آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پنجاب میں 1228 نئے متاثرین، ’سال کے آخر تک کورونا ویکسین تیار ہونے کی امید‘

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 90 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے ڈائریکٹر آف دی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایلرجی اینڈ انفیکشیئس ڈیزیزز ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی نے منگل کو کہا کہ وہ بڑے محتاط ہو کر یہ امید کرتے ہیں کہ 2020 کے آخر تک ویکسین تیار ہو جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. فرانس: بچے واپس سکولوں میں

    تین ماہ سے زیادہ گھروں میں رہنے کے بعد لاکھوں فرانسیسی بچے آج سکولوں کو واپس گئے ہیں۔

    15 سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے سکولوں کو کھولا گیا ہے۔ یہ بتدریج چیزوں کو کھولنے کے عمل کا ایک حصہ ہے۔

    سکولوں کو 16 مارچ کو بند کر دیا گیا تھا۔ اس سے ایک دن بعد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فرانس میں لاک ڈاؤن لگا دیا گیا تھا۔

    نیس کے شہر میں ایک خاتون، نومیئی، نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جب اسے بتایا گیا کہ اس کے دو بچے فل ٹائم سکول جا سکیں گے تو ’اس کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو آ گئے۔‘

  2. بیجنگ کے ’مریض زیرو‘ کی آن لائن پہ تعریف, کیری ایلن، بی بی سی مانیٹرنگ

    چین میں کووڈ۔19 کی دوسری لہر کی تشویش کے باوجود، میڈیا انٹرنیٹ صارفین کو کہہ رہا ہے کہ وہ بیجنگ کے اس 52 سالہ شخص کی تعریف کریں، جسے پیار سے ’انکل شیچینگ‘ کہا جا رہا ہے۔

    چینی زبان میں ’انکل‘ پیار کے لیے ایک عام اصطلاح ہے، جبکہ ’شیچینگ‘ اس ڈسٹرکٹ کا نام ہے جہاں وہ رہتے ہیں۔ ٹینگ نامی شخص میں 11 جون کو کووڈ۔19 کی تشخیص ہوئی اور وہ اس وبا سے متاثر ہونے والے 236 مریضوں میں پہلے نمبر پر ہیں جو اس کا شکار ہوئے۔

    آج لوگ ’انکل شیچینگ‘ کا فوٹیج مقامی بیجنگ ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا کے صارفین کی ان کی صحت کے متعلق تشویش پر ہسپتال کے بسترسے شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا: ’میں اس وقت مستحکم حالت میں ہوں، اور یقیناً وائرس سے لڑوں گا۔‘

    جمعہ کو سرکاری اخبار چائنا ڈیلی نے لکھا کہ مسٹر ٹینگ کی اس لیے بڑے پیمانے پر پذیرائی ہو رہی ہے کیونکہ ’ان کی (اچھی) یاداشت کی وجہ سے انھوں نے انفیکشن کے ذریعے تک پہنچانے میں بہت کردار ادا کیا ہے۔‘

    جس ہسپتال میں ان کا علاج ہو رہا ہے وہاں بھی ڈاکٹر ان کی ماسک پہننے اور موٹر سائیکل پر ہسپتال آنے کی وجہ سے تعریف کرتے ہیں۔ ان کی ان عادات کی وجہ سے ان سے رابطے میں آنے والے دوسرے لوگ اس وائرس سے محفوظ ہیں۔

    میڈیا میں امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مسٹر ٹینگ کے ردِ عمل اور وائرس کے متعلق کھل کر بولنے سے لوگ اپنی علامات چھپانے سے گریز نہیں کریں گے اور نہ ہی شرمندہ ہوں گے کہ ان کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔‘

  3. عالمی ادارہ صحت: 'عالمی سطح پر وبا کے حوالے سے قیادت کی کمی موجود ہے'

    عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر وبا کے حوالے سے قیادت کی کمی موجود ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم غیبریسیئس نے ایک اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘دنیا کو اس وقت قومی اتحاد اور عالمی یکجہتی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ وبا کے اوپر سیاست نے اس ضرورت کو مزید شدید کر دیا ہے۔’

