نہیں ہوئے۔ مگر اب بیشتر کمپنیوں نے اس بات کو درست کر لیا ہے۔
مگر اس دفعہ کورونا وائرس کی وجہ سے بےیقینی اور بھی زیادہ ہے اور اس کا اثر ملکی معیشت اور لوگوں کے ووٹ ڈالنے پر پڑے گا۔
الیکشن سے قبل چینی میڈیا کی توجہ جو بائیڈن پر مرکوز
گذشتہ چند ماہ سے چین کے میڈیا پر صدر ٹرمپ کا غلبہ رہا ہے۔ یہاں اخبارات نے مسلسل ان کی کورونا وائرس کی صورتحال میں حکمتِ عملی، امریکہ میں نسلی تناؤ اور ان کے چین سے متعلق بیانات پر تنقید کی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ چین یہ نہیں چاہتا کہ ٹرمپ جیتے بلکہ وہ تو انھیں عالمی سطح پر ایک کمزور سیاسی حریف سمجھتا ہے اور چین میں لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں۔
تاہم الیکشن کے دن سے پہلے ہی اکثر میڈیا کے اداروں کی جانب سے تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور انھوں نے اب بائیڈن پر اپنی توجہ مرکوز کر لی ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنلیڈی گاگا کے چین میں خاصے مداح ہیں اور انھیں بھی بائیڈن کی حمایت میں ویڈیو پیغام شیئر کرنے پر خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے
سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے آج بائیڈن سے متعلق لکھا کہ بائیڈن ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی کو اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں اور انھیں نکالنا نہیں چاہتے، اور انھیں چین میں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے کیونکہ ملک میں صدر ٹرمپ کی کورونا وائرس کی حکمتِ عملی کے حوالے سے خاصی برہمی پائی جاتی ہے۔
لیڈی گاگا کے چین میں خاصے مداح ہیں اور انھیں بھی بائیڈن کی حمایت میں ویڈیو پیغام شیئر کرنے پر خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
اخبار کے چیف ایڈیٹر ہو شی جن کے مطابق الیکشن کے روز جو بائیڈن کو واضح برتری حاصل ہے۔
انھوں نے ٹرمپ کے حامیوں سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’جارحانہ اور شدت پسند‘ ہیں اور سرکاری براڈکاسٹر سی جی ٹی وی نے بھی ٹرمپ کے دور میں اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
’خدا کے فضل سے اس گھر سے وائٹ ہاؤس تک‘
،تصویر کا ذریعہReuters
جو بائیڈن نے الیکشن کے روز پینسلوینیا میں اپنے بچپن کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور ایک کمرے کی دیوار پر پیغام بھی چھوڑا۔
سابق نائب صدر نے سکرینٹن میں اپنی بچپن کی رہائش گاہ کے ایک کمرے کی دیوار پر لکھا کہ ’خدا کے فضل کے باعث اس گھر سے وائٹ ہاؤس تک۔‘
بریکنگ, شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ کے وقت میں توسیع، نتائج میں تاخیر کی توقع
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے الیکشن بورڈ نے چار پولنگ سٹیشنز کو مقررہ وقت سے کم از کم 45 منٹ زیادہ کھلے رہنے کی اجازت دی ہے جس کی وجہ سے نتائج مرتب کرنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
اس کی وجہ ان پولنگ سٹیشنز کو کھولنے میں تاخیر بتائی جاتی ہے۔ تکنیکی وجوہات کی بنا پر یہ پولنگ سٹیشن صبح مقررہ وقت پر نہیں کھل سکے تھے۔
ریاست سے نتائج موصول ہونے کا سلسلہ مقامی وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے (گرینچ ٹائم کے مطابق رات کے ساڑھے بارہ) شروع ہونا تھا لیکن اب نتائج کا اس وقت تک اعلان نہیں کیا جائے گا جب تک آخری پولنگ سٹیشن بند نہیں ہوتا۔
واشنگٹن ڈی سی کا ماحول: ’میرے کیریئر کا سب سے زیادہ تناؤ والا پولنگ ڈے‘, کیتھی کے، میزبان، بی بی سی ورلڈ نیوز امریکہ
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنواشنگٹن ڈی سی میں ایک پولنگ بوتھ کے مناظر
میں نے امریکہ میں پہلے صدارتی انتخاب کی کوریج سنہ 2004 میں کی تھی، اس طرح یہ میرے صحافتی کیریئر کا پانچواں امریکی صدارتی انتخاب ہے اور یہ یقیناً سب سے زیادہ غیر معمولی بھی ہے۔
اس وقت امریکہ میں تاریخ کے شاید سب سے غیرمعمولی صدر موجود ہیں۔ کورونا وائرس کے باعث یہ اب تک کی سب سے غیرمعمولی انتخابی مہم تھی اور یہ اب تک پولنگ کا سب سے زیادہ تناؤ پر مبنی دن ہے۔
یہ پہلا انتخاب ہے جس میں دکانداروں نے اپنی دکانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ان پر لکڑی کے تختے لگا دیے ہیں کیونکہ انھیں انتخاب کے بعد فسادات کا ڈر ہے۔ ایک سینیئر امریکی تجزیہ نگار نے مجھ سے کہا کہ اس انتخاب کی فضا ایسی بن گئی ہے جیسے کہا جا رہا ہے کہ ’اقتدار میں آؤ یا مر جاؤ‘، ایسے انتخاب ہم مشرقِ وسطیٰ میں دیکھ چکے ہیں۔
