آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ڈونلڈ ٹرمپ: ’امریکہ میں وبا کی صورتحال بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب ہو سکتی ہے‘

دنیا میں ایک کروڑ 47 لاکھ سے زیادہ لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد دو لاکھ 66 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کورونا کی وبا میں مبتلا لوگوں کی مہارت سے نشاندہی کے نتیجے میں وبا میں واضح طور پر کمی ہو رہی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پاکستان: صوبہ پنجاب میں کورونا کے 253 نئے کیس، مزید سات اموات

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 253 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 90444 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید سات اموات سے پنجاب میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 2090 ہو گئی ہے۔

    صوبہ پنجاب میں اب تک 66021 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

  2. ٹرمپ کووڈ۔19 کی بریفنگز دوبارہ شروع کریں گے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کل سے وہ امریکہ میں کورونا وائرس کی وبا کے متعلق اپنی انتظامیہ کا ردِ عمل پیش کرنے کے لیے باقاعدہ عوامی بریفنگز دوبارہ شروع کریں گے۔

    صدر ٹرمپ نے مارچ اور اپریل میں وائٹ ہاؤس کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے ہمراہ روزانہ کی بنیادوں پر 35 بریفنگز دی تھیں، لیکن اکثر وہ غلط یا گمراہ کن بیانات دینے کی وجہ سے تنقید کی زد میں آ جاتے تھے۔ اس کے برعکس انھوں نے میڈیا پر الزام لگایا تھا کہ وہ متعصب ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بریفنگز کے دوبارہ شروع ہونے سے انھیں موقع ملے گا کہ وہ اپنی انتظامیہ کی مثبت چیزیں بتا سکیں، اور ویکسین اور دوسرے علاج کے متعلق تازہ ترین اطلاعات مہیا کر سکیں۔

    صدر نے رپورٹروں کو بتایا کہ ’میرے خیال میں یہ عوام کو معلومات فراہم کرنے کا ایک اچھا طریقہ ہے۔ بہت سے لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں، کیبل ٹی وی کی تاریخ میں ریکارڈ تعداد میں لوگ دیکھ رہے، اور اس طرح کی پہلے کوئی چیز نہیں ہوئی ہے۔‘

  3. پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک دن میں فقط 104 ٹیسٹ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پیر کو کورونا کے صرف پانچ کیس رپورٹ ہوئے جو کہ اپریل کی وسط کے بعد سے رپورٹ ہونے والے کورونا کے کیسز کی کم ترین شرح ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 20 جولائی کو کورونا کے صرف 104 ٹیسٹ کیے گئے۔

    محکمہ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق پانچ کیسز کے اضافے کے بعد بلوچستان میں کورونا کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد 11441 ہوگئی۔

    مزید ایک مریض کی ہلاکت کے باعث کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 133 ہوگئی ہے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 55773 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 44332 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طوپر پر 125742 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ کورونا وائرس سے اب تک9061 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  4. خیبر پختونخوا: کورونا سے مزید 5 ہلاک اور 157 نئے مریض

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے شکار مزید پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    حکام کی جانب سے جاری تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مزید 157 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ 361 مریض صحتیاب بھی ہو ہوئے۔

    اس وقت صوبے میں کل متحرک کیسز کی تعداد 579 ہے۔

  5. بریکنگ, اسلام آباد: 2 لاکھ کے قریب ٹیسٹ، ڈھائی مہینے میں آج سب سے کم مریض ریکارڈ, آسیہ انصر، بی بی سی اردو

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام باد میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ڈھائی مہینوں میں پیر 20 جولائی کو کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد سب سے کم رہی جو کہ 23 ہے۔

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر زعیم ضیا نے بی بی سی کو بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر اسلام آباد میں 2 سے 3 ہزار ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب تک 14 ہزار میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ چھ مئی سے پہلے ایک مرتبہ 21 کورونا کیسز سامنے آئے تھے اور اس کے بعد آج 23 کیسز سامنے آئے ہیں۔

    ڈی ایچ او ڈاکٹر زعیم ضیا نے بتایا کہ جب ہم اسلام آباد میں کیے جانے والے ٹیسٹ کا قومی سطح سے تقابل کرتے ہیں تو یہ سب سے زیادہ ہے۔ جب ہم سرویلنس کر رہے تھے تو اس وقت مثبت نتائج 23 فیصد تھے جو اب کم ہو کر 3 فیصد رہ گئے ہیں۔

