کورونا: دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زیادہ
دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 89 لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 67 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی کُل تعداد 3587 ہے۔ برازیل، میکسیکو اور انڈیا کے بعد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں اموات اور متاثرین کی تعداد کی شرح میں مسلسل تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان متاثرین کی عالمی فہرست میں 14ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
لائیو کوریج
انڈیا میں 14 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین، مزید 375 اموات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے نئے 14,516 متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 375 مزید اموات ہوئیں۔
ملک میں کل متاثرین کی تعداد 395,048 ہوچکی ہے۔
ان میں سے 168,269 زیر علاج ہیں جبکہ 395,048 صحتیاب ہوچکے ہیں۔
اب تک ملک میں کووڈ 19 سے 12,948 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ اس وقت کورونا سے متاثرہ ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے۔
ہنگری: وائرس اور بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے فوج میں بھرتیاں
،تصویر کا ذریعہAFP
کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں معاشی بحران پیدا ہوا ہے تو وہیں ہنگری کے شہری بھی معاشی مشکلات اور بڑھتی بے روزگاری کا شکار ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس دوران ہزاروں شہریوں نے فوج میں بھرتی ہونے کی درخواست دائر کی ہے تاکہ انھیں طے شدہ آمدن مل سکے۔ ایک حکومتی سکیم کے تحت بھرتی کیے گئے نئے جوانوں کو تیزی سے فوج کا باقاعدہ حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
نئی بھرتیوں کے لیے فوج کے سربراہ میجر ٹماس درگو نے نئی مہم سے متعلق کہا ہے کہ ’بحران شروع ہونے سے درخواست گزار 100 فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔‘
’ہم نے داخلے کا طریقہ کار آسان کردیا تھا۔ اس سے مراد فوج میں بھرتی ہونا اب آسان نہیں بلکہ تیز رفتار ہوگیا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہAFP
ایک سادہ طبی ٹیسٹ کے بعد درخواست گزار کو چھ ماہ تک ٹریننگ دی جاتی ہے جس کے انھیں پیسے ملتے ہیں۔ اس کے بعد درخواست گزار کی مرضی ہے کہ آیا وہ دوبارہ سولین زندگی گزارنا چاہتے ہیں یا اگر ان کے نتائج اچھے آتے ہیں تو وہ باقاعدہ فوج کا حصہ بن سکتے ہیں۔
روایتی فوجی بننے کے علاوہ شہری انجینئر، آئی ٹی کے ماہر، ڈرائیور یا کیٹرنگ کے عملے میں جاسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی سرحدوں کے دفاع کے علاوہ فوجیوں کو غیر ملکی مشن پر بھی لے جایا جاتا ہے اور وہ سیلاب یا عالمی وبا کے ہنگامی حالات میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او: عالمی وبا نئے اور خطرناک مرحلے سے گزر رہی ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمعے کو متنبہ کیا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا ایک نئے خطرناک مرحلے سے گزر رہی ہے۔
ایک ورچوئل نیوزکانفرنس میں ڈبلیو ایچ او کے چیف ٹیڈروس ایدھینوم کا کہنا ہے کہ ’دنیا ایک نئے اور خطرناک مرحلے سے گزر رہی ہے۔۔۔ لیکن وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔‘
عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے مریضوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر رکن ملکوں کو انتہائی چوکنا رہنے کا کہنا ہے۔
وائرس کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات سے ملکوں کو معاشی نقصان ہوا ہے لیکن عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس آئسولیشن اور لاک ڈاؤن جیسے اقدامات سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ وائرس امریکہ، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔
لاک ڈاؤن کے ذہنی صحت پر منفی اثرات اور ان کا حل
کورونا کے خلاف جاری جنگ میں سماجی دوری اور سیلف آئسولیشن واحد ہتھیار ہیں جنھیں نافذ کرنے کے لیے دنیا کے اکثر ملکوں میں لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔لیکن لاک ڈاؤن ہماری ذہنی صحت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل سے کیسے نمٹا جائے، جانیے ماہرِ نفسیات عطیہ نقوی سے ہمارے ساتھی کریم الاسلام کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔
