آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا کا تیل پیدا کرنے والے ممالک پر اثر، معیشت 7.6 فیصد تک گِر سکتی ہے

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ بارہ ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔ جنوبی کوریا میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’کووڈ 19 کے معاملے میں ہرڈ امیونیٹی ایک خوش فہمی ہے‘ جبکہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلی عثمان بزدار کی حکومت نے آکسیجن گیس کا پلانٹ لگانے کا حکم دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. برطانیہ: جی 7 میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک, فیصل اسلام، بی بی سی

    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جون کے اوائل سے پہلے آنے والے ہفتوں کے دوران تمام جی 7 ترقی یافتہ ممالک میں برطانیہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔

    بی بی سی کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں انگلینڈ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جو کہ سپین سے بھی تھوڑا زیادہ تھا۔ اس تحقیق میں ہر ملک کا 11 ہفتوں کا موازنہ کیا گیا جب وائرس ہر ملک میں اپنے عروج پر تھا۔

    کووڈ۔19 کی اموات اور زیادہ اموات کے تجزیے میں جس میں تین طرح کا جائزہ لیے گیا، برطانیہ کی حالت امریکہ، جرمنی، فرانس، اٹلی، کینیڈا اور جاپان سے بری نکلی۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ اقتصادیات کی طرح سے کیے گئے ایک اور تجزیے کے مطابق اموات کے تناسب کے حوالے سے جو کہ معمول سے زیادہ ہوں انگلینڈ سپین سے آگے ہے۔

  2. کورونا وائرس کی وبا کا ’بدترین مرحلہ ہو سکتا ہے ابھی آنا ہو‘: ڈبلیو ایچ او

    عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کا ’بدترین مرحلہ ہو سکتا ہے ابھی آنا ہو‘۔

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر حکومتوں نے درست پالیسیاں نہیں اپنائیں تو کئی گنا اور لوگ اس مرض کا شکار ہو جائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمارا پیغام ہے ’ٹیسٹ کریں، ٹریس کریں، آئیسولیٹ کریں، اور قرنطینہ کریں۔‘

    دنیا بھر میں اب تک دس ملین لوگ اس مرض کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ اس وبا کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔

    ان میں سے نصف کسیز یورپ اور امریکہ میں سامنے آئے تاہم اب وبا شمالی اور جنوبی امریکہ میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    اس کے علاوہ کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جیسے کہ جنوبی افریقہ کا ملک یا جنوبی ایشیا کا خطہ جہاں اس وبا کا عروج جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔

  3. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید 16 افراد متاثر، کل تعداد 1065 ہو گئی, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق آٹھ خواتین سمیت مزید 16 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 1065 ہوگئی ہے.

    حکام کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں ایک ڈاکٹر بھی شامل ہے۔

    ضلع سدھنوتی کے ڈپٹی کمشنر ندیم احمد جنجوعہ کے مطابق کورانا وائرس سے متاثر ہونے افراد میں سے چھ خواتین سمیت دس افراد کا تعلق پلندری سے ہے۔

    کمشنر میرپور ڈویژن محمد رقیب خان کے مطابق ایک خاتون سمیت دو افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد میں ایک شخص کورونا وائرس سے متاثر ہوا ہے. ڈپٹی کمشنر راولاکوٹ مرزا ارشد جرال کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں سے ایک کا تعلق راولاکوٹ سے ہے۔

    حکام کے مطابق مزید 19 کورونا کے مریض صحتیاب ہوئے ہیں، جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب ہونے والے افراد کی تعددا 539 ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق اس خطے میں اب تک 15878 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ حاصل کیے گے ہیں.