    مختلف جگہوں پر لیے جانے والے ٹیسٹ کے نمونوں میں ایک فیصد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2 لاکھ کے قریب یا اس سے زیادہ کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں ہم نے پانچ ہزار افراد کے مختلف سیکٹرز میں ٹیسٹ لیے جن میں سے 40 سے 45 میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ڈاکٹر زعیم ضیا کا کہنا تھا کہ عید ایک بڑا چییلنج ہے اور لوگوں پر بھی اس کا انحصار ہے کہ وہ آپس میں کم میل جول رکھیں۔

  6. جنوبی افریقہ کے علاقوں کے نام کووڈ۔19 اور سینیٹائیزر, پمزا فہلانی، بی بی سی نیوز، جوہانسبرگ

    ایک برادری نے جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کے گرد ایک نئی غیر رسمی بستی میں اپنے علاقے کا نام کووڈ۔19 رکھ کے وبا کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔

    اس آبادی میں وہ لوگ رہ رہے ہیں جن کی آمدنی کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ختم ہو گئی تھی اور ان کے پاس مکانوں کے کرائے دینے کے بھی پیسے نہیں تھے۔

    اس میں مختلف حصے ہیں جنھیں کووڈ۔1، کووڈ۔2 کہا جاتا ہے اور یہ کووڈ۔19 تک جاتے ہیں۔

    یہاں اکثر گھر نالی دار لوہے کی چادر سے بنے ہوئے ہیں۔

    اس کے قریب ہی ایک اور غیر رسمی بستی کا نام سینیٹائزر رکھا گیا ہے۔ ویسے تو یہ نام شاید مذاق کے طور پر ہی رکھا گیا ہے لیکن اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کئی برادریوں کو کتنا متاثر کر رہا ہے۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس دوران کئی نئی غیر رسمی بستیاں بن رہی ہیں، لیکن ان کا انتظام چلانا بہت مشکل کام ہے۔

    جب سے ملک میں لاک ڈاؤن لگا ہے 30 لاکھ سے زیادہ افراد اپنا روز گار کھو چکے ہیں اور وبا نے معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس متاثرین کی وجہ سے صحت کا نظام بھی شدید دباؤ میں ہے۔

  7. بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید 53 مریض صحت یاب, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ صحت کے فوکل پرسن برائے کووڈ 19 ڈاکٹر ندیم الرحمن کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 247 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیے گے ہیں جن میں 3 خواتین سمیت 7 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ان کے مطابق خطے میں اب تک کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 1922 ہوگی ہے۔

    ڈاکٹر ندیم الرحمن کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں ایک ڈاکٹر اور ایک پیرا میڈیکس کا اہلکار بھی شامل ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 53 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحتیاب مریضوں کی تعداد 1254 ہوگی ہے۔ ڈاکٹر ندیم الرحمن کے مطابق اب تک اس خطے میں 22741 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

  8. پشاور میں مزید دو مقامات پر سمارٹ لاک ڈاؤن

    کورونا وائرس پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظرصوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں دو مقامات پر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ درمنگی گارڈن اور ایگزیکٹو لاجز ورسک روڈ میں 21 جولائی سہ پہر چار بجے سے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ان علاقوں سے ان آوٹ انٹری بند رہے گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلتے ہوئے کیسز کی وجہ سے سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا جس کے بعد ان علاقوں میں صرف ضروری اشیائے خورد و نوش، میڈیسن، جنرل سٹور، تندوراور ایمرجنسی سروس کی دکانیں کھلی رہیں گی۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ ان علاقوں کی مساجد میں صرف پانچ افراد کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت ہو گی۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز حکام نے تہکال بالا سے سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ لاک ڈاؤن کے نفاذ سے کورونا کیسز میں کمی آ رہی ہے۔

  9. مردوں کا ٹی 20 عالمی کپ ملتوی کر دیا گیا

    کورونا وائرس کی وجہ سے مردوں کا ٹی 20 عالمی کپ، جو کہ 18 اکتوبر اور 15 نومبر کے درمیان آسٹریلیا میں منعقد ہونا تھا، ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    اب یہ کرکٹ ٹورنامنٹ سنہ 2022 میں اکتوبر اور نومبر کے درمیان ایک اور ٹورنامنٹ کے ساتھ منعقد کیا جائے گا۔

