آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ڈونلڈ ٹرمپ: ’امریکہ میں وبا کی صورتحال بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب ہو سکتی ہے‘

دنیا میں ایک کروڑ 47 لاکھ سے زیادہ لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد دو لاکھ 66 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان کے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کورونا کی وبا میں مبتلا لوگوں کی مہارت سے نشاندہی کے نتیجے میں وبا میں واضح طور پر کمی ہو رہی ہے۔

لائیو کوریج

  1. نیپال: سیاحت کے فروغ کے لیے بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع کی جائیں گی

    نیپال نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے اگست کے وسط سے بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع کرے گا

    نیپال نے اس وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے مارچ کے آخر میں اپنے ہوائی اڈے بند کردیے تھے۔

    نیپال میں وائرس سے اب تک 17،844 افراد متاثر اور 40 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    ملک میں سیاحت سیزن کے عروج سے چند دن پہلے پروازیں بند کر دی گئیں تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب سینکڑوں کوہ پیما اور ٹریکر نیپال آتے ہیں۔

    سیاحت کی صنعت نیپال کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے جس سے لاکھوں ڈالر حاصل ہوتے ہیں۔

    نیپال کے سیاحت اور شہری ہوا بازی کے وزیر یوگیش بھٹارائی کے مطابق بین الاقوامی مسافروں کے پاس کورونا وائرس کا سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہے۔

    بھٹارائی نے کہا کہ آنے والے مسافروں کو قرنطینہ میں ہی رہنا پڑے گا لیکن انھوں نے قرنطینہ مدت کی وضاحت نہیں کی۔

  2. کراچی: غیر قانونی بکرامنڈیوں کے خلاف دفعہ 144 نافذ

    کراچی میں غیر قانونی بکرامنڈیوں کے خلاف دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

    کمشنر کراچی افتخار شالوانی کے مطابق بغیر اجازت کسی بھی جگہ بکرامنڈی غیر قانونی ہیں لہذا شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے جس کے تحت بکرامنڈیوں کے علاوہ کسی بھی جگہ قربانی کے جانور فروخت کر نے پر پابندی ہوگی۔

    کمشنر کراچی کے مطابق یہ پابندی چار اگست تک لاگو رہے گی اور غیر قانونی بکرامنڈیوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

    انھوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو مانیٹرنگ اور خلاف ورزی پر کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

    کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ جگہ جگہ بکرامنڈیوں کی وجہ سے ٹریفک دباﺅ اور آلودگی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں کچرا پھیل رہا ہے اور برساتی نالے بھی بند ہورہے ہیں۔

  3. انڈیا کی سب سے بڑی ایئر لائن انڈیگو عملے کے تقریباً 2400 افراد کو فارغ کرے گی

    ہوا بازی کی صنعت کو کورونا وائرس نے کتنا سخت نقصان پہنچایا اس کی ایک اور مثال کے طور پر، انڈیا کی سب سے بڑی ایئر لائن نے کہا ہے کہ وہ اپنے عملے کا 10 فیصد کم کردے گی۔

    پچھلے مہینے کیریئر نے کہا تھا کہ وہ لاگت میں 533 ملین (420 ملین ڈالر) کم کریں گے کیونکہ محصولات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    انڈیا میں سخت لاک ڈاؤن کے بعد انڈیگو کئی مہینوں سے آپریٹ نہیں کر رہی۔ لیکن اسے کے ملازمین کی تعداد 24 ہزار ہے جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 2،400 افراد کو نوکری سے نکالا جائے گا۔

    کمپنی کے چیف ایگزیکٹو رونوجو دتہ نے سرمایہ کاروں کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے ’ہماری کمپنی کے لیے اپنے معاشی کاروباری عمل کو برقرار رکھنے کے لیے، کچھ قربانیوں کے بغیر اس معاشی طوفان سے نمٹنا ناممکن ہے۔‘

