پنجاب میں 1228 نئے متاثرین، ’سال کے آخر تک کورونا ویکسین تیار ہونے کی امید‘

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 90 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے ڈائریکٹر آف دی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایلرجی اینڈ انفیکشیئس ڈیزیزز ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی نے منگل کو کہا کہ وہ بڑے محتاط ہو کر یہ امید کرتے ہیں کہ 2020 کے آخر تک ویکسین تیار ہو جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, جرمنی میں ایک خطے کی حکومت نے لاک ڈاؤن دوبارہ نافذ کر دیا, ڈیمیئن مک گینیز، بی بی سی نیوز برلن

    شمالی رہین ویسٹ فیلیا میں حکومت کے سربراہ آرمین لیشیٹ نے اعلان کیا ہے کہ ضلع گیوٹرسلا میں لاک ڈاؤن کا دوبارہ نفاذ کیا جا رہا ہے کیونکہ ٹونیز کے ذبح خانے سے وائرس کا پھیلاؤ ہوا تھا۔

    اب تک اس ذبح خانے کے 1553 ملازمین میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اس ضلع میں تین لاکھ 60 ہزار افراد آباد ہیں۔

    لاک ڈاؤن کے بعد یہاں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے حوالے سے لیے جانے والے اقدامات مارچ جیسے ہو جائیں گے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ضلع میں لوگ صرف اپنے خاندان کے افراد کے ملاقات کر سکیں گے۔ موسیقی کی محفلیں، سینما، میوزم اور گیلریز بند کر دی جائیں گی۔ پکنک اور اس طرح کی دیگر نجی تقریبات پر بھی پابندی ہو گی۔

    ریستوران اور کیفے بھی بند رہیں گے جبکہ ٹونیز میں کام کرنے والے سات ہزار ملازمین کے لیے قرنطینہ میں رہنا لازمی ہو گا۔

    حکام کھانے پینے کی اشیا پہنچا رہے ہیں جبکہ پولیس اس حوالے سے اقدامات لے رہی ہے۔

  2. ایمبولینس چلا کر لوگوں کی جانیں بچانے والی پاکستانی خاتون

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    اسلام آباد کے نواحی علاقے پنڈ بگوال کی رہائشی نازیہ تنویر نے بطور مڈ وائف (دائی) کئی سال کام کرنے کے بعد کچھ بڑا کر دکھانے کی ٹھانی۔

    گاڑی چلانے کے شوق اور انسانوں کی خدمت کرنے کے جذبے نے انھیں ایمبولینس ڈرائیور بنا دیا۔ آئیے ان کی کہانی ان کی زبانی سنتے ہیں کومل فاروق اور نیئر عباس کی اس ویڈیو میں۔۔۔

  3. بریکنگ, میکسیکو: ایک ساتھ پیدا ہونے والے تین بچوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کا ’بے مثال‘ کیس

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شمالی امریکہ کے ملک میکسیکو میں صحت کے حکام کے مطابق ایک ساتھ پیدا ہونے والے تین نوزائیدہ بچوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کا ’بے مثال‘ کیس سامنے آیا ہے۔

    طبی ماہرین اس حوالے سے تحقیق کر رہے ہیں کہ کیا یہ بیماری ان بچوں میں حمل کے دوران ان کی ماں کی نال کے ذریعے منتقل ہوئی ہے۔۔

    ان تین بچوں میں سے دو، ایک لڑکا اور لڑکی کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ ریاست سین لوئی پوٹوسی کے ایک ہسپتال میں داخل ہیں۔

    تاہم دوسرے لڑکے کا سانس کے عارضے کے حوالے سے علاج کیا جا رہا ہے۔

    سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس کیس کے ذریعے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ وائرس کیسے پھیلتا ہے۔

    ریاست کے طبی حفاظت کی کمیٹی کے ترجمان کے مطابق وائرس کی تین بچوں میں پیدائش کے بعد تصدیق اس سے قبل دنیا میں کہیں بھی نہیں دیکھی گئی اس لیے اس کیس کی تحقیق کی جائے گی۔

    اب تک بہت کم نوزائیدہ بچوں میں پیدائش کے بعد وائرس کی منتقلی ہوئی ہے اور صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک اس کیس میں ایسا نہیں ہوا۔

  4. ٹیکساس کو دوبارہ بند کرنا ’آخری آپشن ہو گا‘

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی ریاست ٹیکساس میں کورونا وائرس ’ناقابل قبول شرح‘ پر پھیل رہا ہے اور گورنر نے متنبہ کیا ہے کہ اس پر قابو پانے کے لیے سخت پابندیوں کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

    سوموار کے روز گورنر گریگ ایبٹ نے ایک نیوز کانفرنس میں امید ظاہر کی کہ ’ٹیکساس کے شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کے معاش کا تحفظ بھی ممکن ہو گا۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیکساس کو دوبارہ بند کرنا ’آخری آپشن ہو گا۔‘