    آئی سی سی کے چیف ایگزیکیٹیو مانو سواہنے کہتے ہیں کہ ’یہ فیصلہ ہمیں دو محفوظ اور کامیاب ٹی 20 عالمی کپ منعقد کرانے کا ممکنہ طور پر اچھا موقع فراہم کرتا ہے۔‘

  10. آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کا 15 اگست سے تعلیمی ادارے کھولنے کا مطالبہ

    آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کی ملک بھر سے200 سے زائد رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز، مدارس، فنی و تعلیمی اداروں اور اکیڈمیز نے کاشف مرزا کی قیادت میں مشترکہ اعلامیے میں حکومت کی جانب سے 14 ستمبر تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کے فیصلے کو مسترد کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تعلمی ادارے کھولے جائیں۔

    اعلامیے میں فیڈریشن کے صدر نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک بھر میں مدارس کے کامیاب تجربے کی روشنی میں سکولز 15اگست سے کھولے، بصورت دیگر سکولز 15 اگست کودیگر مدارس دینیہ کی طرح اتحادی تنظیموں کےساتھ ملکر از خود تعلیمی ادارے کھول دیں۔

    فیڈریشن کی جانب سے ملک بھر میں تعلیمی آئینی حقوق کے جائزمطالبات کے لیے پرامن احتجاج کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

    اعلامیے کے اہم نکات:

    • چیف جسٹس پاکستان،آرمی چیف، وزیر اعظم، وزرااعلیٰ،گورنرز سے اپیل کی کہ SOPs کے تحت دیگر شعبہ جات کی طرح سکولز و تعلیمی ادارے بھی فوری طور پر کھولے جائیں۔ پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نےعالمی معیار کے SOPs تیار اور جاری کر دیے ہیں۔
    • نجی سکولز، پیف وپیما، دیگرتعلیمی اداروں واکیڈمیز کا معاشی قتل کیا جارہا ہے۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے50% تعلیمی ادارے مکمل بنداور10لاکھ لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔
    • 7.5 کروڑ پاکستانی بچےاپنے آئینی حق سےمحروم ہیں،جن میں50 فیصد سے زائد تعداد لڑکیوں کی ہے۔ تعلیمی نقصان کاازالہ ناممکن، تعلیم ہر بچے کاحق اور 25-A ریاست کا آئینی فریضہ ہے۔ حکومت جان بوجھ کر شعبہ تعلیم کو تباہ کر رہی ہے، چائلڈ لیبر رجحان میں خطرناک اضافہ ہواہے۔
    • امیروں کی اولاد گھر میں ٹیوٹر اورعام انسان کا بچہ تعلیم سے محروم کیوں؟ آن لائن تعلیم اورتعلیم گھر ٹی وی اک فلاپ ڈرامہ!
    • سکولز کی ٹائمنگ صبح 7 تا 10 اور سیکنڈ شفٹ میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھ کے کلاسز جاری رکھی جا سکتی ہیں
    • ٹیچرز تنخواہیں اور90 فیصد سکولزکی عمارتوں کے کرائے فکسُ ہیں۔ بند سکولز کو بھی اوسط شرح بنیاد پریوٹیلیٹی بلز کی ادائیگیکرنی پڑ رہی ہے۔وزیراعظم ٹیچرز کیلیے تعلیمی ریلیف پیکیج کااعلان کریں۔
    • بورڈ امتحانات منسوخ کرنے کی بجائےامتحانات سماجی فاصلے برقرار رکھ کر لیے جائیں۔بورڈز فیس کی مد میں 45 لاکھ طلبا سے وصول شدہ 25ارب روپے واپس کریں۔
    • حکومت غیرآئینی اقدامات بند کرے۔ فیسوں کے حوالے سے حکومت سندھ اورپنجاب کا فیس میں 20فی صد کمی کا نوٹیفیکیشن وآرڈیننس آئین کےآرٹیکل 18,8،5,4,3, 25(1)،37اور38 سے متصادم،امتیازی وغیر قانونی ہے۔
    • وزیر اعظم پاکستان و وزرائے اعلی کو ملک بھر کے 2 لاکھ پرائیویٹ سکولز آئسولیشن سینٹرز اور قرنطینہ سنٹرزاور 15 لاکھ ٹیچرز بطور والیئنٹیرز پیشکش بھی کی گئی۔
  11. کورونا وائرس انفیکشنز: بلیکبرن انگلینڈ کا نیا ’ہاٹ سپاٹ‘

