آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

عالمی ادارہ صحت: موسم تبدیل ہونے سے کورونا وائرس ختم نہیں ہو جائے گا

کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 65 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد دو لاکھ 76 ہزار ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس موسم گرما میں شمالی نصف کرہ میں کورونا وائرس کے انفیکشن کے بارے میں غفلت برتنے سے گریز کیا جائے۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ میں سکول کھولنے سے متعلق بحث زور پکڑنے لگی

    ایک ایسے وقت میں جب امریکہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور ملک میں گذشتہ کچھ دنوں سے یومیہ تقریباً 60 ہزار متاثرین کی تشخیص ہو رہی ہے ایسے میں یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ کیا امریکہ میں تعلیمی ادارے مکمل طور پر دوبارہ کھول دیے جائیں یا آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

    امریکہ میں نیا تعلیمی سال اگست یا ستمبر سے شروع ہو گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اس وائرس سے متعلق اپنی حکمت عملی کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہتے ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ امریکی ریاستوں کے گورنرز سے کہیں گے کہ تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھول دیا جائے۔

    امریکہ میں کورونا وائرس سے تقریباً 147,000 شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 42 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

  2. عالمی ادارہ صحت: کووڈ 19 دنیا بھر کے لیے صحت کی سب سے سنجیدہ ہنگامی صورتحال

    عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ کووڈ 19 کی وبا پوری دنیا کے لیے ’بلا مقابلہ صحت کی سب سے سنجیدہ‘ ہنگامی صورتحال ہے۔

    جنیوا میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے کو کورونا وائرس کے کل تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ متاثرین کی اطلاع ملی ہے جبکہ اب تک چھ لاکھ 40 ہزار اموات ہوچکی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’عالمی وبا مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے۔‘

    ’گذشتہ چھ ہفتوں میں کل متاثرین کی تعداد تقریباً دگنی ہوئی۔‘

  3. رنگ برنگے ’ڈیزائنر‘ فیس ماسکس کا کاروبار

    کیا آپ بھی کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی ماسکس کے پھیکے رنگوں سے اکُتا گئے ہیں؟ تو پریشان نہ ہوں۔ اب ایک پاکستانی کمپنی نے ایسے دیدہ زیب نت نئے ماسک متعارف کرائے ہیں جو آپ کی بورنگ زندگی میں رنگ بھر دیں گے۔

  4. کورونا وائرس: پنجاب میں عیدالاضحیٰ پر نو روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان

  5. بریکنگ, عید اور محرم کے بعد لاک ڈاؤن کے حوالے سے بڑے فیصلوں کا عندیہ

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے عید اور محرم کے بعد لاک ڈاؤن کے حوالے سے بڑے فیصلوں کا عندیہ دے دیا ہے۔

    ان کو کہنا تھا کہ عید تک سب کو ذمہ داری لینا ہوگی تاکہ کورونا وائرس کے متاثرین کو کم رکھا جاسکے۔

    ’کاروبار کے شعبے اور دکانداروں کو کہوں گا کہ چہرے کے ماسک پہنیں۔۔۔ قربانی کی عید پر آن لائن قربانی کو ترجیح دیں۔ اگر آپ نے منڈیوں میں جانا ہی ہے تو ماسک پہن کر جائیں۔

    ’اگر کامیابی سے عید اور محرم گزر گئے تو ہم نے اب کاروباری مراکز کھولنا چاہتے ہیں۔ لوگ بہت تکلیف میں ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ریستوران مشکل میں ہیں۔ سروس سیکٹر مشکل میں ہیں۔ شادی ہال بند ہیں جن سے بڑے لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔۔۔ اور سب سے زیادہ سیاحت کا شعبہ۔ یہ سیاحت کے لیے بہترین موسم ہے۔ صرف گرمیوں کے چار، پانچ مہینوں میں پیسا بنتے ہیں۔۔۔ اگر آپ نے عید پر احتیاط کر لی اور ہم علما سے کہہ رہے ہیں کہ محرم پر احتیاط کریں، تو اس کے بعد باقی زندگی آسان ہوجائے گی۔‘

    ’ہمیں اس سے سیاحت اور ریستوران کے شعبوں سے منسلک تمام کاروباروں کو بحال کرنے کا موقع مل سکے گا۔ اور پھر ہم نے تعلیمی ادارے کھولنے ہیں۔ عید اور محرم کے بعد اچھے نتائج آگئے تو سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بھی ایس او پیز کے ساتھ کھول سکیں گے۔‘