اور دنیا دیکھ رہی ہے، جیسے وہ ہمیشہ سے دیکھتی آ رہی ہے۔ تاہم کیونکہ یہ صدر ٹرمپ کی صدارت ہے اور ہر چیز بہت غیر معمولی ہے اس لیے عالمی توجہ میں بھی بےانتہا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دنیا دیکھ رہی ہے کہ کیا امریکی ووٹرز چار مزید سال ’سب سے پہلے امریکہ‘ کا انتخاب کریں گے یا ہم ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت سے متعلق ایک حتمی تجزیہ لکھیں گے۔
جو بائیڈن کے بارے میں میرا کیا تجزیہ ہے اور ان کا انتخاب دنیا کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ اس بارے میں ان کی جیت کے بعد آپ مزید پڑھ پائیں گے۔
تاہم آج صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بات ہو گی۔ اگر دیکھا جائے تو یہ الیکشن ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ہی تھا۔ یہ شخصی مقابلہ بھی ہے اور صرف ایک ہی بندے پر تمام نظریں مرکوز ہیں۔
باقی دنیا کے لیے بھی میرے نزدیک پچھلے چار سال ایسے ہی رہے ہیں۔
بریکنگ, امریکی انتخاب 2020 میں ابھی سے ’دس کروڑ ووٹ ڈالے جا چکے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ میں صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس الیکشن میں ووٹر ٹرن آؤٹ یعنی کل ووٹروں میں سے ووٹ ڈالنے والوں کی شرح اس مرتبہ تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے یونیورسٹی آف فلوریڈا کے یو ایس الیکشنز پراجیکٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تک ’ارلی‘ ووٹنگ اور ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد دس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
امریکہ میں ووٹروں کی کُل تعداد 23 کروڑ سے زیادہ ہے۔
بریکنگ, کچھ ریاستوں میں امریکی محکمہ ڈاک کے سنٹرز کی تلاشی کا حکم
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ میں ایک وفاقی عدالت کے جج نے محکمہ ڈاک کو ہدایات دی ہیں کہ وہ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق 3 نومبر کو رات آٹھ بجے تک اپنے پروسسنگ سنٹرز میں بچ جانے والے ووٹوں کا جائزہ لیں۔
جج ایمیٹ سلیون نے کئی کلیدی ریاستوں، جہاں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے، میں امریکی محکمہ ڈاک کے چند حلقوں کی تلاشی کا حکم بھی جاری کیا ہے۔ ان ریاستوں میں پینسلوینیا، فلوریڈا اور ایریزونا شامل ہیں۔
ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کے حوالے سے مختلف ریاستوں کے مختلف قوانین ہیں۔
کورونا کی وبا کے باعث کئی ایسی ریاستوں نے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی اجازت دے رکھی ہے جہاں پہلے یہ سہولت میسر نہیں تھی۔
انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے بار بار یہ دعوی کیا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی وجہ سے انتخابات میں فراڈ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
بریکنگ, ٹرمپ: آواز تھوڑی بیٹھی ہوئی ہے لیکن میں بہترین محسوس کر رہا ہوں
،تصویر کا ذریعہEPA
ریپبلکن پارٹی کے انتخابی مہم کے مرکزی دفتر میں اہلکاروں سے ملنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز تھوڑی بیٹھ گئی ہے لیکن اس کے علاوہ وہ ’بہترین محسوس کر رہے ہیں۔‘
امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے قریب واقع ریاست ورجنیا کے شہر آرلنگٹن میں ریپبلکن انتخابی مہم کے مرکزی دفتر کے دورے کے دوران صدر نے امید ظاہر کی کہ ’آج کی رات کچھ شاندار نتائج سامنے آنے والے ہیں۔‘
انھوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کے دن کے بعد موصول ہونے والے ووٹوں کو شامل کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے ایک خطرناک پالیسی قرار دیا اور کہا کہ اس سے فراڈ اور دھوکہ دہی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ انتخابی نتائج الیکشن کی رات دستیاب ہونے چاہییں۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے فتح یا شکست، کسی صورت کے لیے کوئی تقریر پہلے سے تیار نہیں کی ہے۔ ’میرے خیال میں آج ایک بہترین رات ہوگی لیکن سیاست میں آپ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکہ کے مختلف حصوں میں صدارتی انتخاب کے سلسلے میں ووٹنگ جاری ہے۔
تاہم منگل کو امریکی صدر نے دنیا کے ایک اور کونے میں ان کے حق میں ہونے والی ایک ریلی کی ویڈیو بڑے جوش و خروش سے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی۔