  4. جب نرس شارلٹ کول نے 11 ہفتوں کے بعد اپنے بیٹے کو گلے لگایا

  5. بلوچستان میں 71 نئے متاثرین، مجموعی تعداد دس ہزار سے زائد

    پاکستان کے صوبے بلوچستان میں کورونا کے71 نئے متاثرین کے اضافے کے بعد مجموعی متاثرین کی تعداد 10426 ہوگئی ہے۔ کورونا سے مزید تین افراد کی ہلاکت ہوئی ہے، جس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 119 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 29 جون کو کورونا کے328 ٹیسٹ کیے گئے ہیں، جن میں سے71 مثبت آئے ہیں۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر48522 ٹیسٹ کیے گئے ہیں، جن میں سے 38096 کے نتائج منفی آئے۔ بلوچستان میں مجموعی طوپر پر102726افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ کورونا وائرس سے اب تک4197 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  6. گلگلت بلتستان میں مزید 28 متاثرین، کل تعداد 1470 ہو گئی, محمد زبیر خان، صحافی

    محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق 28 نئے مریضوں کے ساتھ علاقے میں کورونا متاثرین کی تعداد 1470 ہوگئی ہے۔

    حکام کے مطابق خطے میں مجموعی طور پر 24 لوگ اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔ صحت یاب مریضوں کی مجموعی تعداد 1117 ہوگئی ہے۔

    برف پوش پہاڑوں، دریاؤں اور آبشاروں کے علاقے گلگلت بلتستان کے علاقے میں اس وقت زیر علاج مریضوں کی تعداد 329 ہے۔

  7. پشاور کے مزید دو علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن

    پشاور میں کورونا وائرس پھیلاؤ خدشات پر مزید دو علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور پشاورعلی اصغر کا کہنا ہے کہ ڈیفنس کالونی اور گلبرک سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

    سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ان علاقوں سے اِن، آؤٹ انٹری بند رہے گی۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق ان علاقوں میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا۔

    ان علاقوں میں صرف ضروری اشیاء خوردنوش، میڈیسن، جنرل سٹور، تندور اور ایمرجنسی سروس کی دکانیں کھلی رہیں گی۔ان علاقوں کی مساجد میں صرف پانچ افراد کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت ہو گی۔

    انتظامیہ کے مطابق علاقہ مجسٹریٹ اور پولیس کو سمارٹ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئیں۔ خلاف ورزی کر نے والوں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  8. بریکنگ, ڈبلیو ایچ او: ’ابھی بد ترین صورتِ حال آنا باقی ہے‘

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا ابھی بہت دیر تک چلے گی۔

    تقریباً چھ ماہ پہلے چین کے شہر وہان میں پہلی مرتبہ نمونیہ جیسی پراسرار بیماری منظرِ عام پر آئی تھی۔

    اس وقت کہا گیا تھا کہ ہم کو سارس جیسی وبا کا سامنا ہے جس میں 2002 اور 2004 میں 774 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    لیکن اب 5 لاکھ سے زیادہ اموات اور ایک کروڑ سے زیادہ تصدیق شدہ متاثرین کے بعد، ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانوم گیبرییسس نے کہا ہے کہ یہ ہم سب کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

    لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ ’ابھی اس سے بدترین صورتِ حال آنا باقی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس طرح کے ماحول اور حالات سے ہم اور زیادہ خوف محسوس کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ کچھ ممالک میں ترقی کے باوجود یہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور دنیا کو آنے والے مہینوں میں اور زیادہ لچک، صبر اور فراخدلی کی ضرورت ہے۔

    ٹیڈروس نے ڈبلیو ایچ او کی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’چھ مہینے پہلے، ہم میں سے کسی کو یہ گمان بھی نہیں تھا کہ کس طرح یہ نیا وائرس ہماری دنیا اور ہماری زندگیوں میں ہلچل مچا دے گا۔‘

  9. پشاور: سمارٹ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں متاثرین کی تعداد میں کمی

    سمارٹ لاک ڈاؤن کے علاقوں میں کورونا کیسز میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انتظامیہ نے چار علاقوں سے سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور کا کہنا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے چارعلاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کر لیا گیا ہے۔ سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کے حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    سمارٹ لاک ڈاؤن اشرفیہ کالونی، یونیورسٹی ٹاؤن چنار روڈ، دانش آباد اور سیکٹر ای ٹو فیز ون حیات آباد سے ختم کیا گیا ہے۔ ڈی سی پشاور اصغر حیات کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ان علاقوں میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔

