پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے سمارٹ لاک ڈاون میں مزید 15 دن کی توسیع کردی ہے۔ یعنی صوبہ پنجاب کی طرح یہاں بھی 15جولائی تک برقرار رہے گا۔
منگل کو محکمہ داخلہ بلوچستان و قبائلی امور کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا خدشہ اب بھی موجود ہے جس کے باعث احتیاطی تدابیر کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق دس یا اس سے زیادہ افراد کے اکٹھے ہونے پر مکمل پابندی ہوگی۔
کسی بھی سرکاری یا نجی مقام پر کسی بھی قسم کے سماجی یا مذہبی مقصد کے لیے اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی۔
تین فٹ سے زیادہ کے فاصلے کے بغیر گروہ کی شکل میں چلنے پھرنے کی ممانعت ہوگی جبکہ خواتین کے سوا موٹر سائیکل پر دو افراد کی سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
نئے احکامات کے تحت کسی کار میں دو افراد سے زائد کے بھیٹنے پر پابندی ہوگی۔ تیسرے فرد کو صرف بیماری کی صورت میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔ جبکہ کسی بھی عوامی مقام پر آنے والے افراد کے لیے ماسک پہننا لازمی ہوگا۔
جمعہ کے روز تمام کاروباری مراکز اور شاپنگ مالز بند رہیں گے جبکہ یہ ہفتے میں باقی چھ دن صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک کھل سکیں گے۔ تاہم تندور اور ڈیری شاپس، میڈیکل سٹورز، بلڈ بینک اور ضروری اشیا کی دکانیں ہفتے میں 24 گھنٹے کھلی رہیں گی۔
بیکری کی دکانیں صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک کھل سکیں گی۔ ریستوران اور ہوٹلز کو بھی صرف ہوم ڈیلیوری اور ٹیک آوے سروس کے لیے 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی اجازت ہوگی۔
نوٹیفیکیشن کے تحت لاک ڈاﺅن میں کی جانے والی نرمی تاجروں اور عوام کے احتیاطی تدابیر کی ایس او پیز پر عملدرآمد سے مشروط ہوگی۔
ورکرز اور گاہکو کے لیے ہاتھ دھونے کے لیے سینیٹائیزر کی فراہمی اور ماسک اور دستانوں کا استعمال لازم ہے۔
کسی بھی گاہک کو بغیر ماسک دکان یا شاپنگ مال میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
گاہک اور ورکرز کے درمیان ایک میٹر کا فاصلہ ضروری ہو گا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی دکان میں ایک وقت میں چار سے زائد افراد داخل نہیں ہوسکیں گے۔ سکولز اور کالجز 15جولائی تک بدستور بند رہیں گے۔