کورونا: دو کروڑ سے زائد امریکیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ، مظفرآباد میں سمارٹ لاک ڈاؤن
دنیا بھر میں اب تک 96 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ 89 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں اگر ملک یہ مہینہ گزار لے تو ہم وبا کے عروج سے بچ سکتے ہیں جبکہ ملک میں گذشتہ روز کورونا کے باعث 148 اموات ہوئی ہیں۔
لائیو کوریج
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کا یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا، تاہم کورونا وائرس سے متعلق ہماری خصوصی لائیو کوریج جاری ہے، جسے آپ اس لنک پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
کووڈ 19 کی ویکسین بن بھی گئی تو اگلے سال سے پہلے دستیاب نہیں ہوگی، ڈبلیو ایچ او

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایسے وقت میں جب یورپ بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے تو کئی مقامات پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کئی ممالک پہلے ہی پابندیاں دوبارہ نافذ کر چکے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا ہے کہ رواں ہفتے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ممکنہ طور پر ایک کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی یقین دہانی موجود نہیں کہ وائرس کے خلاف ویکسین تیار کر لی جائے گی، اور اگر ایسا ہوا بھی، تب بھی یہ اگلے سال سے قبل دستیاب نہیں ہوگی۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر برائے یورپ نے کہا ہے کہ کئی ماہ میں پہلی بار یورپ میں کووڈ 19 ’بہت نمایاں طور پر سر اٹھا رہا ہے۔‘
امریکہ میں دو کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں، سی ڈی سی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے اندازوں کے مطابق کورونا سے متاثرہ امریکیوں کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہو سکتی ہے۔
ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے جمعرات کو میڈیا کو بتایا: ’ہمارا سب سے بہتر اندازہ اس وقت یہ ہے کہ سامنے آنے والے ہر متاثر کے مقابلے میں حقیقی طور پر 10 دیگر متاثر افراد موجود ہیں۔‘
سی ڈی سی کے ماہر ڈاکٹر جے بٹلر کے مطابق امریکہ میں اس وبا سے نوجوان بڑی تعداد میں متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے مطابق اس کی وجہ کچھ حد تک یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نوجوان اس وبا کو عمر رسیدہ امریکیوں کے برعکس سنجیدگی سے نہیں لے رہے، حالانکہ وہ بھی شدید بیماری کے کچھ حد تک خطرے کی زد میں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ادارہ نوجوان لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے، انھیں سماجی فاصلے کے بارے میں آگاہ کرنے، چہرہ ڈھانپنے اور بڑے اجتماعات سے دور رہنے کی ترغیب دینے کے لیے ٹک ٹاک کے استعمال پر غور کر رہا ہے۔
مظفرآباد میں لاک ڈاؤن میں نرمی، ایک ہفتے کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ, ایم اے جرال، صحافی

،تصویر کا ذریعہM.A Jarral
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع مظفرآباد میں اس خطے کی حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے ضلع بھر میں ایک ہفتے کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے مراسلے کے مطابق تمام کاروباری مراکز سمیت ٹرانسپورٹ کو ایک ہفتے کے لیے مخصوص دنوں میں محکمہ صحت کے بتائے گئے ضابطہ اخلاق کے تحت کھولنے کی اجازت ہے۔
جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق اشیائے خوردونوش کی دکانیں، میڈیکل اسٹورز، بیکریز پورا ہفتہ کھلی رہیں گی جبکہ کریانہ اور ایل پی جی دکانیں سوموار کے علاوہ چھ دن کھولنے کی اجازت ہوگی۔
مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق مچھلی کی دکانیں ہفتے میں تین ایام جمعرات، جمعہ اور ہفتہ کھولی جائیں گی جبکہ جوتے، ہوزری، کپڑے اور درزی کی دکانیں ہفتے میں تین ایام اتوار، پیر اور منگل کو کھلیں گی۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق گارمنٹس، کراکری، جیولری، الیکٹرانکس، موبائل شاپس، کمپیوٹر اور کتابوں کی دکانیں بدھ، جمعرات اور جمعہ کو کھلنے کی اجازت ہے جبکہ جملہ ورکشاپس، ٹائر، حجام اور بیوٹی پارلر جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔
سرکاری ہدایت نامے کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد سمیت دیگر علاقوں کے لیے طے شدہ ضابطہ اخلاق کے تحت گاڑیاں چلانے کی اجازت ہوگی۔
یاد رہے کہ اس خطے کی حکومت نے ضلع مظفرآباد سمیت ضلع بھمبر میں دو ہفتے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا جس کے بعد ضلع مظفرآباد میں نرمی کر کے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے، البتہ ضلع بھمبر میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ ہے۔
ڈنمارک کی وزیرِ اعظم نے یورپی یونین کے اجلاس کے لیے اپنی شادی ملتوی کردی