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لنکا شائر کی بورو بلیکبرن اور ڈاروین انفیکشنز کی شرح کے حوالے سے لیسٹر سے بھی آگے نکل رہے ہیں۔

    پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے مطابق گذشتہ ہفتے انفیکشنز دو گنا زیادہ ہو گئیں، اور 17 جولائی تک ہر ایک لاکھ افراد میں سے 79.2 کو کورونا وائرس تھا۔

    لیکن انفیکشنز کے حوالے سے اس کے ٹاپ کی فہرست میں آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ لیسٹر میں لاک ڈاؤن کے بعد انفیکشنز میں کمی آئی ہے۔ اب وہاں ہر ایک لاکھ افراد میں سے 77.7 افراد میں ہی کورونا وائرس کی انفیکشن ہے، 29 جون تک یہ نمبر 135 تھا۔

    بلیکبرن میں لگائے گئے نئے اقدامات میں زیادہ منہ ڈھانپنا اور دوسرے گھروں سے مہمانوں کے آنے پر زیادہ پابندیاں شامل ہیں

  12. کورونا وائرس: آکسفورڈ ویکسین ٹرائل کے نتائج حوصلہ افزا

  13. جنوبی ایشیا میں کورونا وائرس: کیا جانچ کی کمی عالمی وبا کی اصل شدت کو چھپا رہی ہے؟, شروتی مینن، بی بی سی ریئلٹی چیک

    نڈیا میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے اور اب وہ امریکہ اور برازیل کے بعد دنیا میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    انڈیا کی بڑی آبادی کو دیکھتے ہوئے یہ تعجب کی بات نہیں لیکن اس کے چھوٹے پڑوسی ممالک بھی اس وائرس سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

    پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور افغانستان میں کیا ہو رہا ہے اس پر ہماری نظر ہے۔

  14. وبا کے دوران انسدادِ پولیو مہم، سلام صحت محافظ

    پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر چاروں صوبوں میں انسداد پولیو مہم کی ٹیموں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے سے پاکستان میں پولیو کے تدارک کا پروگرام بھی متاثر ہوا تھا۔

    گذشتہ دنوں حکام نے اعلان کیا تھا کہ ملک کے طبّی مراکز پر والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے اور ویکسین لگوا سکتے ہیں جبکہ پیر کی صبح سے ملک کے منتخب اضلاع میں 5 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔

    نیشنل اننسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں نیشنل کوارڈینیٹر برائے انسدادِ پولیو ڈاکٹر محمد نے مہم کے پہلے روز ٹیمز کی ویڈیو شیئر کی اور اپنے پیغام میں لکھا `سلام صحت محافظ، کورونا ہو یا پولیو آپ کے عزم کو کوئی نہیں ہرا سکتا۔

  15. آکسفورڈ کے ویکسین کے نتائج سے پتہ کیا چلے گا؟, جیمز گیلیگھر، ہیلتھ اینڈ سائنس کے نامہ نگار

    یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی بنائی ہوئی ویکسین کے آج پہلے نتائج متوقع ہیں۔

    یہ اس پہلے مرحلے کی تحقیق کے نتائج ہوں گے جس میں ایک ہزار کے قریب رضاکاروں نے شرکت کی ہے۔ یہ لوگوں پر کیے جانے والے سب سے پہلے کلینیکل ٹرائلز ہیں۔

    اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ زیادہ افراد کو محفوظ طریقے سے دی جا سکتی ہے۔

    لیکن ہو سکتا ہے کہ ہمیں ’جیب‘ (jab) کی وجہ سے مدافعت کے نظام کا ردِ عمل بھی پتہ چلے کہ آیا اس کی وجہ سے اینٹی باڈیز بنتی ہیں یا یہ مدافعت کے نظام کے دوسرے حصوں کو متحرک کرتا ہے۔

    آج جو ہمیں نہیں پتہ چلے گا وہ یہ ہے کہ کیا یہ ویکسین ’کام‘ کرتی ہے، مطلب یہ کہ کیا اس سے آپ انفیکشن سے بچتے ہیں یا یہ کم از کم علامات کو کم کرتی ہے۔