    انھوں نے کہا کہ ‘اس وقت ہمیں جو سب سے بڑا خطرہ ہے وہ وائرس نہیں بلکہ عالمی یکجہتی اور عالمی قیادت کی کمی ہے۔’

    یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ابھی تک وبا پھیل رہی ہے اور یہ کہ اس کے معاشی و دیگر اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

    اب تک کورونا وائرس سے دنیا بھر میں 90 لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوچکے ہیں اور تقریباً چار لاکھ 70 ہزار کے قریب لوگ اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

  4. بنگلہ دیش میں دو نئے فیلڈ ہسپتال قائم کیے جائیں گے

    ہلالِ احمر و صلیبِ احمر تنظیموں کی بین الاقوامی فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے علاقے کوکسز بازار میں دو نئے فیلڈ ہسپتال قائم کرے گی تاکہ وہاں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں ‘تشویشناک اضافے’کو روکا جا سکے۔

    اس علاقے میں کئی پناہ گزین کیمپ قائم ہیں جہاں میانمار میں نسل کشی سے فرار ہونے والے تقریباً دس لاکھ روہنگیا مسلمان بستے ہیں۔

    فیلڈ ہسپتالوں میں پناہ گزینوں کے علاوہ مقامی افراد کا بھی علاج کیا جائے گا۔

    اب تک کوکسز بازار کے علاقے میں 1500 سے زائد متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے جس میں 37 کیمپوں میں تھے۔ مگر یہاں ٹیسٹنگ محدود ہے اور کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کئی متاثرین کی اب تک تشخیص نہیں ہوئی ہوگی۔

    بنگلہ دیش میں اب تک ایک لاکھ 15 ہزار 786 متاثرین اور 1502 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پیر کے روز حکام نے 3480 متاثرین اور 38 اموات کی تصدیق کی۔

  5. جرمنی: قرنطینہ بنائے گئے ٹاور بلاک میں پولیس اور رہائشیوں میں جھڑپیں

    سنیچرکو جرمنی کے شہر گوٹنجن کے ایک قرنطینہ بنائے گئے ٹاور بلاک میں تشدد شروع ہونے کے بعد وہاں پولیس کی مزید نفری بھیجنی پڑی۔

    اس بلاک میں تقریباً 700 کے قریب افراد کو قرنطینہ میں رکھا ہوا ہے اور جب ان میں سے 200 کے قریب افراد نے عمارت سے باہر نکلنے کی کوشش تو پولیس کے روکنے پر وہاں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

    رہائشیوں نے پولیس پر آتش بازی ، بوتلوں اور دھات کے راڈز سے حملے کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں کے پیچھے پیغام نہ سمجھنے کا مسئلہ تھا۔ رہائشیوں کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ٹاور بلاک سے باہر جانے سے پہلے ان کا دوسرا ٹیسٹ ہونا لازمی ہے۔

    یہاں قرنطینہ جمعرات کو لگایا گیا تھا جب دو رہائشیوں کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا تھا۔ لیکن خیال ہے کہ بہت زیادہ دوسرے بھی وائرس سے متاثر ہیں۔

  6. کورونا: پشاور کے مزید تین علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

    خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کورونا وائرس پھیلاؤ کے خدشات کے پیشِ نظر مزید تین علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن بشیرآباد، پلوسئی اور فیز 6 حیات آباد کے علاقوں میں لگایا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ان علاقوں سے داخلہ اور اخراج بند رہے گا تاہم ضروری چیزیں مثلاً اشیائے خورد و نوش کی دکانیں، میڈیکل سٹور، تندور اور ہنگامی خدمات اپنا کام جاری رکھیں گی۔

    حکام نے بتایا ہے کہ ان علاقوں میں کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے متاثرین کی وجہ سے سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے۔

  7. نیو یارکرز باہر کھانا کھانے کے لیے تیار

    نیو یارک کورونا وائرس کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں ختم کرنے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ وہ متعدد سہولیات کو کھولنے اور پابندیاں نرک کرنے کے اپنے چار مرحلوں کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

