پنجاب میں 1228 نئے متاثرین، ’سال کے آخر تک کورونا ویکسین تیار ہونے کی امید‘

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 90 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے ڈائریکٹر آف دی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایلرجی اینڈ انفیکشیئس ڈیزیزز ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی نے منگل کو کہا کہ وہ بڑے محتاط ہو کر یہ امید کرتے ہیں کہ 2020 کے آخر تک ویکسین تیار ہو جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. لاک ڈاؤن سے ہمارا وزن بڑھ رہا ہے، ملایشیائی عوام کی شکایت

    ملائیشیا میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران وزن میں اضافے کی شکایات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

    یاد رہے کہ ملائیشیا میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے مارچ کے وسط میں ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا۔

    کوالالمپور کے دی سٹار نے لکھا ہے کہ اس خبر میں کوئی حیرت والی بات نہیں ’بہت سے افراد گھر بیٹھے بیٹھے جسمانی طور پر کم متحرک ہو گئے ہیں اور کوئی ورزش بھی نہیں کر رہے۔‘

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’بعض افراد نے اپنے دوستوں کی طرف سے تنقید سے بچنے کے لیے حالیہ تصاویر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    کورونا وائرس کی وبا سے پہلے ہی ملائیشیا میں موٹاپے کو صحت کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔ ورلڈ پاپولیشن ریویو 2019 کے مطابق جنوبی مشرقی ایشیا کی آبادی میں ملائیشیا کے بالغ افراد میں سب سے زیادہ موٹاپا پایا جاتا ہے جس کی شرح 15.6 فیصد ہے۔

    نیشنل ہیلتھ اینڈ موربیڈیٹی سروے (این ایچ ایم ایس) 2019 کے نتائج کے مطابق ملائشیا میں 50.1 فیصد بالغ افراد کا یا تو وزن زیادہ ہے یا وہ فربہ ہیں جبکہ 30.4 فیصد افراد کا وزن زیادہ ہے اور 19.7 فیصد فربہ ہیں۔

    موٹاپہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  2. ڈاکٹر ظفر مرزا: ’12 لوکل مینوفیکچررز کو ریمڈیسویر انجکشن بنانے کی اجازت دی‘

    ‏پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ‏ڈیکسا میتھازون انجکشن بنگلہ دیش سے درآمد کیا جارہا ہے جبکہ ‏12 لوکل مینوفیکچررز کو ریمڈیسویر انجکشن بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ‏امید ہے کہ چھ سے آٹھ ہفتے میں مقامی سطح پر انجکشن کی تیاری شروع ہو جائے گی اور یہ ادویات وینٹی لیٹر اور آکسیجن پر موجود مریضوں کو دی جائیں گی۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ‏جومریض ان ادویات کی قوت خرید نہیں رکھتے، این ڈی ایم اے ایسے افراد کو یہ ادویات مفت فراہم کرے گی۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  3. آسٹریلیا میں کورونا وائرس پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے

    t5re

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آسٹریلیا دنیا کے ان کامیاب ممالک میں شامل ہے جس نے کامیابی سے کورونا وائرس کا مقابلہ کیا ہے۔ کئی ہفتوں تک وائرس سے متاثرہ کوئی نیا مریض سامنے نہیں آیا ہے۔

    لیکن وکٹوریا میں وائرس کی نئی لہر نے ملک میں اس وائرس کے پھیلاؤ جیسے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

    جنوب مشرقی ریاست میں گذشتہ ہفتے 100 سے زائد نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ان متاثرین کی بڑی تعداد میلبورن شہر میں آباد ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں کرکٹ شائقین کرکٹ میچز کی وجہ سے اس شہر سے بخوبی واقف ہیں۔

    آج 16 ایسے متاثرین بھی سامنے آئے ہیں جن میں اس وائرس کی منتقلی مقامی طور پر یعنی ملک کے اندر سے ہوئی ہے۔ بہت سارے دیگر متاثرین ملک سے باہر سے آئے ہیں۔

    ریاست وکٹوریا نے ہنگامی حالات کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔ ریاست میں لاک ڈاؤن کے ساتھ چھ علاقوں کو اس وائرس کی آماجگاہ یعنی ہاٹ سپاٹ قرار دے گیا ہے۔

    آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ مورسن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ (ایسے اقدامات) کووڈ 19 کے ساتھ زندہ رہنے کا حصہ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وقتاً فوقتاً ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے لیکن ہمیں اس طرح کے ناخوشگوار حالات کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