بین الاقوامی پروازوں کے لیے فضائی حدود کل سے جزوی طور پر کھولی جا رہی ہے، وزیراعظم عمران خان
وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پروازوں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود کل سے جزوی طور پرکھولی جا رہی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام خصوصی طور پر بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانیوں کے لیے لیا جا رہا ہے جو اس وبا کے دوران شدید متاثر ہوئے ہیں ’ہم آپ کا وطن واپسی پر آپ کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہماری حکومت آپ کو ہر طرح سے سہولت فراہم کرے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
کیا کورونا وائرس کے باعث مذاہب میں تبدیلیاں آئیں گی؟
پاکستان میں کورونا وائرس کے 6604 نئے متاثرین، ریکارڈ 153 اموات
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے اندر کورونا وائرس سے متاثرہ 6604 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
کورونا وائرس سے متعلق حکومتی ویب سائٹ کووڈ 19 کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 153 اموات کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
پاکستان میں متاثرین کی مجموعی تعداد 171666 ہو گئی ہے جن میں پنجاب میں 64216، سندھ میں 65163، خیبر پختونخوا میں 20790، بلوچستان میں 9162، گلگت بلتستان میں 1253، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 803 جبکہ اسلام آباد میں 102749 متاثرین شامل ہیں۔
سب سے زیادہ 1347 اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جبکہ اب تک صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 63504 ہے۔
برازیل: خوراک پلانٹ سے منسلک متاثرین میں اضافے کے بعد گوشت پیک کرنے والوں کے لیے نئی ہدایات
،تصویر کا ذریعہReuters
برازیل میں خوراک پلانٹس سے منسلک کورونا وائرس متاثرین میں اضافے کے بعد حکومت نے گوشت پیک کرنے والوں کے لیے نئی ہدایات جاری کیں ہیں جن میں کارکنوں کو کام کی جگہ پر کم سے کم ایک میٹر کے فاصلے پر رہنا بھی شامل ہے۔
تاہم برازیل میں لیبر پراسیکیوٹرز نے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کی۔
لیبر پراسیکیوٹر کے دفتر سے مشاورت کے بعد جاری کی گئی ہدایات کے مطابق وزارت زراعت کے نئے قواعد کے تحت ٹیسٹنگ کی ضرورت نہیں ہے۔
پراسیکیوٹر دفتر کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ان ہدایات میں دفتر کے ذریعہ کی جانے والی اہم سفارشات کو نظرانداز کیا گیا ہے جن میں پلانٹ کے مشترکہ علاقوں میں مزدوروں کے درمیان کم سے کم 1.5 میٹر کا فاصلہ رکھنے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ شامل ہے۔
امریکہ نے اضافی پروازوں کے لیے چینی ایئر لائنز کی درخواست مسترد کردی
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ نے جمعہ کے روز چین اور امریکہ کے مابین ہفتہ وار پروازوں میں اٰضافے سے متعلق چار چینی ایئر لائنز کی درخواست کو مسترد کردیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ وہ اس فیصلے سے کورونا وائرس کے دوران سفری پابندیوں پر کشیدگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔
ایک بیان میں امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن نے کہا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے مابین ’برابری برقرار رکھنے‘ کے لیے کیا گیا ہے، انھوں نے مزید کہا کہ اگر چینی ہوابازی کے حکام نے امریکی کیریئر کو متاثر کرنے والی اپنی پالیسیوں میں ایڈجسٹمنٹ کی تو وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرنے کو تیار ہیں۔
اس ہفتے کے شروع میں امریکہ اور چین نے کہا تھا کہ وہ دونوں ممالک کے مابین چار ہفتہ وار پروازوں کی اجازت دیں گے۔
کورونا وائرس: کووڈ 19 کو قابو کرنے کے پانچ ثابت شدہ طریقے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔ یہ وبا ہر طرف خوف و ہراس اور افراتفری کا سبب بن گئی ہے۔ ہر روز ہزاروں نیے متاثرین کی تشخیص اور اس سے سینکڑوں ہلاکتوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔
کئی شہر بلکہ پورے ملک لاک ڈاؤن کر دیے گئے ہیں اور اس سے ممالک کے درمیان پروازیں، بین الاقوامی تقریبات اور سالانہ تہوار بھی منسوخ ہوگئے ہیں۔
امریکہ اس وبا کا نیا مرکز بن گیا ہے جبکہ اس کے علاوہ یورپ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں روز بروز کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