    تین مہینوں میں پہلی مرتبہ نیو یارک کے شہری باہر جا کر کھانا کھا سکیں گے۔ گو کہ ابھی بھی وہ یہ کام ہوٹل کے اندر نہیں بلکہ باہر لگے ہوئے میزوں پر کر سکیں گے۔ وہ شہر کے کچھ اہم سٹورز پر بھی شاپنگ کر سکیں گے۔ کھیل کے میدان اور ہیئر سیلون وغیرہ بھی کھل رہے ہیں۔

    ورکرز بھی اپنے آفس کی عمارتوں میں کام پر واپس آ سکیں گے، جس میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملازمین بھی شامل ہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ ابھی بھی کچھ لوگ کام پر واپس نہ آنے کو ترجیح دیں۔ ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سے تین لاکھ مزید ورکرز کام پر واپس آئیں گے۔

    کورونا وائرس کی وبا کے دوران نیو یارک سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک تھا، جہاں چار لاکھ متاثرین رپورٹ کیے گئے تھے۔

  8. لیاقت شاہوانی: کورونا کے لیے بلوچستان کے آئندہ بجٹ میں آٹھ ارب روپے مختص

    حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کورونا کے لیے آٹھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر بجٹ میں صحت کے شعبے کی جانب زیادہ توجہ دی گئی ہے۔

    کوئٹہ میں میڈیا کو کورونا کی صورتحال اور دیگر امور پر بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہر میں لوگوں کے متاثر ہونے کی شرح میں کمی آئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے یہ شرح 84 فیصد تھی لیکن اب کم ہو کر 78 فیصد ہوگئی۔

    تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کوئٹہ میں نئے متاثرین سامنے آنے کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پہلے کے مقابلے میں بلوچستان میں ٹیسٹوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔

    حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ کورونا سے اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے کی جانب زیادہ توجہ دی جارہی ہے اور پہلی مرتبہ بلوچستان کے عوام کے لیے ایئر ایمبولینس سروس بھی شروع کی جائے گی۔

    انھوں نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کو کھولنے اور اس سلسلے میں ایس او پیز کی تیاری کے لیے سیکرٹری تعلیم نے کمیٹی بنائی ہے جو جلد اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

  9. صدر ٹرمپ: ’زیادہ ٹیسٹنگ کی وجہ سے زیادہ متاثرین سامنے آئے‘

    سنیچر کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی ماہ میں اپنا پہلا انتخابی جلسہ منعقد کیا اور اس میں انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ جامع ٹیسٹنگ ایک 'دو دھاری تلوار' ہے جس کی وجہ سے امریکہ میں دنیا میں سب سے زیادہ متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    ریاست اوکلاہوما کے شہر تلسا میں منعقد کیے گئے جلسے میں انھوں نے کہا: 'جب ہم ٹیسٹنگ کرتے ہیں تو زیادہ متاثرین سامنے آتے ہیں۔ اس لیے میں نے اپنے لوگوں سے کہا کہ ٹیسٹنگ کی شرح کم کر دیں۔'

    وائٹ ہاؤس نے بعد میں کہا کہ انھوں نے بات ازراہِ مذاق کہی تھی۔

    مگر انھوں نے پیر کو اس مسئلے پر ایک مرتبہ پھر ٹویٹ کی جس میں انھوں نے کہا کہ جو ملک جتنے زیادہ ٹیسٹ کرے گا، وہاں اتنے ہی زیادہ متاثرین سامنے آئیں گے۔

    ’کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ اتنی زیادہ (ڈھائی کروڑ) اور بہت زیادہ اڈوانس بھی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے پاس زیادہ کیسز ہیں، خصوصاً دوسرے ممالک کے تناسب سے۔‘

    ’اس پر میرا پیغام بھی بالکل واضح ہے۔‘

    امریکہ میں اب تک وائرس کے 23 لاکھ متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ یہاں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

  10. شمالی وزیرستان: افغانستان کے ساتھ متصل غلام خان سرحد کھول دی گئی

    مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا اجمل وزیر نے اعلان کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں افغانستان کے ساتھ غلام خان بارڈر آج سے کھول دیا گیا ہے اور طورخم کے ساتھ ساتھ اس سرحد سے بھی بڑی مال گاڑیوں کی دوطرفہ آمد و رفت ہفتے کے چھ دن 24 گھنٹے جاری رہے گی۔

    اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا کے باعث مشکل حالات میں تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے پاک افغان بارڈر کھولا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت سے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ہفتے کا ایک دن پیدل آمد و رفت والے مسافروں کے لیے مخصوص ہوگا جن کے لیے ایس او پیز پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

    صوبے میں کورونا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں اب تک ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور صوبے میں 6536 کورونا سے متاثر مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جو کہ 'ایک خوش آئند خبر ہے۔'

    اجمل وزیر نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3416 تشخیصی ٹیسٹ ہوئے ہیں اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی پبلک ہیلتھ لیبارٹری میں اب تک سب سے زیادہ ساڑھے 65 ہزار سے زائد کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے 241 ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا رہا ہے جہاں ساڑھے پانچ ہزار سے زائد بستر ان کے لیے مہیا ہیں، جبکہ آکسیجن کی سہولت سے آراستہ بستروں کی تعداد 1375 ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا مریضوں کے لیے 343 وینٹیلیٹر مختص کیے گئے ہیں جن سے صرف 77 پر کورونا مریض موجود ہیں جبکہ صوبے میں اس وقت 805 مریض ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

  11. جنوبی کوریا کو کورونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا

    جنوبی کوریا میں صحت کے حکام کا خیال ہے کہ ملک کورونا وائرس کی دوسری لہر سے گزر رہا ہے۔

    سوموار کو حکام نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 17 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔

    یہ تعداد کم دکھائی دیتی ہے لیکن حکام کو تشویش ہے کہ ابتدائی طور پر اس وبا پر قابو پانے کے بعد اب آنے والے مہینوں میں انھیں چھوٹے کلسٹرز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    جنوبی کوریا نے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا بلکہ سماجی فاصلوں اور زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کرنے کی حکمت عملی کے ذریعے وائرس کا مقابلہ کیا۔

    جنوبی کوریا میں کورونا کا پہلا کیس 20 جنوری کو سامنے آیا تھا، جس کے بعد سے اب تک ملک میں 12 ہزار سے زیادہ کیس سامنے آئے ہیں جبکہ 280 افراد اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

  12. سپین نے سرحدیں کھول دیں، مسرتیں لوٹ آئیں

    مارچ میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگائے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد اب سپین نے اپنی سرحدیں زیادہ تر یورپی ممالک کے ساتھ کھول دی ہیں۔ اس نے ملک میں ہنگامی حالت بھی ختم کر دی ہے۔

  13. اسلام آباد کے متعدد علاقے سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے اگلے 36 گھنٹوں میں شہر کے متعدد علاقے سیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ان علاقوں میں سیکٹر جی 6 ون، جی 6 ٹو، جی 7 ٹو اور غوری ٹاؤن شامل ہیں۔

    اپنے ٹوئٹر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ان علاقوں میں گذشتہ چند دنوں میں فی علاقہ 40 سے زیادہ متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ 25 اموات ہوئی ہیں۔

    انھوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے اپنے انتظامات مکمل کر لیں۔

  14. کورونا وائرس: جاپانی کمپنی کا لعاب کا ٹیسٹ ایجاد کرنے کا دعویٰ

    اگر آپ کورونا وائرس ٹیسٹ کے مرحلے سے گزرے ہیں تو آپ کو یقیناً یہ معلوم ہوگا کہ سواب کے طریقے سے کیا جانے والا ٹیسٹ کا طریقہ اتنا خوشگوار نہیں ہے۔ اگرچہ یہ نقصان دہ نہیں ہے مگر پھر بھی کئی لوگ سواب کو اپنی ناک میں اندر تک لے جانے سے زیادہ مطمئن نہیں ہوتے۔

    تاہم اب جاپان میں محققین کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے لعاب کے ٹیسٹ کا طریقہ ایجاد کر لیا ہے، جس کا نتیجہ صرف 25 منٹ میں سامنے آجاتا ہے۔