  4. کورونا وائرس سے بچنے کے لیے خلائی سوٹ پہننے والا برازیلین جوڑا

    وہ کیا طریقہ ہو، جس سے آپ خود کو کووڈ 19 سے محفوظ بھی رکھ سکیں اور باہر نکل کر چہل قدمی بھی کر سکیں؟ اسی مشکل کا ایک دلچسپ حل ڈھونڈا ہے برازیل کے ایک جوڑے نے۔۔ حفاظتی سوٹ پہنے چہل قدمی کرتے انھیں دیکھ کر گمان تو یہ ہوتا ہے کہ آپ زمین کا نہیں بلکہ خلا کا نظارہ کر رہے ہیں۔

  5. چین جانے کے لیے پرواز میں سوار ہونے سے قبل کووڈ 19 کا ٹیسٹ کرانا لازم

    چینی ہوابازی کے حکام نے کہا ہے کہ چین آنے کے لیے پروازیں بک کروانے والے مسافروں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ پرواز میں سوار ہونے سے قبل انھوں نے اپنا کووڈ 19 کا ٹیسٹ کرایا ہے جو منفی آیا ہے۔

    چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (سی اے اے سی) نے پیر کے روز کہا کہ مسافروں کو پرواز سے کم از کم پانچ دن پہلے نیوکلک ایسڈ ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہے۔

    سی اے اے سی نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ یہ ٹیسٹ ہر ملک میں چینی سفارت خانوں کے ذریعہ منظور شدہ اداروں سے ہی کرائے جانے چاہیے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ جو مسافر منفی کورونا وائرس ٹیسٹ کے ثبوت فراہم نہیں کرتے وہ چین کے لیے پروازوں میں سوار نہیں ہوسکیں گے۔

    تجارتی پروازیں چین آ اور جا رہی ہیں، لیکن ملک کے مختلف حصوں کے درمیان سفر کے لیے نقل و حرکت پر پابندی اور قرنطیہ کے انتظامات برقرار ہیں۔

    چین ، جہاں کورونا وائرس کا آغاز گذشتہ سال کے آخر میں ہوا تھا، بڑے پیمانے پر اپنے وبا کو قابو میں کرنے میں کامیاب رہا ہے لیکن کچھ علاقوں میں مقامی طور پر وبا پھیل رہی ہے۔

  6. گریٹا تھنبرگ کا ایمیزون کے خطے میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک لاکھ یورو کا عطیہ

    نوجوان ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے کہا ہے کہ وہ ایمیزون کے خطے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے ایک لاکھ یورو عطیہ کریں گی۔

    تھنبرگ نے پیر کو ٹویٹر پر اعلان کیا کہ یہ فنڈز ایس او ایس امیزونیا کو دیے جائیں گے، جو ماحولیات کے لیے کام کرنے والے گروپ فرائیڈے فار فیوچر برازیل کی سربراہی میں ایک مہم ہے۔

    گریٹا تھنبرگ کو انسانیت کے لیے گل بینکیئن انعام سے نوازا گیا ہے جس کی انعامی رقم 1.14 ملین ڈالر ہے جس میں سے پہلا چندہ ایمیزون کا دیا جائے گا۔

    تھنبرگ کا کہنا ہے کہ ایوارڈ وصول کرنے پر وہ بہت خوش ہیں۔

    تھنبرگ نے کہا کہ ’انعام کی تمام رقم میری فاؤنڈیشن کے ذریعے، مختلف تنظیموں اور منصوبوں کو دی جائے گی جو ماحولیات کے بحران اور اس سے متاثرہ فرنٹ لائن پر لوگوں کی مدد کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

  7. اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت اور نقل و حرکت پر پابندی

    اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں قربانی کے جانوروں کی کسی بھی طرح کی فروخت، خریداری یا نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کے جاری کردہ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عید سے قبل اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں خرید و فروخت کے مقصد سے بڑی تعداد میں قربانی کے جانوروں لائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے اس کے لیے ایک مخصوص علاقہ ’مویشی منڈی‘ مختص کر رکھا ہے لیکن چند افراد نے مویشی منڈی کو نظرانداز کرتے ہوئے زیادہ منافع کی غرض سے بڑی تعداد میں جانوروں کو اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں منتقل کر دیا ہے۔

    ’اسلام آباد کی مختلف سڑکوں، گرین بیلٹس اور خالی پلاٹوں پر جانوروں کی اس آمد سے ناصرف متعدی بیماری پھیلنے اور صحت کو خطرہ لاحق ہے بلکہ یہ جانور ٹریفک کی روانی، ٹریفک حادثات اور لوگوں کو پریشان یا زخمی کرنے کا بھی سبب ہیں۔ اور ان سے بڑے پیمانے پر انسانی جان کو خطرہ لاحق ہے۔‘

    لہذا سی ڈی اے کے مختص کردہ علاقے جسے ’مویشی منڈی‘ کا نام دیا گیا ہے، اس کے علاوہ کسی بھی سیکٹر میں جانوروں کی خرید و فروخت یا نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہو گی۔

  8. کورونا وائرس: دہلی کی صورت حال میں اس قدر جلد بہتری کیونکر ممکن ہوئی؟

    انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کورونا انفیکشن کے متاثرین میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔

    تو کیا یہ تسلیم کر لیا جائے کہ دہلی، جسے کچھ دن پہلے انڈیا کا 'سب سے بڑا کورونا ہاٹ سپاٹ' کہا جا رہا تھا، وہاں آنے والے دنوں میں کورونا متاثرین کا گراف فلیٹ ہو جائے گا؟

    دو ہفتے قبل دہلی میں انفیکشن کی رفتار دیکھ کر ایسا لگا کہ صورتحال بے قابو ہوگئی ہے۔

    دہلی میں اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 18 ہزار سے زیادہ کورونا متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے 17 ہزار سے زیادہ فعال متاثرین ہیں جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 97 ہزار سے زیادہ ہے۔

    جون کا مہینہ دہلی کے لیے بہت برا رہا۔ ہر دن ریکارڈ تعداد میں نئے متاثرین سامنے آ رہے تھے۔ پورا ملک دہلی میں متاثرین کی بڑھتی تعداد پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

    لیبارٹریاں کووڈ 19 ٹیسٹنگ کرانے والوں کے ہجوم سے بھری تھیں، سرکاری ہسپتالوں میں خوف و ہراس اور تناؤ تھا۔ نیز، دہلی حکومت اور مرکزی حکومت کے بیانات سے متضاد معلومات سامنے آرہی تھیں۔

    لیکن جون کے آخر میں، دہلی کی ریاستی حکومت نے اپنی حکمت عملی میں کچھ تبدیلیاں لائیں۔وہ تبدیلیاں کیا تھیں جاننے کے لیے مزید پڑھیے

  9. کیلیفورنیا میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ، ٹرمپ کا ماسک پہننے پر زور

    امریکہ کی متعدد ریاستوں میں کورونا متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پیر کے روز، کیلیفورنیا میں 11،800 سے زیادہ نئے متاثرین کا اضافہ ہوا۔

    یہ ریاست میں متاثرین کی یومیہ تعداد میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اگر کیلیفورنیا ایک ملک ہوتا تو کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں یہ امریکہ، برازیل، انڈیا اور روس کے بعد پانچویں نمبر پر ہوتا۔

    دریں اثنا صدر ٹرمپ نے چہرے کے ماسک کے ساتھ اپنی ایک تصویر ٹویٹ کی ہے - یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے کیونکہ انھوں نے اکثر ماسک پہنے ہوئے نظر آنے سے انکار کیا ہے۔