کچھ ممالک اس وبا کے بے ہنگم پھیلاؤ پر قابو پانے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔
کئی ایشیائی ممالک جغرافیائی طور پر چین، جہاں یہ وبا پھوٹی، کے قریب واقع ہونے کے باوجود اس کورونا کووڈ-19 کو قابو میں لانے میں کامیاب رہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
ڈیکسا میتھازون دوا کن مریضوں کو اور کن حالات میں دی جائے گی ۔ اس بارے میں ہماری ساتھی عالیہ نازکی نے این ایچ ایس لندن سے وابستہ ماہر امراض تنفس ڈاکٹر سلیم انور سے بات کی۔
انھوں نے کیا کہا جانتے ہیں اس پوڈکاسٹ میں۔
بریکنگ, کورونا وائرس: برازیل 10 لاکھ متاثرین والا دوسرا ملک بن گیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی امریکہ کا ملک برازیل اب دنیا میں دوسرا ایسا ملک بن گیا ہے جہاں کورونا وائرس کے 10 لاکھ سے زائد متاثرین ہیں۔ ملک میں بیماری کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اعداد و شمار کم ٹیسٹنگ کے باعث اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ صرف امریکہ میں برازیل سے زیادہ متاثرین موجود ہیں۔
برازیل کی وزاتِ صحت کے مطابق ملک میں کیسز کی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں یہ وبا اپنے عروج سے ابھی کئی ہفتے دور ہے۔
اس وبا کے باعث غریب اور مقامی افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ صدر بولسونارو کی وبا کے خلاف حکمت عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انتہائی دائیں بازو کے جماعت کے رہنما نے آغاز میں اس بیماری کو معمولی فلو سے تشبیہ دی تھی اور ان کے ان ریاستی گورنرز اور میئرز کے خلاف بیانات بھی سامنے آئے ہیں جنھوں نے پابندیوں میں اضافہ کیا تاکہ وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔
بولسونارو کا ماننا ہے کہ وائرس کے معاشی نتائج زیادہ نقصان دہ ہوں گے تاہم ان کی حکمتِ عملی کے باعث اب تک دو وزیرِ صحت اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔
کورونا وائرس: اٹلی میں اموات اور نئے کیسز کی تعداد میں کمی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اٹلی میں گذشتہ روز کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث مزید 47 اموات اور 251 نئے مریض سامنے آئے، تاہم یہ جمعرات کو ہونے والی 66 اموات اور 333 نئے مریضوں سے کم تعداد ہے۔
اٹلی جو ایک وقت میں کورونا وائرس کی وبا کا گڑھ تھا وہ اب دنیا میں اموات کے اعتبار سے چوتھا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ ملک کے سماجی تحفظ کے ادارے کے مطابق اب تک کل اموات 34561 ہو چکی ہیں۔
اب تک اٹلی میں دو لاکھ 38 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ اس وقت ملک میں کورونا وائرس کے کل 21543 مریض موجود ہیں۔
خیال رہے کہ مئی کے آغاز سے اٹلی میں لاک ڈاؤن کے باعث لگائی گئی پابندیوں میں بتدریج کمی لائی جا رہی ہے۔ حکام نے یکطرفہ طور پر تو اپنی تمام سرحدیں کھول دی ہیں اور سفری پابندیاں بھی ہٹا دی ہیں تاہم دیگر ممالک اور چند ہمسائیوں نے بھی ایسا نہیں کیا۔
یاد رہے کہ ملک لاک ڈاؤن میں نرمی کے تیسرے مرحلے میں 15 جون کو داخل ہوا۔
برطانیہ: انفیکشنز روزانہ 4 فیصد تک کم ہو رہی ہیں, جیمز گیلیگھر، بی بی سی نیوز کے صحت کے نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ اب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو دیکھنے کے لیے اس کی ’ترقی کی شرح‘ شائع کرنا شروع ہو گیا ہے۔
اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ کس تیزی سے انفیکشنز بڑھ یا کم ہو رہی ہیں۔
برطانیہ میں اس کی ترقی کی شرح تقریباً منفی 2 فیصد سے منفی 4 فیصد یومیہ ہے۔ کیونکہ یہ اعداد و شمار منفی میں ہیں اس لیے اس کا مطلب ہے کہ متاثرین کم ہو رہے ہیں۔
سو جمعہ کو ہر 100 نئے متاثرین کا مطلب ہے کہ سنیچر کو تقریباً 97 متاثرین کی توقع کرنی چاہیئے، اتوار کو 94 کی اور اسی طرح ہی یہ چلتا رہے گا۔
انگلینڈ کے سبھی علاقوں میں ترقی کی شرح منفی سمجھی جا رہی ہے۔
صرف لندن میں تھوڑے بہت کیسز بڑھے ہیں۔ اس کی رینج منفی 5 فیصد سے 1 فیصد تک ہے۔
ترقی کی شرح کا تعلق آر نمبر سے ہے جو کئی مہینوں سے رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں آر نمبر 0.7 اور 0.9 کے درمیان ہے۔ اور 1 سے کم کسی بھی نمبر کا مطلب ہے کہ وبا سکڑ رہی ہے۔