    جاپان کی ایک میڈیکل فرم شیانوگی کا کہنا ہے کہ وہ جاپان کی یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر ٹیسٹ پر کام کر رہی ہیں اور وہ لوگوں کو گھر بیٹھے اپنا ٹیسٹ کرنے کی اجازت دیں گے۔

    برطانیہ میں اس طرح لعاب کے ٹیسٹ سے متعلق تجربہ کیا جا رہا ہے، جس میں اس وائرس کے خلاف صف اول میں کام کرنے والے عملے کے 14 ہزار سے زائد افراد شامل ہیں۔

  15. کورونا وائرس: پوپ فرانسس ’کچھ سیاسی رہنماؤں کی منافقت سے پریشان‘

    پوپ فرانسس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ کھرے پن اور کم منافقت کے اصول سے سیاست اور معاشرے کو آگے بڑھانا ہوگا۔

    کیتھولک چرچ کے سرپرست نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ وائرس امیر اور غریب کی تمیز کیے بغیر ہم سب کو متاثر کر رہا ہے اور یہ منافقت کو بھی سامنے لا رہا ہے۔

    اس انٹرویو میں پوپ کا کہنا تھا کہ وہ کچھ ایسے سیاسی رہنماؤں کی منافقت سے پریشان ہیں جو اس بحران کا مقابلہ کرنے کے بارے میں اور غربت ختم کرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن اسی دوران ہتھیار بھی بنا رہے ہیں۔

    'یہ وقت ہے کہ ہم اس طرح کی منافقت سے باہر نکل آئیں۔ یہ وقت اپنا کردار برقرار رکھنے کا ہے۔ یا تو ہم اپنے عقائد کے مطابق سب کریں یا پھر ہم سب کچھ کھو دیں۔‘

  16. بریکنگ, عمران خان: ’صوبے مجھ سے پوچھتے تو میں کبھی ایسا لاک ڈاؤن نہ ہونے دیتا‘

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جس طرح صوبوں میں لاک ڈاؤن ہوا ہے اگر مجھ سے کوئی پوچھتا تو میں کبھی ایسا لاک ڈاؤن نہ ہونے دیتا۔

    انھوں نے کہا ’انڈیا جیسا لاک ڈاؤن مجھ سے توقع کر رہے تھے مگر خدا کا شکر ہے کہ میں نے ایسے اقدامات کی مخالفت کی۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ یورپ جیسے لاک ڈاؤن کا یہاں پر نفاذ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

    ’یورپ اور ووہان شہر سے ہمارے حالات مختلف ہیں۔ یہاں بہت غربت ہے۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہوتے ہیں۔‘

    وزیر اعطم کا کہنا ہے کہ جو لوگ احساس پروگرام پر پورا نہیں اترتے تھے انھیں بے روزگاری اور دوسرے چیلنجز کا سامنا ہے تو پھر ان کی مدد وزیر اعظم ریلیف فنڈ سے کی جائے گی۔

    عمران خان نے احساس پروگرام کے تحت مستحق لوگوں تک مدد پہنچانے پر اپنی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر عاطف خان کی خصوصی تعریف کی۔

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کی وجہ سے ہمارے حالات انڈیا سے بہتر ہیں، دوسری وجہ یہ کہ ہم نے انڈیا کے وزیر اعظم مودی کی طرح کرفیو نہیں لگنے دیا۔

    ان کے مطابق اگلے سال کیسے کاروبار اور دیگر امور سر انجام دیے جائیں اس حوالے سے ہم آگاہی پیدا کریں گے۔ 'اس حوالے سے ٹائیگرفورس کا کردار اہم ہو گا۔‘

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ریلیف فنڈ کو شفاف رکھیں گے، مکمل حساب دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 12 ہزار روپے کی جو مدد مستحقین تک پہنچا رہے ہیں اس کی مکمل لسٹ شائع کریں گے کہ جس سے پتا چل سکے کہ کس شہر میں کتنے پیسے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق احساس پروگرام سب سے شفاف ہے، اس میں سیاسی پہلو شامل نہیں ہے۔

    انھوں نے ڈونرز سے احساس پروگرام، وزیر اعظم ریلیف فنڈ اور پناہ گاہوں کے قیام کے لیے مزید مدد دینے کی اپیل بھی کی ہے۔