  6. بریکنگ, عمران خان: عید اور محرم پر احتیاط نہ کی تو متاثرین دوبارہ بڑھ سکتے ہیں

    عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا اب تک کورونا وائرس کو سمجھ نہیں سکی ہے۔

    ’اگر آپ نے احتیاط نہ کی تو متاثرین اور اموات دوبارہ بڑھ سکتے ہیں۔ ایسا آسٹریلیا اور سپین میں ہوا۔‘

    وزیراعظم عمران خان نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں متاثرین کم ہونے کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی اور متاثرین دوبارہ بڑھنے لگے۔

    ’میں آج آپ سب پاکستانیوں سے کہہ رہا ہوں کہ متاثرین میں کمی کے بعد عید الاضحیٰ اور محرم میں احتیاط نہ کی تو متاثرین دوبارہ بڑھ سکتے ہیں۔

    ’ہمیں شاید دنیا کے مقابلے کم نقصان پہنچا ہے۔ لیکن ہم پہلے ہی مشکل میں تھے۔‘

    عمران خان نے عوام سے عید اور محرم پر احتیاط برتنے کی تاکید کی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’چھوٹی عید پر ہم نے احتیاط نہیں کی اور متاثرین بڑھے۔ اس سے صحت کے نظام اور طبی عملے پر بوجھ پڑا۔ ہم اب یہ دوبارہ نہیں چاہتے۔‘

    ’ساری دنیا میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ دوبارہ لاک ڈاؤن لگایا تو معیشت کو نقصان پہنچے گا۔‘

    ’پلاٹ اور سیمنٹ کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے معیشت ٹھیک راستے پر چل رہی ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا ہے کہ ’چہرے کے ماسک سے سب سے زیادہ فرق پڑا ہے۔ اس کا کوئی خرچہ نہیں ہے۔ دنیا بھر میں کورونا ختم کرنے کے لیے یہ سب سے آسان طریقہ ہے۔‘

  7. بریکنگ, عمران خان: مکمل لاک ڈاؤن ناممکن تھا، ہم نے لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچایا

    وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ایک خطاب کے دوران کہا ہے کہ ’مزدور کام کریں گے تو گھر پیسے دے سکیں گے۔ محنت کش کو بند کر دیں تو وہ بھوک سے مر جائیں گے۔

    ’ایسا کئی ملکوں میں ہوا۔ جیسے انڈیا میں کرفیو لگایا گیا۔ آج بھی وہاں ان اقدامات کے اثرات پائے جاتے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’جیسے ہی انڈیا نے لاک ڈاؤن کیا، محنت کش شہروں میں پھنس گئے۔ لاک ڈاؤن عملدرآمد کرانا مشکل ہوتا ہے۔‘

    ’امیر اور خوشحال علاقوں میں لاک ڈاؤن آسان ہوتا ہے۔ جس علاقوں میں پیسہ نہیں وہاں یہ اقدام مشکل ہے۔۔۔ پوری طرح لاک ڈاؤن ناممکن ہے۔‘

    عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ’ہم سمارٹ لاک ڈاؤن میں آئے اور فیصلہ کیا کہ زرعی شعبے کو روکا نہیں جائے گا۔۔۔ معیشت کی بحالی کے لیے جب کاروبار کھولا تب اس وقت ہم پر بہت تنقید ہوئی۔۔۔ لیکن یہ فیصلہ ٹھیک ثابت ہوا۔‘

    کہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ کورونا سے بچاتے بچاتے لوگ بھوک سے مرجائیں۔

  8. سعودی عرب: اس سال کا حج کیسا ہو گا؟

    سعودی عرب نے بدھ سے سالانہ حج کی میزبانی شروع کر دی ہے۔

    کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال حالیہ تاریخ میں پہلی بار دیگر مماللک سے حج کے خواہشمند لاکھوں افراد کو روکا گیا ہے۔ اس سال بہت کم تعداد میں مسلمان حج ادا کریں گے۔

    اس سال کون حج میں شریک ہو سکے گا؟

    اس سال سعودی عرب میں مقیم دس ہزار سے زائد مسلمانوں کو حج کرنے کی اجازت ہو گی۔ گذشتہ برس 25 لاکھ حجاج خانہ کعبہ میں جمع ہوئے تھے۔

