آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا کا تیل پیدا کرنے والے ممالک پر اثر، معیشت 7.6 فیصد تک گِر سکتی ہے

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ بارہ ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔ جنوبی کوریا میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’کووڈ 19 کے معاملے میں ہرڈ امیونیٹی ایک خوش فہمی ہے‘ جبکہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیراعلی عثمان بزدار کی حکومت نے آکسیجن گیس کا پلانٹ لگانے کا حکم دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. گلگٹ بلتستان میں 19 نئے مریض، دو مزید افراد ہلاک

    محکمہ صحت گلگت بلستان کے مطابق گلگت بلستان میں منگل کے روز 19 نئے مریضوں کے ساتھ کل کورونا متاثرین کی تعداد 1489 ہوگئی ہے جبکہ اس مرض کی وجہ سے کل ہلاکتیں 26 تک پہنچ گئی یہں۔

    حکام نے بتایا ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان میں زیرِ علاج لوگوں کی تعداد 335 ہے جن میں 229 مرد اور 106 خواتین شامل ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ مریض یعنی 70 افراد ضلع ہنزہ میں زیر علاج ہیں، سکردو میں 68 مریض جبکہ گلگت میں اس وقت 54 کورونا کے مرئص موجود ہیں۔

  2. بریکنگ, پنجاب کے بعد بلوچستان میں بھی 15 جولائی تک ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ میں توسیع, دس یا زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی، شاپنگ مالز میں ایک میٹر کا فاصلہ لازم

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے سمارٹ لاک ڈاون میں مزید 15 دن کی توسیع کردی ہے۔ یعنی صوبہ پنجاب کی طرح یہاں بھی 15جولائی تک برقرار رہے گا۔

    منگل کو محکمہ داخلہ بلوچستان و قبائلی امور کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا خدشہ اب بھی موجود ہے جس کے باعث احتیاطی تدابیر کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق دس یا اس سے زیادہ افراد کے اکٹھے ہونے پر مکمل پابندی ہوگی۔ کسی بھی سرکاری یا نجی مقام پر کسی بھی قسم کے سماجی یا مذہبی مقصد کے لیے اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی۔

    تین فٹ سے زیادہ کے فاصلے کے بغیر گروہ کی شکل میں چلنے پھرنے کی ممانعت ہوگی جبکہ خواتین کے سوا موٹر سائیکل پر دو افراد کی سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

    نئے احکامات کے تحت کسی کار میں دو افراد سے زائد کے بھیٹنے پر پابندی ہوگی۔ تیسرے فرد کو صرف بیماری کی صورت میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔ جبکہ کسی بھی عوامی مقام پر آنے والے افراد کے لیے ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

    جمعہ کے روز تمام کاروباری مراکز اور شاپنگ مالز بند رہیں گے جبکہ یہ ہفتے میں باقی چھ دن صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک کھل سکیں گے۔ تاہم تندور اور ڈیری شاپس، میڈیکل سٹورز، بلڈ بینک اور ضروری اشیا کی دکانیں ہفتے میں 24 گھنٹے کھلی رہیں گی۔

    بیکری کی دکانیں صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک کھل سکیں گی۔ ریستوران اور ہوٹلز کو بھی صرف ہوم ڈیلیوری اور ٹیک آوے سروس کے لیے 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت ہوگی۔

    نوٹیفیکیشن کے تحت لاک ڈاﺅن میں کی جانے والی نرمی تاجروں اور عوام کے احتیاطی تدابیر کی ایس او پیز پر عملدرآمد سے مشروط ہوگی۔ ورکرز اور گاہکو کے لیے ہاتھ دھونے کے لیے سینیٹائیزر کی فراہمی اور ماسک اور دستانوں کا استعمال لازم ہے۔

    کسی بھی گاہک کو بغیر ماسک دکان یا شاپنگ مال میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ گاہک اور ورکرز کے درمیان ایک میٹر کا فاصلہ ضروری ہو گا۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی دکان میں ایک وقت میں چار سے زائد افراد داخل نہیں ہوسکیں گے۔ سکولز اور کالجز 15جولائی تک بدستور بند رہیں گے۔