    ان کے مطابق یہ جو پناہ گاہیں ان میں شفافیت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے وزرا کو کہتا ہوں کہ پناہ گاہ میں جا کر لوگوں سے کھانا کھائیں تاکہ انھیں پتا چلے کہ لوگ ادھر کیوں رہ رہے ہیں۔

  17. بریکنگ, پاکستان: سندھ میں کورونا کے 1464 نئے مریض، مزید 14 اموات

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کے 1464 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 71092 ہو گئی ہے۔ نئے کیسز میں سے 976 کا تعلق کراچی سے ہے۔

    مزید 14 اموات کے بعد سندھ میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1103 ہو گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں 9841 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

  18. کورونا وائرس: یہ آخری وبا نہیں ہے

    سائنسدان خبردار کرتے رہے ہیں کہ ہم نے امراض کے جنگلی حیات سے انسانوں میں منتقلی اور پھر ان کے دنیا بھر میں پھیلنے کے لیے ماحول کو سازگار بنا کر رکھا ہے۔

    قدرتی ماحول میں انسانی دخل اندازی اس عمل کو مزید تیز کر دیتی ہیں۔

    یہ نقطۂ نظر ان ماہرین صحت کا ہے جو وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔

    اپنی ان کوشش کے نتیجے میں انھوں نے نشاندہی کا ایک ایسا نظام وضع کیا ہے جو جنگلی حیات سے انسانوں کے اندر امراض کی منتقلی کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔

  19. کورونا وائرس: لندن میں گاڑیوں پر ٹیکس بڑھا دیا گیا

    کورونا وائرس کے دنوں میں وسطی لندن میں گاڑی چلانے والوں پر ٹیکس 30 فیصد بڑھا دیا گیا ہے۔

    یہ ٹیکس 11 اعشاریہ پانچ پاؤنڈز سے بڑھا کر 15 پاؤنڈز کر دیا گیا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر وصول کیا جائے گا۔ امید کی جارہی ہے کہ اس ٹیکس کا اطلاق سال بھر کے لیے کیا جائے گا۔

    اس اضافی ٹیکس کا اطلاق حکومت اور ٹرانسپورٹ فار لندن (ٹی ایف ایل) کے درمیان طے پانے والی 1.6 ارب پاؤنڈ کی بیل آؤٹ ڈیل کی شرط تھی۔

    تاہم ایمرجنسی سروسز، این ایچ ایس اور کیئر ورکرز یہ ٹیکس واپس لے سکتے ہیں۔ جن شہریوں کو اس ٹیکس میں چھوٹ چاہیے وہ یکم اگست تک درخواستیں بھی جمع کرا سکتے ہیں۔

    ٹی ایف ایل کے اعدادوشمار کے مطابق اس علاقے میں گاڑیوں کی تعداد اتنی ہی ہے جتنی کہ مارچ کے مہینے میں نافذ کیے جانے والے لاک ڈاؤن سے پہلے ہوتی تھی۔

    یہ کہا جا رہا ہے کہ جیسے ہی حکومت لاک ڈاؤن میں مزید نرمی لے کر آئے گی تو سڑکوں پر ٹریفک دوگنی ہو جائے گی۔ ایسا اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ جو لوگ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کر رہے ہیں وہ بھی خود ڈرائیو کرنے کو ترجیح دیں۔

    ٹی ایف ایل کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اتنی زیادہ گاڑیاں ہوں گی کہ پھر پیدل چلنے اور سائیکلنگ کے لیے بھی کم جگہ بچے گی اور لوگوں کے لیے سماجی فاصلہ برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

  20. کراچی کی یونیورسٹی کے انجینیئرز نے وینٹیلیٹر کا نمونہ تیار کر لیا

    کراچی کے این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے انجینیئرز نے وینٹیلیٹر کا ایک نمونہ تیار کر لیا ہے جسے جانچ پڑتال کے ابتدائی مراحل سے گزارا جا چکا ہے اور جلد وہ کلینیکل ٹرائلز کی لیے دستیاب ہو گا۔کیا یہ وینٹیلیٹر عالمی معیار کے مطابق ہے، جانتے ہیں نامہ نگار عمردراز اور محمد نبیل کی اس رپورٹ میں