  10. چین: فوج کو کورونا وائرس ویکسین استعمال کرنے کی اجازت مل گئی, مائیکل رابرٹس، ایڈیٹر صحت، بی بی سی نیوز

    چین کی فوج کو کورونا وائرس کی تجرباتی ویکسین استعمال کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    چین کی Ad5-nCoV ویکسین دنیا میں 150 کے قریب ان ویکسین کے تجرباتی عمل کا حصہ ہے۔ تجرباتی مرحلے میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اس ویکستین کے کورونا وائرس کے مریضوں پرکیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    اکیڈمی آف ملٹری میڈیکل سائنسز میں کین سینو بایولوجکس اور بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی کے ذریعہ تیار کیا گیا یہ خاص ویکسین انسانی رضاکاروں کے ساتھ کلینیکل ٹرائل ممکن ہو سکا ہے۔

    لینسیٹ میڈیکل جریدے نے مئی کے آخر میں رپورٹ شائع کی کہ اس مطالعے میں 108 بالغ افراد نے حصہ لیا ہے۔ اس تحقیق کے دوران پتا چلا ہے کہ یہ ویکسین محفوظ ہے اور وہ جسم کے مدافعتی نظام کے ذریعہ کوئی ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا جو لوگ ویکسین لیتے ہیں ان میں اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوجاتی ہے یا نہیں۔

    فوجی عملے کو یہ ویکسیسن دینے سے سائنسدانوں کو اس اہم سوال کا جواب مل سکتا ہے۔

    کورونا وائرس کے خلاف وسیع پیمانے پر عوام کو فروخت کرنے کے لیے ابھی تک کوئی ویکسین منظور نہیں کی گئی ہے۔

  11. تھائی لینڈ ’نائیٹ لائف‘ پر پابندیوں میں نرمی کرے گا

    تھائی لینڈ میں حکام نے اعلان کیا ہے کہ پبز، بارز اور کیریوکی کلبز کو بدھ سے کھلنے کی اجازت ہو گی، اور غیر ملکی سیاحوں پر قوانین میں بھی نرمی لائی جائے گی۔

    اگر حفاظتی ہدایات پر عمل کرتے رہے تو یہ آدھی رات تک کھلے رہ سکتے ہیں۔

    حکومت کی کووڈ۔19 ٹاسک فورس کی ترجمان تاویسن وسانویوتھن کہتی ہیں کہ گاہکوں پر ان کاروباری اداروں میں جانے سے پہلے کڑی نظر رکھی جائے گی۔

    جن غیر ملکیوں کے پاس ریزیڈینسی اور ورک پرمٹس ہیں اور جن کے خاندان تھائی لینڈ میں ہیں وہ ملک میں داخل ہو سکیں گے، بس انھیں 14 دن تک قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔ جاپان اور سنگاپور سے آنے والے کاروباری حضرات قرنطینہ سے مستثنیٰ ہوں گے، انھیں ملک میں آمد پر ٹیسٹ کیا جائے گا اور انھیں سرٹیفیکیٹ دینا ہوں گے کہ انھیں کووڈ۔19 نہیں ہے۔

    بین الاقوامی پروازیں پر تھائی لینڈ میں مارچ سے پابندی ہے۔ پانچ ہفتے سے یہاں کوئی کمیونٹی ٹراسمیشن رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔ چین سے باہر تھائی لینڈ وہ پہلا ملک تھا جس نے کورونا وائرس کے مریض کی تصدیق کی تھی، لیکن ابھی تک وہاں متاثرین نسبتاً کم ہیں، 3 ہزار 169 متاثرین، 58 اموات۔

  12. بریکنگ, ایران میں ایک دن میں ریکارڈ 162 ہلاکتیں

    ایرانی حکام نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں ایک دن میں 162 اموات ہوئی ہیں۔ یہ فروری کے بعد، جب یہ وبا پھیلی تھی، ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

    اپریل سے ایران آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن کے اقدامات میں نرمی لا رہا ہے اور کاروباری اور مذہبی مراکز کو کھلنے کی اجازت دے رہا ہے۔ لیکن حالیہ ہفتوں میں کورونا وائرس کے متاثرین میں تیزی آئی ہے، اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شاید انفیکشن کی دوسری لہر آ گئی ہے۔