کورونا وائرس: کووِڈ 19 کے علاج کے لیے ویکسین کب تک بن جائے گی؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ دنیا بھر میں دو لاکھ سے زیادہ لوگ کووڈ 19 کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں مگر ابھی تک ایسی کوئی دوا سامنے نہیں آئی ہے جو اس بیماری کا علاج کرنے میں ڈاکٹروں کی مدد کر سکے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
جہاں دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی ہو رہی ہے وہیں اس امر پر بھی توجہ مرکوز ہے کہ اس وبا کی دوسری لہر سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
سمندر میں پھنسے ہوئے بھارتی کشتی راں کو ابھی اور انتظار کرنا پڑے گا
انڈین کشتی راں ابہیرام اوک کو اپنی نوزائیدہ بچی سے ملنے کے لیے ابھی بھی انتظار کرنا پڑے گا۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائے گئے لاک ڈاؤن کی پابندیوں کا مطلب ہے کہ وہ ابھی بھی اپنی کشتی میں پھنسے ہوئے ہیں، اگرچہ ان کا معاہدہ مارچ کا ختم ہو چکا ہے۔
وہ اس طرح کے حالات میں پھنسے ہزاروں انڈین کشتی رانوں میں سے ایک ہیں۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ مزید لوگوں کو وطن واپس لانا چاہتی ہے، لین ابھی اببہیرام اور ان کی بیٹی کو مزید انتظار کرنا پڑے گا۔
بریکنگ, پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ریکارڈ 82 اموات، مزید 2538 نئے مریض
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 82 اموات ہوئی ہیں جبکہ 2538 افراد نئے مریض بھی سامنے آئے ہیں۔
اب تک صوبہ پنجاب میں متاثرین کی کل تعداد 64216 ہو چکی ہے جبکہ 1347 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ صوبے میں صحتیاب افراد کی تعداد 17964 ہو گئی ہے۔
مزید متاثرین کے بعد اسرائیل نے لاک ڈاؤن سخت کر دیا, یولاندے نیل، بی بی سی کی مشرقِ وسطی کی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد لاک ڈاؤن میں سختی کر دی ہے۔
انفیکشن کی وجہ سے تقریباً 500 فوجیوں کو بھی تنہا کر دیا گیا ہے۔
جنوبی اسرائیل میں بدؤں کے تین علاقوں کو، جہاں انفیکشن ریٹ بہت زیادہ تھا، لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے اور تل ابیب کے کچھ حصوں میں نئی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔
گذشتہ مہینے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سے غربِ اردن میں بھی متاثرین میں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی صحت کے اہلکاروں کے مطابق وبا کے شروع ہونے کے بعد سے گذشتہ دو دنوں میں سب سے زیادہ متاثرین سامنے آئے ہیں اور ہیبرون میں دوکانیں اور کاروبار عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
انفیکشنز میں اضافے کے بعد وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ معیشت اب مزید نہیں کھلے گی۔
بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثرین 803 ہو گئے
،تصویر کا ذریعہM A JARRAL
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق مظفرآباد کے آئیسولیشن ہسپتال میں زیر علاج ایک مریضہ چل بسی جبکہ ڈپٹی کمشنر ضلع حویلی اور 14 خواتین سمیت 34 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 803 ہوگی ہے۔
حکام کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں ایک لیڈی ڈاکٹر اور ایک پیرا میڈیکل اسٹاف کا بھی فرد شامل ہیں۔ ضلعی ہیلتھ آفیسر باغ ڈاکٹر سعید کے مطابق باغ میں 3 خواتین سمیت 10 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
ضلعی ہیلتھ آفیسر مظفرآباد ڈاکٹر سعید کے مطابق مظفرآباد میں کورونا کے باعث ایک خاتون ہلاک جس کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 16 ہوگی۔
ان کے مطابق 4 خواتین سمیت 7 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ضلع راولاکوٹ کے ڈپٹی کمشنر مرزا ارشد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی 3 خواتین سمیت 9 افراد کا تعلق حویلی جبکہ ایک خاتون سمیت 2 افراد کا تعلق راولاکوٹ سے ہے۔
کمشنر میرپور محمد رقیب خان کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ایک خاتون سمیت 2 افراد کا کوٹلی جبکہ ایک کا تعلق بھمبر سے ہے۔
ضلع پلندری کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق پلندری میں ایک خاتون سمیت 3 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق 5 مزید کورونا کے مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں صحت یاب مریضوں کی تعداد 317 ہوگی ہے۔
حکام کے مطابق اب تک اس خطے میں 13034 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ لیے گے ہیں۔