،تصویر کا ذریعہTwitter
تاہم کچھ صارفین نے ان کی لگائی ویڈیو پر سوال اٹھاتے ہوئے دعوی کیا کہ یہ ریلی ٹرمپ کے حق میں نہیں بلکہ دنیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔
کیا امریکی خواتین ٹرمپ کی حامی ہیں یا بائیڈن کی؟
سنہ 2016 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی خواتین ووٹرز میں اپنی مقبولیت سے سب کو حیران کر دیا تھا۔ 50 فیصد سے زیادہ سفید فام خواتین نے ان کی حمایت کی تھی حالانکہ اس وقت ان کی حریف امریکہ کی تاریخ کی پہلی خاتون صدارتی امیدوار تھیں۔
تاہم چار سال اقتدار میں رہنے کے بعد کیا اب بھی خواتین ان ہی کی حامی ہیں؟ ہمارے پینل میں موجود دو ووٹرز سے ہم نے بات کی ہے اور ان کے خیالات کچھ یوں ہیں:
بیسی کلارک ہونڈیورس سے تعلق رکھنے والی ایک تارکِ وطن جو بائیڈن کو ووٹ کریں گی۔
کیا خاتون ہونے سے آپ کے ووٹ میں فرق آئے گا؟
جی ہاں! بطور خاتون میں کبھی بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ نہیں کر سکتی کیونکہ وہ مسلسل خواتین کی تضحیک کرتے رہے ہیں۔
میں اس حوالے سے خاص طور پر محتاط ہوں کہ میں کسے ووٹ کروں گی اور میں چاہوں گی کہ میرے حمایت یافتہ امیدوار خواتین کے حقوق اور یکساں تنخواہ کے بارے میں کام کریں اور اس بات پر زور دیں کہ خواتین طاقت ور ہیں اور وہ اہم منصبوں پر فائز ہو سکتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ٹرمپ نے ان باتوں کو نظر انداز کیا ہے۔
ٹیلر گولڈن چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرتی ہیں اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ کریں گی۔
کیا خاتون ہونے سے آپ کے ووٹ میں فرق آئے گا؟
نہیں۔ میں ایسی خواتین کو جانتی ہوں جو ٹرمپ کو ان کے ماضی کے باعث ووٹ نہیں کر رہیں۔ میں شکرگزار ہوں کہ لوگ مجھے میرے ماضی کی وجہ سے نہیں پرکھتے۔
مجھ سے بھی غلطیاں ہو چکی ہیں۔ ٹرمپ نے ماضی میں خواتین کے بارے میں غلط باتیں کی ہوں گی اور شاید وہ ایسے شخص نہیں ہیں جنھیں آپ اپنے گھر کھانے پر مدعو کریں لیکن وہ اس ملک کی تاریخ کے سب سے بہترین صدر ہیں۔
پالیسی کی بنیاد پر ووٹ کرنا چاہیے، شخصیت کی بنیاد پر نہیں۔ کسی کی شخصیت مکمل نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرتے وقت منافقت نہیں دکھانی چاہیے۔ یہ منطقی، غیرجانبدار اور اپنے آپ سے ایماندار ہونے کا وقت ہے۔
امریکی صدارتی انتخاب میں اندازاً کتنا خرچہ آتا ہے اور یہ خرچہ اٹھاتا کون ہے؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
امریکی صدارتی انتخاب کی مہمات اصل انتخاب سے کئی سال پہلے شروع ہوجاتی ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے رواں سال یہ انتخابی مہمات مختلف طریقے سے چلائی گئیں، تاہم 3 نومبر کو ہونے والے انتخاب سے قبل بہت بھاری رقوم خرچ کی گئیں۔
امریکی صدارتی انتخاب میں اندازاً کتنا خرچہ آتا ہے اور یہ خرچہ اٹھاتا کون ہے، جاننے کے لیے دیکھیے یہ ڈیجیٹل ویڈیو۔
خامنہ ای: امریکی اتخاب کے نتیجے سے ایران کی امریکہ سے متعلق پالیسی میں تبدیلی نہیں آئے گی
،تصویر کا ذریعہEPA
ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے ایک مرتبہ پھر زور دیا ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب کے نتیجے سے تہران کی واشنگٹن کی جانب پالیسی میں فرق نہیں آئے گا۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہماری پالیسی واضح ہے۔ اسے کسی فرد کی تبدیلی سے فرق نہیں پڑے گا۔ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون آتا ہے یا جاتا ہے۔‘
خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2018 میں جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد ایران پر ’انتہائی دباؤ‘ برقرار رکھنے کی پالیسی کے بارے میں بات کی تھی۔
تاہم ٹرمپ کے حریف جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کو دوبارہ بحال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جب سنہ 2015 میں یہ معاہدہ طے پایا تھا تو بائیڈن اس وقت نائب صدر تھے۔
اس معاہدے میں ایران پر موجود اقتصادی پابندیوں میں نرمی لائی گئی تھی اور بدلے میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد کہا تھا کہ یہ معاہدہ ’بنیادی طور پر خراب‘ ہے اور انھوں نے ایران پر ایک مرتبہ پھر ایسی پابندیاں عائد کر دیں جن سے ایران کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