    گریگ ایبٹ نے بتایا کہ ٹیکساس میں روزانہ کی بنیاد پر ہسپتال میں داخل ہونے والے کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد میں مئی کے مقابلے دگنا اضافہ ہوا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ انھیں اس بات کا یقین ہے کہ اگر لوگ اپنے چہروں کو ڈھانپ لیں تو وائرس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا ’مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ماسک پہننا کوئی تکلیف ہے یا یہ آزادی کی خلاف ورزی کی طرح ہے لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ماسک پہننے سے ٹیکساس کو کھلا رکھنے میں ہمیں مدد ملے گی۔‘

  5. ہانگ کانگ: مہینوں بعد کورونا کے 30 نئے متاثرین

    بیجنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوموار کے روز ہانگ کانگ میں کورونا وائرس کے 30 نئے کیس سامنے آئے ہیں جو کہ اپریل کے بعد سامنے آنے والے سب سے زیادہ کیس ہیں۔

    ہانگ کانگ دنیا کے دوسرے بڑے شہروں کی طرح اب تک کورونا وائرس سے کافی حد تک محفوظ رہا ہے۔

    ہانگ کانگ میں اب تک کورونا وائرس سے 1161 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ منگل کے روز ایک 72 سالہ شخص کی ہلاکت کے بعد ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔

  6. ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی میں وائرس ابھی قابو سے باہر نہیں؟, سوتک بسوارس، نمائندہ بی بی سی، انڈیا

    India

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دنیا کی سب سے بڑی کچی بستی میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ایک ناممکن سی بات ہے۔ غربت کی وجہ سے بہت گنجان آباد علاقہ ہے جو اس وائرس کا پسندیدہ مسکن بن گیا ہے۔

    زرا تصور کیجیے کہ صرف 2.5 سکوائر کلومیٹر کے کچے میں پانچ لاکھ سے زائد لوگ رہ رہے ہوں۔ اس کچی بستی کی آبادی مانچسٹر بھی زیادہ ہے جبکہ یہ جتنے رقبے پر رہتے ہیں وہ لندن کے ہائیڈل پارک اور کینسنٹن گارڈن سے بھی چھوٹا ہے۔

    سو سکوائر فٹ جگہ پر آٹھ سے دن لوگ اکھٹے رہتے ہیں۔ ان میں سے 80 فیصد کمیونٹی ٹوائلٹ استعمال کرتے ہیں۔

    کچی آبادی کی تنگ و تاریک گلیوں میں یہاں ایک ہی عمارت میں گھر اور فیکٹریاں ساتھ ساتھ ہی بنی ہوئی ہیں۔ یہاں رہنے والے زیادہ تر لوگ دیہاڑی دار ہیں، جو گھروں میں کچھ نہیں پکاتے اور کھانا لانے کے لیے باہر کا رخ کرتے ہیں۔

    اہم بات یہ ہے کہ ابھی بھی دھاراوی کی بستی ممبئی، جو انڈیا کا انٹرٹینمنٹ اور معاشی گڑھ سمجھا جاتا ہے، کے درمیان واقع ہے۔ مگر ابھی تک اس کچی بستی میں کورونا وائرس قابو میں ہے۔

  7. کورونا وائرس سے متعلق بی بی سی اردو کا مُختصر دورانیے کا خصوصی بُلیٹن

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  8. جاپان میں ڈزنی لینڈ اور ڈزنی سی کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چار ماہ بند رکھنے کے بعد جاپان میں یکم جولائی سے ڈزنی لینڈ اور ڈزنی سی کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    یہاں آنے والوں کی تعداد کوکم جبکہ سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جائے گا۔ سیاحوں کے لیے ماسک پہننا بھی لازمی ہوگا۔

    جاپان کی تھیم پارک کے ایک گروپ نے نئی حفاظتی تدایبر میں سواری کے دوران زور سے چلانے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

  9. ذبح خانے سے وائرس کے پھیلاؤ کے بعد جرمنی کا مقامی لاک ڈاؤن پر غور

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جرمنی میں کچھ علاقوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ اس ذبح خانے کو قرار دیا جا رہا ہے، جس سے جرمنی میں اب اوسطاً تقریباً تین افراد اس وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    جرمنی کے کے ایک گوشت کے پلانٹ سے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے جیٹرسلوہ علاقے میں 7،000 ملازمین میں سے 1،500 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    علاقے میں تمام سکولوں کو بند کر دیا گئے ہیں۔ تمام سات ہزار افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ اب صورتحال پر قابو پانے کے لیے صحت کے حکام مزید اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں۔

    اس پلانٹ کے بارے میں جرمنی کے میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکتا تھا مگر ایسا ممکن نہ بنایا جا سکا۔