    اس کے لیے ٹرائلز میں بہت زیادہ افراد کو شامل کرنے کی ضرورت ہے اور ان ممالک میں بھی جہاں برطانیہ سے کہیں زیادہ کورونا وائرس کے متاثرین موجود ہیں۔

  16. عید پر خیرات ، آلائشیں اورقربانی کی کھالیں اکھٹی کرنے کے لیے ہدایات و ضابطہ اخلاق جاری

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکام نے عید الاضحٰی کے موقع پر خیرات، آلائشیں اورقربانی کی کھالیں اکھٹی کرنے کے لیے ہدایات و ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق:

    • وہ ادارے/ تنظیمیں جن پرUNSCR 1267 کے تحت پابندی عائد کی گی ہے۔ اُسی نام یا تبدیل شدہ نا م سے کھالیں اکٹھی نہیں کر سکتیں۔
    • وہ ادارے جو دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشتگرد قرار پا چکے ہیں کسی قسم کی عوامی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتے۔
    • وہ خیراتی تنظیمیں جو قربانی کی کھالیں اکھٹی کرنا چاہتی ہیں وہ۔ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں درخواست دے سکتی ہیں۔ جس میں رجسٹریشن سرٹیفیکٹ، پچھلے سال کی NOC اور بیان حلفی جس میں اقرار نامہ کہ UNSCR 1267 کے تحت کالعدم تنظیموں میں اس کا شمار نہ ہو، کا شامل ہونا ضروری ہے۔
    • ڈپٹی کمشنر اسی درخواست پر 5 دن کے اندر فیصلہ کرنے کا مجاز ہوگا۔ اور NACTA SOPs کو مد نظر رکھتے ہوئے اجازت دینے کا مجاز ہوگا۔
    • فیصلے پر اعتراض کی صورت میں درخواست کنندہ نظر ثانی درخواست ۲ دنوں کے اندر اندر ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کوارڈینیشن کمیٹی کو داخل کرنے کا مجاز ہوگا۔
    • متعلقہ ڈویژنل کمشنر کمیٹی کے فیصلے پر دو دنوں کے اندر نظرثانی کرنے کے مجاز ہوں گے۔
    • تمام زیر سماعت درخواستیں 5 دنوں کے اندر اور عید سے 5 دن پہلے مندرجہ بالا طریق کار کے مطابق نمٹایا جائے گا۔
    • ڈپٹی کمشنر ایسی جگہوں کو مختص کریں گے جہاں عوام قربانی کی کھالیں جمع کرسکتے ہیں۔
    • وہ خیراتی تنظیمیں جن کے پاس ڈپٹی کمشنر کے جاری شدہ سرٹیفیکٹ ہوں ان مخصوص جگہوں سے کھالیں اکھٹی کر سکتی ہیں۔ لیکن ان کے پاس اجازت نامہ اور شناختی کارڈ ہونا لازمی ہوگا۔
    • اس سلسلے میں کھالوں کو جمع کرنے کے لیے کسی قسم کا کیمپ یا بینر لگانا ممنوع ہے۔
    • کھالوں کو اکھٹا کرنے کے لیے کسی کو زبردستی مجبور نہیں کیا جائے گا۔ خلاف ورزی کی صورت میں اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1977 کے تحت کاروائی کی جائے گی۔
    • ضلعی انتظامیہ اور پولیس اتھارٹی ویڈیو کے ذریعے ایسی جگہوں کو چیک کرے گی تا کہ کوئی کالعدم تنظیم اس میں شامل نہ ہو۔
    • کھالوں اور عطیات جمع کرنے کے لیے لاؤڈ سپیکر کا استعمال ممنوع ہے۔ خلاف ورزی کرنے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
    • ضلعی انتظامیہ، پولیس اتھارٹی اسی سلسلے میں پولیس اور ریونیوسٹاف کی سپیشل ڈیوٹیاں لگا کر غیر قانونی کھالیں اکھٹی کرنے والوں کی روک تھام کریں۔
    • کاروباری حضرات اس بات کو یقینی بنائیں کہ کھالوں کو اسی جگہ سے خریدیں جہاں قانونی طور پر کھالیں اکھٹی کرنے کی اجازت ہو۔
    • ہر قسم کا اسلحہ لے جانے پر پابندی ہوگی۔ ( ہوم ڈپارٹمنٹ کی طرف سے تمام اجازت نامے عارضی طور منسوخ تصور ہوں گے۔
  17. سکاٹ لینڈ: وبا کی وجہ سے کانٹیکٹ ٹریسنگ سینٹر بند