    صاف ظاہر ہے کہ پابندیوں میں نرمی کی وجہ سے زیادہ سماجی رابطے ہوئے ہیں، لیکن حکام کہہ رہے ہیں کہ نئے کیسز میں اضافے کی وجہ زیادہ ٹیسٹنگ ہے۔

    ایران میں سرکاری طور پر 2 لاکھ 25 ہزار سے زائد متاثرین رپورٹ کیے گئے ہیں اور اموات کی تعداد 10 ہزار 670 ہے۔ اس طرح ایران دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔

  13. کورونا وائرس متاثرین: پنجاب میں نو ہزار کے قریب بیڈز میں سے تقریباً آٹھ ہزار خالی

    صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشدکی ہدایت پرمحکمہ صحت پنجاب نے صوبہ بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے مریضوں کے علاج، بستروں اوروینٹی لیٹرزکی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے مختص کئے گئے 8958 میں سے 7627 بیڈزخالی ہیں۔

    تفصیلات بتاتے ہوئے سیکرٹری صحت پنجاب نبیل اعوان کا کہنا تھا کہ لاہورکے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے مختص کئے گئے 2347 میں سے 1945 بیڈزخالی ہیں۔

    صوبہ بھرکے سرکاری ہسپتالوں کے آئیسولیشن وارڈزمیں کورونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کے لیے مختص کئے گئے 5882 میں سے 5237 بیڈزخالی ہیں۔

    لاہورکے سرکاری ہسپتالوں کے آئیسولیشن وارڈزمیں 1633میں سے 1515بیڈزخالی ہیں۔

    پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے HDUs کے 2573 میں سے 1997 بیڈزخالی ہیں۔ لاہورکے سرکاری ہسپتالوں کے HDUs میں 508 میں سے 324 بیڈزخالی ہیں۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے مختص کئے گئے 574 میں سے 389 وینٹی لیٹرزخالی ہیں۔

    لاہورکے سرکاری ہسپتالوں میں 210 میں سے 110 وینٹی لیٹرزخالی ہیں۔

    کوروناوائرس کے مریضوں کی سہولت کی خاطرصوبہ بھرکے سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات میں مزیداضافہ کیا جا رہا ہے۔

  14. پشاور میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر کریک ڈاؤن

    پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ضلع بھر میں کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزیاں، بار بار نوٹس کے باوجود حفاظی ماسک کا استعمال نہ کرنا اور مارکیٹوں میں ہجوم کے بڑھ جانے کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    انتظامیہ نے کارخانو میں ایس ایس پلازہ، رائل پلازہ اور یونائیٹڈ پلازہ کو سیل کر دیا ہے۔ ورسک روڈ پر بھی دو پلازے سیل کر دیے گئے۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کے مطابق ان کی ٹیم نے یہ کارروائی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے یہ کارروائی ضلعے بھر میں کی ہے۔

    ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کاشف جان نے جناح پارک روڈ پر کباب کی دکانوں پر منیجرز کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور ریستوارن کے احاطے میں کھانا کھلانے پر گرفتار کیا۔

    تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ پشاور کے دیگر افسران نے اپنے علاقوں میں ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزی پر کاروائیاں کر تے ہوئے بیشتر افراد کو گرفتار کر تے ہوئے دکانوں کو سیل کر دیا۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کاروائیاں جاری رہیں گی۔

  15. کہاں کہاں کووڈ۔19 کنٹرول میں ہے, ڈیوڈ شکمان، سائنس ایڈیٹر، بی بی سی نیوز

    کووڈ۔19 کے حوالے سے نیوزی لینڈ کی جارحانہ حمکتِ عملی کی بہت زیادہ تعریف کی گئی ہے جس کی وجہ سے ملک میں 24 دن تک کوئی نئے متاثرین سامنے نہیں آئے۔ لیکن جیسے ہی بیرون ملک سے شہری واپس آنا شروع ہوئے ان کے ساتھ ہی کورونا وائرس بھی دوبارہ آ گیا۔ اب بیرون ملک سے واپس آنے والے افراد کی بھی سخت مانیٹرنگ کی ضرورت پڑی ہے۔ لیکن بہت سے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نگرانی کے نظام کی کامیابی کا ثبوت ہے جو موثر طریقے سے کام کرتا ہے۔