  3. اٹلی کے ایک گاؤں میں کورونا کے ’40 فیصد متاثرین میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں‘

    ایک نئی تحقیق کے مطابق اٹلی کے ایک گاؤں میں کورونا وائرس سے متاثرہ جن لوگوں کو قرنطینہ کیا گیا تھا ان میں سے 40 فیصد میں مرض کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔

    اٹلی اور برطانوی ماہرین کی اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ’بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور مقامی سطح پر لاک ڈاؤن کی مدد سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے۔‘

    اس گاؤں کی آبادی صرف 3200 افراد پر مشتمل تھی اور یہاں ملک میں 21 فروری کو پہلی ہلاکت کے بعد دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔ اس پورے گاؤں میں ٹیسٹنگ کی گئی تھی۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ گاؤں کی 2.6 فیصد آبادی یعنی 73 لوگوں میں کورونا وائرس موجود تھا۔ دو ہفتوں کے لاک ڈاؤن کے بعد صرف 29 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔ دونوں مرتبہ تقریباً 40 فیصد کیسز میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔

    تاہم وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام افراد کو قرنطینہ منتقل کر دیا گیا تھا۔

    تحقیق کی سربراہ پروفیسر انڈریا کرسینٹی کے مطابق خاموشی سے پھیلنے والے اس وائرس کو قابو کیا جاسکتا ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ’تمام شہریوں کی ٹیسٹنگ، یہ جانے بغیر کہ ان میں علامات ہیں یا نہیں، سے وبا کو روکا جاسکتا ہے۔‘

  4. لاک ڈاؤن کے ذہنی صحت پر منفی اثرات

    کورونا کے خلاف جاری جنگ میں سماجی دوری اور سیلف آئسولیشن واحد ہتھیار ہیں جنھیں نافذ کرنے کے لیے دنیا کے اکثر ملکوں میں لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔

    لیکن لاک ڈاؤن ہماری ذہنی صحت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل سے کیسے نمٹا جائے، جانیے ماہرِ نفسیات عطیہ نقوی سے ہمارے ساتھی کریم الاسلام کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  5. مزید آٹھ امریکی ریاستوں کے شہریوں پر نیویارک آمد پر قرنطینہ کی شرط لگا دی گئی

    نیویارک کے گورنر نے کہا ہے کہ مزید آٹھ ریاستوں کے شہریوں کو نیویارک آمد پر 14 دن قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ ایک وقت میں وائرس سے بُری طرح متاثر نیویارک میں اب کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    ان آٹھ ریاستوں میں کیلیفورنیا، جارجیا، آئیووا، آئیڈہو، نیواڈا، ٹینیسی اور دیگر ریاستیں شامل ہیں۔ فلوریڈا، ایریزونا، ٹیکساس اور جنوبی کیرولائنا پہلے سے اس فہرست میں شامل ہیں۔

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حکم سے تقریباً آدھی امریکی آبادی متاثر ہوگی۔

    منگل کے روز نیویارک میں کورونا کے مزید 28 متاثرین اور 13 اموات سامنے آئی تھیں۔

  6. ’امریکہ میں کورونا کے یومیہ ایک لاکھ متاثرین سامنے آسکتے ہیں‘

    امریکہ میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے یومیہ ایک لاکھ متاثرین سامنے آسکتے ہیں۔

    وبائی امراض کے قومی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر فاؤچی سینیٹ کے اجلاس میں اراکین سے مخاطب تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں عالمی وبا کی روک تھام سے متعلق ’ہم صحیح جانب نہیں جا رہے۔‘

    ’ہم مسئلے سے دوچار رہیں گے اگر لوگ سماجی فاصلے اور ماسک پہننے کی ہدایات پر عمل نہیں کریں گے۔‘

