پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جس طرح صوبوں میں لاک ڈاؤن ہوا ہے اگر مجھ سے کوئی پوچھتا تو میں کبھی ایسا لاک ڈاؤن نہ ہونے دیتا۔
انھوں نے کہا ’انڈیا جیسا لاک ڈاؤن مجھ سے توقع کر رہے تھے مگر خدا کا شکر ہے کہ میں نے ایسے اقدامات کی مخالفت کی۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ یورپ جیسے لاک ڈاؤن کا یہاں پر نفاذ نہیں کیا جا سکتا ہے۔
’یورپ اور ووہان شہر سے ہمارے حالات مختلف ہیں۔ یہاں بہت غربت ہے۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہوتے ہیں۔‘
وزیر اعطم کا کہنا ہے کہ جو لوگ احساس پروگرام پر پورا نہیں اترتے تھے انھیں بے روزگاری اور دوسرے چیلنجز کا سامنا ہے تو پھر ان کی مدد وزیر اعظم ریلیف فنڈ سے کی جائے گی۔
عمران خان نے احساس پروگرام کے تحت مستحق لوگوں تک مدد پہنچانے پر اپنی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر عاطف خان کی خصوصی تعریف کی۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کی وجہ سے ہمارے حالات انڈیا سے بہتر ہیں، دوسری وجہ یہ کہ ہم نے انڈیا کے وزیر اعظم مودی کی طرح کرفیو نہیں لگنے دیا۔
ان کے مطابق اگلے سال کیسے کاروبار اور دیگر امور سر انجام دیے جائیں اس حوالے سے ہم آگاہی پیدا کریں گے۔ 'اس حوالے سے ٹائیگرفورس کا کردار اہم ہو گا۔‘
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ریلیف فنڈ کو شفاف رکھیں گے، مکمل حساب دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 12 ہزار روپے کی جو مدد مستحقین تک پہنچا رہے ہیں اس کی مکمل لسٹ شائع کریں گے کہ جس سے پتا چل سکے کہ کس شہر میں کتنے پیسے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق احساس پروگرام سب سے شفاف ہے، اس میں سیاسی پہلو شامل نہیں ہے۔
انھوں نے ڈونرز سے احساس پروگرام، وزیر اعظم ریلیف فنڈ اور پناہ گاہوں کے قیام کے لیے مزید مدد دینے کی اپیل بھی کی ہے۔
ان کے مطابق یہ جو پناہ گاہیں ان میں شفافیت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے وزرا کو کہتا ہوں کہ پناہ گاہ میں جا کر لوگوں سے کھانا کھائیں تاکہ انھیں پتا چلے کہ لوگ ادھر کیوں رہ رہے ہیں۔