    سکاٹ لینڈ میں ایک کانٹیکٹ ٹریسنگ سینٹر توجہ کا مرکز اس وقت بنا جب اس کے عملے کے چھ اراکین میں کورونا وائرس کا نتیجہ مثبت آیا۔

    سائٹل کا، جو کووڈ۔19 کو سرحد کے جنوب کی طرف پھیلنے سے روکنے کے لیے این ایچ ایس انگلینڈ کے لیے کال سینٹر چلاتا ہے، کہنا ہے کہ اسے مدرویل کے ایک علاقے میں اپنی ایک سائٹ پر ’مقامی وبا کے پھیلاؤ‘ کا علم ہے۔ ڈپٹی فرسٹ منسٹر جان سوینے نے بی بی سی ریڈیو کے پروگرام گڈ مارننگ سکاٹ لینڈ میں بتایا کہ سائٹ کو اب بند کر دیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’وسیع پیمانے پر کانٹیکٹ ٹریسنگ‘ جاری ہے، اور معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان لوگوں کے کن کن سے رابطے ہوئے تھے۔

  18. کورونا وائرس: : بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عوام حکومت سے بہت کم مطمئن، رپورٹ, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کورونا اور اس پر حکومتی رد عمل کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق بلوچستان حکومت کی کارکردگی پر لوگوں نے سب سے زیادہ عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

    کمیشن کی رپورٹ کے مطابق کورونا کی وبا کے حوالے سے جو سروے کیا گیا اس میں چاروں صوبائی حکومتوں کے مقابلے میں سندھ کی حکومت کی کارکردگی پر لوگوں کی اطمینان کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

    کمیشن کا کہنا ہے کورونا پر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر عوام کا رد عمل معلوم کرنے کے لیے ایک سروے کیا گیا جس میں 25 فیصد لوگوں نے حکومتی رسپانس کو موثر قراردیا جبکہ 75 فیصد کی رائے اس کے برعکس تھی۔

    رپورٹ کے مطابق جن حکومتوں کی کارکردگی سے وہاں کے لوگ زیادہ مطمئن تھے ان میں گلگت بلتستان، پاکستان کے زیر انتطام کشمیر اور وفاق کے زیر انتظام اسلام آباد شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے گلگت بلتستان کی حکومت کی بہتر کارکردگی کے حوالے سے لوگوں کی اطمینان کی شرح 80 فیصد، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر 72.7 فیصد، اسلام آباد 66.7 تھی۔

    جبکہ چارصوبائی حکومتوں میں سندھ کی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں لوگوں کی اطمینان کی شرح 55.8 فیصد، پنجاب حکومت کے بارے میں 42 فیصد، خیبر پختونخوا حکومت کے بارے میں 29.2 فیصد جبکہ بلوچستان 14.1 فیصد تھی۔

    اس سروے کے دوران حکومت کے سماجی ردعمل احساس پروگرام کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال پر 40 فیصد نے اسے موثر قرار دیا جبکہ 60 فیصد نے اسے غیر موثر قرار دیا۔

    خواتین کے لیے مسائل میں اضافہ:

    تاہم صوبائی حکومتوں کی کسی ایسے پروگرام کے میں 22 فیصد کو معلومات تھیں۔ رپورٹ کے مطابق کورونا کے بحران کے دوران خواتین پر تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا۔

    غیر سرکاری تنظیموں روزن اور دستک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہیلپ لائن پر خواتین پر تشدد کے حوالے سے پہلے کے مقابلے میں آنے والی کالوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔

    جبکہ خواتین کو صحت کے حوالے مسائل میں بھی اضافہ ہوا کیونکہ پہلے جو خواتین ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر خواتین کوضروری طبی امدادی فراہم کرتی تھیں وہ کورونا کے حوالے سے پابندیوں کی وجہ نہیں جاسکتیں۔