    ’یومیہ متاثرین کی شرح باآسانی ایک لاکھ فی دن ہوسکتی ہے۔ مجھے یہ دکھ کر حیرانی نہیں ہوگی۔۔۔ یہ بہت پریشان کن ہوگا۔ میں آپ کو اس بات کی ضمانت دے سکتا ہوں۔‘

    انھوں نے تجویز کیا ہے کہ امریکہ میں اچھے معیار کے ماسک بنا کر تمام شہریوں میں مفت تقسیم کرنے چاہییں۔

  7. بریکنگ, کوئٹہ میں کورونا وائرس کے متاثرین آٹھ ہزار سے زیادہ ہوگئے

    پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے حکام کے مطابق یہاں کورونا وائرس کے 50 نئے متاثرین کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 10476 ہوگئی ہے۔

    کورونا سے مزید دو افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 121 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 30 جون 2020 کو کورونا کے 392 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 50 مثبت آئے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 48914 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 38438 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طوپر پر 103969 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ اب تک صوبے میں کورونا وائرس سے 4484 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

    صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 37 نئے متاثرین کے اضافے کے ساتھ یہاں کل متاثرہ افراد کی تعداد 8007 ہوگئی ہے۔ صوبے کے 77.4 فیصد متاثرین کوئٹہ میں موجود ہیں۔

  8. گھر بیٹھے سائنسی تجربات مفت سیکھیں!

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پاکستان بھر کے تعلیمی ادارے بند ہیں جس کی وجہ سے طلبا گھروں تک محدود ہو گئے ہیں۔ کراچی میں قائم ’پاکستان سائنس کلب‘ نے گھر بیٹھے بچوں کے لیے دلچسپ سائنسی تجربات مفت آن لائن سکھانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ تفصیلات اِس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  9. اسلام آباد میں کووڈ 19 کے متاثرین اور سمارٹ لاک ڈاؤن کہاں کہاں ہیں؟

  10. ’ہمارے ملک میں بہت زیادہ وائرس ہے اور یہ کافی حوصلہ شکن بات ہے‘

    امریکہ میں سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کی پرنسپل ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر این شوچیٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ نے ان دوسرے ممالک کی طرح ردِ عمل نہیں دکھایا ہے جو کورونا وائرس کو محدود کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اور وائرس کو بہت زیادہ اور تیزی سے پھیلنے دیا ہے۔

    اعلیٰ ماہر نے دی جرنل آف دی امیریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم نیوزی لینڈ یا سنگاپور یا کوریا کی حالت میں نہیں ہیں جہاں ایک کیس کا بہت تیزی سے پتہ چلتا ہے اور تمام رابطے ٹریس ہوتے ہیں اور جولوگ بیمار ہوتے ہیں انھیں آئسولیٹ کیا جاتا ہے، جو متاثرہ ہوتے ہیں انھیں قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے اور اس طرح وہ چیزیں کنٹرول میں رکھتے ہیں۔‘

    ’ہمارے ملک میں اس وقت بہت زیادہ وائرس ہے، اس لیے یہ بہت حوصلہ شکن بات ہے۔‘

    جب امریکی کانگریس نے کورونا وائرس ٹاسک فورس کے اعلیٰ اہلکار ڈاکٹر فاؤچی سے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے تو انھوں نے کہا: ’کچھ ریاستوں میں ہم جو (چیزیں ابھرتی ہوئی) دیکھ رہے ہیں میں خود اس سے بہت تشویش میں مبتلا ہوں۔

    ’50 فیصد سے زیادہ انفیکشنز ان علاقوں میں ہیں جہاں ہم (وائرس) ابھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جب ریاستیں دوبارہ کھلتی ہیں تو انھیں ان ہدایات پر عمل کرنا ہو گا، جو چیک پوائنٹس کے حوالے سے بڑی احتیاط سے ترتیب دی گئی ہیں۔‘

  11. خیبر پختونخوا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 483 متاثرین، 16 اموات