  10. ہمیں عیدالاضحیٰ کی حوالے سے واضح حکمتِ عملی وضع کرنی ہو گی: عارف علوی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ اب ہمیں عید الاضحیٰ کے حوالے سے حکمتِ عملی وضع کرنی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے مروجہ قوانین لوگوں کے لیے کے لیے واضع کر دینے چاہییں تاکہ کسی قسم کا ابہام نہ رہے۔

    انھوں نے کہا کہ کہ اس حوالے سے ماسک، سماجی دوری، آن لائن قربانی جیسی چیزوں کے بارے میں واضح اصول وضع کرنے ہوں گے۔

  11. ڈیکسامیتھازون دوا کن مریضوں کو دی جائے گی؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    ڈیکسا میتھازون دوا کن مریضوں کو اور کن حالات میں دی جائے گی ۔

    اس بارے میں ہماری ساتھی عالیہ نازکی نے این ایچ ایس لندن سے وابستہ ماہر امراض تنفس ڈاکٹر سلیم انور سے بات کی۔ انھوں نے کیا کہا جانتے ہیں اس پوڈکاسٹ میں۔

  12. اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا طبی عملے کا شکریہ

    اقوامِ متحدہ کے سکیریٹری جنرل انتونیو گوترس نے کورونا وائرس کے خلاف صف اول میں رہ کر کردار ادا کرنے پر طبی عملے کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے بہت سے افراد خطرناک صورتحال میں کام کرتے ہیں اور کچھ اس دوران اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔

    انھوں نے ضروری خدمات انجام دینے والے عملے کی حفاظت، بہتری اور فلاح پر توجہ مرکوز دینے پر زور دیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. ’امریکہ میں ہلاکتیں چالیس لاکھ تک ہو سکتی تھیں‘

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 120،000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار یا اس سے زائد ہو سکتی ہے۔

    سپیکٹرم ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے مزید بتایا کہ اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جاتیں تو اس وائرس سے امریکہ میں چالیس لاکھ تک ہلاکتیں ہو سکتی تھیں۔

    16 مارچ کو سامنے آنےوالی امپریل کالج لندن کی ایک تحقیق کے مطابق حفاظتی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو امریکہ میں اس وائرس سے 22 لاکھ افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔

    اگرچہ اس وقت امریکہ میں متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے مگر امریکہ کی 23 ریاستوں میں جن میں کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا بھی شامل ہیں یہ وائرس مزید پھیل رہا ہے۔

  14. کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور جہاں اس سے 200 سے زیادہ ممالک میں 25 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں وہیں ہلاکتوں کی تعداد بھی ایک لاکھ 71 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔

    دنیا بھر کی حکومتوں نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مختلف طریقوں سے اپنا ردِعمل ظاہر کیا ہے اور عالمی ادارۂ صحت نے جن چیزوں کو اس کوشش میں سب سے اہم قرار دیا ہے ان میں سے ایک اس بیماری کی تشخیص کے لیے زیادہ سے زیادہ افراد کی ٹیسٹنگ کا عمل ہے۔

    دنیا میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کا عمل مختلف ممالک میں مختلف رفتار سے جاری ہے۔ امریکہ میں جہاں ابتدا میں اس عمل میں سست رفتاری دکھائی دی وہ اب دنیا میں سب سے متاثرہ ملک بن چکا ہے اور اب وہاں ٹیسٹنگ کے عمل میں تیزی آئی ہے۔

  15. جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کی ’دوسری لہر‘ کے دوران 46 نئے مریض

    virus

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی کوریا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 46 نئے مریض سامنے آئے ہیں اور حکام کے مطابق یہ وائرس کی ’دوسری لہر‘ ہے۔ ان 46 میں سے 30 افراد بیرونِ ملک سے سفر کر کے آئے تھے۔

    گذشتہ روز حکام نے کہا تھا کہ ملک میں پہلی لہر کا اختتام اپریل میں ہو گیا تھا اور اس کے بعد سے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    تاہم اب بھی ملک میں بین الاقوامی معیار کے مطابق نئے مریضوں کی تعداد خاصی کم ہے۔

    گذشتہ ایک ماہ کے دوران ملک میں یومیہ 35 سے 50 نئے مریض سامنے آ رہے ہیں۔

  16. کورونا وائرس: امریکہ میں اموات ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ

    virus

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ کووڈ 19 سے مزید 425 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد ملک میں وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    امریکہ اب تک کووڈ 19 سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے اور یہاں اموات کی کل تعداد برازیل سے دگنی ہے جو دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    اخبار نیویارک ٹائمز کے اعداد و شمار کے مطابق جہاں امریکہ کی چند ریاستوں میں نئے مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے وہیں 23 ریاستوں میں اس تعداد میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