    وبا کے خطرے کے پیش نظر اس سال بڑی تعداد میں حج کے لیے دی جانے والی درخواستوں کو مسترد کیا گیا ہے۔

    اس سال احتیاطتی تدابیر کے طور پر حج کے پانچ دنوں کی کوریج کے لیے غیر ملکی میڈیا پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    سعودی عرب میں کورونا وائرس کی وجہ سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ دنیا بھر میں اس وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک کروڑ اور ساٹھ لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔

    مکہ میں حج کی غرض سے آنے والوں کو تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ ان کا جسمانی درجہ حرارت چیک کیا جائے گا اور انھیں قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

    شیطان کو کنکریاں مارنے کی سنت پوری کرنے کے لیے حجاج کو سٹریلایزڈ یعنی جراثیم سے پاک کنکریاں دی جائیں گی۔ اسی طرح ان کا احرام، جائے نماز اور ان کے کے استعمال کی ایسی اشیا پر جراثیم کش سپرے کیا جائے گا۔

    سماجی فاصلے کے اصول کی پابندی کرنا ہو گی۔

  9. انڈیا میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 14 لاکھ سے تجاوز کر گئی

    انڈیا میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 14 لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ انڈیا متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے اس وقت تیسرے نمبر پر ہے۔

    انڈیا میں صرف گذشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 50 ہزار نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔ انڈیا میں جنوری سے پہلے مریض کی تشخیص سے لے کر آج تک اس وائرس سے 30 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

    جب کورونا وائرس کے متاثرین ابھی سینکڑوں میں ہی تھے کہ انڈیا نے مارچ میں سخت لاک ڈاؤن کا اطلاق کر دیا۔

    جون میں جب یہ وائرس پھیل رہا تھا تو لاک ڈاؤن کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا، جس کے بعد کچھ ریاستوں نے لاک ڈاؤن جسیے اقدامات اٹھائے۔

    اس وقت انڈیا میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی شرح 63 فیصد بنتی ہے۔

  10. بریکنگ, پنجاب میں تمام مارکیٹیں آج رات سے نو دن کے لیے بند کر دی جائیں گی

    پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں تمام مارکیٹیں آج رات سے بند کر دی جائیں گی۔ اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے ۔

    عید الاضحٰی پر سیر و سیاحت کے لیے دوسرے شہروں اور صوبوں میں جانے پر پابندی رہے گی۔

    سکیریٹری پرائمری ہیلتھ کییئر کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کے مطابق صوبے بھر میں مارکیٹیں آئندہ نو دن تک بند رہیں گی۔

    پنجاب حکومت کے فیصلے کے مطابق تمام تعلیمی ادارے، ہوٹلز، ریستوران اور ہر قسم کے تفریحی مقامات بند رہیں گے۔۔

    سیکرٹری صحت کا کہنا ہے کہ عید پر مارکیٹوں سے کورونا وائرس پھیلنے کے پیش نظر مارکیٹیں بند کی جارہی ہیں مویشی منڈیوں میں بھی ایس او پیز پر سختی سے عمل کروایا جائے گا۔

  11. سمارٹ لاک ڈاؤن کی سائنس کیا ہے؟

    کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیاجارہا ہے۔ لیکن سمارٹ لاک ڈاؤن آخر لگایا کیسے جاتا ہے اور حکومت کو کیسے پتا چلتا ہے کہ کس علاقے کو بند کرنا ہے۔

    ہمارے ساتھی عمر دراز اور فرقان الٰہی نے اس ویڈیو میں یہی جاننے کی کوشش کی ہے۔

  12. کورونا وائرس: چین کے ڈاکٹر نے دعویٰ کیا ہے ووہان کے حکام نے اہم معلومات چھپائیں

    چین میں ان ابتدائی ڈاکٹرز میں سے ایک جنھوں نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق کی تھی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں ووہان کے مقامی حکام نے اس وائرس سے متعلق معلومات چھپائی تھیں۔

    پروفیسر کوک یونگ یوین جنھوں نے ووہان میں بھی اس معاملے کی تحقیقات میں مدد فراہم کی تھی کا کہنا ہے کہ معلومات چھپانے کی غرض سے مقامی حکام نے ثبوت ضائع کر دیے جبکہ اب لیبارٹری کے نتائج کا عمل بہت سست ہوتا ہے۔

