لاک ڈاؤن سے ہمارا وزن بڑھ رہا ہے، ملایشیائی عوام کی شکایت
ملائیشیا میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران وزن میں اضافے کی شکایات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ ملائیشیا میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے مارچ کے وسط میں ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا۔
کوالالمپور کے دی سٹار نے لکھا ہے کہ اس خبر میں کوئی حیرت والی بات نہیں ’بہت سے افراد گھر بیٹھے بیٹھے جسمانی طور پر کم متحرک ہو گئے ہیں اور کوئی ورزش بھی نہیں کر رہے۔‘
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’بعض افراد نے اپنے دوستوں کی طرف سے تنقید سے بچنے کے لیے حالیہ تصاویر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
کورونا وائرس کی وبا سے پہلے ہی ملائیشیا میں موٹاپے کو صحت کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔ ورلڈ پاپولیشن ریویو 2019 کے مطابق جنوبی مشرقی ایشیا کی آبادی میں ملائیشیا کے بالغ افراد میں سب سے زیادہ موٹاپا پایا جاتا ہے جس کی شرح 15.6 فیصد ہے۔
نیشنل ہیلتھ اینڈ موربیڈیٹی سروے (این ایچ ایم ایس) 2019 کے نتائج کے مطابق ملائشیا میں 50.1 فیصد بالغ افراد کا یا تو وزن زیادہ ہے یا وہ فربہ ہیں جبکہ 30.4 فیصد افراد کا وزن زیادہ ہے اور 19.7 فیصد فربہ ہیں۔