    ریاست کیلی فورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا میں کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔

  17. بریکنگ, بیجنگ میں کورونا وائرس کے مزید 13 نئے مریض

    virus

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین کے دارالحکومت بیجنگ میں مزید 13 نئے کیسز کی تصدیق کے بعد اب یہاں وائرس کی دوسری لہر میں سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 249 ہو گئی ہے۔

    شہر میں اس سے قبل 57 دن لگاتار وائرس کی مقامی منتقلی سے کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا تاہم رواں ماہ کے آغاز میں ایک کھانے پینے کی اشیا کی ایک بڑی مارکیٹ سے منسلک نئے کیسز سامنے آئے تھے۔

    اس کے ردِ عمل میں شہر کے 27 علاقوں میں سے لوگوں کو شہر نہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی جبکہ باقی افراد کو منفی ٹیسٹ کی صورت میں ہی شہر سے باہر نکلنے کی اجازت تھی۔

    چین بھر میں منگل کے روز 22 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

  18. عالمی ادارہ صحت: وائرس سے زیادہ بڑا خطرہ یکجہتی کا فقدان ہے

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس غیبرسز نے کہا ہے کہ اس وقت ہمیں وائرس سے زیادہ بڑا خطرہ عالمی طور پر یکجہتی اور لیڈرشپ کے فقدان کا ہے۔

    ایک ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم تقسیم ہو کر اس وائرس کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے امریکی رہنما نے کہا تھا کہ وہ اس ادارے کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر دیں گے۔ خیال رہے کہ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ عالمی ادارہ صحت کو امداد دیتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عالمی ادارہ صحت مکمل طور پر چین کے زیر اثر ہے۔

  19. کیا آسٹریلیا کورونا وائرس کی نئی لہر کی زد میں ہے

    corona

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    دنیا میں آسٹریلیا کی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے کامیاب حکمت عملی کی مثالیں دی جاتی تھیں۔

    آسٹریلیا کی طرف سے لاک ڈاؤن کے نفاذ، سرحدوں کی بندش اور دیگر سخت اقدامات کی وجہ سے یہ وائرس ملک میں جڑیں مضبوط نہ کر سکا۔

    آسٹریلیا میں اس وائرس کے صرف 7,400 مریض سامنے آئے جبکہ 102 افراد کووڈ-19 سے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ آخری ہلاکت ایک ماہ پہلے ہوئی تھی۔

    اس وائرس کا پھیلاؤ میں کمی دیکھ کر مئی سے آسٹریلیا نے لاک ڈاؤن میں نرمیاں پیدا کرنی شروع کر دیں تھیں۔

    تاہم گذشتہ ہفتے وکٹوریا میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ دیکھنے میں آیا۔ میلبورن میں وائرس کی اس نئی لہر سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ بنتی ہے۔

    اس تازہ لہر سے ایک بار پھر خدشات میں اضافہ ہونا شروع ہوا، جس کی وجہ سے اب لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ وقتی ہے یا پھر اس وائرس کا مزید پھیلاؤ بھی ممکن ہے۔

  20. برطانیہ میں سینما اور میوزیم چار جولائی سے کھل جائیں گے

    بورس جانسن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا منگل کو ملک میں چار جولائی سے سینما، میوزیم اور گیلرییز کے دوبارہ کھلنے سے متعلق اعلان متوقع ہے۔

    وہ لاک ڈاؤن سے متعلق کی گئی مزید نرمیوں کی تفصیلات بتائیں گے۔ برطانیہ میں مارچ میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد یہ تمام جگہیں بند کر دی گئی تھیں، جہاں اب دوبارہ لوگ آ سکیں گے۔

    وزیر اعظم اپنے اعلان میں یہ بھی بتائیں گے کہ برطانیہ میں دو میٹر کی سماجی دوری برقرار رکھتے ہوئے پب کو کیسے کھولا جائے گا۔

    برطانیہ کے وزیر صحت میٹ ہانکاک نے پیر کو کہا ہے کہ یہ وائرس ملک میں واپس لوٹ کر آ رہا ہے۔

    وزیر صحت نے کہنا تھا کے برطانیہ اب واضح طور پر لاک ڈاؤن میں نرمی پیدا کر رہا ہے مگر انھوں نے واضح کیا کہ اگر اس سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا تو پھر لاک ڈاؤن جیسے اقدامات اٹھانے پر سکتے ہیں۔

    برطانیہ میں اتوار کو ایک ہزار سے کم افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو کہ مارچ سے اب تک سب سے کم تعداد بنتی ہے جبکہ ہسپتالوں میں اس وقت پانچ ہزار سے کم مریض رہ گئے ہیں۔

    برطانیہ میں اس وائرس سے یومیہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پندرہ تک آگئی ہے۔