    اسی طرح جنوبی کوریا کی بھی تعریف کی جا رہی ہے کہ اس نے ٹیکنالوجی اور کونٹیکٹ ٹریسنگ کا استعمال کر کے انفیکشنز کو بہت کم کیا اور تین دن تک ملک میں کوئی مریض رپورٹ نہیں ہوا۔

    لیکن سب سے زیادہ فخر تو ویتنام کو ہونا چاہیئے جس کا دعویٰ ہے کہ اس کے ہاں کووڈ۔19 کی وجہ سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ بہت جلدی لاک ڈاؤن اور سرحدوں پر سخت کنٹرول کی وجہ سے انفیکشنز کی تعداد کم رہی۔

    سو اب کیا ہو گا؟ یہ کسی کو نہیں معلوم کہ افریقہ کے بیشتر ممالک میں کیا ہو گا، جہاں کئی ممالک میں اتنے متاثرین نہیں دیکھے گئے جتنے کہ سمجھے جا رہے تھے۔

  16. سندھ میں ایک ہزار سے زائد پولیس افسران اور جوان کورونا وائرس سے متاثر

    سندھ میں کورونا وائرس سے 1225 افسران اورجوان متاثر ہوئے ہیں۔

    ترجمان سندھ پولیس کے مطابق گذشتہ چارروز کے دوران کورونا کے 80 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ کورونا وائرس کے خلاف فرائض کی ادائیگی کے دوران 13 پولیس اہلکاروں ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    ان میں سے 11 کا کراچی جبکہ دو کا تعلق حیدرآباد رینج سے تھا۔ زیرعلاج افسران اور جوانوں کی تعداد 894 ہے جبکہ 318 افسران اورجوان صحت یاب ہوکر گھر جا چکے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق کورونا سے متاثرہ اہلکاروں کا مکمل طور پر خیال رکھا جارہا ہے اور اس سلسلے روزانہ کی بنیاد پرضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    ترجمان سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف ہراول دستے کے طور پر کام کرنیوالے افسران اور جوان خدمت انسانیت کے لیے انتہائی پرعزم اوربلندحوصلہ ہیں۔

  17. سندھ میں ایک دن میں سب سے زیادہ یومیہ ہلاکتیں

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ آج کورونا وائرس سے شدید دکھ سے کہہ رہا ہوں کہ 74 مرید مریض ہلاک ہو گئے ہیں۔

    یہ اب تک اس وائرس سے ایک دن میں مرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔ سندھ میں اس وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 1343 ہوگئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 8464 ٹیسٹ کیے گئے اور 1539 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

    صوبے میں اب تک کل 443757 ٹیسٹ ہوچکے ہیں۔

    سندھ میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 81955 بنتی ہے۔ صوبہ بھر میں اس وقت 35026 مریض زیرعلاج ہیں۔

    ان میں 33482 مریض گھروں کے اندر اور 88 مریض آئسولیشن سینٹرز میں زیرعلاج ہیں۔ اس وقت 660 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق آج 92 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 1093 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کہ چلے گئے۔

    اب تک صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 45616 ہوگئی ہے۔

    کراچی میں 700 کے قریب نئے متاثرین، سندھ میں مزید متاثرین

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے بیان کے مطابق کراچی میں 689 مزید کورونا وائرس کے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ حیدرآباد 93، گھوٹکی 76، سکھر 74 اور میرپورخاص میں 34 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    ٹنڈو الہیار 32، جیکب آباد 28، سانگھڑ اورشہید بینظیرآباد میں 23-23 نئے مریض ظاہر ہوئے ہیں۔ لاڑکانہ 22، قمبر اور شکارپور 19-19، دادو 13 اور عمرکوٹ میں 12 مزید متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں۔ بدین اور نوشہروفیروز میں 9-9، سجاول چھ، ٹنڈو محمد خان پانچ نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