،تصویر کا ذریعہReuters
ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے وبا سے نمٹنے کے لیے بلائے گئے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی خاطر اپنی شادی ملتوی کر دی ہے۔
فریڈریکسن کا کہنا تھا کہ ان کی شادی 17 اور 18 جولائی کے لیے طے شدہ اس اجلاس سے ٹکرا رہی تھی۔
وبا کے آغاز سے اب تک پہلی مرتبہ ایسا کوئی اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔
اس اجلاس میں یورپی رہنما کووڈ 19 سے بحالی کے ایک فنڈ اور ایک نئے بجٹ کی تجاویز پر غور کریں گے۔
فریڈرکسن نے کہا کہ انھیں ’اپنا کام کرنا ہے اور ڈنمارک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے‘ اور کہا کہ انھیں اس بات کی بہت خوشی ہے کہ ان کے منگیتر ’نہایت صابر ہیں۔‘
Instagram پوسٹ نظرانداز کریںInstagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام
فلپائن کے شہر میں فوجی لاک ڈاؤن کا 104 واں دن, ہووارڈ جانسن، بی بی سی نیوز

،تصویر کا ذریعہThe Freeman
فلپائن کے شہر سیبو میں فوج کی سرپرستی میں لگائے جانے والے لاک ڈاؤن کو 104 دن ہو گئے ہیں اور وہاں کووڈ۔19 کے متاثرین کی تعداد ابھی بھی بڑھ رہی ہے۔
20 لاکھ آبادی کے شہر میں 4500 سے زیادہ متاثرین ہیں، اور 100 اموات ہو چکی ہیں۔
اگرچہ یہ تعداد دنیا کے کئی دوسرے شہروں سے کم ہے لیکن فلپائن میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے وبا کے حقیقی پھیلاؤ کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
فلپائن کے صدر راڈریگو دوترتے نے اپنے سیکریٹری ماحولیات ریٹائرڈ فوجی جنرل روئے سیماٹو کو سیبو بھیجا ہے تاکہ وہ صورتِ حال کو کنٹرول کریں۔
حکومت نے شہر میں ادھر ادھر جانے کے لیے جو ڈھائی لاکھ قرنطینہ پاس لوگوں کو دیے تھے وہ اب منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ فوج کی گشتی پارٹیاں کرفیو نافذ کروا رہی ہیں اور فوجی ہیلی کاپٹروں سے کووڈ۔19 کے معلوماتی کتابچے گرائے جا رہے ہیں۔
غیر سرکاری تنظیم فنڈلائف فلپائن کے ڈائریکٹر مارکو کیسِک کہتے ہیں کہ ’سخت لاک ڈاؤن کی وجہ سے ایک انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے اور شہر کے کئی غریب لوگوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ سیبو کی مقامی حکومت جو کر سکتی ہے کر رہی ہے، لیکن ہم بے بس ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFundlife Philippines
پنجاب میں 796 نئے متاثرین، ایک روز میں 27 ہلاکتیں, کُل متاثرین: 71 ہزار 987 - کُل ہلاکتیں: 1629

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں 796 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد یہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 71 ہزار 987 ہوگئی ہے۔
محکمہ صحت پنجاب کے ایک اعلامیے کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 27 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
صوبے میں ہلاک شدگان کی کُل تعداد 1629 ہے۔ سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اب تک یہاں 21 ہزار نو افراد اس مرض سے متاثر ہونے کے بعد صحتیاب ہو چکے ہیں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 32 نئے متاثرین، نئی ہلاکتیں صفر, ایم اے جرال، صحافی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 14 خواتین سمیت 32 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 962 ہوگئی ہے۔
ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی 10 خواتین سمیت 16 افراد کا تعلق مظفرآباد سے ہے۔
میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والی ایک خاتون سمیت دو افراد کا تعلق میرپور، چھ کا کوٹلی اور تین کا تعلق بھمبر سے ہے۔
ڈپٹی کمشنر راولاکوٹ مرزا ارشد جرال کے مطابق ایک خاتون سمیت دو افراد راولاکوٹ میں جبکہ ایک خاتون سمیت دو افراد حویلی میں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
ضلع باغ کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر منظور کے مطابق باغ میں ایک خاتون میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید چھ مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 396 ہوگئی ہے۔
حکام کے مطابق اب تک اس خطے میں 14 ہزار 729 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیے گئے ہیں.