    • بریکنگ, انڈیا: کانپور شیلٹر ہوم میں کورونا وائرس سے 57 کم عمر لڑکیاں متاثر, کمیشن برائے خواتین کا سرکاری پناہ گاہ میں نابالغ لڑکیوں پر جسنی تشدد کا دعویٰ

      کورونا

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا کے شہر کانپور میں ایک سرکاری پناہ گاہ میں 57 نابالغ لڑکیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

      زیادہ تر لڑکیوں میں اس وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ جن لڑکیوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی انھیں آئسولیشن سنٹر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

      حکام نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ان 57 لڑکیوں میں سے پانچ ایسی کم عمر لڑکیاں بھی ہیں جو حاملہ ہیں۔

      اس وقت چار لاکھ سے زائد کورونا وائرس متاثرین کے ساتھ انڈیا متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد کے اعتبار سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔

      حکام کے مطابق گذشتہ ہفتے ایک لڑکی کو جب بخار ہوا تو اسے ہسپتال لے جایا گیا۔

      جب اس لڑکی کا ٹیسٹ مثبت آیا تو پھر اس پناہ گاہ میں دیگر لڑکیوں کا بھی ٹیسٹ کیا گیا۔ اس پناہ گاہ کے ایک ملازم میں بھی اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے تاہم حکام کو ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کیسے اس وائرس میں مبتلا ہوا۔

      اترپردیش ریاست جہاں کانپور موجود ہے، کے کمیشن برائے خواتین کا کہنا ہے کہ کانپور شیلٹر ہوم کی ذیادہ تر لڑکیوں پر جنسی تشدد کیا گیا ہے۔

      پولیس افسر دینش کمار نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ شیلٹر ہوم کے اندر کوئی غلط کام یا جرم سرزد نہیں ہو رہا ہے۔

      پولیس افسر کا کہنا ہے کہ جو پانچ لڑکیاں حاملہ ہیں ان کو مختلف اضلاع سے کانپور کی پناہ گاہ میں لایا گیا تھا جو اس وقت حاملہ تھیں۔ تاہم پولیس کے مطابق اس پہلو سے بھی اس معاملے کی تفتیش کی جارہی ہے۔

      شیلٹر ہوم کو سیل کر دیا گیا ہے اور اس کے تمام عملے کو قرنطینہ میں داخل کر دیا گیا ہے۔

      ریاست اترپردیش کے کمشین برائے خواتین کی ایک رکن پونم سیکسینا نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ جب لڑکیوں کو ہسپتال بھیجا گیا تو اس وقت ہمارے عملے کے کچھ افراد بھی ان کے ساتھ بھیجے گئے تھے۔ ان کے مطابق یہ عین ممکن ہے کہ یہ وائرس ان میں سے ہی کسی سے پھیلا ہے۔

      ان کے کہنا ہے کہ مردوں کو اس شیلٹر ہوم میں جانے کی اجازت ہی نہیں ہے۔ ان کے مطابق انھوں نے خود کئی بار اس پناہ گاہ کا دورہ کیا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی طرح کی قیاس آرائی مناسب نہیں ہے۔

    • بلوچستان: عمر رسیدہ افراد کے مقابلے میں نوجوان کورونا وائرس سے زیادہ متاثر

      پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں عمر رسیدہ افراد کے مقابلے میں نوجوان کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

      محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی رپورٹ میں مجموعی طور پر 9 ہزار 475 افراد میں سے 9 ہزار 328 متاثرہ افراد کا عمر کے لحاظ سے جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

      اس جائزے کے مطابق 15 سے 44 سال کی عمر کے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 ہزار 759 ہے۔

      رپورٹ کے مطابق ان 9 ہزار 328 متاثرہ افراد میں ایک سے 14سال کی عمر کے متاثرہ افراد کی تعداد 989 ہے۔

      15 سے 29 سال کی عمر کے متاثرین کی تعداد 2 ہزار 555 جبکہ 30 سے 44 سال کی عمر کے متاثرین کی تعداد 3204 ہے جو کہ سب سے زیادہ ہے۔

      45 سے 59 سال کی عمر کے متاثرین کی تعداد 1740 جبکہ 60 سال سے اوپر کی عمر کے متاثرہ افراد کی تعداد 815 ہے۔

      جنس کے حوالے سے متاثرہ افراد میں اکثریت مردوں کی ہے۔

      رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں متاثرہ مردوں کی شرح 77 فیصد جبکہ خواتین متاثرین کی شرح 23 فیصد ہے۔