    پاکستان میں خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں کورونا وائرس کے 483 متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ان میں 22 متاثرین بین الاقوامی پروازوں سے پاکستان لوٹے تھے۔

    اس طرح صوبے میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 26,598 ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب کووڈ 19 سے خیبر پختونخوا میں 16 مزید اموات ہوئی ہیں۔ صوبے میں کورونا سے اموات کی کل تعداد 951 ہوگئی ہے۔

    گذشتہ روز مزید 441 افراد کی صحتیابی کے ساتھ اب صوبے میں کل 13,087 افراد کورونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    اب تک خیبر پختونخوا میں کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے 149,498 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

  12. امریکہ: کورونا وائرس کا ’حملہ‘ زیادہ تر کم تنخواہ لینے والوں پر ہوا ہے

    وائٹ ہاؤس کاؤنسل آف اکنامکس اڈوائزرز کے سربراہ تھامس جے فلِپسن کے مطابق کورونا وائرس کے اثرات کم اجرت لینے والوں پر بہت برے پڑے ہیں۔

    بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’اس صدمے کا ایک طرح کا بہت منفرد اثر ہے کہ یہ بہت رجعت پسندانہ ہے، یعنی کہ یہ معیشت کے کم تنخواہ دار حصے کو متاثر کرتا ہے۔ کم تنخواہ والے ورکرز زیادہ تنخواہ والے ورکرز سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔‘

    پروفیسر فلپسن نے کہا کہ وائرس نے اس ترقی کو بالکل پٹڑی سے اتار دیا ہے جو امریکہ کم تنٰخواہ والے افراد کا معیار زندگی بہتر کرنے کے لیے کر رہا تھا۔ وہ یہ بات ’کورونا وائرس: دی اکانومک شاک‘ کے لیے دیے گئے ایک انٹرویو میں کر رہے تھے۔ اس پروگرام میں دنیا کے سرکردہ ماہرِ اقتصادیات اور کاروباری رہنما شرکت کر رہے ہیں۔

  13. برطانیہ میں کورونا سے مزید 155 اموات

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برطانیہ میں گذشتہ روز کورونا وائرس سے 155 اموات ہوئی ہیں۔ اب یہاں کووڈ 19 سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 43,730 ہوگئی ہے۔

    ملک میں اب تک کووڈ 19 کے 313,470 متاثرین سامنے آچکے ہیں۔

    وزیر اعظم بورس جانسن نے بحران کے بعد تعمیرِِ نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ ملک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے لیکن لیسٹر میں اب بھی ہدایات میں سختی برقرار ہے کیونکہ وہاں کووڈ 19 کے متاثرین بڑھ رہے ہیں۔

    یورپی یونین نے برطانیہ کو ان ’محفوظ‘ ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے جن کے شہریوں کے لیے رکن ممالک میں باآسانی داخلے کی اجازت ہوگی۔

  14. یہ عالمی وبا کب ختم ہوگی؟

    کورونا وائرس کی وجہ سے اب دنیا بھر میں اربوں لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں۔ معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔ مگر کیا یہ وبا کبھی ختم ہوگی اور اگر ہاں تو اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے، دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  15. کورونا: وزیر اعظم مودی کے ایک ارب ڈالر کے متنازع فنڈ پر اٹھتے سوالات

  16. آئی ایم ایف: خلیجی ممالک کی معیشت 7.6 فیصد تک گِر سکتی ہے

    عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ خلیجی تعاون تنظیم (جی سی سی) کے ممالک کی معیشت رواں سال کے دوران 7.6 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان چھ ممالک میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے معشیت سُست روی کا شکار ہوئی ہے اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی آئی ہے۔ جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے جو ان کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

    خلیجی تعاون تنظیم میں بحرین، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

    آئی ایم ایف نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ عرب دنیا میں سب سے بڑی معیشت والے مملک سعودی عرب کی شرح میں بھی 6.8 فیصد کی کمی آئے گی۔

