ٹیسٹنگ صلاحیت میں اضافے کے
باوجود بلوچستان میں کورونا وائرس کے یومیہ ٹیسٹ کی تعداد میں مستقل کمی آرہی ہے جس
کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے۔
محکمہ صحت کی یومیہ رپورٹس
کے مطابق گذشتہ ڈھائی ہفتے کے دوران 17 جون
کو سب سے زیادہ ٹیسٹ ہوئے جن کی تعداد 1434 تھی لیکن اسکے بعد تعداد میں مسلسل کمی
آرہی ہے۔
جولائی میں اب تک کی سامنے
آنے والی رپورٹس کے مطابق پہلی جولائی کو 780، دوسری کو 459، تیسری کو 325 اور چوتھی جولائی کو 243 ٹیسٹس کیے گئے۔
سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ
بلوچستان میں روزانہ 1500 ٹیسٹ کرنے کی سہولت موجود ہے لیکن گذشتہ ساڑھے تین ماہ کے دوران آٹھ سے دس دنوں کے سوا باقی دنوں
میں ان کی تعداد روزانہ ہزار سے زیادہ نہیں ہوئی۔
ٹیسٹ کی تعداد میں کمی کے باعث
مجموعی طور پر ساڑھے تین ماہ سے زائد کے دوران بلوچستان میں بمشکل 50 ہزار سے کچھ زیادہ ٹیسٹس کیے گئے ہیں۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت
شاہوانی کا بھی یہ کہنا ہے کہ ایک رحجان یہ سامنے آیا ہے کہ لوگوں نے کورونا کے ٹیسٹ
کے لیے سیمپل دینا کم کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ماہرین کی
یہ رائے ہے کہ شاید کورونا کے کیسز میں کمی ہوئی ہے جس کے باعث لوگوں کی ٹیسٹ کے لیے
سیمپل دینے کی تعداد میں کمی آئی ہے یا پھر لوگ اپنے طور پر صحیتیاب ہونے والے رشتہ
داروں یا دوستوں وغیرہ کے نسخوں کا استعمال کررہے ہیں جس کے باعث لوگ سامنے نہیں آرہے
ہیں۔‘
انھوں نے کہ سماجی رابطوں کی
ویب سائٹس پر یہ افواہیں بھی چلی تھیں کہ ہسپتالوں میں شاید غلط علاج ہورہاہے یا غلط
انجیکشن لگائے جارہے ہیں۔ اگر لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ہے اور وہ اس وجہ سے سیمپل
دینے کے لیے نہیں آرہے تو ہم لوگوں سے یہ کہتے ہیں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ ہسپتالوں
سے لوگ صحتیاب ہوکر جارہے ہیں ۔
انھوں نے کہا کہ لوگوں کی سہولت
کے لیے ٹیسٹ کرنے کے مراکز کو بھی بڑھایا گیا ہے اس لیے لوگوں کو چائیے کہ وہ زیادہ
سے زیادہ تعداد میں اپنے ٹیسٹ کے لیے سیمپلز دیں ۔
ٹیسٹ کی تعداد میں کمی کے ساتھ
ساتھ گذشتہ چند روز سے کورونا کے کیسوں کی تعداد بھی کم رپورٹ ہو رہی ہے۔
بلوچستان کے 33 اضلاع میں سے
اب تک 50 ہزار سے جو زائدٹیسٹ ہوئے ہیں ان
میں زیادہ تر کوئٹہ شہر میں کیے گئے ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں خضدار کے سوا کسی اور
ضلع میں ٹیسٹ کرنے کی سہولت نہیں ہے ۔