      اگرچہ بلوچستان کے تمام اضلاع سے کیسز سامنے آئے ہیں لیکن متاثرین کی اکثریت کا تعلق ضلع کوئٹہ سے ہے۔

      محکمہ صحت کے مطابق مجموعی 9475 افراد میں سے 7349 کا تعلق کوئٹہ سے ہے جو کہ مجموعی کیسز کے 78.8 فیصد ہیں۔

    • بیجنگ: دو ہفتوں بعد کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں کمی

      سفگ

      ،تصویر کا ذریعہAFP

      چین کے دارالحکومت بیجنگ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں نو نئے کورونا وائرس متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

      تقریباً دو ہفتوں کے بعد پہلی بار یہ یہ تعداد ڈبل فگر یعنی دس سے نیچے رہی ہے۔ گذشتہ روز بیجنگ میں 22 متاثرین کی نشاندہی ہوئی تھی۔

      بیجنگ میں کورونا وائرس کی حالیہ لہر کے دوران 230 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

      اس وبا کے پھیلاؤ کا تعلق ایک قریبی تھوک مارکیٹ سے جوڑا جا رہا ہے، جس کے بعد لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور شہر کے اندر اور ارد گرد کے علاقوں میں سفری پابندیوں کا بھی اطلاق کیا گیا۔

    • میکسیکو میں پانچ ہزار سے زائد نئے متاثرین، ہزار سے زائد اموات

      tr

      ،تصویر کا ذریعہReuters

      میکسیکو کی وزارت صحت کے مطابق اتوار کو میکسیکو میں کورونا وائرس کے 5343 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 1044 بنتی ہے۔

      میکسیکو میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد 21،825 ہو گئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد 180،545 ہے۔

      حکومت نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وائرس سے متاثرہ افراد کی صیحح تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    • جنوبی کوریا: کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ

      فش

      ،تصویر کا ذریعہPress Eye

      جنوبی کوریا کے پانچویں بڑے شہر ڈیجیون میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد سماجی فاصلے جیسے سخت اقدامات دوبارہ لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

      جنوبی کوریا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 17 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جو اس مہینے کی سب سے کم یومیہ تعداد بنتی ہے۔ ان میں سے چھ متاثرین باہر کے ممالک سے آئے ہیں۔

      تاہم حکام ڈیجیون شہر میں نئے متاثرین کی تعداد سے پریشان ہیں۔ یہ شہر دارالحکومت سیول سے جنوب کی جانب 50 میل کی دوری پر واقع ہے۔

      عوامی مقامات جیسے میوزیم، سپورٹس ہال اور لایبریریوں میں جمع ہونے پر اب بھی پابندی عائد ہے۔ اس وقت 22 چرچ بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

      فروری میں ملک میں چرچ کو اس وبا کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں چھ ہزار لوگ متاثر ہوئے تھے۔

      سیول کے میئر کا کہنا ہے کہ اس وائرس کی دوسری لہر کے خدشے کے پیش نظر وہ اس صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

      اس وقت حکام ہسپتالوں میں مزید عملے اور بیڈز کی دستیابی کو یقینی بنا رہے ہیں۔

    • نیوزی لینڈ نے بحری جہازوں کی آمد پر عائد پابندی میں توسیع کر دی

      re

      ،تصویر کا ذریعہReuters

      نیوزی لینڈ نے پیر کو بحری جہازوں کی ملک آمد پرعائد پابندی میں توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

      نیوزی لینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین باقی نہیں بچے مگر باہر سے ایسے افراد ملک میں آرہے ہیں، جن سے اس وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔

      بحری جہازوں پر پابندی 30 جون تک عائد تھی مگر اب نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسنڈا آرڈرن نے ایک نیوز کانفرنس میں اس میں مزید توسیع کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔

    • تھائی لینڈ: گذشتہ 28 دنوں میں مقامی طور پر منتقلی کا ایک بھی مریض رپورٹ نہیں ہوا, انڈیا سے آنے والے تین نئے متاثرین رپورٹ

      re

      ،تصویر کا ذریعہReuters

      تھائی لینڈ میں پیر کو کورونا وائرس کے تین نئے متاثرین رپورٹ ہوئے، یہ تینوں افراد انڈیا سے سفر کرکے پہنچے تھے۔

      تھائی لینڈ میں گذشتہ 28 دنوں سے مقامی طور پر منتقلی کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