    ان کے مطابق جب ہم حنان کی سپر مارکیٹ میں گئے تو اس وقت تک یقیناً وہاں کچھ دیکھنے کو نہیں تھا کیونکہ مارکیٹ صاف کر دی گئی تھی۔ ان کے مطابق آپ کہہ سکتے ہیں کہ کرائم سین کو پہلے ہی خراب کر دیا گیا تھا کیونکہ سپر مارکیٹ کی صفائی کی جا چکی تھی جس وجہ سے ہم ایسی کسی چیز کا مشاہدہ نہ کر سکے جس سے یہ وائرس انسان میں منتقل ہوا ہے۔

    ان کے خیال میں انھیں شک ہے کہ مقامی سطح پر ان معلومات کو چھپایا گیا ہے۔ ان کے مطابق معلومات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اس وائرس کے بارے میں زیادہ معلومات جمع نہیں کی جا سکی ہیں۔

  13. کورونا ویکسین سے متعلق جھوٹے اور گمراہ کن دعوؤں کی حقیقت

  14. شمالی کوریا میں کورونا وائرس سے ’متاثرہ‘ شخص کا معمہ

    جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ شمالی کوریا میں جسے کورونا سے متاثر ہونے والا پہلا شخص بتایا جارہا ہے، اسے پہلے سے کورونا نہیں تھا۔

    جس شخص پر کورونا سے متاثر ہونے کا شبہ ہے کہ وہ تین سال پہلے جنوبی کوریا فرار ہوگیا تھا اور وہ گذشتہ ہفتے ہی شمالی کوریا واپس آیا تھا۔

    اس شخص کے شمالی کوریا پہنچنے کے متعلق جنوبی کوریا نے بتایا کہ وہ پانی کے نکاسی والے پائپ کے راستے جنوبی جزیرے پر پہنچا اور پھر ایک میل تک تیر کر وہ شمالی کوریا پہنچا۔

    ویکینڈ پر شمالی کوریا نے کہا تھا کہ ان کے یہاں کووڈ 19 کا پہلا مشتبہ کیس پایا گیا ہے۔

    شمالی کوریا نے بتایا کہ مریض شمالی کوریا کا شہری ہے اور وہ جنوبی کوریا سے واپس آیا ہے لیکن جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ 'نہ تو اس شخص کا نام کورونا سے متاثرہ افراد میں درج ہے اور نہ ہی وہ کسی متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے میں آیا تھا۔'

    مبینہ 'مفرور' شخص کے رابطے میں آنے والے دو افراد کا ٹیسٹ کیا گیا ہے مگر ان میں کورونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی ہے۔

    چین کے بعد جنوبی کوریا میں کورونا وائرس پھیلنے والا پہلا واقعہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ لیکن شمالی کوریا شروع سے ہی یہ کہتا رہا ہے کہ ان کے یہاں کورونا کا کوئی مریض نہیں ہے۔ تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔

  15. بریکنگ, پنجاب میں نو دن کے لیے سخت لاک ڈاؤن کا فیصلہ

    پنجاب کی کابینہ کمیٹی برائے کورونا کے اجلاس میں صوبے بھر میں نو دن کے لیے سخت لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کا اطلاق آج رات 12 بجے سے اگلے بدھ تک ہو گا۔

    پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ بکر منڈیوں کے لیے خصوصی ایس او پیز پر عمل دراآمد ہو گا۔ صوبائی وزیر کے مطابق تفریحی مقامات اور ریسٹورنٹ کو محرم الحرام کے بعد صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد کھو ل دیا جائے گا۔

  16. اپریل کے بعد چین میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد

    پیر کو چین میں تین ماہ میں سب سے زیادہ کورونا وائرس متاثرین کی تعداد کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ دوسری اور تیسری لہر کے خدشات کو بڑھا رہی ہے جو یورپی اور ایشیائی ممالک میں آ رہی ہے۔

    چین میں پیر کو 61 متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے جو کہ اپریل سے اب تک سب سے زیادہ یومیہ تعداد بنتی ہے۔ چین میں کورونا وائرس دسمبر سے پھیلنا شروع ہوا۔

    اس وائرس کی دوسری لہر پر قابو پانے کے لیے چین کی حکومت نے سخت اقدامات اٹھائے۔

    نئے متاثرین میں سے 57 افراد کا تعلق سنکیانگ صوبے سے ہے جہاں کے دارالحکومت ارومچی میں جولائی کے وسط میں بھی متاثرین کی تشخیص ہوئی تھی۔