    ٹھٹھہ میں چار، کشمور، کندھ کوٹ اور مٹیاری میں ایک ایک نئے نئے مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام لازمی طور پر ایس او پیز پر عمل کریں، ہمیں اس وبا سے ملکر جان چھڑانی ہے۔

  18. برطانوی وزیر اعظم: 'ابھی ہم مشکلات سے باہر نہیں نکلے‘

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کو لیسسٹر شہر میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں اضافے پر تشویش ہے۔

    ویسٹ لندن میں ایک تعمیراتی جگہ کے دورے کے موقع پر انھوں نے کہا ہمیں لیسسٹر سے متعلق تشویش ہے اور ہمیں ہر اس جگہ سے متعلق تشویش ہے جہاں یہ وائرس مقامی طور پر پھیل رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ میں عوام سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ابھی خطرات سے باہر نہیں نکلے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اگرچہ ہم احتیاطی تدابیر کے ساتھ دوبارہ کاروبار زندگی بحال کرنے کی طرف جا رہے ہیں اور جتنا ممکن ہوسکا ملک چار جولائی تک کھول دیا جائے گا مگر ایسے کاروبار زندگی یا شعبے جو اس وائرس کے لیے خطرات کا موجب بنیں وہ ابھی نہیں کھولے جائیں گے۔

    برطانوی وزیر اعظم کے مطابق ہمیں بہت چوکنا رہنا ہوگا اور اس وائرس پر قابو پانے کے لیے بہترین حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

  19. کورونا کا پھیلاؤ: کیا دلی نے لاک ڈاؤن کا موقع ضائع کر دیا؟, اپرنا الوری، بی بی سی نیوز، دلی

    80 ہزار سے زیادہ کووڈ۔19 کے متاثرین کے بعد انڈیا کا دارالحکومت دلی، ملک کا سب سے بڑا ہاٹ سپاٹ بن گیا ہے۔

    ایسے لگتا ہے کہ جیسے شہری انتظامیہ نے پورے ملک میں دو ماہ سے زیادہ لگائے گئے سخت لاک ڈاؤن سے حاصل ہونے والا موقع بظاہر ضائع کر دیا ہے۔

    کونٹیکٹ ٹریسنگ میں کمی، ضرورت سے زیادہ بیوروکریسی، نجی صحت کی سہولیات سے برا یا بالکل بھی نہ ہونے کے برابر تعاون اور سیاسی کشمکش متاثرین کی تعداد میں اضافے کا سبب بنی ہے۔

    چھوٹے شہر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے دارالحکومت سے بہت بہتر نظر آ رہے ہیں۔

    لیکن معاشی دارالحکومت ممبئی کی طرح، جس کو بھی وائرس نے بہت متاثر کیا ہے، دلی کے ہسپتال بھی، جو کہ ملک میں سب سے بڑے ہسپتالوں میں سے ہیں، متاثرین سے بھر گئے ہیں۔

  20. مائیک پینس کی ماسک پہننے کی تاکید، ٹرمپ تذبذب کا شکار

    اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماسک پہننا لازمی قرار دینے کے حق میں نہیں ہیں لیکن امریکہ میں لوگوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپیں۔

    ٹیکساس ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں کووڈ 19 کے متاثرین میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہاں کے گورنر گریگ ایبٹ نے کہا ہے کہ ’صورتحال نے ایک خطرناک موڑ لے لیا ہے کیونکہ 40 سال سے کم عمر کے لوگوں میں انفیکشن کی تعداد بڑھ رہی ہے۔‘

    دوسری جانب امریکی نائب صدر مائیک پینس کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اپنے چہرے کو ڈھانپنے کے لیے مقامی قوانین پر عمل کرنا چاہیے۔

    =اس کے جواب میں ایوان کی ڈیموکریٹک سپیکر نینسی پیلوسی نے کہا ہے کہ صدر ماسک کو لازمی قرار دیں اور ایک مثال قائم کریں۔ ساتھ ہی انھوں نے مزید کہا ’حقیقی مرد ماسک پہنتے ہیں۔‘