      حکام کے مطابق یہ تینوں نئے متاثرین تھائی باشندے تھے جو انڈیا سے لوٹ رہے تھے۔

      تھائی لینڈ میں اب تک کووڈ 19 سے 58 اموات ہوئی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 3151 ہے جن میں سے 3022 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

      حکام کا کہنا ہے کہ وہ تھائی لینڈ سے جلاوطن ہونے والے ان 23 تارکین وطن سے متعلق میانمار انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

    • کورونا وائرس: کورونا انسانی جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے

      گشگد

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      چین سے شروع ہو کر دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیلنے والے کورونا وائرس کے انفیکشن سے لڑنے والے ڈاکٹروں کی لڑائی ایسی ہے جیسے وہ کسی نامعلوم دشمن کے خلاف لڑ رہے ہوں۔

      یہ آپ کے جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے؟ انفیکشن کے بعد انسانی جسم میں کس قسم کی علامات پیداہوتی ہیں؟

      کن لوگوں کے لیے شدید بیمار ہونے یا مرنے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں؟ اور آپ اس کا علاج کس طرح کریں گے؟

      چین کے شہر ووہان کے جنینٹان ہسپتال میں اس وبائی مرض کا علاج کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم نے اب ان سوالات کے جوابات دینا شروع کردیئے ہیں۔

      کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے پہلے 99 مریضوں کے علاج سے متعلق مفصل رپورٹ لانسیٹ میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

    • انڈیا میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد چار لاکھ سے بڑھ گئی

      re

      ،تصویر کا ذریعہReuters

      اتوار کو انڈیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ 15000 سے زائد نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرین کی کل تعداد 410،461 ہو گئی ہے۔

      جان پاپکنز یونیورسٹی کے مطابق انڈیا میں ایک دن میں 15 ہزار سے زائد متاثرین کی یہ تعداد ابھی تک ملک میں یومیہ متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔

      انڈیا میں اس وائرس سے ابھی تک 13،254 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

      امریکہ، برازیل اور روس کے بعد چوتھے نمبر پر انڈیا میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ بنتی ہے۔

      انڈیا نے دو ہفتے پہلے لاک ڈاؤن میں نرمی لائی جس کے بعد سے متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا میں مون سون کے موسم میں، جو جولائی اور ستمبر کا دورانیہ بنتا ہے، یہ وائرس اپنی انتہا پر ہو گا۔

      انڈیا کے دارالحکومت دلی اور ممبئی جیسے گنجان آباد شہروں میں تو اس وائرس نے ابھی سے کئی ہزار لوگوں کو متاثر کیا ہے اور پہلے سے خراب صحت کے نظام کو بھی بے نقاب کیا ہے۔

      ہسپتالوں میں بیڈز اور دیگر سہولیات کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو واپس بھیجے جانے والی خبریں کئی ہفتوں سے انڈیا میں بے چینی اور خوف کی فضا پیدا کیے ہوئے ہیں۔

    • کن ممالک میں کووڈ 19 متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے؟

      لاطینی امریکہ کورونا وائرس متاثرین کا نیا مرکز ہے لیکن انڈیا اور پاکستان میں بھی مصدقہ متاثرین تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

      کن ممالک میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کی وضاحت کے لیے نیچے دیے گئے چار گراف دیکھیے جن میں یومیہ متاثرین کی تعداد بتائی گئی ہے۔

      sfs
    • گھر بیٹھے اپنے لعاب سے کورونا وائرس ٹیسٹ کیسے کیا جا سکتا ہے؟

      کورونا

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      برطانیہ میں کورونا وائرس سے متعلق ایک ایسے ٹیسٹ کا تجربہ کیا جا رہا ہے جس سے لوگ گھر بیٹھے اپنے لعاب پر ٹیسٹ کرنے سے یہ جان سکیں گے کہ وہ اس وائرس سے متاثر تو نہیں ہیں۔

      اس ٹیسٹ کے لیے سواب جیسے طریقے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

      اس ٹرائل میں 14 ہزار سے زائد افراد سمیت ضروری خدمات سرانجام دینے والے ورکرز اور ان کے ساتھ رہنے والے لوگ شامل ہوں گے۔

      ساؤتھ ہمپٹن یونیورسٹی کا یہ تجربہ چار ہفتوں تک جاری رہے گا اور ماہرین کو امید ہے کہ لعاب سے ٹیسٹ کرنے کا طریقہ لوگوں کے لیے بہت آسانی پیدا کرے گا۔ سواب کا طریقہ قدرے تکلیف دہ ہے اور اسے ناک یا گلے میں اندر تک لے جانا پڑتا ہے۔