    شہر میں اتوار کو بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ اس وقت 23 لاکھ سے زائد افراد کی سکریننگ کی جا چکی ہے۔

  17. پاکستانی وزرا: ’عوام سے اپیل ہے کہ عید سادگی سے منائیں‘

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان اور وفاقی وزیر اسد عمر کی پریس کانفرنس کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ عید سادگی سے منائیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود جان نے کہا ہے کہ عید الاضحٰی کے موقع پر وبا پھیلنے کے خدشات ہیں عوام احتیاط کریں، عوام عید سادگی سے اور اپنے گھروں پر منائیں، اس عید پر کورونا سے ہلاک ہونے والوں کو خصوصی طور پر یاد کیا جائے۔ عید کے موقع پر ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

    وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ 'میں نے خود بھی عید سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے کابینہ ممبران کو بھی عید سادگی سے منانے کی ہدایت کی ہے۔`

    ان کا کہنا تھا کہ عید کے موقع پر شہری سیاحتی مقامات کی طرف نہ جائیں۔ عید کے بعد سیاحتی مقامات کو کھولنے کے لیے این سی سی کے اجلاس میں مشاورت کی جائے گی۔

    پریس کانفرنس سے اپنے خطاب میں وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ صوبائی حکومت کے موثر اور بروقت اقدامات کی وجہ سے صوبے میں کورونا کیسز میں واضح کمی آئی ہے لیکن وبا کا خطرہ ابھی بدستور موجود ہے اس لیے احتیاط بہت ضروری ہے۔

    'حکومت جو بھی اقدامات اٹھا رہی ہے وہ عوام کی جانوں کو محفوظ کرنے کے لیے ہیں۔‘

  18. کورونا وائرس: ویتنام میں اپریل کے بعد وائرس کی واپسی

    اپریل کے بعد ویتنام میں پہلی بار کورونا وائرس کے چار نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ چاروں افراد میں وائرس کی منتقلی مقامی سطح سے ہوئی ہے۔

    چار افراد میں اس وائرس کی تشخیص کے بعد دا نانگ شہر کو سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    اب کوئی سیاح شہر میں 14 دن تک داخل نہیں ہو سکتا جبکہ 80 ہزار سیاحوں کی ملک سے واپسی کے لیے پروازوں کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

    ویتنام کو اس وائرس کا کامیابی سے مقابلہ کرنے پر سراہا گیا تھا۔ ویتنام نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے شروع سے ہی اپنی سرحدیں بند کردیں تھیں۔ قرنطینہ جیسے اقدامات لاگو کرنے کے بعد متاثرین کی تلاش شروع کر دی تھی۔

    ویتنام میں اس وائرس سے 400 سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ کوئی بھی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔

  19. بریکنگ, اسلام آباد میں آج سے عید تعطیلات کے خاتمے تک تفریحی مقامات بند کرنے کا اعلان

    اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے ٹویٹ کیا ہے کہ آج سے عید تعطیلات تک تفریحی مقامات بند رہیں گے۔

    انھوں نے عوام سے صبر کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

    اپنے ٹویٹ میں انھوں نے کہا ہے کہ سب سے گزارش ہے کہ فی الحال گھومنے پھرنے کا کوئی پلان نہ بنائیں۔ اس دفعہ تھوڑی سی تکلیف برداشت کر لیں اور انسانی جانیں بچائیں۔

  20. پاکستان میں کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 1176 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ اس دوران اس وائرس سے کل 20 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    پاکستان نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں کل 22،056 ٹیسٹ کیے ہیں۔ اس وقت تک کل ٹیسٹ کی تعداد 1,890,236 بنتی ہے۔

    پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے کل مریضوں کی تعداد 274,249 ہے۔

    اس وائرس سے اب تک کل 5,842 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ اس وقت 1,229 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ صوبہ سندھ میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 118,311 ہے جبکہ پنجاب میں یہ تعداد 92,073 بنتی ہے۔

    بلوچستان میں متاثرین کی تعداد 11,601 جبکہ خیبر پختونخوا میں اس وائرس کے کل مریض 33,397 ہیں۔

    ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں متاثرین کی تعداد 14,844 بنتی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا وائرس سے 2,034 جبکہ گلگت بلتستان میں 1,989 افراد متاثر ہوئے ہیں۔