    جیلوں میں 1814 کورونا متاثرین

    رپورٹ میں جیلوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سہولیات کی فقدان کے حوالے سے یہ ہمیشہ سے مختلف بیماریوں کے گڑھ رہے ہیں ۔ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ تعداد ہونے کے باعث قیدیوں کے کورونا وائرس سے متائثر ہونے کے خطرات زیادہ ہیں ۔

    کمیشن کا کہنا ہے کہ جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے مطابق قیدیوں میں ۱یک ہزار8 سو 14قیدیوں کے کورونا ٹیسٹ پازیٹوآئے جبکہ تین قیدی کورونا سے ہلاک ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق اس کی شرح 2.3 فیصد ہے لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ قیدیوں کی متاثر ہونے کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہو۔

    آن لائن کلاسوں کے مسائل

    رپورٹ میں آن لائن کلاسوں کے حوالے سے بھی مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے آن لائن کلاسوں کے حوالے سے مسائل پر ملک کے طول و عرض میں طلبا نے احتجاج کیا ۔

    رپورٹ کے مطابق یہ مسائل صرف دوردراز کے علاقوں تک محدود نہیں تھے بلکہ شہروں میں بھی یہ طلبا کو درپیش تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے طلبا نے آن لائن کلاسز کی بجائے اساتذہ کی جانب سے ای میل کے ذریعے پریزنٹیشن بھیجنے پر احتجاج کیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا کی وبا نے حکومتی اداروں اور حکومتی اشرافیہ پر لوگوں کے اعتماد میں کمی کی ہے۔

    رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کورونا سے متعلق پالیسی سازی اور فیصلوں میں پارلیمانی نگرانی کے عمل کو فوری طور پر بحال کیا جائے ۔

  19. انڈین پولیس نے بلیک مارکیٹ میں ریمڈیسویر بیچنے والے 14 افراد کو گرفتار کر لیا

    انڈیا میں پولیس نے گلیڈ سائنسز کارپوریشن کی بنائی جانے والی دوا ریمڈیسویر کی مقامی طور پر تیار کی گئی نقل (جعلی دوائی) فروخت کرنے کے شبے میں 14 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

    انڈیا میں کورونا وائرس متاثرین میں اضافے سے اس اینٹی وائرل دوا کی مانگ بڑھ گئی ہے۔

    امریکہ میں کیے گئے کلینیکل ٹرائلز کے دوران جن مریضوں کو یہ دوا دی گئی، ان کی صحتیابی کا دورانیہ کم ہو گیا تھا۔

    متعدد ممالک میں ریمڈیسویر کو کورونا کے خلاف علاج کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    ممبئی اور جنوبی شہر حیدرآباد میں پولیس نے بتایا کہ انھوں نے ایسے 14 افراد کو گرفتار کیا ہے جو اس دوا کی اصل قیمت 5400 روپے کے مقابلے میں بلیک مارکیٹ میں 30،000 روپے (400 ڈالر) میں فروخت کر رہے تھے۔

  20. اسرائیل کے ہسپتالوں میں عملے کی کمی اور خراب صورتحال کے باعث نرسوں کی ہڑتال

    اسرائیل میں نرسیں عملے کی کمی اور کورونا وائرس وبائی بیماری کی وجہ سے خراب حالات کے باعث ہڑتال کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان عوامل نے ان کے لیے کام کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔

    وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 800 سے زیادہ نرسیں خودساختہ قرنطینہ میں ہیں اور ان کی جگہ لینے والا کوئی نہیں۔ ہسپتالوں اور صحت کی سہولیات کو کم عملے کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے اور غیر ضروری آپریشن منسوخ کردیے گئے ہیں۔

    نرسوں کی یونین کی سربراہ الانا کوہن نے کہا ’ہمارے پاس معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے اور اس آنے والی موسم سرما میں صحت کے نظام کو ختم ہونے سے روکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔‘

    انفیکشن میں نمایاں کمی کے بعد بڑی حد تک پابندیوں میں نرمی کی گئی تھے جس کے بعد متاثرین کی تعداد میں اضافہ سامنے آیا ہے۔

    اس پچھلے ہفتے کے آخر میں حکومت نے اجتماعات پر پابندیاں لگائیں اور کہا کہ اس سے کچھ عوامی جگہیں بند ہوجائیں گی۔ اگر مریضوں میں اضافہ ہوتا رہا تو مکمل طور پر لاک ڈاؤن پر غور کیا جا رہا ہے۔