      اس تجرے میں شامل یونیورسٹی کےعملے کے کچھ افراد اپنے ہفتے بھر کے لعاب کے نمونے لیب کو مہیا کریں گے۔

      ماہرین کے خیال میں اس طریقے سے ایک گھنٹے کے اندر ٹیسٹ کے نتائج گھر بیٹھے حاصل کیے جا سکیں گے۔ اس وقت سواب کے طریقے سے کورونا وائرس کے ٹیسٹ پر خاصا وقت صرف ہو جاتا ہے۔

    • لاک ڈاؤن کے ذہنی صحت پر منفی اثرات اور ان کا حل

      کورونا کے خلاف جاری جنگ میں سماجی دوری اور سیلف آئسولیشن واحد ہتھیار ہیں جنھیں نافذ کرنے کے لیے دنیا کے اکثر ملکوں میں لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔لیکن لاک ڈاؤن ہماری ذہنی صحت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل سے کیسے نمٹا جائے، جانیے ماہرِ نفسیات عطیہ نقوی سے ہمارے ساتھی کریم الاسلام کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

    • عالمی سطح پر کووڈ 19 متاثرین کی یومیہ تعداد میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ

      rte

      ،تصویر کا ذریعہReuters

      عالمی ادارہ صحت کے مطابق اتوار کے روز عالمی سطح پر کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور 24 گھنٹوں میں 183،020 متاثرین رپورٹ ہوئے۔

      گذشتہ روز رپورٹ ہونے والے متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد شمالی اور جنوبی امریکہ سے سامنے آئی ہے جس میں 116،000 سے زیادہ نئے متاثرین ہیں۔

      عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں اب تک 89 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ 68 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

      یاد رہے اس سے قبل سب سے زیادہ متاثرین 18 جون کو رپورٹ ہوئے تھے جن کی تعداد 181,232 تھی۔

    • جرمنی میں کورونا وائرس سے متاثرہ 537 نئے مریض، مزید تین اموات

      رع

      ،تصویر کا ذریعہReuters

      جرمنی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 537 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

      پیر کے روز متعدی بیماریوں کے رابرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ (آر کے آئی) کے اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں مصدقہ متاثرین کی تعداد بڑھ کر 190،359 ہوگئی ہے۔

      جرمنی میں کورونا وائرس سے مزید تین اموات ہوئیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 8885 تک جا پہنچی ہے۔

    • کورونا وائرس: پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4471 نئے متاثرین، 89 اموات

      sdd

      پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 4471 نئے متاثرین کا اضافہ ہوا جبکہ اس عالمی وبا سے مزید 89 اموات ہوئی ہیں۔

      اس طرح ملک میں کووڈ 19 کے کل متاثرین کی تعداد 181,088 اور کل اموات کی تعداد 3590 ہوگئی ہے۔

      نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق سب سے زیادہ 1435 اموات صوبہ پنجاب میں ہوئی ہیں جبکہ سب سے زیادہ 69,628 متاثرین صوبہ سندھ میں ہیں۔

      اب تک ملک میں کورونا سے 71,458 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    • برازیل میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی

      jhvf

      ،تصویر کا ذریعہReuters

      امریکہ کے بعد برازیل دنیا میں کورونا وائرس سے دوسرا متاثرہ ترین ملک بن گیا ہے جہاں اموات کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

      جمعے کے روز ملک میں 10 لاکھ سے زیادہ کووڈ 19 متاثرین کی تصدیق کی گئی تھی۔

      ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ برازیل میں وبا کے عروج میں ابھی ہفتوں باقی ہیں۔

      عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یومیہ متاثرین کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے اور زیادہ تر نئے انفیکشن کا تعلق امریکہ سے ہے۔

      ایجنسی کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 183،000 نئے متاثرین رپورٹ ہوئے جن میں 60 فیصد سے زیادہ کا تعلق شمالی اور جنوبی امریکہ سے ہے۔

    • کورونا وائرس: 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟

      کھرنڈ پیس کر مریضوں کی ناک میں چڑھانا یا زخم کی پس تندرست فرد کو لگانا سننے میں تو بہت عجیب لگتا ہے لیکن ویکسین کی تیاری کی تاریخ میں ان دونوں اعمال کا بہت اہم کردار ہے۔جانیے ویکسین کی ایک ہزار سال قدیم تاریخ بی بی سی کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