    تصویر کے ساتھ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم پوشیدہ چائنہ وائرس کو شکست دینے کی کوششوں میں متحد ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ معاشرتی طور پر فاصلہ نہیں رکھ سکتے تو ایک محبِ وطن کے طور پر ماسک پہننا فرض ہے۔‘

    ساتھ ہی انھوں نے لکھا ’مجھ سے زیادہ محب وطن کوئی نہیں ، آپ کا پسندیدہ صدر!‘

    امریکہ میں صحت کے ماہرین نے عوام اور صدر دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ وبائی بیماری پر قابو پانے کے لیے چہرے پر ماسک پہنیں۔

    امریکہ میں کورونا وائرس کے 3.7 ملین سے زیادہ متاثرین موجود ہیں اور 14،500 اموات ہوئی ہیں۔

  10. آکسفورڈ ویکسین کے ٹرائلز جلد ہی انڈیا میں شروع کیے جائیں گے

    مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی میں ویکسین کی تیاری میں شامل، انڈین شراکت دار محققین کا کہنا ہے کہ لائسنس ملنے کے فوراً بعد مقامی ٹرائلز شروع ہوجائیں گے۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ ویکسین محفوظ دکھائی دیتی ہے اور اس سے مدافعتی ردعمل پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ اس بیماری سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کافی ہے اور اس کے لیے بڑے پیمانے پر ٹرائل ضروری ہیں۔

    سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے چیف، جو برطانیہ کے محققین کے ساتھ شراکت دار ہیں، نے کہا کہ ٹرائلز نے ’امید افزا نتائج دکھائے ہیں۔‘

    ادر پوناوالا نے انڈین میڈیا کو بتایا ’ہم ایک ہفتہ کے عرصہ میں انڈین ریگولیٹر کے پاس لائسنس ٹرائلز کے لیے درخواست دیں گے۔ جیسے ہی انھوں نے ہمیں اجازت دی، ہم انڈیا میں ویکسین کے ٹرائلز کا آغاز کر دیں گے۔ اس کے علاوہ ہم جلد ہی بڑے پیمانے پر ویکسین تیار کرنا شروع کردیں گے۔‘

    ایک ملین سے زیادہ تصدیق شدہ متاثرین کے ساتھ ، انڈیا میں امریکہ اور برازیل کے بعد دنیا میں متاثرین کی تیسری سب سے بڑی تعداد موجود ہے۔

  11. افریقہ میں کورونا متاثرین میں اضافے پر عالمی ادارہِ صحت کی تنبیہ

    افریقہ میں کورونا متاثرین کی موجودہ تعداد کے پیشِ نظر، عالمی ادارہِ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ براعظم میں شاید اس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر وبا پھیلنے کا خطرہ ہے۔

    عالمی ادارہِ صحت کے ہنگامی امور کے سربراہ مائیکل ریان نے کہا ہے ’مجھے ابھی بہت تشویش ہے کیونکہ افریقہ میں متاثرین کی تعداد میں بڑا اضافہ دیکھ رہے ہیں۔‘

    اب تک براعظم میں تقریباً 15،000 اموات ہوئی ہیں اور 725،000 تصدیق شدہ متاثرین ہیں۔ اور براعظم کورونا وائرس کا ہاٹ سپاٹ بننے سے بچا ہوا ہے۔

    لیکن براعظم کے بدترین متاثرہ ملک، جنوبی افریقہ میں کووڈ متاثرین میں اضافے کو ایک انتباہ کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ بقیہ افریقہ کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے۔ ملک میں 370،000 سے زیادہ متاثرین اور پانچ ہزار اموات ہوئی ہیں۔

    ریان نے کہا ’یہ تشویش صرف جنوبی افریقہ کے لیے نہیں ہے۔ ہمیں افریقہ میں جو ہو رہا ہے اسے بہت سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔‘

  12. جانوروں کی خریداری کے دوران کیا احتیاطی تدابیر ضروری ہیں؟

    ہر سال کی طرح اِس سال بھی عیدالاضحی سے قبل مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خریداری کی جا رہی ہے۔ کورونا کی وبا کے زمانے میں خریداروں کو منڈیوں میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیئں، جانیے ہمارے ساتھی کریم الاسلام کی اِس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  13. یورپی یونین کے رہنماؤں کے درمیان بلآخر 750 بلین یورو کے ریکوری فنڈ پر اتفاقِ رائے ہو گیا

    یورپی یونین کے رہنماؤں کے درمیان بلآخر چوتھی رات کے مذاکرات کے بعد 750 بلین یورو کے کورونا وائرس ریکوری فنڈ پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔

    اس وبائی امراض کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے 27 ممالک کے بلاک کو 750 بلین یورو کی گرانٹ اور قرضوں کی پیش کش کی جائے گی۔

    اگرچہ اس معاہدے کی تفصیلات ابھی تک عام نہیں کی گئیں تاہم فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ یہ ایک ’تاریخی دن‘ ہے۔

    ابتدائی طور پر یہ مذاکرات دو دن میں طے پانا تھے لیکن ان کا دورانیے چوتھی رات تک چلا گیا۔

    وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک اور ریکوری فنڈ کے اخراجات کے بارے میں فکرمند ممالک کے رہنماؤں کے درمیان سرمائے کی فراہمی، ضوابط اور رسائی کے حوالے سے واضح اور گہرے اختلاف موجود تھے۔

    یہ پیشرفت اس کے بعد ہوئی جب یورپی یونین کونسل کے صدر چارلس مشیل نے ایک نئی تجویز پیش کی جس سے قرضوں کے مقابلہ میں بطور گرانٹ دستیاب رقم کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔

  14. ویتنام: کورونا وائرس کے 12 نئے متاثرین کی تصدیق، سب بیرونِ ملک سے آئے

    منگل کے روز ویتنام کی وزارت صحت نے 12 نئے کورونا وائرس متاثرین کی تصدیق کی، یہ تمام شہری وہ ہیں جنھیں روس سے آنے کے بعد قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔

    جنوب مشرقی ایشیا کے اس ملک میں اس وبا پر قابو پانے کے کامیاب پروگراموں کے بعد تین ماہ سے زیادہ عرصے تک اس وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

    ویتنام میں کورونا وائرس سے کوئی اموات نہیں ہوئی اور کل متاثرین کی تعداد 396 ہے، جبکہ متاثرہ افراد میں سے 90 فیصد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  15. جنوبی ایشیا میں کورونا وائرس: کیا جانچ کی کمی عالمی وبا کی اصل شدت کو چھپا رہی ہے؟

    انڈیا میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے اور اب وہ امریکہ اور برازیل کے بعد دنیا میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    انڈیا کی بڑی آبادی کو دیکھتے ہوئے یہ تعجب کی بات نہیں لیکن اس کے چھوٹے پڑوسی ممالک بھی اس وائرس سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

    پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور افغانستان میں کیا ہو رہا ہے اس پر ہماری نظر ہے۔

    کورونا سے متاثرین کی تعداد انڈیا میں ہر 20 دن بعد دگنی ہو رہی ہے اور اسی وجہ سے انڈیا اب کورونا وائرس کا عالمی ہاٹ سپاٹ ہے اور وہاں متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    لیکن ہمسایہ ممالک میں مئی اور جون میں تیزی سے اضافے کے بعد انفیکشن میں کمی کا رجحان نظر آ رہا ہے جو ایک الگ کہانی پیش کر رہا ہے۔ مزید پڑھیے

  16. کورونا کا آئی سی یو وارڈ، جہاں سانس لینی مشکل لیکن ٹوٹنی آسان ہے

  17. پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1013 نئے متاثرین، 40 ہلاکتیں

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1013 نئے متاثرین میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 40 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔

    پاکستان کے کورونا کے حوالے سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 266,096 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں مجموعی ہلاکتیں 5639 ہیں۔