،تصویر کا ذریعہM.A Jarral
گلگت بلتستان میں 33 نئے متاثرین سامنے آ گئے، مجموعی تعداد 1398, محمد زبیر خان، صحافی

محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق گلگت بلتستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 33 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد یہاں کورونا متاثرین کی کُل تعداد 1398 ہوگئی ہے۔
اس خطے میں اب تک مجموعی طور پر 23 لوگ وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام نے بتایا ہے کہ گذشتہ روز سے اب تک چار مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب مریضوں کی تعداد 999 ہوچکی ہے جبکہ زیرِ علاج مریضوں کی تعداد 376 ہے۔
محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق زیر علاج مریضوں میں 260 مرد اور 116 خواتین شامل ہیں۔
بریکنگ, ’اسلام آباد میں اس وقت بھی 5752 ایکٹو کیسز ہیں‘
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حکام کے مطابق اب تک 110560 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس وقت بھی شہر میں 5752 ایکٹو کیسز موجود ہیں۔
شہر مںی اس وبا کے باعث ہونے والی ہلاکتیں 119 ہیں جن میں سے 66 فیصد کی عمر 60 سال سے زیادہ تھی۔ پانچ فیصد افراد 40 سال سے کم عمر تھے اور ہلاک ہونے والوں میں 33 فیصد خواتین تھیں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
جرمنی اور فرانس کا عالمی ادارۂ صحت کو مزید فنڈز دینے کا وعدہ

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ کے عالمی ادارۂ صحت کو فنڈز معطل کرنے کے اعلان کے کچھ ہفتوں بعد جرمنی اور فرانس نے کہا ہے کہ وہ ادارے کی اقتصادی مدد میں اضافہ کریں گے۔
جرمنی نے وعدہ کیا کہ وہ اس سال ادارے کو 560 ملین (50 کروڑ 60 لاکھ) ڈالر دے گا، جبکہ فرانس نے 14 کروڑ یورو دینے کا وعدہ کیا ہے۔
انھوں نے عالمی ادارۂ صحت کی مدد کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ وہ وبا اور دیگر بیماریوں کے خلاف اہم کام کر رہا ہے۔
جرمنی کے وزیرِ صحت جینز سپاہن نے جمعرات کو ڈبلیو ایچ او کے صدر دفتر میں کہا کہ ’جرمنی عالمی ادارۂ صحت کا ایک مضبوط حمایتی اور اچھا دوست ہے۔‘
ان کے فرانس کے ہم منصب اولیور ویران نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کووڈ۔19 کے عالمی ردِ عمل کو منظم کر سکتا ہے۔
جب گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او کی فنڈنگ معطل کرنے کا اعلان کیا تھا تو انھوں نے ڈبلیو ایچ او پر الزام لگایا تھا کہ وہ چین کو وبا کا ذمہ دار ٹھہرانے میں ناکام رہا ہے۔
بریکنگ, بلوچستان میں کورونا کے متاثرین کی تعداد 9946 ہوگئی 109 ہلاکتیں

بلوچستان میں کورونا کے129نئے کیسز کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 9946 ہوگئی ہے۔
کورونا سے مزید ایک مریض کی ہلاکت ہوئی ہے جس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 109 ہوگئی ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان ترجمان داکٹر وسیم بیگ کے مطابق 25 جون 2020 کو کورونا کے601 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے129 پازیٹو آئے۔
بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 46023 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے36077 کے نتائج منفی آئے۔
بلوچستان میں مجموعی طوپر پر98845 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ کورونا وائرس سے اب تک3737 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔
گوشت کے پلانٹ میں وبا کے ذمہ دار، ٹھنڈ اور بری وینٹیلیشن, گیون لی، نامہ نگار، بی بی سی یورپ