    ادارے کے ایک بیان کے مطابق دوسرے علاقوں میں بھی تیل کی پیداوار والے ممالک کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  17. کورونا زدہ پاکستانی معیشت 25 فیصد اضافی ٹیکس کیسے حاصل کر پائے گی؟

    پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے پیر کو مالی سال 21-2020 کے بجٹ کو طویل مباحثے اور چند ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا ہے۔

    تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے مالی سال 21-2020 کے بجٹ میں ٹیکسوں کا ہدف 4963 ارب روپے رکھا ہے۔ نئے مالی سال میں ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف موجودہ مالی سال سے 25 فیصد زائد رکھا گیا ہے۔

    رواں مالی سال کے اختتام تک 3900 ارب روپے تک ٹیکس جمع ہونے کی توقع ہے۔

    آئندہ والے مالی سال میں 25 فیصد اضافی ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف ایسے وقت میں مقرر کیا گیا ہے جب ملکی معیشت کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی معاشی سست روی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہے۔

    پاکستانی معیشت میں گراوٹ کا اندازہ موجودہ مالی سال کے لیے حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے اقتصادی سروے سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق مجموعی قومی آمدنی یعنی جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہے گی۔

  18. مشرق وسطیٰ میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی کہانی

    بی بی سی نے ایک تحقیق کی ہے کہ کس طرح ایک ایرانی ایئر لائن ماہان ایئر نے مشرق وسطیٰ میں کووڈ 19 پھیلانے میں کردار ادا کیا اور متعدد ممالک کی جانب سے پابندی کے باوجود اپنی پروازوں کو جاری رکھا۔

  19. ہائیڈروکسی کلوروکوین کے تجربات دوبارہ شروع

    برطانیہ نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے ملیریا کی متنازعہ دوا کے استعمال پر دوبارہ تجربات کی منظوری دی ہے۔

    ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکوین اور اس سے ملتی جلتی دوا، کلوروکوین، کو ایک کلینیکل تحقیق میں طبی عملے کو دیا جا سکتا ہے تاکہ وہ نظریے کو پرکھ سکیں۔

    کوپ کوو تجربے کے لیے لوگوں کی بھرتی کو پہلے اس تشویش کی وجہ سے روک دیا گیا تھا کہ اس دوا کے دیگر مضر اثرات بھی ہیں۔ ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ اس سے کورونا وائرس کے مریضوں کو موت کا خطرہ ہے، لیکن اس کے بعد یہ مضمون ڈیٹا پر تشویش کی وجہ سے واپس لے لیا گیا ہے۔

    اگرچہ دوسری تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکوین کا ان مریضوں کی زندگیاں بچانے میں کوئی کردار نہیں جو پہلے ہی کورونا سے بیمار ہیں، تحقیق کار اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کیا یہ انفیکشنز روک سکتی ہے۔

    کوپ کوو ٹرائل میں کلوروکوین، ہائیڈروکسی کلوروکوین یا پلیسبو یورپ، افریقہ اور جنوبی امریکہ سے تعلق رکھنے والے 40 ہزار سے زائد ہیلتھ کیئر کے عملے کو دی جائیں گی۔

  20. پشاور کے دو علاقوں میں ’سمارٹ لاک ڈاؤن‘ حتم

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے ’کورونا وائرس کے متاثرین میں واضح کمی‘ کے پیشِ نظر دو علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بیان کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن کے علاقوں میں کورونا کیسز میں واضح کمی آئی ہے۔ دو علاقوں سے یکم جولائی سے سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کر نے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور کے مطابق یونین کونسل آسیہ اور شینواری ٹاؤن میں کل تین بجے سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کیا جا رہا ہے۔

    ’سمارٹ لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج سامنے آئیں ہیں۔ عوام حکومتی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

    گذشتہ روز اشرفیہ کالونی، یونیورسٹی ٹاؤن چنار روڈ، دانش آباد اور سیکٹر ای ٹو فیز ون حیات آباد سے سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کیا گیا تھا۔