    20 جولائی کو ملک بھر میں کل 17,783 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے سندھ میں 7,069، پنجاب میں 7,003، خیبر پختونخواہ میں 1,845، بلوچستان میں 104، اسلام آباد میں 1,452، گلگت بلتستان میں 63 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 247 ٹیسٹ کیے گئے۔

    ملک میں 208,030 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں جس کے بعد پاکستان میں کورونا کے زیر علاج مریضوں کی تعداد 52,427 ہے۔

  18. پنجاب کے چار شہروں کے مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا

    حکومتِ پنجاب نے صوبے کے چار شہروں کے مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔

    اس حوالے سے سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن (ر) محمد عثمان کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    کیپٹن (ر) محمد عثمان کے مطابق مندرجہ ذیل شہروں کے منتخب علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے:

    • سیالکوٹ میں کلاں لدھڑ اور ٹاون غازی پور
    • واہ کینٹ میں وارڈ 3، وارڈ 8 اور یو سی سرائے کالا
    • گجرات میں محلہ کالو پورہ، چاہ ترنگ اور گاؤں مدینہ سیداں
    • گوجرانوالہ میں نندی پور، اروپ ٹاون اور قلعہ دیدار سنگھ

    کیپٹن (ر) محمد عثمان کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں بنیادی اشیائے ضروریہ بدستور میسر رہیں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کا مقصد زیادہ کیسز والے علاقوں سے لوگوں کی آمدورفت کو محدود کرنا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبہ بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن سے بہترین نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔ اور این سی او سی کی مشاورت سے حکومت پنجاب کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے بہترین لائحہ عمل اپنا رہی ہے۔

  19. ’قرنطینہ ڈانس‘ سے مشہور ہونے والے نیپالی پولیس افسر

    نیپال کے ایک کورونا وائرس کے قرنطینہ کیمپ میں مقیم افراد کو محظوظ کرنے کے لیے ڈانس کرنے والے پولیس آفیسر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس اہلکار جے پرکاش چوہدری نے بتایا کہ انھوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ویڈیو وائرل ہوجائے گی، وہ تو صرف لوگوں کو تفریح فراہم کرنا چاہتے تھے۔

  20. ’ویکسین کی ترقی مثبت ہے لیکن ابھی بہت دور جانا ہے‘

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ویکسین کے متعلق آج کی ترقی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا ہے کہ کووڈ۔19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ابھی بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    جینیوا میں ایک بریفنگ کے دوران ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی حالتوں کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیک ریان نے آکسفورڈ ویکسین کے تجربات میں شامل سائنسدانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا: ’یہ ایک مثبت نتیجہ ہے لیکن ہمیں بہت دور تک جانا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’حقیقی دنیا‘ کے ٹرائل بڑے پیمانے پر ہونے چاہیے۔ اس وقت دنیا میں ممکنہ طور پر 23 ویکسین بنائی جا رہی ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ تیدروس ادہانوم گیبریئیسس نے بھی اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی کامیاب ویکسین تک سبھی کی رسائی ہونی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ بہت سے ممالک ویکسین کی تیاری کو ’ایک عالمی عوامی بہتری‘ کی افادیت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، لیکن کچھ ’الٹ سمت میں جا رہے ہیں۔‘

    ’اگر کوئی اتفاقِ رائے نہیں ہوتا تو حقیقت میں یہ ان کی ملکیت ہو گی جن کے پاس پیسہ ہے اور جو اسے نہیں خرید سکتے یہ انھیں نہیں ملے گی۔‘

    ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ جبکہ ویکسین پر تحقیق جاری ہے، ہمیں اب زندگیاں بچانی ہیں۔

    ’ہمیں ویکسین کی تحقیق میں تیزی جاری رکھنی چاہیئے، جبکہ جو آلات ہمارے پاس موجود ہیں ان سے مزید کچھ کرنا چاہیے۔‘