،تصویر کا کیپشنوبا کے بعد اب ملازمین کے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی گئی ہے جرمنی کی ایک گوشت پراسس کرنے والی فیکٹری میں 15 سو سے زیادہ ملازمین کووڈ۔19 سے متاثر ہو گئے ہیں۔
اس نئی کلسٹر انفیکشنز کی وجہ سے گوشت کو پراسس کرنے والی فیکٹریوں کی جانچ پڑتال شروع ہو گئی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ٹھنڈا درجہ حرارت اور ہوا فلٹر کرنے والے ناکافی نظام کی وجہ سے مرض پھیلانے والا جرثومہ تیزی سے گٹرلوش، نارتھ راہن ویسٹفیلیا میں واقع فیکٹری میں پھیل گیا۔
پلانٹ میں وبا پر تحقیق کرنے والی ٹاسک فورس کے سربراہ پروفیسر مارٹن ایکزنر نے رپورٹروں کو بتایا کہ وینٹیلیشن کا نظام جو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ 6 ڈگری سینٹی گریڈ اور 10 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان دراجہ حرارت رکھے، متواتر ہوا کو صاف کیے بغیر کمرے میں پھینکتا رہا۔
انھوں نے کہا کہ یہ ایک دریافت ہونے والی خطرے کی نئی وجہ ہے اور بس ایک ہی وجہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے دوسرے ذبح خانوں پر بہت زیادہ اثرات پڑ سکتے ہیں۔
کورونا وائرس سے جڑی اصطلاحات کے معنی کیا ہیں؟

کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ہماری روزمرہ کی زندگی میں کئی نئے الفاظ اور اصطلاحات متعارف کرائی ہیں، چاہے بات قرنطینہ، وائرس، مدافعت یا سماجی فاصلے کی ہو۔ لیکن آخر ان سب اصطلاحات کا مطلب کیا ہے؟
ایران میں اموات کی اصل تعداد ’10 گنا زیادہ ہو سکتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بی بی سی فارسی سروس کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ایران میں کووڈ۔19 کی وجہ سے ہونے والی اموات کی درست تعداد سرکاری اعداد و شمار سے 5 سے 10 گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران میں موسمِ سرما کے دوران 6 ہزار 400 افراد، عام حالات میں اس موسم میں ہلاک ہونے والوں سے زیادہ ہلاک ہوئے، جو کہ اسی دوران کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں سے تقریباً 5 ہزار زیادہ ہلاکتیں ہیں۔
سب سے زیادہ اموات کی شرح قم، گیلان، مازندران، گلستان صوبوں میں ہے جو فروری اور مارچ میں وبا پھیلنے کے مراکز تھے۔
اسی دوران دارالحکومت تہران میں معمول سے زیادہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ملک کے سبھی حصوں میں ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ تھی۔
ایران مشرقِ وسطیٰ میں وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے اور اس کے جنوب اور مغربی علاقوں میں ایک مرتبہ پھر وبا زور پکڑ رہی ہے۔ ابھی تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کووڈ۔19 سے 10 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2 لاکھ 15 ہزار تصدیق شدہ متاثرین ہیں۔
بلوچستان: سکولوں کے کھلنے سے پہلے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کا حکم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے سیکرٹری تعلیم نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ سے کہا ہے کہ کورونا سے بچاﺅ کے لیے احتیاطی تدابیر کے پیش نظر سکولوں کے کھلنے سے پہلے تمام اسکولوں میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
تعلیم کے حوالے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق بلوچستان میں اسکولوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن میں پانی دستیاب نہیں۔
محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کے نام ایک مراسلے میں سیکریٹری تعلیم نے اس مر کو افسوسناک قرار دیا ہے کہ بلوچستان کے اکثر اسکولوں میں پینے تک کا بھی پانی نہیں۔
سیکرٹری تعلیم کے مطابق کورونا سے بچاﺅ کے لیے جو احتیاطی تدابیر ہیں ان میں بار بار ہاتھوں کا دھونا بھی شامل ہے۔
مراسلے محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کو کہا گیا ہے کہ سکولوں کے کھلنے سے پہلے ان میں پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ اساتذہ اور بچوں کو ہاتھ دھونے کے لیے پانی میسر آسکے۔
یورپ میں انفیکشنز پر خطرے کی گھنٹی بج گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ مہینوں کے بعد یورپ میں انفیکشنز میں ہفتہ وار اضافہ دیکھا گیا ہے اور اگر اسے پھیلنے سے روکنے کے لیے مزید کچھ نہ کیا گیا تو کئی ممالک میں متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک جا سکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے یورپ کے علاقائی ڈائریکٹر ہینز کلوگ نے کہا کہ 30 یورپی ممالک میں گذشتہ دو ہفتوں سے مجموعی کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان ممالک میں سے 11 میں ٹرانسمیشن میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اگر اسے یوں ہی چھوڑ دیا گیا تو یورپ میں دوبارہ صحت کے نظام دہانے پر پہنچ جائیں گے۔
جرمنی کی نارتھ راہن۔ویسٹفیلیا ریاست نے ایک گوشت پروسیسنگ کے پلانٹ میں وبا پھیلنے کے بعد دو ڈسٹرکٹس میں دوبارہ کرفیو لگا دیا ہے، جبکہ سپین کے شمال مشرقی صوبے آراگون میں پھلوں کے باغات میں کام کرنے والے مزدوروں میں وائرس کے اضافے کے بعد وہاں دوبارہ پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر نے ان ممالک میں تیز اور ٹارگیٹڈ مداخلت کی وجہ سے اور پولینڈ اور اسرائیل کی مقامی سپائیک کو روکنے کی وجہ سے تعریف کی۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بلوچستان میں کورونا کی شدت میں نسبتا کمی ’شہریوں نے کورونا کو سنجیدہ لیا‘

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان میں کورونا کی پھیلاﺅ کی شرح زیادہ ہے لیکن گزشتہ چند دنوں سے کیسز کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
کوئٹہ میں کورونا کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا جون کے آغاز میں بلوچستان میں کورونا کے کیسز میں بہت زیادہ اضافہ ہوا تھا لیکن رواں ہفتے ان کی تعداد میں کمی آئی۔
ان کا کہنا تھا کوئٹہ میں کورونا کے پھیلاﺅ کی شرح میں کمی آنے کے بعد اب 78 فیصد ہوگئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب شہریوں نے کورونا کو سنجیدہ لیا ہے اور انہیں پتہ چلا ہے کہ کرونا ایک حقیقت ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ بلوچستان میں کورونا سے صحت یاب ہونے کی شرح میں اضافے کے بعد یہ 38 فیصد ہوگئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کورونا سے متائثرہ افراد کی صرف 2 فیصد آئسولیشن وارڈز میں ہیں جبکہ باقی 98 فیصد گھروں میں زیر علاج ہیں۔
انہوں نے کہا تعلیمی اداروں کے حوالوں سے ایس او پیز بنائے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز طلباء نے آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کیا۔ ان کے مطالبات جائز ہیں کیونہ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز طلبا کے احتجاج کے دوارن جو افسوسناک واقعہ پیش آیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس کا نوٹس لیا ہے۔
کورونا کی پابندیوں میں نرمی، آسٹریا میں قحبہ خانے کھل رہے ہیں, بیتھنی بیل، بی بی سی نیوز، ویانا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریا میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں میں نرمی کے ساتھ یکم جولائی سے قحبہ خانوں کو بھی کھلنے کی اجازت دی دے گئی ہے۔
آسٹریا پریس ایجنسی کے مطابق وزارتِ صحت ملک میں رجسٹرڈ 8 ہزار سیکس ورکرز کے نمائندہ گروہوں کے ساتھ مل کر حفضانِ صحت کے اقدامات کو ترتیب دے رہی ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں ولکشلائف نامی خیراتی ادارے کے زیرِ انتظام چلنے والے مشاورتی سینٹر ’سوفی‘ کی سربراہ ایوا وان راہدین نے کہا تھا کہ وبا کی وجہ سے بہت سی سیکس ورکرز مشکل حالات میں زندگی گزار رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بحران کی وجہ سے جسم فروشی پر پابندی لگانے کے مطالبات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کی ان کی تنظیم شدید مخالفت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جسم فروشی کو غیر قانونی قرار دینے سے تشدد، انسانی سمگلنگ، اور استحصال میں اضافہ ہو گا۔
یورپ میں نیدرلینڈز بھی یکم جولائی سے قحبہ خانے کھولنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
یونان میں یہ گذشتہ ہفتے کھول دیے گئے تھے۔ یونان کی حکومت نے اس کاروبار کے لیے جو نئے قوانین لاگو کیے تھے ان میں کارڈ سے رقم کی ادائیگی، ہر گاہک کے ساتھ 15 منٹ صرف کرنے کی حد، لازمی فیسک ماسک اور گاہکوں کی پوری تفصیل حاصل کرنا تاکہ ضرورت پڑنے پر ان کو ٹریس کیا جا سکے، شامل تھا۔
